ذاتی درد کے احساس کو بنایا سماج کے زخموں کا مرہم

0

اپنےہی درد کے ساتھ جئے تو کیا جئے، جینا اسی کا نام ہے جب دوسروں کے درد کو دور کرنے کے لئے مرہم تلاشا جائے۔ انورادھا بھوسلے اس عورت کا نام ہے جس نے مجبور و بےبس خواتین کے حقوق کے لئےاپنی زندگی وقف کردی۔ کون جانتا تھا کہ 6 سال کی عمرسے جس لڑکی کو بچہ مزدوری کے لئے مجبور کیا گیا، وہ خاتون ایک دن دوسروں کے لئے مرہم بن جائیں گی، بچہ مزدوری کے خلاف انقلاب کا پرچم بن کرکھڑی ہو جائیں گی۔ انورادھا کی کہانی استحصال کا شکاربےبس اور غریب بچوں اور عورتوں کے لئے جددو جہد کی ایک لمبی داستان ہے۔ بچوں اور عورتوں کو لوگوں کے ظلموں سے آزاد کرایا اور پھران کی ترقی کے اقدامات کئے۔ ایسے پروگرام بنائے جو مثالی بن گئے۔ ہر چیلنج کو قبول کرنے والی انورادھا بھوسلے نے کبھی بھی مصیبت میں خود کو مایوس ہونے نہیں دیا۔

انورادھا کی پیدائش ایک کیتھولک عیسائی خاندان میں ہوئی۔ یہ خاندان پہلے ہندو تھا لیکن، دادا نے عیسائی مذہب اپنا لیا۔ دادا پسماندہ ذات کے تھے اور ان کے زمانے میں پسماندہ ذات کے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا۔ انورادھا کے دادا بھی چھواچھوت کا شکار تھے۔ ان دنوں میں پسماندہ ذات کے لوگوں کو مندر اور اسکول میں آنے نہیں تھی۔ اتنا ہی نہیں پسماندہ ذات کے لوگوں کو گاؤں کے باہربستیوں میں رہنے کے لئے کہا جاتا۔ پسماندہ ذات کے زیادہ تر لوگوں کو اچھوت سمجھا جاتا اور ان کے ساتھ اکثربرا برتاؤ ہوتا۔

انہی سے تنگ آکر انورادھا کے دادا نے عیسائی مذہب اپنا لیا۔ ان دنوں مہاراشٹر کے کئی علاقوں میں عیسائی مشنرياں کافی فعال تھیں اورانہی میں سے ایک مشنری کے اثرات میں آکرانورادھا کے دادا نے عیسائی مذہب اپنایالیا تھا۔ مشنری سے مدد ملنے کی وجہ سے ہی انورادھا کے والد پڑھ لکھ پائے اور انہیں ٹیچر کی ملازمت بھی مل گئی۔ اس کے باوجود کئی بچے ہونے کی وجہ سے ان کے لئے گھرچلانا مشکل ہو گیا۔

انورادھا جب محض 6 سال کی تھیں، تبھی انہیں کام پر لگا دیا گیا۔ انہیں 4 لوگوں کے گھر جانا ہوتا اور وہاں پرخوب کام کرنا پڑتا۔ کپڑے صاف کرنا، جھوٹے برتن مانجنا، صاف صفائی کرنا جیسےکئی کام معصوم لڑکی کوکرنے پڑتے۔ اس طرح ننھی سی عمر میں ہی انورادھا مزدوربن گئی لیکن، پڑھائی لکھائی میں دلچسپی ہونے کی وجہ سے کام کاج کے باوجود وہ اسکول جاتیں۔صبح 6 بجے سے لے کر 11 بجے تک وہ دوسروں کے گھرمیں کام کرتیں اور پھراسکول چلی جاتیں۔

