خواتین اور معذور بچوں کی جہدکار عائشہ روبینہ

0


عائشہ روبينا گزشتہ 22 برسوں سے تعلیم اور سوشل ورک کے شعبے میں کام کر رہی ہیں۔ حیدرآباد کے وجئے نگرکالونی میں انہوں نے سب سے پہلے اپنا ایک انگلش میڈيم اسکول قائم کیا اور بعد میں اسی اسکول سے ہونے والی آمدنی سے معذور بچوں کے لئے بھی ایک اسکول کی شروعات کی۔ اس کے علاوہ وہ شہر میں اویسی اسکول کی 7 شاخوں کی نگرانکار ہیں۔ حالانکہ آج وہ گریٹر بلدیہ حیدرآباد کی منتخب كارپوریٹر ہیں، لیکن ایک جہدكار کے طور پر ان کی الگ شناخت ہے۔

یوم خواتین کے موقع پر یور اسٹوری سے ہوئی بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا،

''میں شروع سے بچوں کے مسائل پر کام کر رہی تھی، لیکن گزشتہ چھ سات برسوں میں میں نے خواتین کے مسائل پر کام کرنا شروع کیا ہے۔ خواتین کا سب سے اہم مسئلہ اس وقت صحت ہے، جس کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔ خصوصاً حیدرآباد کی بات کی بات کرنا چاہوں گی۔ یہاں کے سلم علاقوں میں خواتین کی حالت قابل توجہ ہے۔''

عائشہ کے والد چارٹیڈ اكاونٹیٹ تھے۔ بچپن سے ہی تعلیم پر زوردیا جاتا رہا۔ وہ بتاتی ہیں،

''مجھے سماجی کاموں میں پہلے سے دلچسپی تھی لیکن ایم اے کرنے کی وجه سے ابتدائی دنوں میں سوشل ورک میں تو نہیں جا سکی، لیکن میں نے جب اسکول شروع کیا تو 50 فیصد سے فیس لے کر 50 فیصد کو مفت تعلیم کے كونسیپٹ پر کام کرنا شروع کیا۔ وہیں سے خواتین کے مسائیل میں دلچسپی بڑھتی گئی۔''

عائشہ رونینہ بتاتی ہیں کہ حکومت کو خواتین کے صحت کے مسئلے پر سنجیدگی دکھانی ہوگی۔ اس بات کی فکر کرنی چاہئے کہ ان کے چھوٹے چھوٹے مسائل بھی حل نہیں کئے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک سروے ہوا ہے، جس میں پایا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں جو خواتین 35 سال کی عمر پار کر چکی ہیں، انہیں بلڈ پریشر اور ڈائبیٹیز کی شکایت عام ہے۔ پرائمری ہیلتھ سینٹر میں بلڈ پریشر اور ڈائبیٹیز کی دوائیں ہی نہیں ہیں۔ انہیں عثمانیہ ہسپتال اور دیگر بڑے ہسپتالوں میں لائنوں میں کھڑے ہو کر دوائیں لینا پڑتا ہے۔ وہ کہتی ہیں،

''میں چاہتی ہوں کہ پرائمری سینٹر میں این جی اوز کی مدد لے کر خواتین کے لئے کام کروں۔ انہیں صحت کی ضروری سہولتیں فراہم کس طرح کرائی جا سکتی ہیں، اس کے لئے حکومت سے نمائندگی کرنی ہوگی۔''

چوں کہ عائشہ روبینہ دودہوں سے زائد عرصے سے اسکول چلا رہی ہیں۔ وہ بچوں اور خواتین کے مسائل کا مطالعہ کرتی رہتی ہیں۔ اسی دوران انہوں نے معذور بچوں کے لئے کام کرنا شروع کیا٫ ان کےلئے ایک اسکول بھی قائم کیا۔ آج ملک بھر میں معذور بچوں کے حالات بھی اچھے نہیں ہیں۔ ان کے حالات دیکھ کر ہی عائشہ روبینہ کو ان کے لئے کام کرنے کا خیال آیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جنیسیس ہائی سكول کے بعد گرین اسپیشل اسکول کا قیام کیا۔ وہ بتاتی ہیں،

''گرین اسپیشل اسکول میں اسپیشل'معذور' بچوں کی تعلیم اور دیکھ بھال مکمل طور پر مفت ہے۔ یہاں 75 بچے ہیں۔ ان کی باز آبادکاری کے لئے کام کیا جا رہا ہے۔ اب بھی ہندوستان میں اسپیشل بچوں کے لئے کوئی سہولتیں یا ان رہیبلٹیشن کی کوئی خاص پالیسی نہیں بنی ہے۔ ہم کوشش یہ کرتے ہیں کہ یہ اپنی زندگی میں اپنی مدد آپ کر سکیں۔''

''ان کے حقوق کے لئے بھی ہم کام کر رہے ہیں۔ شاپنگ مال اور تھیٹر میں معذور بچوں کے لئے ریمز بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ کیونکہ جب وہ وہیل چیئر پر آتے ہیں تو چیئر سے سیڑھیاں نہیں چڈھی جا سکتیں اس لئے ضروری ہے کہ وہاں ریمز بنائے جائیں، تاکہ وہ بھی عام لوگوں کی طرح مال اور تھیٹر جا سکے۔

اس کام میں کڑ طرح کے چالنج ہے اس کے بارے میں عائشہ روبینہ بتاتی ہیں کہ مین چیلنج والدین کی سمجھ کا ہے۔ وہ لوگ قبول ہی نہیں کرتے کہ ان کا بچہ اسپیشل ہے۔ وہ اسے نارمل مانتے ہیں۔ والدین یہ کہتے ہیں کہ بچے کو تھوڑی سی مشکل ہوتی ہے، اسے دور کیا جائے۔

''۔۔۔ لیکن ایسی مثالیں بھی موجود ہیں، کہ گويائی سے معذور بچے کو سال بھر میں اگر ممّا یا ماں بولنا بھی سکھایا جائے تو ماں باپ کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی۔''

اس کے لئے ہم والدین کی كونسلگ کرتے ہیں۔ تاکہ ان کی سمجھ بچے کے بارے میں اچھی طرح وضاحت کی جائے۔ اسکول میں اسپیچ تھیریپسٹ، فزیو تھریپیسٹ، کچھ لوگ بالر سے كونسلر آتے ہیں۔ اویسی اسکول نگرانکارکے طور پر اپنی ذمہ داری کے بارے میں وہ بتاتہ ہیں کہ ان کا پہلا مقصد کم سے کم ایک نسل کا تعلیم یافتہ بنایا جائے تاکہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کا خیال رکھ سکے۔ عائشہ کہتی ہیں،

'' چونکہ یہاں تعلیم مفت ہے، اس لئے ہم ایک گھر سے ایک ہی بچے کو لیتے ہیں۔ لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ ایک بچے کو اچھی تعلیم کے لئے چھوڑ دیں، اسے کام پر مت بھیجیں، تاکہ وہ اپنی اگلی جنریشن کو ٹھیک کر سکے۔''

عائشہ روبینہ اپنے سیاست میں آنے کی وجہ بتاتی ہیں کہ سوشل ورک کا کام کوئی پلیٹ فارم نہ ہو تو ایک حد تک آکر رک جاتا ہے۔

''سیاست میں آنے کی وجه سے میرا پلیٹ فارم بڑا ہو گیا ہے۔ اب میں زیادہ لوگوں کے لئے کام کر سکتی ہوں۔میں نے تمام سوشل ورکروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ ایک ایک علاقے کی ماڈل کے طور پر ترقی کی جا سکے۔''

ریزرویشن کی وجه سے کئی خواتین سیاست میں آئی ہیں، لیکن کیا سچمچ میں ان کی ترقی ہوتی ہی یا نہیں یہ یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا۔ عایشہ روبینہ کا اس معاملے میں ماننا ہے کہ ان کے کام کی اتنی آزادی نہیں ملتی، جتنی ملنی چاہئے۔ ان کے حالات میں بہتری آنا چاہئے، تاکہ خواتین کو معاشرے کی تعمیر میں بہتر رول ادا کرنے کا موقع مل سکے۔


جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے  فیس بگ پیج          FACEBOOK   ۔۔۔۔۔۔۔ پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

میوزک ڈائریکٹر بننے کی دھن ...حیدرآباد کی پہلی خاتون آڈیو انجینئر ساجدہ خان

شادی کے بعد پوری کی قانون کی تعلیم اور فیملی كونسلگ میں کمایا نام ...محسنہ پروین


پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories