مینجمنٹ پروفیشنل نوجوان کا نامیاتی زرعی شعبہ میں کارنامہ

0


خودکشی پر مجبور ہندوستانی کسانوں کےلئے امید کی کرن

انسان کی زندگی میں صحیح وقت ‘ صحیح مقام اور صحیح وجوہات جب یکجا ہوتے ہیں تو ایک تحریک پیدا ہوتی ہے اور وہ کوئی نہ کوئی کارنامہ انجام دیتا ہے ۔ جتیندر سنگوان آئی سی آئی سی آئی اور اویواجیسی دیگر بڑی کمپنیوں کے ساتھ اپنا کامیاب کارپوریٹ کیرئیر شروع کرنے کے باوجود اپنی پسند کی ملازمت حاصل کرنے سے قاصر تھا ۔ جتیندر کو کچھ ذاتی کاروبار کرنے کا خیال آیا لیکن وہ طے نہیں کرپارہا تھا کہ کیا کریں ۔اس دوران ہریانہ کے ضلع کروکشیتر میں اپنے آبائی دیہات تھول کے دورہ کے موقع پر اسے زرعت یعنی کھیتی باڑی کرنے کا خیال آیا۔

جتیندر کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ تھول کا دورہ کرتا اسے یہ محسوس ہوتا کہ وہاں کسان خوش نہیں ہیں اور وہ اپنے بچوں کو بھی زرعت و کھیتی باڑی میں مشغول کرنا نہیں چاہتے۔ کسانوں کا خیال ہے کہ زرعت میں ان کے بچوں کا بہتر مستقبل نہیں ہے ۔جتیندر نے اس بارے میں بہت سوچا اور اس کو مطمئن کرنے والی بات یہ تھی کہ کیوں نہ بے جان کھیتی باڑی اور زرعت میں زندگی پیدا کی جائے اور اس شعبہ میں متبادل راستہ اختیار کیا جائے۔اس کے ساتھ ہی جتیندر کے ذہن میں نامیاتی زرعت یعنی ارگینک فارمنگ کا نظریہ آیا لیکن اس کے سامنے یہ دشواری تھی کہ اس کو زرعت کا ماضی کا کوئی تجربہ نہیں ہے ۔ اس کے والد انڈین ایئر فورس میں آفیسر تھے اور جتیندر نے کیندریا ودیالیہ میں تعلیم اور پھربیچلرڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں اس نے سیمبیاسیس یونیورسٹی ’ پونے سے ایم بی اے کی تکمیل کی جو کارپوریٹ کیرئیر کے آغاز کے لئے باب الداخلہ کی طرح ہے ۔فطری طور پر اس کے والدین اور دوست احباب بھی اس سے مطمئن تھے ۔

زرعت کی شروعات کے بارے میں بتاتے ہوئے جتیندر نے قہقہ لگایا اور کہا کہ وہ نہ صرف اپنا کیرئیر چھوڑ رہا ہے بلکہ ایک ایسے دیہات میں رہنے کیلئے جارہا ہے جہاں برقی تک نہیں ہے ‘ انٹر نٹ کو تو بھول ہی جائیے۔اگرچہ یہ اطمینان بخش دکھائی دے رہا تھا اور اس کو پکا یقین بھی تھا کیونکہ ازسر نو جدوجہد کرنے کےلئے اس کو جو مدد چاہئے تھی یعنی جذباتی اور مالی وہ دونوں ہی اس کے پاس تھی۔

ایک لاکھ روپئے کے سیڈ کیپٹل کے ساتھ نومبر 2013میں’’ فارمنگ انوبل ایگرو پراڈکٹس پرائیویٹ لیمٹیڈ‘‘ کمپنی قائم کی گئی ۔ کمپنی کے قیام کا مقصد کروکشیتر میں اس کے ذاتی کھیتوں سے تیارکردہ نامیاتی اشیاء راست طور پر دہلی اور قومی دارالحکومت( این سی آر) میں فروخت کرنا تھا ۔اس نے اس ضمن میں تمام تحقیقات بھی کیں ۔جتیندر کے لئے سب سے بڑا چیالنج نامیاتی زرعت سے متعلق معلومات کا حصول تھا کیونکہ ہر کوئی کیڑے مار دوائیں اور کیمکلز استعمال کرتے ہوئے روایتی کھیتی باڑی اور زرعت کررہا تھا ۔اگرچہ آغاز سست رفتار رہا لیکن تمام چیزیں یکجا ہونے لگیں ۔ جتیندر کی کمپنی نے نہ صرف نامیاتی اشیاء تیار کیں بلکہ دہلی اور این سی آر علاقہ میں مختلف کمیونیٹز کو فروخت کرنے کا بھی آغاز کیا گیا ۔انوبل ایگرو ویژن‘ کا مقصد ہندوستان میں نامیاتی زرعت کو فروغ دینا اور ایسا ماحول پیدا کرنا تھا جس کے ذریعہ مصنوعی خارجی عناصر جیسے کیمیکل فرٹیلائزرس اور کیڑے مار دواؤں کے استعمال کے بغیر مستحکم پیداوار کے حصول میں مدد مل سکے۔وہ اپنے ہر طرف کسٹمرس کو مستند و مستحکم نامیاتی پروسسیڈ فوڈ کی فراہمی اور کسانوں کو نامیاتی زرعت کے ذریعہ خود مکتفی بنانا چاہتا تھا ۔

روایتی طور پر کسان موجودہ مروجہ منڈی کی شرحوں ‘موسمی کٹ اوٹس اور ناقص کیڑے مار دواؤں پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں ۔ہندوستان کے شہری علاقوں میں بڑے پیمانے پر نامیاتی زرعت کا آغاز ہوچکا ہے جہاں اعلی معیاری وقدرتی غذاؤں کو ترجیح دی جاتی ہے جو زیادہ صحت بخش ہوتے ہیں ۔اس پس منظر میں جتیندر اپنے علاقہ میں کسانوں کو نامیاتی زرعت کے لئے متحرک کرنا چاہتا تھا ۔ اس نے تخم کی فراہمی‘ نامیاتی اشیاء سے متعلق معلومات اور مفت مشاورتی خدمات کے ذریعہ یہ کا م انجام دیا ۔

جتیندر کے دعویٰ کے مطابق ابتدائی برسوں میں کسانوں کی پیداوارمیں کمی کی پابجائی کیلئے کمپنی کے فنڈز سے ان کو مارکٹ کی شرحوں سے 10فیصد زیادہ قیمت ادا کی گئی ۔مارکٹ میں مسابقت کے باعث کمپنی کے پراڈکٹس کو 20تا 30فیصد کم قیمتوں پر فروخت کیا گیا ۔ درمیانی آدمیوں اور چلر فروخت کنندگان کو کوئی کمیشن ادا نہیں کیا جاتا تھا اور نہ ہی کمپنی کے پاس اعلی مارکیٹنگ یا برانڈ کی قیمتیں تھیں ۔کمپنی یہ فائدہ چھوٹے کسٹمرس کو منتقل کررہی تھی ۔کمپنی کے اس اقدام سے کسانوں کے تخم پر خرچہ کا بوجھ کم ہوا اور نامیاتی زرعت کیلئے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی ۔اس طرح دلچسپی رکھنے والے کسانوں کے ساتھ کمپنی نے 10سال کے معاہدہ پر دستخط کئے اور کمپنی کے لائسنس کے تحت ان کی زمینوں کی تصدیق کی گئی ۔

