ماحولیات کے ساتھ ہمالیہ کی آغوش میں آبادمواضعات کو بچانے میں مصروف ایک مردم جاہد

0

’گاؤں بچاؤ تحریک ‘ کی کی ابتداء

حکومت پر دباؤ ڈال کر بنوائیں کئی مفادعامہ کی اسکیمیں...

مقامی سطح پر روزگارکو دے رہے ہیں فروغ

کہتے ہیں کہ دنیامیں زیادہ تر لوگ اپنے لئے جیتے ہیں،لیکن تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں، جنھوں نے اپنی تمام زندگی نیک کاموں اور دوسروں کی خدمت میں لگادی۔ پدم شری ڈاکٹر انل جوشی بھی ایسے ہی عظیم لوگوں میں سے ایک ہیں، جو صرف اپنے ملک کےلئے جیتے ہیں، سماج کےلئے کام کرتے ہیں اور جن کا مقصد معاشرے کے لوگوں کو ترقی کی راہ پرگامزن کرناہے۔ وہ دومحاذوں پر ایک ساتھ لڑائی لڑرہے ہیں۔ ایک طرف وہ عام لوگوں کو اپنے پیروں پر کھڑاہونا سکھارہے ہیں تو دوسری طرف وہ حکومت پر مسلسل اس بات کےلئے دباؤ بناتے ہیں کہ وہ ماحولیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے مفادعامہ کے تحت فیصلے کرے۔

ڈاکٹرانل جوشی کاجنم اتراکھنڈکے کوٹ دورامیں ہوا۔ اچھاتعلیمی ریکارڈرکھنے والے ڈاکٹر جوشی نے علم ماحولیات میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد کوٹ دوار گونمنٹ کالج میں لکچررہوگئے۔ لیکن ایک پہاڑی ہونے کے ناطے انھوں نے فیصلہ کیاکہ ان کو یہاں کے لوگوں کیلئے کچھ الگ کام کرناہے۔اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے انھوں نے 1981میں ہمالیہ ماحولیات مطالعہ وتحفظ نامی تنظیم قائم کی۔جس کے بعد ان کے کچھ ساتھی اور طلباء ا ن سے وابستہ ہوگئے۔ ان لوگوں نے کئی ایسے تجربے کئے جن کا فائدہ آج نہ صرف اتراکھنڈ کے لوگ اٹھارہے ہیں بلکہ کشمیر سے لے کر میگھالیہ تک باشندوں کو مل رہاہے۔ڈاکٹرانل جوشی کا کہناہے، ’ملک کی خوشحالی میں گاؤں کا بڑاکردارہے اور گاؤں کی بہتری کیلئے وسائل پر مبنی معیشت ہونی چاہئے۔اس کے تحت مقامی پیداوارکو اقتصادیات کے ساتھ جوڑاجاسکتاہے۔‘

کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیاد جی ڈی پی ہوتی ہے،لیکن ڈاکٹرانل جوشی کاخیال ہے کہ جی ڈی پی بھلے ہی ملک کی معاشیات کی حالت بتاتی ہومگراس کا پسماندہ اور غریب لوگوں کی معیشت سے کوئی لینادینانہیں ہوتا۔ دوسرے ان کا کہناہے کہ جب معیشت کو ناپنے کا کام ہوتاہے تو اکولوجیکل گروتھ بھی دیکھنی چاہئے۔ اس کے لئے ضروری ہے گراس انوائرمنٹ پروڈکٹ۔تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ ہر سال کتنے جنگل بڑھے،کتنی مٹی کو بہنے سے روکاگیا،ماحول کی ہواکو کتناصاف کیاگیااور پانی کو کتناریچارج کیاگیایااسے بہتر بنایاگیا۔

اتراکھنڈ کو قائم ہوئے 15سال ہوگئے ہیں لیکن حکومت کا فوکس شہری ترقی پر ہی رہا۔اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹرانل جوشی اور ان کی ٹیم نے ’گاؤں بچاؤ مہم‘ شروع کی ہے۔ساتھ ہی سرکارپر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ وہ گاؤں کی ترقی کو اہمیت دیں۔ اس مہم کے تحت ڈاکٹرجوشی نے مختلف مواضعات کادورہ کیا۔ان کے مطابق آج گاؤں میں تعلیم،صحت اور روزگارکے وسائل کم ہیں اس لئے وہ حکومت پر اس مہم کے ذریعے یہ دباؤ بنارہے ہیں کہ وہ اکولوجیکل زون کی بنیادپر اترکھنڈ کے الگ الگ علاقوں کی برنڈنگ کرے تاکہ اس علاقے کی نہ صرف ترقی ہوبلکہ معاشی ترقی میں بھی یہ مددگارثابت ہو۔نوے کی دہائی میں اتراکھنڈ کے گاؤں ’واٹرمل‘ گیہوں سے آٹابنانے کا کام کرتی تھی،لیکن آہستہ آہستہ انھوں نے کام کرنابندکردیااور لوگوں کا رجحان بجلی اور ڈیزل سے چلنے والی آٹاچکی کی جانب ہونے لگا۔اس کے بعد انل جوشی نے اس مسئلے پر گاؤں گاؤں جاکر تحریک شروع کی ۔اس کا اثر یہ ہواکہ قومی سطح پر ’گھراٹ واٹر مل ڈیولپمنٹ‘ کی ابتداکی۔ اس کے بعد ان گھراٹوں کو ٹربائن مین تبدیل کیاگیا اور ان سے بجلی لینے کاکام شروع کیاگیا۔

