اخراج پیما : اضافی افراد سے چھٹکارہ ، کامیابی کی سمت پیشرفت .... خروج سے کیوں کر ممکن

آنے والے برسوں میں زیادہ سے زیادہ کمپنیاں اپنے فاضل اسٹاف کو فارغ کرتے ہوئے اسٹارٹپس کی تشکیل کو ترجیح دیں گے  ۔۔۔  ایک جائزہ

0

کلیدی کاروباری لوگوں کے اسٹارٹپ ایکوسسٹم کے بارے میں کئی ذہنی تناظر ہوتے ہیں .... غیرحقیقی منصوبہ سے لے کر شدید جارحانہ تیور سے ’معمول کی کیفیت‘ تک۔ لیکن اکثریت متفق ہے کہ جس قدر کامیاب رخصتیاں سرمایہ کاروں کو حاصل ہوں ، فنڈنگ کے اُن فیصلوں کی ایک بہترین توثیق ہوگی جو گزشتہ دو سال میں کئے گئے۔ ’یور اسٹوری‘ نے ممکنہ امیدواروں اور ایسی کمپنیوں کو کھوجا ہے جو اپنے سرمایہ کاروں کو اس طرح کے خروج کی 2020ءتک پیشکش کرسکتے ہیں۔

اچھی خبر یہ ہے کہ صرف چند ٹیک اسٹارٹپس جیسے Info Edge، MakeMyTrip، Justdial اور Infibeam ہی اب تک کامیاب آئی پی اوز پیش کرپانے کے باوجود آئندہ چار سال میں ایسی تقریباً 20 کمپنیاں (کنزیومر انٹرنٹ اور B2B کمپنیوں کا متوازن امتزاج) بڑے پیمانے پر ہوسکتی ہیں جو مارکیٹ لسٹنگ کے لئے مضبوط دعوے دار ہوں۔ Seedfund کے اکزیکٹیو ڈائریکٹر شیلیش وکرم سنگھ کا کہنا ہے :

کنزیومر انٹرنٹ کمپنیاں بشمول Flipkart، Paytm، Voonik، Ola، اور Snapdeal کے ساتھ کئی دیگر آئندہ چار سال میں اپنے سرمایہ کاروں کو خروج کے مواقع فراہم کرنے کا امکان ہے۔

شیلیش کے مطابق ان کمپنیوں کے لئے آئی پی او تک کی راہ حقیقی امکان نظر آتی ہے کیونکہ عالمی سست روی کا جوکھم اور غیریقینی کیفیت سب سے بڑے مسائل ہیں کہ ان پر قابو پایا جاسکے۔

کنزیومر انٹرنٹ کمپنیوں کے لئے کم از کم دو سال تک آئی پی او ’دلی دور‘ والا معاملہ معلوم ہوتا ہے، کیونکہ انھیں عملی سرگرمی کے دوران نقصانات کے بغیر بڑے پیمانے پر حصولیابی ہنوز انجام دینا ہے۔ موجودہ طور پر ہندوستان لگ بھگ 50 ملین آن لائن شاپرز کا حامل ہے، لیکن یہ تعداد 2020ءتک 180 ملین کے قریب تک پہنچ جانے کی توقع ہے۔ Forrester سے وابستہ فورکاسٹ اَنالسٹ ستیش مینا کا کہنا ہے کہ اس پیمانے پر عوامی منڈیوں تک رسائی اچھا خیال رہے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ Infibeam کا آئی پی او دیگر کنزیومر انٹرنٹ کمپنیوں کے لئے خوش کن امر ہے، لیکن یاد رکھنا ہوگا کہ یہ نسبتاً B2B بزنس زیادہ ہے۔

