بےجان چیزوں میں جان پھونکنے کا نام ہے 'کاشا کی آشا'

0

خواتین کے لئے اورمنجانب خواتین

پانڈچیری یا پڈوچیری نوآبادیاتی عمارتوں' گرجا گھروں' مندروں اور مورتیوں کے ساتھ ایک منظم شہر کی منصوبہ بندی (ٹاؤن پلاننگ) اور فرانسیسی طرز کی سڑکوں کے لئے شہرت رکھتا ہے' جواب بھی نوآبادیاتی ماحول کو اپنے میں سمیٹے ہوئے ہے ۔ مرکزکے زیر اہتمام یہ چھوٹا سا علاقہ حقیقی طور پر کئی خواتین آنٹرپرینرس کو آگے بڑھنے کے لئے حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ 

فرانکو۔ امریکن نژاد کاشا وندے کی پیدائش اپسٹیٹ نیویارک کے ایک چھوٹے سے شہر میں ہوئی ۔ ان کا بچپن اپنے والدین کے ساتھ اینٹوں کے پرانے گھر کی مرمت' بکریوں کو چرانے' گھوڑسواری کرنے اور وائلین بجانے کی مشق کرتے ہوئے گزرا ۔ کاشا اپنی زندگی کے ابتدائی دنوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہتی ہیں: '' میرے پاس جب بھی وقت ہوتا تو میں اسی' ٹری ہاوس' میں بیٹھ کر یا پھر'ووڈاسٹوو' کے قریب بیٹھ کر کوئی بھی کتاب پڑھتے ہوئے گزارنا پسند کرتی ۔ آپ ایک کتاب کے ساتھ دنیا میں کہیں بھی جا سکتے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ یہ گھومتے رہنے اور سفر کرتے رہنے کی میری خواہش اور جستجو کی پہلی علامت تھی ۔ جیسے جیسے میں بڑی ہوتی گئی ویسے ویسے میں نے قریبی تلاب کے کنارے جہازرانی کرتے ہوئے اپنا وقت صرف کیا''۔

انہوں نے نیو آرلنس کی تلین یونیورسٹی سے فن تعمیر میں ڈگری حاصل کی ۔ ایک آرکیٹیکٹ والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہ اپنے اسکول میں تربیت کے دوران تعمیر کے میدان میں کام کرنے والی پہلی خاتون طالب علم تھیں ۔ وہ ایک آرکیٹیکٹ یعنی ڈیزائنر اور ایک ٹھیکیدار یا کہیں تو بیلڈرکے درمیان ہونے والی بات چیت کو سن کر بہت ہی متجسس ہوا کرتی ۔ اس کے علاوہ انہیں لگتا تھا کہ ایک مکان کی تعمیر کرنا بالکل سادہ اور بار باردہرائے جانے والے عمل کا ایک سلسلہ ہے۔

ابتدائی زندگی

کاشا سال 1992 میں اپنے فرانسیسی شوہر کے ساتھ پہلی بار ہندوستان آئیں ۔ انہیں پانڈچیری کے لائی سی فرانسس میں درس و تدریس کا کام ملا تھا ۔ وہ اس سے پہلے نہ تو کبھی ہندوستان آئی تھیں اور نہ ہی یہاں آنے کا خیال ان کے دماغ میں دور دور تک آیا تھا۔ کاشا کہتی ہیں:'' میں چنئی پہنچی اور ہوائی جہاز سے اتری اور اس کے بعد مجھے ہندوستان سے محبت ہو گئی ۔ اب میں ہندوستان کے علاوہ اور کہیں رہنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی ۔ یہاں چاروں طرف بکھرے رنگ' زندگی کے اقدار' یہاں کے لوگ اور یہاں پھیلی افراتفری اور شورشرابہ مجھے یہ سب چیزیں کافی پسند ہیں اور یہ سب اب میری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکے ہیں''۔

چونکہ اپسٹیٹ نیویارک میں رہنے والے زیادہ تر لوگ یہاں کے ہاتھ سے بنے مصنوعات اور ٹیکسٹائل سے واقف نہیں تھے اس لئے انہوں نے امریکہ کے لیے ہندوستانی مصنوعات برآمد کرنا شروع کر دیا ۔

وہ کہتی ہیں: '' یہاں تک کہ میں نے کبھی کسی دکان پر کام تک نہیں کیا تھا اور ایک وینچرمنظم کرنا تو دور کی بات ہے ۔ ایک دن میں 'کاشا کی آشا' کے سامنے سے گزری ۔ مجھے پتہ تھا کہ یہ عمارت جو کسی زمانے میں ایک دکان ہوا کرتی تھی فی الحال بند پڑی ہے ۔ میں نے اپنا سکوٹر بند کیا' کچھ وقت کے لئے رک گئی' سوچا اور فیصلہ کیا کہ میں ایک دکان ضرور شروع کروں گی! حالانکہ یہ فیصلہ اچانک ہوا لیکن اس کے بعد میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور صرف چھ ماہ بعد ہماری دکان کھل گئی تھی ۔ اس کے علاوہ میں نے کسی اور جائیداد کے بارے میں سوچا تک نہیں ۔ کیونکہ میرے لئے یا تو یہی عمارت تھی یا پھر اور کوئی نہیں ''۔

