دو غیر ملکی بہنوں نے بدل دی بنارس کی سڑکوں پر بھیک مانگنے والی عورتوں کی قسمت

0

گھاٹ کنارے بھیک مانگنے والی عورتوں کو دے رہی ہیں روزگار ...

مقصد پورا کرنے کے لئے ’جےسومیل‘ نے سیکھی ہندی ...

غیر ملکی خاتون’جےسومیل‘ کے جذبے پر ناز کرتا ہے بنارس ...

عقیدت مندوں اور سیلانیوں کے تاریخی شہر’ کاشی ‘میں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں سیاح پہنچتے ہیں ۔ سات سمندر پار کرکے یہاں پہنچنے والے سیاحوں میں سے کچھ کو یہاں کے گھاٹ پسند آتےہیں تو کچھ یہاں کی تہذیب و ثقافت سے متاثر ہو جاتے ہیں ۔ کئی ایک تو ایسے ہیں جو یہیں کےہوکر رہ گئے ۔ لیکن’ ارجنٹینا‘ سے آنے والی دو بہنوں نے’ کاشی ‘ میں اپنے الگ ہی نقوش چھوڑے ہیں۔ اِن دو بہنوں نے یہاں کی درجنوں عورتوں کو جینے کا نیا نظریہ سکھایا ہے ۔ ’جےسومیل‘ اور’سائیکل‘ نام کی اِن دونوں بہنوں نے اِن عورتوں کی سُونی پڑی زندگی میں خوشحالی کے نئے رنگ بھر دیئے ہیں ۔ جی ہاں ،کبھی مندروں کے باہر، چوراہوں اور اسٹیشنوں پر بھیک مانگ کر گزارہ کرنے والے درجن بھر خاندانوں کو اب جینے کی نئی راہ مل گئی ہے ۔ یہ لوگ اپنے ہنر اور محنت کی بدولت دو وقت کی روٹی کما رہے ہیں ۔ اور یہ سب کچھ کسی سرکاری منصوبہ بندی سے نہیں ،بلکہ سات سمندر پارسے آنے والی انہی دونوں بہنوں کی بدولت ہوا ہے ۔

’جےسومیل‘ اور’سائیکل‘ کی ترغیب سے آج بھیک مانگنے والی یہ عورتیں اپنے ہاتھوں کے ہنر سے کامیابی کی نئی عبارت لکھ رہی ہیں ۔ یہ عورتیں آج ٹوپی اور چپلّوں کے ساتھ ’بریسلیٹ‘بنا کر’ کاشی ‘ کے گھاٹوں پر بیچتی ہیں اور اِس سے ملنے والے پیسوں سے اپنا گھر چلاتی ہیں ۔ اتنا ہی نہیں’ ارجنٹینا‘ کی ان بہنوں کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ’کاشی‘ کی عورتوں کے بچّے تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔

 تقریباً پانچ سال پہلے ’جے سومیل‘ کاشی آئی تھیں ۔ کاشی کے گھاٹوں سے انہیں بہت لگاؤ ​​تھا ۔ وہ روزانہ گھاٹ پر کئی گھنٹے گزار دیتیں۔ گھاٹ کنارے گنگا کی اٹكھیليا ں کرتی لہریں اور اُس پر پڑنے والی سورج کی کرنوں کو وہ دیکھتی رہتیں۔ یہاں کے رسم و رواج، تمیز وتہذیب کو دیکھتیں۔ سمجھنے کی کوشش کرتیں۔ لیکن ان گھاٹوں پر کچھ ایسا بھی تھا جو انہیں كھٹكتا تھا ۔ یہ مناظر ان کے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے تھے۔ دراصل گھاٹ پرسیاحوں کے سامنے ہاتھ پھیلا کر گزارہ کرنے والی عورتوں اور بچّوں کے مناظر’ جےسومیل‘ کواذیت ناک لگتے تھے۔’جےسومیل‘ نے ان عورتوں اور بچّوں کے لئے کچھ کرنے کی ٹھانی ۔ ’جےسومیل‘ کو کاشی میں بچّوں کو ساتھ لئےعورتوں کا مانگ مانگ کر کھانا اتناناگوار گزراکہ انہوں نے ایسی ایک درجن عورتوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لئے تحریک و ترغیب دینا شروع کر دیا۔

’یور اسٹوری‘ سے بات کرتے ہوئے ’جےسومیل‘ بتاتی ہیں،

’’میرے لئے بنارس کے گھاٹوں کی یہ تصویر کافی خوفناک تھی ۔ بھوک اور غربت سے لڑتی ان عورتوں کو دیکھ کر مجھے کئی دنوں تک نیند نہیں آئی ۔ اور ایک دن میرے دل میں ان عورتوں کی حالاتِ زار بدلنے کا جذبہ بیدارہوا ۔ تب سے لے کر آج تک میَں اِسی مشن میں لگی ہوئی ہوں ۔‘‘

’جےسومیل ‘کے لئے یہ مشن اتنا آسان نہیں تھا ۔ سب سے بڑی مشکل زبان کی تھی ۔ نہ ’جےسومیل‘ ان عورتوں کی بولی سمجھ پاتی تھیں اور نہ ہی یہ عورتیں ان کی۔لیکن ’جےسومیل ‘نے ہار نہیں مانی ۔ انہوں نے اپنی کوششوں سے ہندی سیکھنا شروع کیا تاکہ وہ ان عورتوں اور بچّوں سے قریب ہو سکیں، ان کے جذبات کو سمجھ سکیں ۔’ جےسومیل‘ اب فراٹے دار ہندی بولتی ہیں ۔ ان عورتوں کو اپنی بات سمجھا پاتی ہیں ۔عورتیں بھی اب بغیر ہچکچاہٹ اپنے دل کی بات شیئرکر لیتی ہیں ۔

’جےسومیل‘ نے کاشی کے’ اسّی، دش اشومیدھ اور شیتلا‘گھاٹ پر بھیک مانگنے والی’ سمدری، چندري، سپنا اور لیلا‘ جیسی درجنوں عورتوں کو یکجا کیا اور انہیں ٹریننگ دینے کی شروعات کی ۔’ جےسومیل‘ کی مدد سے یہ عورتیں آج پرس، کھلونا، مالا، اگربتّی وغیرہ بناتی ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس روزگار کے لئے ’جےسومیل‘ نے خود پیسوں کا انتظام کیا ۔ آج ان عورتوں کے ہاتھوں سے بنے سامانوں کی خوب دھوم ہے۔’ جےسومیل‘ ان اشیاء کو اپنے ساتھ’ ارجنٹینا‘ لے جاتی ہیں اورفروخت کرتی ہیں ۔ یہی نہیں، کچھ عورتوں نے تو گھاٹ کنارے اپنی خود کی دکان بھی کھول لی ہے ۔ پہلے تو ’جےسو ‘سال میں چھ ماہ ہی یہاں وقت گزارتي تھیں، لیکن اس بار پورے سال یہاں رہنے والی ہیں ۔ بھیک مانگنے والی عورتیں خود کفیل ہو گئیں تو ان کی زندگی بھی سنور گئی ۔ آج ان عورتوں کے بچّے پڑھنے جاتے ہیں ۔’ چندا‘ بتاتی ہے،

’’جےسو ‘بہن کی مہربانی ہے کہ آج ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہیں ۔ ہمارے بچّے پہلے بھیک مانگتے تھے، لیکن آج وہ اسکول جاتے ہیں ۔ ہمارے لئے یہ سب کسی خواب کی طرح ہی ہے ۔ ہم نے اپنی زندگی میں کبھی ایسے خوشحال دنوں کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔‘‘

’جےسو ‘کے اس جذبے کو اب بنارس بھی سلام کر رہا ہے ۔ غریبوں کے لئے کچھ فلاحی کام کرنے کی چاہت کا ہی اثر ہے کہ شہر کے کچھ ادارے بھی اب ’جےسو ‘کے ساتھ کام کرنے لگے ہیں۔

ان عورتوں کے لئے’ جےسو‘ کسی مسیحا کی طرح ہیں ۔ یقیناً اگر خود پر یقین اور حوصلہ ہو تو کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوتا۔ ’جےسومیل‘ نے اس کہاوت کو سچ کر دکھایا ہے ۔’ جےسومیل‘ آج اُن عورتوں کے لئے ایک مثال ہے جو حالات سے ہار کر خود کو قسمت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہیں۔

قلمکار : آشوتوش سنگھ ؍ مترجم : انور مِرزا

Writer : Ashutosh Singh / Translation by : Anwar Mirza

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے

’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ دلچسپ کہانیاں بھی آپ کو ضرور پسند آئیں گی۔

’ایچ آئی وی ‘ میں مُبتلابچّوں کی تقدیر سنوارنےکی خاطر ... چھوڑدی بینک منیجر کی نوکری ...

'’منریگا‘ کا مزدور... یتیم بچّوں کی تعلیم و تربیت کا سہارا