انوبل کمپنی نے کئی قسم کی فصلیں تیار کیں اور پروسیسنگ کے بعد غذائی اشیاء کے پیاکیجس تیار کئے گئے ۔کمپنی کی فصلوں میں گیہوں ‘ گیہوں کا آٹا‘ باسمیتی چاول ‘ اڑد‘ مسور ‘ سرخ چھلکے والے آلو اور دلیا وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ انوبل کمپنی کی اشیاء راست کسٹمرس کو فروخت کی جاتی ہیں ۔اب ہفتہ کے آخر میں مختلف سوسائیٹیوں میں قائم ہونے والے مراکز میں بھی ان اشیاء کی فروخت کی جارہی ہے۔کمپنی کے کوئی مستقل ملازمین نہیں ہیں ۔ کام کیلئے بیشتر عارضی کنٹراکٹ مزدور ہوتے ہیں ۔جتیندر نے بتا یا کہ ہر ہفتہ 2تا 3کنٹل دالیں‘ 4تا 5کنٹل آلو ‘ 2تا 3کنٹل چاول‘ 5تا 6کنٹل آٹا ‘ ایک تا 2کنٹل چاول کا آٹا اور 50کلو تا ایک کنٹل دلیا فروخت کیا جاتا ہے۔

جتیندر کا کہنا ہے کہ اس نے زرعت کے رویتی طریقوں کو یکسر تبدیل کردیا ہے اور پیداوار ی اشیاء کی فروخت درمیانی آدمی کے بغیر اے این ایم کے اصول پر کی جارہی ہے ۔ہندوستان کے کسان طویل عرصہ سے ایسے کسی ماڈل کی خواہش رکھتے تھے لیکن حکومت اور کارپوریٹ گھرانوں کی کسی مدد کے بغیر ایسے ماڈل کو اختیار کرنا مشکل ہے ۔اس نے بتا یا کہ اس طریقہ سے درمیانی آدمی کو ہٹا کر کسٹمرس پر راست توجہ مرکوز کی جارہی ہے جہاں کمپنی کی زرعی اشیاء کے استعمال کنندگان نہ صرف کسانوں سے بات چیت کرسکتے ہیں بلکہ کمپنی کے کھیتوں کا معائنہ بھی کرسکتے ہیں ۔ایسا پہلے کبھی نہیں کیا گیا ۔ اس کااحساس ہے کہ ہندوستان کے زرعی شعبۂ میں یہ بڑی تبدیلی ثابت ہوگا ۔اس سے کسانوں کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی اور زرعی پیشہ کے احیاء اور اس کی بقاء میں مدد بھی ملے گی ۔جتیندر نے بتا یا کہ ہندوستان کی موجودہ زرعی صورتحال اچھی نہیں ہے جہاں مایوس کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں ۔حکومت کے تعاون اور کسی مالی مدد کے بغیر کسٹمرس کو اپنے ذاتی برانڈ کے تحت نامیاتی زرعی اشیاء کی فراہمی کے نئے طریقہ کار کی شروعات کسی کیلئے بھی مشکل کام ہے ۔

انوبل کمپنی جیسے وینچر میں کسانوں کو زیادہ سے زیادہ نامیاتی زرعی اشیاء تیار اور سربراہ کرنے کا حوصلہ پیدا کرنے کی صلاحیت و گنجائش موجود ہے اور وہ راست کسانوں سے معاملت کرنے والے اس عمل میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کیلئے کارپوریشنوں کو دعوت دینے پر غور کررہی ہے۔ کمپنی کی 80فیصد سے زیادہ اشیاء کی دوبارہ خریداری کے آرڈرز کے ساتھ انوبل ایگرو اپنی نامیاتی زرعی اشیاء یوروپ اور ایشیائی ممالک کو برآمد کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے ۔ کمپنی ہندوستان کے دیگر میٹرو شہروں ممبئی ‘ بنگلورو‘پونے ‘حیدرآباداور کولکتہ میں نامیاتی پروسیسڈ غذائی اشیاء جیسے کارن فیلکس اور بریک فاسٹ میں استعمال ہونے والی اشیاء کے علاوہ نوڈولس ‘ پاستہ‘ جوس اور اسپائس کی فروخت کا آغاز کرنا چاہتی ہے ۔انوبل ایگرو 2016میں 50لاکھ روپئے کی آمدنی کی توقع رکھتی ہے ۔