جدوجہد کی خوبصورت غزل کا نام .. رنجیت رجواڑا

0

ایک وقت تھا جب اپنی غزلیں سنانے گھر گھر جاتے تھے رنجیت ۔۔۔

آج دور دور سے لوگ ان کی محفلوں میں آتی ہیں ۔۔۔

یہ سچ ہے کہ صلاحیت کسی کی محتاج نہیں ہوتی۔ اگر صلاحیت ، اٹوٹ محنت اور جدوجہد آپس میں گھل مل جائیں تو کامیابی اپنی منزل ڈھونڈ ہی لیتی ہے۔ بس ضرورت ہے خود کو تلاش کرنے اور تراشنے کی۔ ہر شخص اپنی صلاحیتوں اور خامیوں کے ساتھ جیتا ہے، لیکن گانے کا فن ایک ایسی دنیا ہے، جہاں نہ صرف اپنی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو تلاش کرنا پڑتا ہے، بلکہ خوب نکھارنا بھی پڑتا ہے۔ بہت ساری چیزوں کی خصوصیتوں کے باوجود چھوٹی سی منفی سوچ یا قدم ساری محنتوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔ اپنی صلاحیت کو برقرار رکھنے اور اس میں بہتری لانے کے لئے مسلسل ریاض کرتے رہنا ضروری ہے۔ اس بات کو مٹھی میں بند رکھنے والے رنجیت رجواڑا غزل گائکی کے آسمان پر اپنا نام درج کرانے میں مصروف ہیں۔ سنگیت مارتڈ پنڈت جسراج جیسی عظیم شخصیت نے نوجوان رنجیت رجواڑا کے بارے میں کہا تھا کہ یہ غزل کا مستقبل ہیں۔ گائکی اور غزل کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا ماننے والے نوجوان رنجیت اس راجستھانی مٹی کی سوندھی خوشبو میں سانس لے کر بڑے ہوئے ہیں، جو گائکی کا ایک طرح سے مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ کچھ تو اثر مٹی کا ہے اور کچھ اثر خاندان کا۔ آج ساری دنیا میں غزل جہاں جہاں سنی جاتی ہے، رنجیت سامعین کے دلوں میں مقام بنا چکے ہیں۔ ان کے چاہنے والے انہیں پرنس کے لقب سے مخاتب کرتے ہیں۔

رنجیت نے یور اسٹوری کو جب اپنی کہانی سنائی تو ان کی اس کامیابی کے پیچھے چھپی جدوجہد اوران لمحوں کی یادیں تازہ ہوئیں، جب انہیں اپنے وجود کو منوانے کے لئے ممبئی کی خاک چھانني پڑی۔ اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں رنجیت بتاتے ہیں، "چار سال کی عمر سے ہی میں نے وراثت میں ملے گانے کو سیکھنا کی شروع کیا تھا۔ گاِئکی تو خاندان میں پہلے سے تھی۔ والد صبح6.30 بجے سے 9 بجے تک ریاض کرواتے اور اس کے بعد اسکول چھوڑا جاتا۔ یہ سلسلہ مسلسل کئی برسوں تک چلتا رہا۔ سات سال کی عمر میں میں نے پہلا قومی ایوارڈ جیتا تھا۔ 12 سال کی عمر تک بہت ایوارڈ ملے۔ مجھے احساس تھا کہ صلاحیت اور مقابلہ آرائی کے درمیان اپنی سوچ کو بہتر بنانے سے آگے بڑھا سکتا ہے۔ میں ایک شعر سناوگا- '

جو اپنی فکر کو اونچی اڈان دیتا ہے

خدا اس کو کھلا آسمان دیتا ہے ۔۔۔

موسیقی کے میدان میں ریئلٹی شوز کے شروع ہونے کے بعد بہت سی صلاحیتیں سامنے آئی ہیں۔ مقابلہ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں اپنے آپ کو برقرار رکھنا یقینا بڑا چیلنج ہے۔ اس بارے میں رنجیت کہتے ہیں، "مجھے اپنے آپ سے مقابلہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا آج میرے کل سے بہتر ہو۔ میں دوسروں کو دیکھنے کی بجائے اپنے میں نقص تلاش کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہر آرٹسٹ اپنا رنگ اور اپنی خوشبو لے کر آتا ہے۔ "

