18سال سے کم عمر کا ایڈیٹر اور باتونی رپورٹرس کی ٹیم -جانئے ’بالک نامہ اخبار‘ کی کہانی

0

2003میں بڑھتے قدم تنظیم نے نکالا بالک نامہ اخبار...

بڑھتے قدم تنظیم سے وابستہ ہیں آج تقریباً 10بچے ...

بچوں کی ترقی کے لئے کئی پروگرام چلارہاہے بڑھتے قدم ...

بڑھتے قدم کو بچے چلاتے ہیں ،چیتنا این جی او ان کو مالی مدد فراہم کرتی ہے ...

بالک نامہ اخبار ہندوستان کی چارریاستوں میں پھیلا ہواہے ...

2015سے اخبارکا انگریزی میں ترجمہ کرکے غیر ممالک میں بھی بھیجاجانے لگا ...

اخبار میں دوطرح کے رپورٹر ہیں ۔ ایک خبر لکھنے والے اور دوسرے باتونی رپورٹر ...

کسی ملک کی ترقی کے لئے سب سے اہم چیز ہوتی ہے اس ملک کا ہر طبقہ یکساں طورسے ترقی کرے ۔ کوئی بھی ملک صرف ایک طبقے کے آگے بڑھنے سے کبھی بھی مستقل ترقی نہیں کرسکتا۔ اگر ہم دنیاکے ترقی یافتہ ممالک کو دیکھیں تو صاف پتہ چلتاہے کہ وہاں ہر طبقے کو ساتھ لے کر حکومت آگے بڑھی۔ اگر ہندوستان کی بات کی جائے تو یہاں کافی فرق پایاجاتاہے لیکن سب سے مثبت بات یہ ہے کہ ہندوستان میں لوگ اب بیدارہوچکے ہیں ،غریب لوگ اب تعلیم کی اہمیت جاننے لگے ہیں اور سب سے اہم چیزہے کہ یہاں کے نوجوان اور بچے اب آگے بڑھناچاہتے ہیں ۔ وہ ساری نابرابری کو پس ِپشت چھوڑکر اپنی زندگی سدھارناچاہتے ہیں ۔ وہ ملک کے لئے کچھ کرناچاہتے ہیں ۔

’بالک نامہ‘ اخبار ایک ایسی ہی کوشش ہے جو بالواسطہ طورسے ہم کو بتارہاہے کہ اب ہندوستان کو بہت تیزی سے آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ بالک نامہ غریب بچوں کے ذریعے چلایاجانے والا 8صفحات پر مشتمل ایک اخبارہےجو بچوں سے متعلق موضوعات کو بڑی سنجیدگی سے اٹھاتاہے اور لوگوں کے سامنے رکھتاہے۔ بالک نامہ کی خصوصیت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس سے جڑنے والے سارے بچوں کی عمر 14 سے 18سال تک ہوتی ہے۔ بالک نامہ اخبار بڑھتے قدم نام کی تنظیم چلارہی ہے جس سے ملک بھر میں 10ہزار سے زائد بچے وابستہ ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی بڑھتے قدم غریب بچوں کی ترقی کے لئے کئی اور پروگرام چلاتاہے۔ یہ تنظیم پوری طرح سے بچوں کے ذریعے چلائی جاتی ہے۔

بالک نامہ اخبار کی شروعات 2003میں ہوئی ۔ اس وقت بڑھتے قدم تنظیم میں صرف 35بچے تھے اور یہ دہلی میں ہی کام کرتی تھی لیکن اس کے بعد تنظیم کی توسیع ہوئی اور اس کے بعد تنظیم سے وابستہ بچوں کی تعداد مسلسل بڑھنے لگی اور اب بچوں کی تعداد 10ہزار تک پہنچگئی۔ بالک نامہ کا نیٹ ورک دہلی کے علاوہ مدھیہ پردیش ،اترپردیش اور ہریانہ میں پھیلا ہواہے۔ اخبارکی پانچ ہزار سے زائد کاپیاں شائع ہوتی ہیں ۔ اس کے علاوہ بالک نامہ 2015سے انگریزی میں بھی ترجمہ کیاگیااور اب اسے غیرممالک میں بھی بھیجاجارہاہے۔ بالک نامہ سے ایک طویل عرصے سے وابستہ شانونے یوراسٹوری کو بتایا:

