26 سالہ ڈاکٹر مشاق انٹریپرینر اور اِنوسٹر بن گیا، 26 اسٹارٹپس میں سرمایہ کاری

ایک ڈاکٹر جو مسلسل اسٹارٹپس سے جُڑ کر فوربس 30 کی فہرست میں شامل ہوگیا

0

26 ! ہاں، آپ نے صحیح پڑھا ہے۔ اور ہاں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی فوق البشر ہے۔ ایسا کچھ نہیں، مگر رتیش ملک کو فینانس اینڈ ونچر لسٹ (ایشیا) 2016ءمیں 30 سال سے کم والے فوربس 30 کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

رتیش ملک جو 26 سالہ ڈاکٹر ہیں، انٹریپرینر اور سرمایہ کار بن چکے ہیں۔
رتیش ملک جو 26 سالہ ڈاکٹر ہیں، انٹریپرینر اور سرمایہ کار بن چکے ہیں۔

رتیش نے ٹاملناڈو کی ڈاکٹر ایم جی آر میڈیکل یونیورسٹی سے 2013ءمیں گرائجویشن کی تکمیل کی۔ میڈیکل اسکول کی پڑھائی کے دوران انھیں انٹریپرینرشپ سے کافی دلچسی پیدا ہوگئی تھی۔ 2010ءمیں وہ زیادہ تر سمیسٹر سے ’سٹک‘ گئے اور لندن اسکول آف اکنامکس میں مارکیٹنگ سائنس 101 کورس میں شریک ہوئے۔ وہاں انھوں نے سیکھا کہ کس طرح سیلیکان ویلی میں اسٹارٹپس اور پائیداری کی دھوم ہورہی ہے۔ 2012ءمیں بڑی کامیابی ملی جب Adstuck (ایک کمپنی جسے رتیش نے میڈیسن کے اپنے آخری سال میں مشترکہ طور پر قائم کیا) نے اپنا نمایاں پراڈکٹ (ALIVE) ٹائمز آف انڈیا کو فروخت کیا۔ اس کارنامہ کے بعد 2013ءمیں رتیش نے ہارورڈ یونیورسٹی میں ’مینجمنٹ آف اِنوویشن اینڈ ٹکنالوجی‘ کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ رتیش جامع العلوم شخص ہے جسے متعدد شعبوں جیسے ہیلت کیئر (نگہداشت ِ صحت)، انفارمیشن ٹکنالوجی، مینجمنٹ، انٹریپرینرشپ، انجل انوسٹمنٹس، سوشل انٹریپرینرشپ، اور انوویشن (اختراع)۔

رتیش بانی اور سی ای او برائے ’گریلا ونچرز‘ بھی ہے، جو انجل فنڈ ہے جسے 2013ءمیں ہارڈویئر کمپنیوں پر خاص توجہ کے ساتھ قائم کیا گیا۔ فوربس کے مطابق پورٹفولیو کمپنیوں میں شامل Fin Robotics جو پہننے کے قابل گاجٹ کی تیارکنندہ ہے، وہ سیریز A فنڈنگ اکٹھا کرنے والے اولین ہارڈویئر پراڈکٹ کمپنی ہے۔ رتیش نے زائد از 26 کمپنیوں میں سرمایہ مشغول کیا ہے جن میں RHLvision، Wigzo، AddoDoc، Mashinga، اور Flipmotion و دیگر شامل ہیں۔

رتیش حکومت ہند کے ساتھ سرگرمی سے اشتراک بھی کرتا ہے تاکہ اس ملک میں کالج انٹریپرینرشپ ایکوسسٹم کو فروغ دینے میں مدد کی جائے، جس کے ذریعے پُرانے علاقوں میں ’Startup India Standup India‘ مہم کو کامیاب بنایا جاسکے۔

وہ بتاتا ہے: ”پراجکٹ Guerilla کے ذریعے ہم صدرجمہوریہ اور وزیراعظم کو دور اُفتادہ کالجوں تک پہنچاتے ہیں جہاں کوئی نہیں جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، ہم صدرجمہوریہ کو جی بی پنت یونیورسٹی آف اگریکلچرل اینڈ ٹکنالوجی لے گئے، جو دنیا کی سب سے بڑی اگریکلچرل یونیورسٹی ہے۔ ہم نے 10,000 اسٹوڈنٹس کیلئے اختراعی ورکشاپ کا اہتمام کیا اور یہ سمجھ بھی گئے کہ انھیں اختراعیت کے قابل بننے کیلئے کیا چیزیں درکار ہیں اور ساتھ ہی انھیں اسٹارٹپس کے تعلق سے واقف کرایا۔ بہت اونچی قدر و قیمت والی اسٹارٹپ مارکیٹ سے کہیں زیادہ ہم چھوٹے اور اوسط جسامت والے اسٹارٹپ گروپس پر توجہ دے رہے ہیں۔