ان دنوں وہ جس مکان میں کام کررہی تھیں مکان ملکنوں نے انورادھا کےشوق کو دیکھتے ہوئے انیں اسکول جانے سے منع نہیں کیا۔ پھر بھی انورادھا کوخوب محنت کرنی پڑتی۔ اسکول جانے میں تاخیرنہ ہوجائے وجہ سے کئی بار بھوکے پیٹ ہی اسکول جانا پڑتا۔ محنت مزدوری کرتے ہوئے بھی انورادھا نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔ گیارہ سال کی عمر میں ہی انورادھا اتنا کمانے لگیں کہ اپنی ضروریات کے لئے انہیں اپنے ماں باپ پرانحصار کرنا نہیں پڑا۔ تعلیم دوسرری ضرورتوں کے لئے ضروری روپے انورادھا خود ہی انتظام کرلیتی۔ جوانی میں قدم رکھنے سے پہلےہی اپنی محنت کے بل پرایک غریب خاندان کی لڑکی خود مکتفی بن گئی۔ چرچ کی مدد سے انورادھا نے اعلی تعلیم بھی حاصل کی۔ بچپن میں ہی بہت کچھ سیکھ لیا تھا۔غربت کو انہوں نے بہت قریب سے دیکھا۔ یہ بھی جان لیا کہ غریب خاندانوں میں خواتین اور بچے کن کن مسائل سے دو چار ہوتے ہیں۔ بہت چھوٹی عمر میں ہی وہ یہ جان گئی تھیں کہ بچے کن حالت میں مزدور بنتے ہیں اورمزدوربننے کے بعد کس طرح سے ان کا بچپن چھن جاتا ہے۔ انورادھا نے بچپن میں بہت تکلیفیں جھیلی تھیں لیکن، اسے امید تھی کہ شادی کے بعد اس کی زندگی بدل جائے گی۔ اس نے شادی کے سنہرے خواب بھی سجائے تھے۔ انورادھا جب بڑی ہوئیں تو دوستوں اور ساتھیوں کے مشورہ پر ایک شخص سے شادی کی۔ حلانکے وہ لڑکا دوسری ذات سے تعلّق رکھتا تھا لیکن، دونوں کے گھروالوں کو اس پراعتراض نہیں تھا۔ دونوں کے گھر والوں کی رضامندی سے شادی ہوئی۔

شادی کے بعد کچھ دن تک توسب کچھ ٹھیک تھا لیکن، کچھ دنوں کے بعد سسرال والوں نے انورادھا کو پریشان کرنا شروع کیا۔ ساس اور نند نے لڑائی جھگڑے اور مارپیٹ بھی شروع کردی۔ سسرال والے گھر کا سارا کام کاج انورادھا ہی کرواتے۔ انورادھا کو صبح 4 بجے اٹھنا پڑتا اور گھر کے کام کرنے پڑتے۔ کسی بھی کام میں کوئی بھی ان کی مدد نہیں کرتا۔ الٹے وہ تمام انورادھا کو طعنے مارتے اور جان بوجھ کرتنگ کرتے۔شوہر سے بھی انورادھا کو کوئی مدد نہیں ملتی۔ پھر بھی وہ سب برداشت کرتی چلی گئی، لیکن کب تک؟ایک دن انورادھا کے لئے یہ بات برداشت کرنا ناممکن ہو گیا کہ اس کے شوہرکے کسی دوسری عورت سے ناجائز تعلقات ہیں۔ جب انورادھا نے اپنے شوہر سےاس کے بارے میں سوال کیا تو سسرال والوں نے انہیں ان کے دو بچوں کے ساتھ گھر سے باہر نکال دیا۔

تین ہفتوں تک انورادھا کواپنے دو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ ایک اکیلی اور بے سہارا عورت کی جھونپڑی میں رہنا پڑا۔ وہ زندگی کی سب سے کٹھن گھڑی تھی۔ مشکلوں سے بھرے ان دنوں میں بھی انورادھا نے ہار نہیں مانی۔ وہ مایوس نہیں ہوئیں۔ بلکہ ان واقعات نے انہیں اور بھی مضبوط بنا دیا۔ گھرسے نکالے جانے کے بعد جھونپڑی میں رہتے ہوئے انورادھا کو یہ خیال آیا کہ ایک پڑھی لکھی اور کام کرنے والی کمانے والے عورت کے ساتھ ہی اتنی بدسلوکی کی جا سکتی ہے، تو ناخواندہ اور گھریلو خواتین پر کتنے ظلم ہوتے ہوں گے؟

