دیہی خواتین کے لے شعور اور ترقی کا فرشتہ بنیں 'چیتنا'

دیہی علاقوں میں آج بھی خواتین کی حالت بہت اچھی نہیں ہے، کچھ لوگ ہیں جو انکی زندگی میں روشنی لانے کے لئے اپنے دن رات وقف کیے ہوئے ہیں۔ یہ ایک ایسی ہی کہانی ہے۔

0

مہاراشٹر کے ستارا ضلع کی مسواڈ گاؤں کی خواتین کا ایک گروپ ریزرو بینک آف انڈیا کے افسروں کے سامنے بیٹھا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں بینک چلانے کے لئے لائسنس دیا جائے۔ تاہم اس مطالبے کو یہ افسر چھ ماہ پہلے ہی مسترد کر چکے تھے کیونکہ اس وقت ان خواتین کا کہنا تھا کہ وہ انپڑھ ہیں اسلئے بینکنگ کے کام کے لئے انگوٹھے کے نشانات کو منظور کیا جائے۔ جسے ان افسروں نے سرے سے خارج کردیا تھا۔ اس کے بعد یہ خواتین ایک بار پھر متحد ہوئی اور ان میں سے ایک خاتون نے بینک افسر سے کہا کہ تم نے ہمارا بینکاری لائسنس کی مطالبہ تو ٹھکرا دیا تھا کہ ہم انپڑھ ہیں، لیکن آج ہم پڑھ لکھ کر یہاں بیٹھی ہیں۔ انہوں نے افسروں سے یہ بھی کہا کہ اگر وہ انپڑھ ہیں تو اس کے لئے وہ ذمہ دار نہیں ہیں ،کیونکہ جہاں وہ رہتی ہیں وہاں کوئی اسکول نہیں ہے۔ اتنا ہی نہیں ان خواتین نے بینک کے افسروں کو چیلنج کیا کہ وہ کی معلومات کاامتحان لیں۔ اس میں بینک ملازمین اور ان خواتین دونوں کو شامل کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ کون صحیح اور فوری حل نکال سکتا ہے۔

چیتنا وجئے سنہا کو خواتین میں اس اعتماد کا پتہ اسی وقت چل گیا تھا، جب انہوں نے خواتین کی ترقی کے لئے ایک تنظیم 'مان دیسی فاؤنڈیشن' قایم کر دیا تھا۔ چھ مہینے پہلے یہ خواتین اداس ہو گئی تھی، لیکن اس کے بعد سے حالات بدلنے لگے۔ 1997 میں مان دیسی بینک قائم ہوا۔ یہ ایک كوپریٹیو بینک ہے، جو خواتین کے لئے، خواتین کی طرف سے چلایا جاتا ہے۔ یہ مہاراشٹر کے مہیلا مائیکرو فنانس بینک میں سے ایک ہے۔

چیتنا کی پیدائش ممبئی میں ہئی. شادی کے بعد ان کو اپنے شوہر وجنے سنہا کے ساتھ مسواڈ گاؤں میں آکر رہنا پڑا۔ چیتنا کے لئے ان کی زندگی میں عوامی اور سماجی معملات نے ہمیشہ خاص جگہ بنائی۔ اصل میں ان کی اور ان کے شوہر کی ملاقات جے پرکاش نارائن کی تحریک کے دوران ہی ہوئی تھی۔ تاہم ان کا شہر سے ایک گاؤں تک کا سفر کافی پریشانیوں والا رہا۔ چیتنا نے پہلی بار دیکھا کہ گاؤں میں عوامی نقل و حمل کے لئے لوگوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے. گاؤں میں بجلی گل ہونا عام بات تھی۔

چیتنا ممبئی میں پلی بڑھی تھیں، جو گاؤں کی زندگی ان کے لئے بالکل مختلف تھی۔ شادی شدہ خاتون ہونے کی وجہ سے لوگ ان سے امید کرتے کہ وہ مگل سوتر پہنے، لیکن وہ حقوق نسواں کی علمبردار تحریک سے منسلک تھی اس لئےانہوں نے کبھی بھی مگلسوتر نہیں پہنا۔ گاؤں والوں کے لئے یہ بالکل نئی چیز تھی۔ وہ اکثر چیتنا کو روایتی کپڑے پہننے کے لئے دباؤ ڈالتے، لیکن چیتنا کا خیال تھا کہ ایک نہ ایک دن معاشرہ انہں ویسے ہی قبول کرے گا، جیسی وہ ہیں۔ تبھی تو آج وہ مہاراشٹر کے اس چھوٹے سے قصبے میں کافی مشہور ہیں۔ خاص طور سے اس وقت جب انہوں نے مان دیسی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔

اس نئے باب کی شرورات سال 1986-87 میں اس وقت شروع ہوئی جب پارلیمنٹ نے پنچایتی راج بل میں کچھ نئی تبدیلیاں کیں۔ س کے بعد پنچایتوں میں 30 فیصد ریزرویشن خواتین کو دیا جانے لگا۔ چیتنا نے گاؤں کی خواتین کو اس کے تئیں بیدار کیا اور جلد ہی ان کے لئے ایک فاؤنڈیشن کا آغازکیا، جہاں پر خواتین کو مقامی خوداختیاری حکومت کے کام کاج کی معلومات دی جانے لگی۔ ایک دن چیتنا کے پاس ایک خاتون لوہار جس کا نام كانتا امنداس تھا وہ آئی اور ان سے کہا کہ وہ اپنی کچھ جمع پونجی بینک میں جمع کرنا چاہتی ہیں، لیکن بینک نے ان کا اکاؤنٹ کھولنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس بات سے چیتنا کافی حیران ہو گئی اور انہوں نے كانتا بائی کے ساتھ بینک جانے کا فیصلہ کیا۔ جہاں پر بینک افسر نے بتایا کہ وہ كانتا کا اکاؤنٹ اس وجہ سے نہیں کھول سکتے ہیں کیونکہ انکا سرمایہ بہت کم ہے۔ بینک افسر کی بات سن کرچیتنا کو عجیب لگا اور پھر وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوئیں کہ ایسے میں چھوٹی بچت کرنے والی خواتین کہاں اپنا پیسہ محفوظ رکھیں۔

تب چیتنا نے فیصلہ کیا کہ وہ ایسی خواتین کے لئے بینک كھولیں گی تاکہ كانتا بائی جیسی دوسری عورتوں کو پریشانی نہ ہو۔

چیتنا کا کہنا ہے کہ گاؤں کی خواتین بھی اس کام میں مدد دینے کے لئے تیار ہو گئی، لیکن ان کو ایسے موقع کا انتظار تھا۔ تب چیتنا اور بینک ملازمین کو ایک اور دقت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ تھا کہ خواتین اپنی روزانہ اجرت کی جگہ بینک جاکر اپنا وقت خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے مان دیسی نے گھر گھر جا کر بینکنگ خدمات دینے کا فیصلہ لیا۔ اس کے بعد اگلا قدم یہ تھا کہ خواتین اپنے ساتھ بینک کی پاسبک رکھیں۔ کیونکہ ایسا کرنے سے ان کے شوہر جان جائیں گے کہ ان کے پاس کتنا پیسہ ہے اور وہ اس پیسے کو شراب میں خرچ کر دیں گے۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے مان دیسی نے سمارٹ کارڈ جاری کئے اور جلد ہی خواتین کو قرض دینے کا کام شروع کر دیا گیا۔

ایک دن گاؤں کی ایک خاتون كیرا بائی بینک میں آئی اور سیل فون خریدنے کے لئے قرض پوچھا۔ جس کے بعد بینک افسروں کو لگا کہ شاید كیرا بائی کے بچے ان کو اپنے لئے نیا فون خریدنے کے لئے مجبور کر رہے ہیں، اس لیے وہ قرض مانگ رہی ہیں، لیکن كیرا بائی نے کہا کہ وہ بچوں کے لئے نہیں بلکہ اپنے لئے فون خریدنا چاہتی ہیں، کیونکہ وہ بکریوں کو چرانے کے لئے کئی بار دور نکل جاتی ہیں ایسے میں ان کو اپنے خاندان والوں سے بات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس بات چیت کے دوران كیرا بائی نے چیتنا سے فون کے استعمال کے بارے میں بھی معلومات لی۔ تب چیتنا نے سوچا کہ کیوں نے ایسی خواتین کے لئے ایک بزنس اسکول کھولا جائے۔ اس دوران انہوں نے دیکھا کی کئی خواتین ناخواندہ ہیں تب مان دیسی فاؤنڈیشن نے خواتین کو تعلیم کے لئے صوتی اور تصویری طریق کارکا سہارا لیا اور جلد ہی خواتین کے لئے الگ سے ریڈیو اسٹیشن قائم ہو گیا۔

آج یہ تنظیم دیہی خواتین کو کاروبار قائم کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔ چیتنا کا کہنا ہے کہ یہ خواتین ان کی ٹیچر ہیں کیونکہ ان سے انہوں نے ہر روز بہت کچھ سیکھا ہے۔ ساگر بائی نے چیتنا کو عزم اور ہمت کا زبردست سبق پڑھایا۔ ساگر بائی نے پانچویں تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد چائے کی ایک دکان نکال دیا۔ اب وہ ایک سائیکل چاہتی ہیں تاکہ وہ اپنے گاؤں سے دور اسکول میں جاکر تعلیم کو ایک بار پھر شروع کر سکے۔ سا گربائی کا حوالہ دیتے ہوئے چیتنا بتاتی ہیں کہ ہماری مدد سے انہوں چائے کی ایک دکان کھولی اور ایک دن پولیس انہیں پکڑ کر لے گئی کیونکہ وہ اپنی دکان میں گھریلو گیس سلنڈر استعمال کر رہی تھیں۔ وہ دو دن تک پولیس کی حراست میں رہیں۔ تب ہم نے سوچا کہ وہ اس دوران ٹوٹ گئی ہوں گی اور دوبارہ وہ اس کام کو شروع نہیں کریں گی، لیکن جب وہ چھوٹ کر آئی تو انہوں نے کہا کہ وہ پھر سے اس کام کو شروع کریں گی اور اس بار وہ كمرشيل گیس کا استعمال کر اپنے کاروبار سے فائدہ اٹھائیں گی۔

آج یہاں ہارورڈ اور ییل یونیورسٹی کے طالب علم ان کاروباری ماڈل کو سیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ کاروبار اور پیشہ ورانہ تربیت دینے کے علاوہ مان دیسی خواتین کو قرض دینے کا کام بھی کرتی ہے۔ پھر چاہے ہائی اسکول میں پڑھنے والی لڑکیوں کو سائیکل خریدنے کے لئےہی قرض کیوں نہ چاہئے ہو۔ چیتنا بتاتی ہے کہ ایک دن كیرا بائی آپنے زیورات بینک میں گروی رکھنے کے لئے آئی۔ جب انہوں نے كیرا بائی سے پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہیں تو انہوں نے کہا کہ ایسا کرکے وہ اپنے مویشیوں کے لئے چارے کا انتظام کرسکتی ہیں کیونکہ خشک سالی کی وجہ سے وہ پریشان ہیں. کھیتوں میں چارے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ اس کے بعد كیرا بائی نے ان کو غصے میں کہا کہ وہ پڑھنے اور پڑھانے کے علاوہ کیا وہ اس پاس کے حلّت کو نہیں دیکھتیں؟

كیرا بائی نے بتایا کہ اس پورے علاقے میں پانی نہیں ہے اور وہ اپنے زیورات گروی رکھیں گی تو کیا بدلے میں وہ انہیں پانی دیں گی۔ ساری ندیاں اور طالاب خشک ہو گئے ہیں۔ کہاں سے وہ اپنے جانوروں کو پانی پلائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آپ تو پوری دنیا گھومتی ہیں تو کیا آپ اتنی سادہ سی چیز بھی نہیں جانتی کہ بغیر پانی کے جانورکس طرح زندہ رہیں گے۔ كیرا بائی کی بات سننے کے بعد اس رات چیتنا سو نہیں سکیں، انہوں نے اپنی شوہر سے اس بارے میں بات کی۔ اس کے بعد اگلے دن انہوں نے جانوروں کو پانی پلانے کے لئے کے لئے کیمپ کا انعقاد کیا. حالا نکے انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ جانوروں کے لئے چارہ اور پانی کا انتظام کس طرح کریں گی، لیکن لوگوں نے ان کے اس کام میں مدد کی اور ایک ماہ کے اندر7000 ہزار کسان اور 14 ہزار جانور ان کے اس کیمپ میں آئے۔ یہ ستارا ضلع کے مان تعلقہ کا سب سے بڑا کیمپ تھا۔ لوگوں نے پانی کے لئے نئے کنوئیں کھودے اور کیمپ میں ہر روز ٹرکوں کے ذریعے دور دراز سے چارہ آنے لگا۔ چیتنا کا کہنا ہے کہ اس دوران ہر طرف سے بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔ لوگوں کی حمایت کا ہی نتیجہ تھا کہ چیتنا یہ کیمپ تقریبا ڈیڑھ سال تک چلا سکیں۔

اس طرح ایک دن ایک حاملہ عورت ان کے کیمپ میں آئی جس کو دیکھ کر چیتنا کافی گھبرا گئی کیونکہ وہ کوئی خطرہ نہیں لینا چاہتی تھی۔ انہوں نے اس حاملہ عورت اور اس کی ماں سے اپنے گاؤں لوٹ جانے کو کہا۔ تو اس عورت نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں پانی نہیں ہے۔ کسی طرح اس عورت نے جانوروں کے اس کیمپ میں بچے کو جنم دیا۔

اس دن انہوں نے دیکھا کہ بچے کی پیدائش کے بعد خوب بارش ہوئی۔ تب وہاں موجود لوگوں نے فیصلہ لیا کی اس بچے کا نام میگھراج رکھا جائے۔ اس واقعہ کے بعد کیمپ میں موجود ایک کسان نے کھا کہ اس بچے کی پیدائش خراب حالت میں ہوئی ہے، لیکن وہ ہمارے لئے بارش لے کر آیا ہے تو ہم اس بچے کو کیا تحفہ دے سکتے ہیں۔ تب بینک کی سی ای او ریکھا نے کہا کہ ہر کوئی 10 روپے دے گا اور ایک گھنٹے کے اندر بچے کے نام سے 70 ہزار روپے جمع ہو گئے۔ جس کے بعد فاؤنڈیشن نے 30 ہزار روپے اپنی طرف سے ملا اس بچے کے نام 1 لاکھ روپے کی یف ڈی کر دیا۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem