سڑک حادثے میں بیٹے کی موت کے بعد ...'یوتھ اگینسٹ اسپیڈ' مہم سے شعور بیدار کرنے والے خلیق الرحمٰن

0

اگر انسان چاہے تو اپنی زندگی میں رونما ہوئے منفی حادثات سے بھی سماج کے لیے کچھ کرنے کا جزبہ حاصل کر سکتا ہے۔ایسے ہی حالات سے گزرتے ہوئے زندگی کے اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنے والے خلیق الرحمان کی کہانی بھی غم اور تکلیفوں سے بھری ہے، لیکن وہ اس کے بدلے سماج اور معاشرے میں تبدیلی لانے کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں۔ وہ سماج کا اہم حصہ نوجوانوں کے سوچ کو بدلنے کی مہم میں لگے ہوئے ہیں۔ سماجی کارکن محمد خلیق الرحمٰن سے ،ملاقات کر یوئر اسٹوری نے ان کی کہانی سنی، اس کے اقتباسات یہاں پیش ہیں۔

محمد خلیق الرحمٰن ریاست تلنگانہ کے ضلع محبوب نگر کے کوڈنگل تعلقہ کے زمیندار اور سیاسی گھرانہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد خلیق الرحمٰن رکن پرلیمنٹ رہ چکے ہیں۔ ان کا شمار علاقہ کے ہمدرد رعایاء پرور قائدیں میں ہوتا تھا۔خلیق الرحمٰن بتاتے ہیں کہ والدین نے بچپن ہی سے ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی ان کو اپنے والدین سے خدمت خلق کا جزبہ ورثہ میں حاصل ہوا۔ تکمیل تعلیم کے بعد ان کی شادی ہندوستاں کے سابق کپتاں مایہ ناز بلےباز محمد اظہرالدین کی ہمشیرہ سے انجام پائی۔

خلیق الرحمٰن بتاتے ہیں کے شادی کے بعد انہونے اپنے والدین کی طرح خدمت خلق کے کامون کو جاری رکھنے کا ایک اہم فیصلہ لیا اور ملک کی قدیم ترین سیاسی جماعت کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی۔ وہ کہتے ہیں کے زندگی میں خوش رہنے کے لیے بےحد ضروری ہے کہ ہم کو اللہ رباالعزت کی جانب سے نوازی گئی نعمتوں پر شکر ادا کیا جائے،اور لوگون کی جہاں تک ہو سکے مدد کرنی چاہیے۔

زندگی کا اہم موڈ

خلیق الرحمٰن کہتے ہیں کہ آج سے چار سال قبل 2011 میں ان کے خاندان کو ایک سانحہ سے اس وقت گزرنا پڑا جب ایک سڈک حادثہ میں ان کے جواں سال فرزند محمد اجمل الرحمٰن اور ان کے برادر نسبتی محمد اظہرالدین کے فرزند محمد ایازالدین کا حیدرآباد کے مضافات میں واقع آوٹر رنگ روڈ پر موٹر بائک ریسنگ کے دوران سڑک حادثہ میں انتقال ہو گیا۔ اس حادسہ کے وقت اظہر الدین لندن میں تھے اور اطلاع ملتے ہی حیدرآباد واپس ہوئے۔ خلیق الرحمٰن کہتے ہیں کہ اس حادثہ نےانہیں اوران کے افراد خاندان کو ہلا کر رکہ دیا۔ ایک ہی خاندان مین دو دو جنوان لڈکوں کی موت سارے خاندان پر سکتہ تاری تھا۔ '' حادثہ سے باہر آنے میں ہمیں 6 ماہ سے زیادہ کا عرصہ لگا۔ آہستہ آہستہ اس صدمہ سے باہر آنے کے بعد میں نے ایک فیصلہ کیاکہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ جانتے ہین کہ اللہ کی امانت اللہ کے حوالے ہو گئی۔ مگر آج بھی والدین اپنے بچوں کے لیےنے چین رہتے ہیں۔ جب بھی وہ گھر سے کہیں روانہ ہوتے ہیں ان کی سلامتی کے لیے دعا کرتے ہیں،جبکہ لژکے انتہائی لا پرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔''

خلیق الرحمٰن نے اپنے تجربہ کو بنیاد بنا کر اجمل ویلیر ینڈ یوتھ فاونڈیشن تشکیل یا، جس کےتحت "یوتھ اگینسٹ اسپیڈ" نامی تنظیم قایم کی گئی جو حیدرآباد میں تمام انجینیرنگ، میڈیسن اور دیگر پروفیشنل کالجس میں اور اسپیڈ موٹر سیکل چلانے کا نقصانات کے متعلق نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے میں مصروف ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی اس مہم کے مثبت نتایج سامنے آ رہے ہیں۔ آج اس مہم سے سینکڑوں طلباء وابسطہ ہو چکے ہیں۔ خلیق الرحمان کہتے ہی،'' یہ مہم اب ملک کے دیگر شہروں ممبی، دہلی،جئےپور، اور سعودی عرب تک پیھل چکی ہے۔ اس مہم سے ملک کے نامور سیاستدان ششی تھرور شہر آفاق ٹینس کھلاڈی ثانیہ مرزا بھی جڑ چکے ہیں۔ یہ میری زندگی کا اہم مقصد بن چکا ہے۔ خلیق الرحمٰن بتاتے ہیں کہ اس مہم کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری مہم کو محکمہ آرٹی آے ؛محکہ پولیس اور میڈیا کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ ہم شہر کی خستہ حال سڑکوں کے متعلق بلدیہ کو واقف کاتے ہیں تاکہ بر وقت سڑکوں کی مرمت ہو سکے نیز عوام کے زیادہ استعمال میں رہنے والی اندھیری سڑکوں پر اسٹیٹ لایٹس کی تنصیب کے لیے محکمہ ٹرانسکو سے نمایندگی کی جاتی ہے۔ خلیق کہتے ہیں کہ زیادہ تر حادثات دوسروں کی غلطیوں کی وجہ سے پش آتے ہیں اسے اگر تھوڑی سی احتیات برتی جائے تو کئی حادثات سے یقینی طور پر بچا جا سکتا ہے۔


وہ نوجواوں کو مشورا دینا چاہتے ہیں کےوہ جوش سے نہیں بلکہ ہوش سے کام لیں ۔اپنے والدین کی فکر کرین جو ہمیشہ آپ کے متعلق فکرمند رہتے ہیں ،اور ان تمام باتون کو زہن میں رکھ کر سفر کریں۔