ہم بالک نامہ کے ذریعے غریب بچوں سے متعلق مسائل بڑی سنجیدگی سے اٹھاتے ہیں اور انھیں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ چوں کہ میں اب 18سال سے زائد ہوچکی ہوں اس لئے اب میں اخبار کے لئے نہیں لکھتی ،لیکن بطور ایڈوائزر اخبار سے وابستہ ہوں اور بچوں کی مدد کرتی ہوں ۔ اس سے پہلے میں اخبار کی کئی برسوں تک ایڈیٹر رہ چکی ہوں ۔

شانو بتاتی ہیں کہ انھوں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ دیکھا ہے ۔ جب وہ 11سال کی تھیں تو گھر کی تنگ مالی حالت کے سبب انھیں اپنی تعلیم ترک کرکے کارخانے میں کام کرنے جاناپڑا۔ لیکن بڑھتے قدم اور پھر بالک نامہ سے جڑنے کے بعد ان کی زندگی بدل گئی ۔ انھوں نے اپنی تعلیم شروع کی اور اب وہ بیچلر آف سوشل ورک کے سال اول میں ہیں ۔ شانو کے علاوہ بھی بڑھتے قدم کے ذریعے کئی بچوں کی زندگی میں کافی تبدیلی آئی ہے۔

بالک نامہ کا نیٹ ورک بڑازبردست ہے۔ انھوں نے اپنے نیٹ ورک کو اس طرح تیارکیاہے کہ ہر ضلع میں بالک نامہ کے رپورٹر پھیلے ہوئے ہیں ۔ ان میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں ۔ سبھی رپورٹرس کی عمر 18 سال سے کم ہوتی ہے۔ یہ رپورٹرس اپنے علاقے میں دیکھتے ہیں کہ بچوں کی کیادقتیں ہیں ۔ یہ لوگ جلسے کرتے ہیں ،بچوں سے ملتے ہیں ۔ بالک نامہ میں دوطرح کے رپورٹر ہیں ۔

(1)باتونی رپورٹر یا تفتیشی صحافی۔ یہ خبروں کو تلاش کرتے ہیں ۔

(2) دوسرے وہ رپورٹر جو خبروں کی جانچ کرتے ہیں اور انھیں لکھتے ہیں ۔

ابھی بالک نامہ سے وابستہ رپورٹروں کی تعداد 14 ہے جو کہانی کو لکھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ الگ الگ ریاستوں میں ان کے باتونی رپورٹر س سرگرم ہیں جو خبروں کو بھیجتے ہیں ۔ یہ سبھی وقتا فوقتا ملتے ہیں ۔ بالک نامہ کی کافی جانچ پڑتال اور رضامندی کے بعد ہی خبروں کوشائع کیاجاتاہے۔ ہر مہینے کی 25تاریخ کو ایڈیٹوریل میٹنگ ہوتی ہے ،جہاں خبروں کا تجزیہ کیاجاتاہے اور آئندہ مہینے کے بارے میں چیزیں طے کی جاتی ہیں ۔

شانو بتاتی ہیں کہ اخبار کا سرکولیشن بڑھانے کے لئے اب وہ لوگ ہر ممکن قدم اٹھارہے ہیں اور مستقبل میں اس کی توسیع اشاعت کے کئی منصوبے ہیں تاکہ اخبار کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایاجاسکے اور اس کے ذریعے غریب بچوں کے مسائل کو سب کے سامنے لایاجاسکے۔

قلمکار : آشوتوش کھنتوال

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Ashutosh Khantwal

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini