17سالہ لڑکی ضرورت مندوں کو دکھا رہی ہے 'دنیا '

0

دوسروں کی مدد کرنے کا مطلب صرف ضرورت مندوں کو کھانا پلانا یا کپڑے دینا یا ان کے لئے تعلیم و تربیت کا انتظام کرنا ہی نہیں ہے۔ اگر آپ کے اندر دوسروں کی مدد کرنے کی دور اندیشی ہے تو آپ راہ میں آنے والی تمام پریشانیوں کو پار کر کے معاشرے کے لیے کچھ کر سکتے ہیں۔ 17 سال کی آروشی گپتا اس بات کی ایک جیتی جاگتی مثال ہیں۔

آروشی دہلی کے باراكھمبا روڈ پر واقع ماڈرن اسکول میں انٹر کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ سال 2009 میں آروشی نے آنکھوں کے مسائل سے دو چار لوگوں کی مدد کرنے کی ٹھانی اور اپنی سطح پر اس سمت میں ایک '' سپیكٹیكيولر مہم '' کا آغاز کیا۔ اس مہم کے تحت آروشی نے لوگوں کے ایسے چشموں کو جمع کرنا شروع کیا جنہیں لوگ پرانے ہو جانے پر استعمال نہیں کرتے اور پھینک دیتے ہیں۔ آروشی ایسے چشموں کو جماکر ہیلپ ایج انڈیا، جن سیوا فاؤنڈیشن اور گونج جیسے این جی او تک پہنچا دیتی ہیں، جہاں سے انہیں ضرورت مندو تک پہنچایا جاتا ہے۔

آروشی بتاتی ہیں کہ اس طرح کا خیال سب سے پہلے ان کے دماغ میں 10 سال کی عمر میں آیا تھا۔ تب انہیں پہلی بار محسوس ہوا کہ ان کی پرانی اینک کسی غریب کے کام آ سکتی ہے۔ اسے کسی ضرورت مند کو دیا جا سکتا ہے۔ تھوڑا بڑی ہونے پر انہوں نے اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا تو انہیں سمجھ آیا کہ یہ مسئلہ ان کی سوچ سے کہیں بڑا ہے۔ ابتدائی طور پر ان کی کم سنی ان کے آڑے آئی، لیکن دھن کی پکی آروشی نے بھی ہار نہیں مانی اور وقت کے ساتھ دوسروں کی مدد کرنے کا ان کا خواب سچ ہوتا گیا۔

موجودہ وقت میں ہمارے ملک میں تقریبا 15 کروڑ ایسے لوگ ہیں جن کی بینائی کمزور ہے، انہیں صاف دیکھنے میں دقت ہوتی ہے۔ انہِیں اینک کی ضرورت ہے، لیکن مالی تنگی کے سبب وہ اس کی خریداری نہیں کر پاتے ہیں۔ اپنی سماجی ذمہ داری کے تحت آروشی اڑوس پڑوس، چشموں کی دکانوں، مختلف اداروں اور اپنے جاننے والوں کے پاس سے پرانے شیشے جمع کر مختلف این جی اوز تک پہنچاتی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مختلف سماجی اداروں کی مدد سے مختلف علاقوں میں آنکھوں کے مفت کیمپ لگوانے کے علاوہ موتیابند کے اپرےشن کروانے کے کیمپ کا انعقاد بھی کرواتی ہیں۔

اب تک کے سفر میں ان کے والدین نے ان کا مکمل تعاون کیا ہے اور اپنی سطح پر ان کی ہر ممکن مدد کی ہے۔ یہاں تک کہ ان کے اسکول نے بھی اب تک ان کے اس نیک کام میں ہر ممکن مدد کی ہے۔ اس کے باوجود آروشی کا سفر اتنا آسان بھی نہیں رہا ہے۔ دوسروں کو اپنے اس خیال کے بارے میں سمجھانا ان کے لئے سب سے بڑا چیلنج رہا۔ آروشی بتاتی ہیں کہ شروع میں کئی بار لوگوں سے کوئی رد عمل نہ ملنے پر انہیں بہت مایوسی ہوتی تھی۔

آروشی عوامی مقامات پر ڈراپ باكس رکھ دیتی ہیں جن میں لوگ اپنی پرانی ڈال کر سکتے ہیں۔ اپنی اس مہم کو زیادہ سے لوگوں تک پہنچانے کے لیے آروشی روزانہ کئی لوگوں سے ملتی ہیں اور انہیں اپنے اس کام کے بارے میں جیسے بھی ممکن ہو سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں، زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے پرانے گوگلز عطیہ کرنے کی اپیل کرتی ہیں۔

آروشی کی کوششیں بیکار نہیں گئ ہیں اور تقریباً 1500 سے زیادہ لوگ ان کی اس مہم سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ آروشی کہتی ہیں کہ '' عطیہ کرنے کی کوئی قیمت نہیں ہے، لیکن اس سے ہم نے بہت سے لوگوں کی دعائیں حاصل کر سکتے ہیں۔ ''

آخر کار آروشی کے اس کوشش کو اس وقت قبولیت اور احترام ملا جب انہیں اس مہم کیلئے چوتھے سالانہ '' پیرامیركا سپرٹ آف کمیونٹی ایوارڈ '' کے فائنلسٹ کے طور پر منتخب کیا گیا۔ آروشی کہتی ہیں کہ اس مہم کو لوگوں سے ملتی تعریف کی وجہ سے انہیں مسلسل آگے بڑھنے کی ترغیب ملتی رہتی ہے۔


قلمکار نشانت گوئل

مترجم : زلیخا نظیر