سارےگاما کے آخری 5 فائنلسٹوں میں جگہ بنانے والے رنجیت سنگھ رجواڑا ریئلٹی شو میں آنے سے پہلے بھی ننہے فنکار کے طور پر اپنی شناخت رکھتے تھے۔ کئی اسٹیج سےاور ریڈیو پر اپنے گانے کو پیش کر چکے تھے۔ سارےگاما پر آنے کے بعد ان کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی؟ اس سوال کے جواب میں رنجیت کہتے ہیں، "پہلے سوچا نہیں تھا کہ رئیلٹی شو میں حصہ لوں گا۔ کولکتہ ریڈیو پر گانے کے دوران مجھے ریئلٹی شو میں آنے کے لئے کہا گیا اور آڈشن کے بعد منتخب کر بھی لیا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ بہت سے لوگوں کی رائے اس وقت رئیلٹی شو میں غزل گائکی کو شامل کرنے کے خلاف تھی۔ لوگوں کا خیال تھا کہ اس کے سننے والے بہت نہیں ہیں، لیکن جیسے جیسے شو آگے بڑھا ان کی رائے بدلتی گئی۔ میں اس کامیابی کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ "

رنجیت کے لئے ایک گول ایسا بھی گزرا جب انہیں اپنے وجود کو منوانے کے لئے کافی گھومنا پڑا۔ اس کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ "جب والد راجستھان سے ممبئی منتقل ہوئے تو یہاں کوئی زیادہ جان پہچان نہیں تھی۔ ہم باجا لے کر کئی جگہوں پر جاتے لوگوں کو اپنا گانا سناتے۔ کافی دنوں تک یہ جدوجہد جاری رہی۔ پھر آہستہ آہستہ حالات بدلتے گئے اور لوگوں میں قبولیت بڑھنے لگی۔ "

رنجیت مانتے ہیں کہ گانا بجانا بڑا مشکل فن ہے۔ یہاں زندگی بھر، ہر دن پہلے دن کی طرح جینا پڑتا ہے۔ اگر کسی دن احساس ہو گیا کہ میں نے بہت سیکھ لیا۔ اس کا اختتام ہی سمجھئے۔ وہ کہتے ہیں، "وراثت کو سنبھالنے کے لئے ہر روز طالب علم بن کر جینا پڑے گا۔ میں لوگوں کی امید کو ان کی دعا کی طرح لیتا ہوں۔ منزل کی جستجو میں آگے بڑھتے رہنے کے لئے ہر روز ریاض کرتا ہوں۔ "

گائیکی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ رنجیت اس بارے میں کہتے ہیں کہ یہ سکھائی نہیں جا سکتی۔ محنت اور مشقت سے کچھ چیزیں تو مل سکتی ہیں، لیکن بلندی پر پہنچنے کے لئے ان کے ساتھ ساتھ اپنے اندر سے بھی سروں کا کمال پیدا ہونا چاہئے۔ وہ کہتے ہیں، "گانے کے فن کا بنیادی مقصد لطف اندوز ہے۔ اسی سے آرٹسٹ اور آرٹ کے محبت کرنے والوں کے درمیان کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔ آرٹسٹ کو معلوم ہونا چاہئے کہ جو کچھ شاباشی اسے مل رہی ہے، وہ سچی ہے۔ کامیابی کو گھمنڈ کی طرح لینے کے بجائے نعمت کی طرح لینا ہوگا۔ "

رنجیت ابھی نوجوان ہیں، ایک سنہری مستقبل ان کی راہ دیکھ رہا ہے۔ وہ غلام علی، مہدی حسن اور جگجیت سنگھ کو اپنا مثالی مانتے ہیں، لیکن یہ بھی بہت اہم ہے کہ غلام علی اور جگجیت سنگھ کی نسل کے بعد غزل گائیکی میں اچھے گانے والوں کی کمی خاص طور پر كھلنے لگی ہے۔ نئے فنکاروں کی ذمہ داری ان حالات میں کافی بڑھ جاتی ہے۔ اس بارے میں رنجیت کہتے ہیں، "مسلسل ریاض کرتے رہنے کے ساتھ ساتھ میں یہ سمجھتا ہوں کہ موسیقی کے اصل بنیاد سے منسلک رہوں۔ غزلوں کو جیتا رہوں اور شاعر کی سوچ کو اپنی گائکی میں پیش کرتا رہوں۔ "

رنجیت `تیرے خیال سے 'البم کے بعد اب نئے البم' پیغام' کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کے سامنے غزلوں کو چاہنے والوں کی بڑی دنیا ہے۔