موجودہ طور پر آن لائن ریٹیل مجموعی ریٹیل کا ایک فی صد سے کچھ زائد پر مشتمل ہے، لیکن یہ 2020ءتک تقریباً سات فی صد تک پہنچ جانے کی پیش قیاسی ہے۔ کئی تخمینوں میں بتایا گیا ہے کہ آن لائن ریٹیل مارکیٹ 2020ءتک 75 اور 80 بلین ڈالر کے درمیان کہیں ہوگی۔ اس تناظر میں جدید تجارت یا بڑے پیمانے کے ریٹیل اسٹورز جو Shoppers Stop اور Big Bazaar، وغیرہ سے مشہور ہوئے، مارکیٹس میں ایسے شیئر اور جسامت پر شامل ہونے میں کامیاب ہوگئے جو پہلے اس سے بہت کم تھا۔

100 خروج 2020ءتک!

آنے والے برسوں میں اگرچہ چھوٹے IPOs پیش کرنا B2B اسٹارٹپس کا رجحان رہے گا، لیکن بڑے آئی پی اوز صرف کنزیومر انٹرنٹ کمپنیوں سے ہی مل سکتے ہیں۔ بعض unicorns (B2C) آخرکار بڑے پیمانے پر پہنچ کر میگا پبلک لسٹنگ پیش کریں گے۔ Ibibo Group کے بانی اور سی ای او آشیش کیشپ کا کہنا ہے :

مجھے 2020ءتک کم از کم 100 خروج کا اندازہ ہوتا ہے۔ تقریباً 20 کمپنیاں امکان ہے سرمایہ کاروں کو رخصتی دیں گی اور ہر کمپنی کم از کم پانچ اسٹارٹپس حاصل کرلے گی۔ اسکیل والی کنزیومر انٹرنٹ کمپنیوں کو مضبوط backend درکار ہوگا تاکہ اپنا frond end چلا سکیں۔ انھیں اپنی کارکردگی کو فروغ دینے کے لئے based-SaaS ونچرز یا عمودی توجہ والے کنزیومر پلیز حاصل کرنے پڑیں گے۔

نقصان والے unicorns کے ذریعے آئی پی او بنانے کو بڑی حد تک سرمایوں کو اکٹھا کرنے کی قابلیت سے مربوط کیا جائے گا۔ فنڈ جٹانے کی سرگرمی کنزیومر انٹرنٹ کمپنیوں کے لئے سہ ماہی موقع ہوا کرتا ہے۔ ستیش مینا کا کہنا ہے : ”GMV کے بعد ڈیجیٹل والِٹ اور ادائیگی توجہ کے شعبے بن جاتے ہیں کیونکہ وہ فنڈنگ کے اگلے دور کے لئے ردھم کو فروغ دیتے ہیں۔ سرمایے اکٹھا کرنا Flipkart، Ola، Snapdeal، Zomato، اور Quikr جیسی کمپنیوں کے لئے مشکل رہے گا۔ آئی پی اوز کے لئے تیاری کرنے والی کمپنیوں پر چھائے بادل آئندہ 12 تا 18 ماہ میں چھٹ جائیں گے۔“

آشیش اور شیلیش کی طرح SAIF Partners کے الوک گوئل کو بھی 2020ءتک تقریباً 100 خروج کی توقع ہے۔ وہ کہتے ہیں :

کنزیومر انٹرنٹ زمرے میں ہر عمودی گوشے میں کم از کم دو کمپنیاں سرمایہ کاروں کو خروج (براہ M&A) دینے کا امکان ہے۔

وہ مضبوط based-SaaS کمپنیوں کے ذریعے 50 خروج (IPOs اور M&A کا امتزاج) کے امکانات کا گمان بھی رکھتے ہیں۔