” پیسہ مجھے نہیں للچاتا “

رتیش کا کہنا ہے کہ فی الحال اس کے دو واضح مقاصد ہیں .... زیادہ خواتین کو انٹریپرینرشپ کی طرف راغب کرنا، اور دیہی مارکیٹ کی ضرورتوں کی میکانکی تکنیک کے ذریعے تکمیل کرنا۔ اُن کا کہنا ہے: ”انڈیا میں صرف تقریباً 9 فی صد خاتون انٹریپرینرز ہیں، اور میں اس تعداد کو اگلے سات سال میں 45 فی صد تک پہنچانے کی امید رکھتا ہوں۔ میں جانتا ہوں یہ پُرجوش خیال ہے۔ جہاں تک رورل مارکیٹ کا معاملہ ہے، زراعت سب سے بڑا شعبہ ہے، جس کے بعد نگہداشت ِ صحت اور ریٹیل ہیں اور اول الذکر سے زیادہ لوگ وابستہ نہیں ہورہے ہیں۔“

زیادہ تر لوگ سرمایہ کاری کی شروعات تب کرتے ہیں جب وہ اپنی عمر کے 40 برس مکمل کرچکے ہوتے ہیں، بالخصوص ڈاکٹرز۔ مگر رتیش کو اتنا طویل انتظار کرنا نہیں پڑا کیونکہ وہ اپنا فیصلہ کرچکے تھے۔ لہٰذا، کیا وہ میڈیسن کو خیرباد کہہ چکے ہیں؟ وہ برجستہ کہتے ہیں، ”میں میڈیسن کو خیرباد نہیں کہا ہے، یہ میری پہلی چاہت ہے، میں بس اس کی پریکٹس نہیں کررہا ہوں۔“ رتیش اپنے والد کا ہاسپٹل (Radix Healthcare) بھی سنبھالتے ہیں اور توسیع کیلئے منصوبے ترتیب دے رہے ہیں۔ ڈاکپرینر اور اِنوسٹر کا کہنا ہے: ”مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ایک ڈاکٹر کے طور پر میں روزانہ بس لگ بھگ 100 مریضوں تک پہنچ سکتا ہوں، لیکن ٹکنالوجی کو پھیلاتے ہوئے میں ایک روز میں 100 ملین تک رسائی حاصل کرسکتا ہوں۔“

کامیابی یونہی نہیں مل گئی

میڈیسن کی پڑھائی کے دوران رتیش اکثر آئی آئی ٹی مدراس جاتا کرتا تھا، اور وہیں اُس کی ملاقات اپنے پہلے شریک بانی ابھیشک شنکر سے ہوئی۔ ابھیشک مکمل مشابہت کا ایک پراڈکٹ تیار کررہا تھا اور اس کے پاس ایک دو پیٹنٹس موجود تھے۔ رتیش نے ابھیشک کے پراڈکٹ کو ہیلت کیئر کے ساتھ باہم ملانے اور ڈاکٹروں کیلئے an augmented reality platform شروع کرنے کی تجویز رکھی، جو مختلف جغرافیائی خطوں کے ڈاکٹروں کی مدد کرتے ہوئے انھیں مربوط کرے گا اور دیہی علاقوں میں سرجریز کی انجام دہی میں ٹھیک ٹھیک وقت پر رہنمائی فراہم کرے گا ۔ یہ اسٹارٹپ کے تعلق سے زیادہ لوگوں نے دلچسپی نہیں دکھائی اور اس طرح کے پلیٹ فام کی مدد کیلئے درکار انفراسٹرکچر نہیں تھا۔ لیکن یہی ناکامی نے رتیش اور ابھیشک کو ALIVE کا آئیڈیا دیا، جس نے آخرکار انھیں تعریف و توصیف دلائی اور تمام دلچسپی رکھنے والے افراد جمع ہوئے۔