اس خیال نے انورادھا کی زندگی بدل دی۔ انہوں نے ٹھان لیا کہ وہ اب خواتین کے حقوق کے لئے لڑیں گی۔ ان خواتین کی مدد کریں گی، جو ناانصافی اور استحصال کا شکار ہیں۔ چونکہ انورادھا خود بال مزدوررہ چکی تھیں اور جانتی تھیں کہ کس طرح اور کن حالات میں بچپن کچلا جا رہاہے۔ انہوں نے بندھوا مزدوری کے خلاف بھی لڑنے کا بیڑااٹھایا۔ انورادھا اچھی طرح سے جانتی تھیں کہ غربت اور بچہ مزدوری کے مسئلے کی کڑیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ مشکل حالات میں ہی ماں باپ آپنے ننھے بچوں کو اسکول کے بجائے مزدوری کرنے بھیجتے ہیں۔ انورادھا نے بچوں اور خواتین کے حقوق کی حفاظت کے لئے ویمن اینڈ چائلڈ رائٹس مہم نام کے ادارے کا قیام کیا۔ اس ادارے کے ذریعہ غریب، بیوہ، سماج کی ٹھکرائی ہوئی اور ضرورت مند خواتین کو تعلیم سے آراستہ کرنے کا کام شروع کیا۔ ایسی خواتین میں شعوربیدار کرنے کوترجیح دی جو اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے کام پر بھیجنے کی سوچ رہی تھیں۔ خواتین کو ان کے حقوق سے بھی آگاہ کرنا شروع کیا۔ انہیں استحصال اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے اور جدوجہد کرنے کی ترغیب دی۔ خواتین کو ایسی تربیت بھی دی جس سے وہ خود داری کے ساتھ کمانے لگیں۔ انہوں نے کئی خواتین کو روزگار کے ذریعہ بھی دکھائے۔ بہت سی خواتین کو سرکاری منصوبوں کا فائدہ اٹھانےکے قابل بنایا۔

کولہاپوراور ارد گرد کے علاقوں میں انورادھا جانی مانی خاتون کارکن بن گئیں۔ دوردور سے خواتین۔مشورہ اور مدد لینے ان کے پاس آنے لگیں۔ ہندوستان کے دوسرے سماجی کارکنوں کے ساتھ مل کرانورادھا نے 'تعلیم کا حق' قانون کی طور طریقے تیار کیے۔ اور اس قانون کو پارلیمنٹ میں پاس کرواکرعمل میں لانے کے لئے خوب جدوجہد کی۔

انورادھا نے غریب، اکیلی اور ضرورت مند خواتین کے لئے روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور روزگار جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے ایک اورادارے 'آونی' کی شروعات کی اور اس کے ذریعہ بھی کولہاپور اور ارد گرد کے علاقوں میں خواتین کی ترقی کے لئے دن رات محنت کی۔ اتنا ہی نہیں انہونے نے اپنے اداروں کے ذریعہ کئی بچہ مزدوروں کو ان کے مالکان کے چنگل سے آزاد کرایا۔ کولہاپورمیں اینٹوں کی بھٹیاں ہیں۔ اور ان بھٹیوں کے مالک بچوں سے ہی کام کرواتے ہیں۔ انورادھا نے ان بھٹیوں سے کئی بچوں کو آزاد کرایا۔ کئی کام ایسے تھے، جن کی رہ آسان نہیں تھی، لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹیں۔ بھٹیوں سے آزاد کرائے گئے ان بچوں کو اداروں کے ذریعہ تعلیم، بہتر صحت اور کھانے کی سہولت فراہم کیں۔ بچہ مزدوری سے آزاد كروايے گئے بچوں کے لئے امدادی کیمپوں کے علاوہ اسکول بھی قائم کیے۔

مہاتما گاندھی کے پوتے ارون گاندھی 'آونی' کے کام اور پروگراموں سے اتنا متاثر ہوئے کہ انہوں نے ایک بہت بڑی جگہ پرساری خصوصیات سے لیس اسکول کھلوانے میں انورادھا کی مدد کی۔ اسکول کا سنگ بنیاد تشار گاندھی اورارون گاندھی نے بچوں کے ساتھ مل کررکھا۔

لازمی بات تھی کہ جو کام انورادھا نے کیا اس پر ہندوستان ہی نہیں بلکہ دوسرے ممالک میں بھی تعریف ہوئی۔ خواتین اور بچوں کے حقوق کی حفاظت کرنے میں متحرک بہت سے کارکنوں نے انورادھا ماڈل کی ہی پیروی کی۔ انورادھا بھوسلے نے گزشتہ کچھ عرصے سے ماں کے پیٹ میں لڑکیوں کے قتل اور ٹریفکنگ کے خلاف بھی جنگ شروع کردی ہے۔ آج انورادھا بھوسلے کی گنتی ملک اور دنیا بھر میں بچوں کے حقوق اور خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والے سب سےبڑے کارکنوں اور رضاکاروں میں ہوتی ہے۔ انورادھا نے بعض بچوں کو بچہ مزدوری اور استحصال سے آزاد کروا کر انہیں ان کا بچپن لوٹایا ہے۔ بعض خواتین کے حقوق کی حفاظت کر ان کی زندگی کو خوشحال بنایا ہے۔ وہ بے کسوں اور بے بسوں کے لئے امید کی کرن بن کرابھریں-