غربت کے تھپیڑے کھا کر بھی بنا بے سہاروں کا سہارا

0

بہت سے لوگوں میں یہ تاثررہتا ہے کہ معاشرے کی خدمت کے لئے خوب دولت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جن کے پاس روپے ہیں وہی ضرورت مند لوگوں کی مدد کرمعاشرے کی خدمت کر سکتے ہیں، لیکن اس تاثرکو تمل ناڈو کے ایک نوجوان نےغلط ثابت کیا ہے۔ اس نوجوان کا نام ہے منی مارن۔

منی مارن کی پیدائش تمل ناڈو میں تروناملئی ضلع کے تھليم پللم گاؤں کے ایک کسان خاندان میں ہوا۔ خاندان غریب تھا - اتنا غریب کہ اس کی گنتی غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے خاندانوں میں ہوتی تھی۔ غربت کے باوجود گھر کے بڑوں نے منی مارن کو اسکول بھیجا۔ والد چاہتے تھے کہ منی مارن خوب پڑھے اور اچھی نوکری پر لگے، لیکن آگے چل کر حالت اتنے خراب ہو گئے کہ درمیان میں ہی اسکول چھوڑدینا پڑا۔ غربت کی وجہ سے منی مارن نے نویں کلاس میں تعلیم درمیان میں ہی چھوڑ دی اورگھرچلانے میں بزرگوں کی مدد میں لگ گئے۔ اسی ٹیکسٹائل مل میں نوکری کرنی شروع کی جہاں ان کے بھائی کام کرتے تھے۔ منی مارن کوابتداء میں ایک ہزار روپے فی ماہ کی تنخواہ ملا کرتی تھی۔

مںی مارن نے اپنی ماہانہ آمدنی کا آدھا حصہ اپنے باپ کو دینا شروع کیا۔ انہوں نے نصف حصہ یعنی 500 روپے ضرورت مند لوگوں کی مدد میں لگایا۔

بچپن سے ہی منی مارن کو ضرورت مند بےسہارا لوگوں کی مدد کرنے میں دلچسپی تھی ان کا خاندان غریب تھا اور گھر والوں کے لئے 500 روپےبھی کافی اہمیت رکھتے تھے، لیکن منی مارن پر ضرورت مندوں کی مدد کرنے کا جنون سوار تھا وہ 500 روپے اپنے لئے بھی خرچ کر سکتے تھے۔ نئے کپڑے، جوتے اور دوسرے سامان جو بچے اکثر اپنے لئے چاہتے ہیں وہ تمام خرید سکتے تھے،لیکن منی مارن کی سوچ مختلف تھی۔ چھوٹی سی عمر میں وہ تھوڑے میں ہی کام چلانا جان گئے تھے اور ان کی مدد کے لیے بے تاب تھے جن کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

اپنی محنت کی کمائی کے 500 روپے سے منی مارن نے سڑکوں، گلیوں، مندروں اور دوسری جگہوں پر بے یارومددگارپڑے رہنے والے لوگوں کی مدد کرنا شروع کی۔ انہوں نے ان لوگوں میں کمبل، کپڑے اور دوسری ضروری اشیاء تقسیم کیں۔ یہ سلسلہ کئی دن تک جاری رہا.

غربت کے ان حالات میں شاید ہی کوئی ایسا کرتا۔ گھر والوں نے بھی منی مارن کو اپنی خواہش کے مطابق کام کرنے سے نہیں روکا. وہ اپنی زندگی کسی اچھے مقصد کے لئے وقف کرنا چاہتےتھے۔

اسی دوران ایک واقعہ نے منی مارن کی زندگی کی حالت اور سمت دونوں بدل دی۔ ایک بار وہ كويںبٹور سے ترپورجا رہے تھے۔ سفر بس سے تھا۔ بس میں کچھ خرابی آنے کی وجہ سے اسے ٹھیک کرنے کے لئے راستے میں ہی روک دیا گیا۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک بوڑھی عورت، جو جذام میں مبتلا تھی، لوگوں سے پینے کے لئے پانی مانگ رہی تھی۔ وہ پیاسی تھی۔ لیکن اس پیاسی بڑھیا کی کسی نے مدد نہیں کی۔ الٹے، لوگ بڑھیا کو دور بھگانے لگے۔ کوئی اس کی بات سن نے کو بھی تیار نہیں تھا۔ منی مارن نے دیکھا کہ وہ بڑھیا پیاس بجھانے کے لئے ایک نالے کے پاس گئی اور وہیں سے گندہ پانی اٹھانے لگی۔ یہ دیکھ کر منی مارن اس بڑھیا کے پاس دوڑا اور اسے گندہ پانی پینے سے روک دیا۔