رتیش نے ALIVE کی فروخت سے حاصل شدہ سرمایہ کو دیگر 26 اسٹارٹپس میں سرمایہ کاری کیلئے استعمال کیا۔

بالخصوص ہارڈویئر میں سوجھ بوجھ والے سرمایہ کاری مواقع کی تلاش میں رتیش نے اسٹارٹپ ولیج بمقام کوچی کا رُخ کیا۔ فخریہ سرمایہ کار کا کہنا ہے : ”اس اسٹارٹپ ولیج میں آج 10 فنڈ کے حامل اسٹارٹپس ہیں جن میں سے 9 ہمارے ہیں۔“

اُن کا مینجمنٹ منترا ، توصیفی سنجیدگی ، اور مینجمنٹ ٹِپس

رتیش کا ماننا ہے کہ اُس کا اِنوسٹمنٹ منترا .... سرمایہ لوگوں میں مشغول کرو .... سب سے اہم عنصرِ کامیابی ہے۔ وہ کہتے ہیں :

اگر آئیڈیا جلد آجائے اور مارکیٹ کا ابھی وجود نہیں تو یہ عناصر ہمیشہ ہی گھمائے جاسکتے ہیں، لیکن کسی اچھی ٹیم کو گھمایا نہیں جاسکتا۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ وہ انٹریپرینر کو بھاری طور پر مسلح کردینے پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ ”ہم بس تجویز رکھتے ہیں اور قطعی فیصلہ ہمیشہ انٹریپرینر کا ہوتا ہے۔ غلطیاں اور ناکامی لازمی حصہ ہیں۔ اگر آپ ناکام نہ ہوں، تو آپ کوئی قابل قدر پراڈکٹ بنانے والے نہیں ہو۔“

وہ اپنی توصیفی سنجیدگی کے تعلق سے کہتے ہیں :

میں اکثر انٹریپرینرز سے پوچھتا ہوں .... آپ کیا تیار کرنا چاہتے ہو۔ اور مجھے اس سے بڑھ کر مایوسی کبھی نہیں ہوتی جب وہ کہتے ہیں کہ ’1 بلین ڈالر والی کمپنی‘ ۔ اصل توجہ ہمیشہ قدر کی پیداوار کے تعلق سے ہونا چاہئے، نا کہ قیمتیں۔

رتیش نے بہت کم عمری میں کمپنیوں میں سرمایہ کاری شروع کردی۔ ابھی تک انھوں نے زائد از 26 کمپنیوں میں سرمایہ مشغول کیا ہے۔ ہم نے اُن سے ننجا ہنرمندی کے بارے میں دریافت کیا جو اُن کے تمام سرمایوں پر نظر رکھنے کیلئے درکار ہوتی ہے۔ ” یہ سب میری ٹیم کے ذمے ہے۔ میں تمام تر کامیابیوں کے ساتھ کافی کامیاب دکھائی دیتا ہوں، لیکن درحقیقت میری ٹیم کے ویویک، ہیمنت، انکوش اور رسل تمام تر توجہ کے مستحق ہیں۔ مجھے ٹکنالوجی کی گہری سمجھ نہیں اور تمام تر دیانت داری سے کہوں تو میں میری زیادہ تر طبی معلومات بھی بھول گیا ہوں۔ اب میں بس لوگوں کا منتظم ہوں، میں اُن میں خواب ڈالتا ہوں اور انھیں اختراعی کام کرنے اور اس میں ناکام ہونے کے بعد آخرکار اپنی بہترین صلاحیتوں کے مظاہرے کی آزادی دیتا ہوں۔ میرے خواب اُن کے خوابوں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔“

سیکھنے اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں

رتیش ایسے شخص نہیں جو اپنی کامیابیوں کے پیش نظر سرگرمی روک دیں۔ چنانچہ وہ انٹریپرینر کی حیثیت سے Innov8 کے ساتھ واپس ہوئے، جو دہلی میں مشترک طور پر کام کرنے کی جگہ ہے (جسے نومبر 2015ءمیں لانچ کیا گیا)۔ اُن کے تجربات نے انھیں سکھایا کہ اسٹارٹپ کا سب سے کلیدی پہلو کمیونٹی کا فروغ ہے اور اسٹارٹپس میں سب کچھ تغیر پذیر رہتا ہے۔ رتیش کہتے ہیں: ”اُن کا کام نئے لوگوں سے ملاقات کرنا اور اُن کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے ہر طرح سے فائدہ مند صورتوں کا تعامل لانا ہے تاکہ ترقی ہو اور بزنس کے روایتی طریقوں میں خلل پڑجائے۔ بس اس طرح بزنس نٹ ورکنگ پلیٹ فام Innov8 کا منفرد خیال اُبھر آیا۔ Innov8 ایسا پلیٹ فام ہے کہ فری لانسرز، انٹریپرینرز، کارپوریٹس، ٹیک انوویٹرز اور سرمایہ کاروں کی کمیونٹی کو ایک چھت تلے اور ایک سماجی ماحول میں جوڑ دیا جائے۔“ اپنے تازہ ترین ونچر Innov8 کے ساتھ اُن کا مقصد ہے کہ پراڈکٹ پر مبنی اسٹارٹپس کی ایکوسسٹم کا حصہ بننے کیلئے حوصلہ افزائی کریں اور انڈیا کو پراڈکٹ نیشن بنانے کا ویژن رکھتے ہیں۔

اسٹارٹپ کیلئے Innov8 خواتین کو اضافی ترغیب دیتا ہے۔ رتیش کا کہنا ہے: ”اس اقدام کو #innov84women کہتے ہیں۔ میرا شخصی احساس ہے کہ خاتون بانیان حیران کن ہوتی ہیں۔ خواتین کاروباروں کو اچھی طرح چلاتی ہیں، وہ سرمایہ کار کی رقم کو بہت سوجھ بوجھ سے استعمال کرتی ہیں۔ مرد لوگوں سے بہت بہتر! ہم خواتین کیلئے ڈسکا¶نٹس دیتے ہیں اور انھیں اُن کی حکمت عملی پر مدد فراہم کرتے ہیں اور مختلف ایونٹس منعقد کرتے ہیں جیسے Women Who Code، Angel Event، وغیرہ۔“اُن کا مقصد ہے کہ نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں فلیگ شپ Innov8 پراپرٹی کے قیام کے ذریعے دہلی کو ایس ایف او، تل ابیب، اور بنگلورو کے بعد اگلی سلیکان ویلی کے طور پر فروغ دیاجائے۔

رتیش کا ساتھی انٹریپرینرز اور اِنوسٹرز کو مشورہ ہے کہ موجودہ رجحانات میں سرمایہ نہ لگائیں بلکہ ایسے پراڈکٹس کا تصور کریں جو مارکیٹ میں داخل ہوں گے اور اُن میں سرمایہ کاری کریں۔ اُن کی طرف سے حکمت کی ایک اور بات یہ ہے کہ نیابت کی تفویض کا ہنر سیکھیں۔ ”لوگ آپ سے کافی بہتر کام کرسکتے ہیں، بس انھیں عملی کام کی آزادی دیجئے اور آپ نتائج دیکھیں گے۔“

رتیش کو ہر غلطی اور ناکامی پر بھی فخر ہے۔ وہ کہتا ہے: ”میں ناکامی پر (بھی) خوش ہوتا ہوں۔ وہی تو ایسے موقع ہیں جو درحقیقت آپ کو کامیابی کی طرف بڑھاتے ہیں اور اُس شخصیت کی تعمیری بنیادیں ہیں جو آپ بننے جارہے ہو۔“ وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں:

میں نے کئی ناکامیاں دیکھیں کہ ان میں سے بہترین کا انتخاب کرنا مشکل ہے۔

ویب سائٹ

ٹوئٹر 

قلمکار : سنگدھا سنہا .... مترجم : عرفان جابری .... Writer: Snigdha Sinha .... Translator: Irfan Jabri

................................................................

اس طرح کی مزید دلچسپ کہانیوں کیلئے یور راسٹوری کا ’فیس بک‘ صفحہ دیکھئے اور لائک کیجئے :     facebook

یہ بھی پڑھئے :

رُک جانا نہیں تو کہیں ہار کے.... عبدالحکیم کی کامیابی کا راز!

اسٹارٹپ میں ہندوستان دوسرے نمبر کی دوڑ میں

کاربائكس اور سائیکلوں کے سیلف ڈرائیو کا مرکز ڈریون حیدرآباد سے شروع

کام کرتے رہنا ہی کامیابی ہے : شردھا شرما

................................................................