B2B بمقابلہ B2C کمپنیوں کے درمیان مسابقت

جہاں بڑے آئی پی اوز کی توقع کنزیومر انٹرنٹ کمپنیوں سے ہے، وہیں چھوٹے اور اوسط آئی پی اوز زیادہ تر B2B کمپنیوں سے دیکھنے میں آئیں گے۔ ممتاز انٹریپرینر اور مصنف کیشپ دیورا کا کہنا ہے، ”based-SaaS اسٹارٹپس (عالمی منڈیوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے) نقصان والے کنزیومر انٹرنٹ کمپنیوں کے مقابل عاجلانہ آئی پی او پیش کریں گے“۔ B2B ٹکنالوجی والے اسٹارٹپس جیسے Freshdesk، Capillary Technologies، Druva، Browserstack، Billdesk، و کئی دیگر بھی خروج فراہم کرنے کی توقع ہے۔ جب پوچھا گیا کہ کیوں کنزیومر انٹرنٹ کمپنیاں B2B اسٹارٹپس سے قبل IPOs نہیں بنا سکتے، کیشپ دو ٹوک انداز میں جواب دیتے ہیں :

پبلک مارکیٹس میں ایسی کمپنیوں کے تعلق سے بے رغبتی ہوتی ہے جو کام کاج کی سطح پر رقم کھوتے ہیں اور زیادہ تر کنزیومر انٹرنٹ کمپنیاں رقم کھوتی رہیں گی۔ نقصان والے کاروباروں میں بڑی کایاپلٹ کی ضرورت رہتی ہے اور اس کے لئے قابل لحاظ وقت لگتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ B2B کمپنیاں اسکیل اور افادیت حاصل کرتے ہوئے IPOs بنالیں گے قبل اس کے کہ B2C کمپنیوں میں کایاپلٹ واقع ہو۔

آئی پی او کی تیاری میں چیلنجس

باقاعدہ وقفوں سے اصل سرمایہ بڑھانے کے علاوہ متعدد دیگر چیلنجس ہیں جو ممکنہ خروجوں کے امکانات کو متاثر کرسکتے ہیں۔ الوک نشاندہی کرتے ہیں کہ آئی پی او کے لئے تیاری کرنے والی کسی کمپنی کے لئے درست نوعیت کا کلچر اور تنظیمی ڈھانچہ فروغ دینا چیلنج والا کام رہے گا۔ برتر صارف کے ساتھ ساتھ مرچنٹ کا تجربہ کلیدی عوامل اُن کنزیومر پر مرکوز کمپنیوں کے لئے ہوں گے جو اپنے صارفین کو فرم کا کچھ حصہ خریدنے کی ترغیب دے رہی ہیں۔

اس صنعت کے ایک تجزیہ نگار نے شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر کہا: ”کنزیومرز کے ساتھ ساتھ مرچنٹس ڈرائیورز کے Flipkart، Snapdeal، Ola کے بارے میں تاثرات بڑی عالمی کمپنیوں جیسے Amazon اور Uber سے تقابل کریں تو نسبتاً کمزور ہیں۔ صارفین سے ہٹ کر فروخت کنندگان ڈرائیورز Amazon اور Uber کے تعلق سے زیادہ اطمینان بخش احساس کے حامل نظر آتے ہیں۔

آیا portfolio buyouts زور پکڑے گا؟

آئی پی او اور ایم اینڈ اے سے ہٹ کر portfolio buyouts بھی VCs کے لئے خروج کی ایک شکل ہونے کا امکان ہے۔ گزشتہ سال Canaan نے اپنا سارا پورٹفولیو JP Morgan کو فروخت کردیا تھا۔ Tracxn کے سی ای او اور شریک بانی ابھیشک گوئل کا کہنا ہے :

بعض سرمایہ کار Canaan کی خطوط پر اس طرح کی خروج حکمت عملیوں کی کھوج کریں گے۔ Tracxn میں ہم اوسط جسامتی وی سیز پورٹفولیو کی خریداری میں عالمی سرمایہ کاروں کی طرف سے نمایاں رغبت دیکھتے ہیں۔

ابھیشک کے مطابق portfolio buyouts مضبوط ذریعہ ظاہر ہوتا ہے کہ لکویڈیٹی برقرار رکھی جاسکے۔