وہ اپنے صارفین کو پانڈچیری اور ارد گرد کے علاقوں کی مصنوعات کے علاوہ پورے ہندوستان سے ایسے مصنوعات فراہم کرواتی ہیں جو غیر معمولی ہوتے ہوئے بھی بہت زیادہ مہنگی نہیں ہوتے ۔ مصنوعات کو منتخب کرتے ہوئے وہ خاص طور پرخواتین کی طرف سے تیار کردہ مصنوعات کو ترجیح دیتی ہیں ۔ فطرتاً تنوع پسند ہونے کی وجہ سے وہ چمڑے کے ہینڈ بیگ' کپڑے اور زیورات جیسے مختلف مصنوعات کوڈیزائن کرتی ہیں ۔ الیسا'وندنا' سومتی ' میڈیلین اور صوفیہ نامی مقامی خواتین ان کی ٹیم کا ایک لازمی حصہ بن گئی ہیں ۔

اپنی فنی صلاحیتوں کو ایک نئی جہت دیتے ہوئے انہوں نے اس کے ساتھ ہی ایک گارڈن کیفے کی بھی بنیاد رکھی ہے جہاں یہ کھانے کے شوقین لوگوں کے لیے نامیاتی کافی' گھر میں بنے ہوئے کیک اور یورپی تھالی کے علاوہ تازہ ناریل کی چٹنی کے ساتھ روایتی ڈوسے کے ذائقہ سے بھی روشناں کرواتی ہیں ۔ کاشا کو ایک ایسے مقام کی جستجو تھی جہاں کوئی بھی شخص آرام سے خوشگوار ماحول میں بیٹھ کر کافی کے ایک کپ کے ساتھ اپنی پسند کی کتاب کو پڑھنے کا لطف اٹھا سکے۔ چنانچہ کاشا نے تقریبا دو سال پہلے کاشا کی آشا نامی اس کیفے کا آغازکیا ۔ اس کے ذریعہ وہ اپنے صارفین کو پانڈچیری کی شناخت مانے جانے والے دوستانہ چہروں' آرام دہ کرسیاں' ایک سائے دارچھت' خوبصورت سبزباغ اور آبشارسے روشناس کروانا چاہتی تھیں ۔

آخر کارخواب شرمندہ تعبیر ہوا

کاشا کی آشا کے آغاز کے بعد دوسرے سال 2013 میں شروع کیا گیا 'پانڈی ارٹ' ان کی ایک اور مثبت کوشش رہی ہے جس کے ذریعہ انہوں نے ہندوستان کو چیلنج کرنے والے مسائل کو لے کر بیداری لانے کے ارادے سے عام مقامات پر آرٹ کی نمائش کا اہتمام کرتی ہیں ۔ مقامی لوگوں سے تعاون پرممنونیت کا اظہار کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں:'' یقینی طور پر سال 1992 میں اس دن میں نے بالکل ٹھیک جگہ پر اپنے قدم رکھے تھے''۔

وہ مزید کہتی ہیں: '' میرے سامنے اب بھی سیر و سیاحت کے رحجان میں کمی اور یورپی سیاحوں کی گھٹتی ہوئی تعداد کے ساتھ ساتھ ہندوستانی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سب سے بڑے چیلنج درپیش ہیں ۔ یہاں پر کاروبار کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ شہر سال میں صرف چار ماہ اور صرف ہفتہ کے اواخیرمیں ہی گل گلزار نظرآتا ہے۔ اس کے باوجود ہم نئی مصنوعات اور خصوصی تقریبات کی تیاری کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور چاہے جو بھی ہو جائے کاشا کی آشایہاں اپنے قدم جمانے کی ہے۔ کاشا کی آشا کے قیام کواب ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور پانڈچیری میں آنے والے سیاح جو ایک بار ان کے رابطے میں آتے ہیں اور جب بھی اس شہر کا دورہ کرتے ہیں تقریبا روزانہ ان سے ملاقت کے لئے آتے ہیں اور یہ سلسلہ برسوں سے چل رہا ہے ۔ وہ مسلسل ایک دوسرے کے رابطے میں رہتے ہیں ۔

آخر میں وہ کہتی ہیں: '' مجھے لگتا ہے کہ میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی اسی میں ہے کہ کاشا کی آشا کے ملازمین میں اتنی اپنائیت پیدا ہوئی ہے کہ وہ اس مقام کو اپنی ہی ملکیت تصور کرتے ہوئے خدمات انجام دیتے ہیں ۔ وہ ان احساسات کا اشتراک صارفین کے ساتھ بھی کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ہمارے صارفین بھی انتہائی پرخلوص اور مثبت جواب دیتے ہیں اور ہمارے یہاں گزارے ہوئے وقت کے دوران وہ بہت زیادہ خوش و خرم اور آرام دہ محسوس کرتے ہیں ۔ یہی وہ وجہ ہے جس کی بنا سے میں اپنی ان مصروفیات اور اس مقام کو چھوڑ دینے کا تصور بھی نہیں کر سکتی''۔ 

قلمکار:دویا چندرا

مترجم: شفیع قادری