منی مارن نے جب یہ دیکھا کہ بڑھیا کی جسمانی حالت بھی کافی خراب ہے اور بیماری کی وجہ سے اس کے جسم پرکئی زخم ہیں. اس کا دل پسیج گیا۔ اس نے اس بوڑھی عورت کا منہ صاف کیا اور اسے صاف پانی پلایا۔ اس کی مدد سے خوش اس خاتون نے منی مارن کو اپنے گلے لگا لیا اور گزارش کی وہ اسے اپنے ساتھ لے چلے۔ منی مارن اس عورت کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے، لیکن اس وقت وہ لے جانے کی حالت میں نہیں تھے۔ اس وجہ سے منی مارن نے ایک آٹوڈرائیورکو 300 روپے دیے اور اس سے دو دن تک بڑھیا کی دیکھ بھال کرنے کو کہا اوریقین دلایاکہ وہ تیسرے دن آکراسے اپنے ساتھ لے جائے گا۔

منی مارن جب اس عورت کو لانے اسی جگہ پہنچے تو وہ وہاں نہیں تھی۔ اس کی تلاش شروع کی، لیکن وہ کئی کوششوں کے باوجود نہیں ملی۔ وہ بہت مایوس ہوئے۔

یہیں سے ان کی زندگی کی رخ بدل گیا۔ منی مارن نے ایک بڑا فیصلہ لیا۔ کوڑھ بیماری میں مبتلا لوگوں کی خدمت میں اپنی زندگی وقف کرنے کافیصلہ۔ پھر کیا تھا جہاں کہیں انہیں ایسے لوگ ملتے وہ انہیں اپنے پاس لاکر ان کی مدد کرتے۔ ان لوگوں کا علاج کا انتظام بھی انہوں نے کیا۔

ان دنوں لوگ جذام کی بیماری میں مبتلا لوگوں کو بہت ہی احساس کمتری سے دیکھتے تھے۔ انھیں گھر سے باہر نکال دیا جاتا۔ اتنا ہی نہیں ایک طرح سے سماج بھی ان کا بائیکاٹ کرتا۔ کوئی بھی ان کی مدد یا پھر علاج کے لئے آگے نہیں آتا۔ انھیں چھونے سے بھی لوگ کتراتے تھے۔ اکثر ایسے لوگ سڑکوں یا پھر مندروں کے پاس قابلِ رحم حالت میں بھیک مانگتے نظر آتے۔ منی مارن نے ایسے ہی لوگوں کی مدد کا قابلِ ستائش کام شروع کیا۔

مدر ٹریسا اور سسٹر نرمل کا بھی منی مارن کی زندگی پر گہرا اثررہا۔ جب ہندوستان کے معروف سائنسدان ڈاکٹرعبدالکلام کو منی مارن کی خدمت کے بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے منی مارن کو ایک ادارہ کھولنے کا مشورہ دیا۔ اس مشورے کو مانتے ہوئے انہوں نے اپنے کچھ دوستوں کے تعاون سے سال٢٠٠٩ میں ورلڈ پیپل سروس سینٹر قائم کی۔

اس ادارے کی خدمات کے بارے میں جب تمل ناڈو حکومت کو پتہ چلا تو حکومت کی جانب سے ضروتمندوں کی مدد کے لئے منی مارن کو جگہ فراہم کی گئی۔

منی مارن نے ورلڈ پیپل سروس سینٹر کے ذریعہ جس طرح غریب اور ضرورت مندوں کی خدمت کی اس کی وجہ سے ان ملک گیرشہرت حاصل ہوئی بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں بھی اس کا ذکر ہونے لگا۔ ان کے کام کے بار میں جو بھی سنتا وہ ان ان کی ستائش کیے بغیرنہیں رہتا۔ان خدمات کی لئے- منی مارن کو کئی ایوارڈزاوراعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔ اس بات میں دو رائے نہیں کہ غربت سے جھوجھتے ہوئے بھی جس طرح سے منی مارن نے لوگوں کی خدمت کی ہے وہ اپنے آپ میں غضب کی مثال ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem