میری زندگی کی کہانی سے سہولتوں سے محروم غریب بچے کو تسلی ضرور ملے گی: کلام

کلام کو سلام: یوم پیدائش پر خصوصی پیشکش

1

ڈاکٹر عبدالکلام ایک مکمل پروفائل تھے۔ وہ واحد ایسے صدرجمہوریہ تھے، جن کی مقبولیت عالمی سطح پر تھی۔ کلام صرف ملک کے لئے نہ صرف تعلیم، سائنس اور ادب کے بھی سرپت تھے، بلکہ وہ استاد بھی تھے، نظمیں بھی لکھتے تھے اور وینا بھی بجاتے تھے۔ انہوں نے ایک ساتھ کئی کرداروں کو جیا اور ہر کردار میں اول رہے۔ آئیے ان کی یوم پیدائش پر ایک بار پھر ان کی زندگی کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ "سپنے وہ نہیں ہوتے جو رات کو سونے پر آتے ہیں، سپنے وہ ہوتے ہیں جو راتوں میں سونے نہیں دیتے۔"ایسے جوشیلے خیال ڈاکٹر عبدالکلام کے ہی ہو سکتے ہیں۔ وہ اب ہمارے درمیان تو نہیں، لیکن ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

ہندوستان کے سابق صدرجمہوریہ کو ان کی سالگرہ پر آج ہم شدت سے یاد کر رہے ہیں۔ عبد کلام ملک کے صدر کے ساتھ ساتھ مشہور سائنسی اور انجینئر بھی تھے، جن کا مکمل نام ابو الفاخر ذین العابدین عبد کلام تھا اور جنہیں 'پیپلز پریسڈنٹ' اور 'مسائيل مین' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ کلام ہندوستان کے 11 ویں صدر تھے۔ صدر کے عہدے سے کلام 25 جولائی 2007 میں ریٹائر ہوئے، لیکن ان کی مقبولیت ہندوستانیوں کے درمیان آخری سانس (27 جولائی 2015) اور اس کے بعد بھی کم نہیں ہوئی۔ ان کے انتقال کی خبر ٹویٹر پر پڑھ کر بہت دیر تک لوگوں کو یقین ہی نہیں ہوا، لیکن بڑے دکھ کے ساتھ ہندوستانیوں کو اس سچ کو قبول کرنا پڑا کہ ایک مثالی شخصیت زمین کی پاکیزگی اپنے ساتھ لئے ہمارے درمیان سے جا چکے ہیں.

عبد کلام کی پیدائش 15 اکتوبر 1931 کو دھنش كوڈی گاؤں (رامیشورم، تمل ناڈو) کے ایک متوسط طبقہ کے مسلم خاندان میں ہوئی تھی۔ گھر میں تعلیمی ماحول نہیں تھا۔ بڑا خاندان ہونے کے ساتھ ساتھ خاندان کی اقتصادی حالت بھی ٹھیک نہیں تھی۔ ان کے والد ذین العابدین ماہی گیروں کو کشتی کرایہ پر دیا کرتے تھے۔ عبد کلام کے علاوہ پانچ بھائی اور پانچ بہنیں تھیں اور ان کے ایک ہی گھر میں تین خاندان ایک ساتھ رہا کرتے تھے۔ یہ ہمیشہ اپنے والد سے بے حد متاثر رہے۔ والد پڑھے لکھے تو نہیں تھے، لیکن ان کے اقدار عبد کلام کے ساتھ ساری عمر ان کا ہاتھ تھامے چلتے رہے۔ ایک واقعہ ہے، جب ان کے استاد اِيادُرائی سولومن نے ان سے کہا، "زندگی میں کامیابی اور قابل قبول نتائج حاصل کرنے کے لئے شدید خواہش، اعتماد، امید ان تین طاقتوں کو سمجھ لینا اور ان پر غلبہ حاصل کرنا چاہئے." استاد کی اس بات کو کلام نے اپنے اندر سنبھال کر رکھ لیا اور اس دن کے بعد آگے کے تمام دنوں میں یہ اس اصول کو ساتھ لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ کلام کی شخصیت کی ایک خاصیت تھی، کہ یہ ساری زندگی سیکھتے رہے اور استاد ہونے کے باوجود خود کو ایک طالب علم مانا۔ بچپن کے دنوں میں اسکول سے آنے کے بعد ڈاکٹر عبد کلام نے اخبار بھی فروخت کئے تھے۔ ایسا انہوں نے صرف اپنے والد کی مالی مدد کرنے کے لئے کیا تھا۔

آٹھ سال کی عمر سے ہی کلام صبح 4 بجے اٹھ جایا کرتے تھے۔ اٹھنے بعد سب سے پہلے نہاتے تھے اور اس کے بعد اپنا پسندیدہ موضوع ریاضی آپ ٹیوٹر سوامی ائير کے پاس پڑھنے جاتے تھے۔ ان کے ٹیوٹر ان بچوں کو نہیں پڑھاتے تھے جو صبح نہا کر نہیں آتے تھے۔ کلام کی ذہانت سے خوش ہو کر انہوں نے کلام کو مفت ٹیوشن پڑھایا۔

1958 میں عبد الکلام نے مدراس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیكنولجی سے خلائی سائنس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ گریجویشن کے بعد انہوں نے هاوركرافٹ منصوبے پر کام کرنے کے لئے ہندوستانی دفاعی تحقیق اور ترقی انسٹی ٹیوٹ میں داخل ہوئے۔ 1962 میں وہ ہندوستانی خلائی تحقیق ادارے میں آئے جہاں انہوں نے کامیابی کے ساتھ کئی سیٹلائٹ لانچ کرنے کے منصوبوں میں اپنا اہم رول ادا کیا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر ہندوستان کے پہلے مقامی سیٹلائٹ ایس ایل وی 3 کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا، جس سے جولائی 1982 میں روہنی سیٹلائٹ کامیابی کے ساتھ خلا میں لانچ کیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالکلام کو اس بات کا سب سے زیادہ افسوس تھا کہ وہ اپنے ماں باپ کو ان کی زندگی میں 24 گھنٹے بجلی دستیاب نہیں کرا سکے۔

ڈاکٹر عبدالکلام بھارتیہ جنتا پارٹی اور اپوزیشن انڈین نیشنل کانگریس دونوں جماعتوں کی حمایت کے ساتھ 2002 میں ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ صدر کے عہدے پر ان کے آمد کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ ہم وطنوں نے بھی بخوشی قبول کیا تھا۔ یہ ہندوستان کے لئے فخر کی بات تھی، کہ ہم اپنے صدر کے طور پر ان کی خدمات کا فائدہ اٹھا رہے تھے۔ انہیں بھارت رتن، جیسے ملک کے اعلی ترین شہری اعزاز نوازا گیا۔26 مئی 2006 کو ڈاکٹر کلام سوئٹزرلینڈ کے دورے پر وہاں پہنچے، جہاں سوئٹزرلینڈ حکومت نے 26 مئی کے دن کو سائنس دن قرار دیا۔

ڈاکٹر عبدالکلام اپنی ذاتی زندگی میں بے حد پابند اور سادگی پسند شخص تھے۔ ان کی کتاب (ونگس آف فائر)، ہندوستانی نوجوانوں کو رہنمائی فراہم کرنے والی کتاب ہے، جسے ہر نوجوان کو پڑھنا چاہئے، تاکہ زندگی کو اور بہتر طریقے سے جینے کے قابل بنایا جا سکے۔ کتابوں سے کلام کو بہت لگاؤ تھا۔ انہیں لکھنا اور پڑھنا اچھا لگتا تھا۔ ان کی دوسری کتاب 'گائڈنگ سولس- ڈايلگس آف دی پرپس آف لائف' روحانی خیالات پیش کرنے والی کتاب ہے۔ کلام نے تمل زبان میں نظمیں بھی لکھی ہیں۔ جنوبی کوریا ایک ایسی جگہ ہے جہاں کلام کی کتابوں کی مانگ کافی ہے۔ جنوبی کوریا کے لوگ ڈاکٹر کلام کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں۔

ڈاکٹر کلام کو موسیقی سے بھی لگاؤ تھا۔ وہ جتنی اچھی نظمیں لکھتے تھے، اتنا ہی اچھا وینا بھی بجاتے تھے۔ایک انٹرویو کے دوران ڈاکٹر کلام نے کہا تھا، "موسیقی اور رقص ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے ہم عالمی امن کی بات چیت کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ فن میں پوری دنیا کو ساتھ لانے کی طاقت ہے۔"

ویسے تو ڈاکٹر عبدالکلام سیاسی شخص نہیں تھے، لیکن عوامی بہبود سے متعلق پالیسیوں کی وجہ سے سیاسی سطح پر بھی مقبول تھے۔ اپنی مشہور کتاب 'انڈیا 2020' میں کلام نے اپنے جذبات کو بڑی خوبصورتی سے قاری کے سامنے رکھا ہے۔

کلام کا خواب تھا، کہ ہندوستان خلائی سائنس کے میدان میں دنیا کا لیڈر بنے، جس کے لئے انہوں نے اپنے طور پر کئی طرح کی کوششیں بھی کیں۔ سائنس کے دیگر شعبوں میں انہوں نے کئی طرح کی تکنیکی ترقی کے کام کئے۔ ایک بار انہوں نے کہا بھی تھا کہ 'سافٹ ویئر' کا شعبہ تمام رکاوٹوں سے آزاد ہونا چاہئے تاکہ ذیادہ سے ذیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں۔ ایسے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تیز رفتاری سے ترقی ہو سکے ۔

ڈاکٹر سروے پلی رادھاكرشنن اور ڈاکٹر ذاکر حسین کے بعد کلام ہی ایک ایسے شخص تھے، جنہوں نے بھارت رتن ملنے کے بعد صدر کا عہدہ سنبھالا۔ ڈاکٹر کلام کو سال 1997 میں بھارت رتن کے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ کلام جیسی شخصیت نے ہندوستان کی سرزمین پر جنم لیا یہ پورے ہندوستانیوں کے لئے فخر کی بات ہے۔

ڈاكٹر عبدالکلام کے یہ الفاظ ان کی عظمت کو بڑھاتے ہیں۔

"میں  یہ بہت فخر کے ساتھ تو نہیں کہہ سکتا کہ میری زندگی کسی کے لئے مثالی بن سکتی ہے؛ لیکن جس طرح میری قسمت نے مجھے بنایا ہے، اس سے کسی ایسے غریب بچے کو تسلی ضرور ملے گی جو کسی چھوٹی سی جگہ پر سہولتوں سے محروم سماجی حالات میں رہ رہا ہو۔ شاید یہ ایسے بچوں کو ان کی پسماندگی اور مایوسی کے جذبات سے آزاد ہونے میں ضرور مدد کرے۔ "

پیشکش- رنجنا ترپاٹھی 

Related Stories