ڈاکٹر انل جوشی کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج اتراکھنڈ کے سو سے زائد گاؤں میں ان کے بتائے طریقے سے روایتی طرز پر کاشت کاری کی جارہی ہے تاکہ کم زمیں میںزیادہ پیداوار کی جاسکے۔اس کے علاوہ مقامی سطح پر پیداہونے والے مہوا،چولائی،کٹو جیسی فصل سے کئی طرح کی اشیابنائی جارہی ہیں۔ انھوں نے بدری ناتھ اور کیدارناتھ جیسے مذہبی مقامات پر اس بات کو فرو غ دیاکہ ان مندروں میں چولائی اور کٹو کا ہی پرساد چڑھایاجائے اور اگر کوئی ان چیزوں کو چڑھانانہیں چاہتاتو ان چیزوں کا استعمال لڈوبنانے میں کیاجائےتاکہ یہاں آنے والے سیاحوں کو نہ صرف نئی چیز کھانے کو ملے بلکہ مقامی سطح پر بھی روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو۔ اتراکھنڈ میںہی نہیں بلکہ جموں کے کٹراکے آس پاس مکاکافی مقدارمیں پیداہوتاہے ۔وہاں انھوں نے لوگوں کو مکے کے لڈو بناناسکھایااور آج اکیلے پرکھل گاؤں کی سالانہ آمدنی 40لاکھ روپئے ہے۔اسی طرح ان کی کوشش ہے کہ پہاڑی علاقوں میں پڑنے والے مذہبی مقامات کے آس پاس جو بھی وسائل ہوں ان کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیاجائے اور ان سے پرساد تیارکیاجائے ۔ساتھ ہی مندروں میں استعمال ہونے والی اگربتی یا دھوپ جیسی دیگر مصنوعات تیارکی جائیں۔اس طرح کے کام سے مقامی لوگوں کو ان مندروں سے براہ راست فائدہ مل رہاہے۔

انل جوشی کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اتراکھنڈ کے متعدد مقامات پر فوڈپروسیسنگ کی اکائیاں کھولی گئی ہیں ،جہاں خواتین کام کرتی ہیںاور وہ مل کر جیم ،جولی اور مختلف طرح کے مشروبات تیارکرتی ہیں۔اس طرح ان خواتین نے نہ صرف اپنا ایک برانڈ تیارکیابلکہ ان کو روزگار کا وسیلہ بھی مل گیا۔اسی طرح مقامی اناج پر مبنی بیکری مصنوعات تیارکرانے کاکام ڈاکٹر انل جوشی اور ان کی ٹیم خاص طورسے اتراکھنڈمیں پڑے پیمانے پر کررہی ہے۔اتناہی نہیں ان لوگوں نے کری (جسے جنگلی گھاس بھی کہتے ہیں) سے فرنیچربنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ آج اتراکھنڈ کے علاوہ بہار،کرناٹک ،مدھیہ پردیش اور دوسری جگہوں پر اس کی تربیت دے رہے ہیں۔اس سے بننے والافرنیچر اتناہی مضبوط اورخوبصورت ہوتاہے جتنابانس سے تیارفرنیچر۔

آج ڈاکٹر انل جوشی کسی ایک جگہ یاایک کام سے بندھے نہیں ہیں ۔وہ ہمالیہ سے متصل علاقے میں کام کررہے ہیں،جہاں ان کی ضرورت ہے۔یہ کشمیر سے لے کر میگھالیہ تک کے مواضعات کی بہتری کیلئے کام کررہے ہیں۔فی الحال ان کا منصوبہ ’گاؤں بچاؤ تحریک‘ کو قومی سطح پر شناخت دلانے کا ہے تاکہ پہاڑی علاقوں کی زیادہ سےزیادہ معاشی ترقی ہو۔

قلمکار : ہرشت بشٹ

مترجم : وسیع اللہ حسینی

ویب سائٹ : www.hesco.in