چینی ربط

انڈین اسٹارٹپس اور اُن کے سرمایہ کار چین میں کامیاب لِسٹنگس کی نشاندہی کو پسند کرتے ہیں۔ تاہم، چینی مارکیٹ انڈیا کے مقابل کہیں زیادہ پختہ کار ہے۔ درحقیقت، یہ لائق ذکر ہے کہ کس طرح چینی سرمایہ کار ہم سے بات چیت میں بار بار تذکرہ کرتے ہیں کہ کس طرح آج کی انڈین مارکیٹ انھیں سات تا آٹھ سال قبل کی چینی مارکیٹ کی یاد دلاتی ہے۔ چین میں لگ بھگ 350 ملین (ہندوستان کے مقابل 7 گنا زیادہ) خریدار آن لائن خریداری اور خدمات سے استفادے کے لئے تیار ہیں۔ اس تناظر میں Alibaba کے پاس IPO کے وقت 279 ملین سرگرم کسٹمرز (زائد از 296 بلین ڈالر GMV) ، جبکہ JD.com کے پاس پبلک لسٹنگ کے وقت لگ بھگ 83 ملین سرگرم کسٹمرز (35 بلین ڈالر جی ایم وی) تھے۔ اس کے برخلاف Flipkart اور Snapdeal فی کس 10 تا 12 بلین ڈالر کے GMV کا دعویٰ پیش کررہے ہیں۔

علاوہ ازیں، چینی کمپنیوں کی جانب سے میگا آئی پی اوز کی مدد عالمی اور دیسی منڈیوں میں مضبوط لکویڈیٹی کے ذریعے ہوئی، جبکہ دونوں میں مضبوط پُرامیدی ہے۔ یہ دیکھنا ہے آیا ہندوستانی کمپنیوں کو ایسی ہی بڑی آسانی ملے گی۔

چین میں بعض کمپنیاں کوئی مضبوط مونیٹائزیشن ماڈل کے بغیر IPOs بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں، جو قدامت پسند انڈین مارکیٹ میں قطعی نہیں ہوتا۔ Forrester سے وابستہ امریکہ میں مقیم تجزیہ نگار Xiaofeng Wang کا کہنا ہے :

Alibaba، JD.com اور Tencent، اُن کے بزنس ماڈلس مختلف ہیں، لیکن وہ سب واضح مونیٹائزیشن ماڈلس رکھتے ہیں۔ تاہم، دیگر چینی کمپنیاں بھی ہیں جن کے پاس واضح مونیٹائزیشن ماڈل نہیں، مگر وہ اہلیتوں اور امکانات سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔ آخرالذکر قسم کے آئی پی اوز زیادہ جوکھم بھرے ہیں، بالخصوص جب گلوبل لکویڈیٹی میں اتھل پتھل ہوتی ہے۔

ژیاو¿فینگ کی ریسرچ میں اس بات پر توجہ مرکوز ہے کہ کس طرح چینی صارفین کے منفرد سماجی، موبائل، اور ڈیجیٹل برتا¶ کو سمجھا جائے۔

ہندوستانی تناظر میں ترقی کے لئے کیا زبان رکاوٹ ہے؟

علاوہ ازیں، چین کے پاس ملک بھر میں یکساں زبان ہے، جبکہ انڈیا میں زبان کی آڑ کنزیومر انٹرنٹ کمپنیوں کے لئے ترقی میں بڑی رکاوٹ کے طور پر ابھر رہی ہے۔ ستیش کا کہنا ہے کہ فی الحال کنزیومر انٹرنٹ کمپنیوں کی بڑھوتری بڑی حد تک انگریزی بولنے والی آبادی پر مبنی ہے۔ لیکن حقیقی بلندی تب آئے گی جب ٹیئر II اور III کے شہروں میں لین دین آن لائن ہونے لگے گا۔

غیرانگریزی داں لوگوں کو آن لائن لین دین کی طرف راغب کرنا وقت طلب امر ہے اور کافی اختراع کی ضرورت پڑے گی۔ بعض کمپنیوں جیسے Snapdeal نے اپنی موبائل سائٹ سات ہندوستانی زبانوں میں شروع کی۔ تاہم، کوئی بھی دیگر کنزیومر انٹرنٹ کمپنیوں نے اُن کی تقلید کرنا گوارا نہیں کی۔ ستیش کا مزید کہنا ہے کہ ہندوستانی اُفتادہ علاقے مواد ہندوستانی زبانوں میں حاصل کررہے ہیں، لیکن انھیں لین دین کی طرف راغب کرنا کنزیومر انٹرنٹ کمپنیوں کے لئے آسان کام نہیں رہے گا۔

شیلیش کے برخلاف ابھیشک کو دو جوہات کی بناءزبان رکاوٹ نہیں معلوم ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ”انگریزی بولنے والی آبادی بڑھنا یقینی ہے کیونکہ آئندہ تین تا چار سال میں لاکھوں نوکریاں تشکیل پائیں گی۔“ وہ یہ نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ ترجمہ (انگریزی سے کئی ہندوستانی زبانوں میں) اگلے لگ بھگ دو سال میں ٹکنالوجی کی ترقی کے ساتھ زیادہ آسان ہوجائے گا۔

ابھی تک یہ سال اسٹارٹپس کے لئے اُن کی جسامت اور اُن میں مشغول فنڈنگ سے قطع نظر حقیقت کی جانچ کا موقع ثابت ہورہا ہے۔ گزشتہ سال سرمایہ کاروں کو FOMO سے تحریک ملی اور اس لئے مختلف too-mee اسٹارٹپس میں ہمیں کئی معاملتیں دیکھنے میں آئیں حالانکہ پراڈکٹ کی مارکیٹ میں مضبوط موزونیت نہ تھی۔ 2015ءکے برخلاف اِس سال سرمایہ کار پائیداری پر توجہ دے رہے ہیں، اور بعض بنیادی سوالات کے جواب طلب کررہے ہیں جیسے مثبت یونٹ اکنامکس، راہ برائے نفع بخشی وغیرہ۔ کچھ بھی فیصلہ کرنا بے جگری کا کام رہے گا، لیکن ہم ’YourStory‘ والوں کا ماننا ہے کہ انڈین انٹریپرینرز کوئی راہ ڈھونڈ لیں گے، جو بدلتی کنزیومر مارکیٹ اور سرمایہ کاروں پر مبنی استحکام کی مرہونِ منت رہے گا۔ لہٰذا ، کیا آپ 2020ءتک پوری طرح ویب اور موبائل پر مبنی بزنس سے حاصل شدہ قابل قدر پورٹفولیو کے حامل ہوسکتے ہو؟ اسے خارج از امکان نہ سمجھئے۔

................................................................

اس طرح کی مزید دلچسپ کہانیوں کیلئے یور راسٹوری کا ’فیس بک‘ صفحہ دیکھئے اور لائک کیجئے :

Facebook

یہ بھی پڑھئے :

ملٹی نیشنل نوکری چھوڑ کر شروع کیا مبارک ڈيلس ای کامرس اسٹارٹپ

بھوپال کے پھیکے کھانوں سے غیرمطمئن دہلی کے جوڑے نے ’جھیلوں کے شہر‘ میں متعارف کرائی کفایتی عالمی طباخی

انڈیا کا ’پاور کپَل‘ : اِندور کی شوہر۔ بیوی جوڑی جس نے شاید دنیا کا سب سے موثر ایئر کنڈیشنر بنالیا ہے

رک جانا نہیں تو کہیں ہار کے.... عبدالحکیم کی کامیابی کا راز!

اردو ٹیچر سے فلاحی جہدکار بننے کا مثالی سفر...ایم اے رحمٰن

................................................................

قلمکار : جئے وردھن .... مترجم : عرفان جابری .... Writer: Jai Vardhan .... Translator: Irfan Jabri