باغبانی کو عصری ٹکنالوجی سے ہم آہنگ کرانے والےخالد احمدضمیر

0

ہرے بھرے پودوں کے درمیان میں رہنا یقیناً سب کو پسند ہے۔ قدرت سے قریب ہونا اور قدرت کی رنگینیوں کا نظارہ کرنا بہترین تجربہ ہے اور اس سے نہ صرف ذہنی سکون ملتا ہے بلکہ کائنات کے خالق کی تخلیق کو دیکھ کر دل خودبخود واہ واہ کراٹھتا ہے۔ اسی کو اپنا پیشہ بنانے والے خالد احمد ضمیر سے ہم آپ کومتعارف کراتے ہیں۔ خالد ضمیر کی ہمہ جہت شخصیت ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ کیا ہے۔ انھوں نے چھوٹے چھوٹے پودوں کے ذریعہ سماج میں ہریالی کو بڑھاوا دیا ہے۔

خالد احمد ضمیر 1955ءمیں حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ انھیں بچپن ہی سے کچھ نیا کرنے کا شوق تھا۔ سماج کو بہتر اور اچھا بنانے کی فکر تھی۔ اپنے بچپن کے بارے میں انھوں نے بتایا‘ ”میری پیدائش حیدرآباد میں ہوئی۔ ہمارا گھرانہ تجارت پیشہ تھا اس لیے انٹرمیڈیٹ کے بعد میں کاروبار سے وابستہ ہوگیا۔ 1974ءمیں مجھے نرسری کا کاروبار کرنے کا موقع ملا۔“

یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ ہریالی ہماری زندگی کے لیےکس قدر ضروری ہے۔ ہرےبھرے درخت سے ہمیں آکسیجن ملتی ہے۔ تیزرفتار بڑھتی فضائی آلودگی کو روکنے میں یہ نہایت معاون ہوتے ہیں۔ بے ہنگم ٹریفک اور زہر اُگلتی گاڑیوں کے علاوہ فضائی آلودگی کے لیے دیگر عوامل بھی شامل ہیں جب کہ ان سے بچنے کے لیےصرف ایک ہی قدرتی راستہ ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ درخت اور پودے لگائیں۔ نرسری میں ایسے پودے بھی شامل ہوتے ہیں جنھیں گھر کی کسی خالی جگہ پر بھی اگایاجاسکتاہے۔ ان چھوٹے پودوں سے نہ صرف گھر کی خوبصورتی میں چار چاند لگ جاتے ہیں بلکہ بعض ترکاریاں اور پھل بھی حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

خالد احمد نے نرسری کے شعبہ کو زمانہ کے ساتھ ترقی یافتہ بنانے کے لیے ایک صنعتی کارخانہ بھی شروع کیا۔ اس تعلق سے انھوں نے بتایا

”1984ءمیں ہارٹی کلچر سے متعلق ایک صنعتی کارخانہ کی شروعات کی جس کا نام یانکر کلینگ ایند گارڈنگ ایکیوپمنٹ تھا۔ یہ آج بھی جاری ہے۔ یہاں پر گارڈنگ سے متعلق تمام چیزیں تیار کیا جاتی ہےں“۔

ہارٹی کلچر سے متعلق رہنمائی کے لیے وہ ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ سماج سے کچھ لینے کے بجائے وہ لوٹانے میں یقین رکھتے ہیں۔ انھوں نے Looks کے نام سے ایک نرسری بھی قائم کی ہے۔ یہاں پر ہمہ اقسام کے پودے اور بیلیں ہیں۔ ان پودوں اور بیلوں پر خوشنما پھول بھی اگائے جاسکتے ہیں اور پھل بھی۔ ساتھ ہی اگر کوئی تازہ تازہ ترکاریاں اگانا چاہتے ہیں تو وہ بھی اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ ان ترکاریوں کے میں صحت کے لیے نقصاندہ اجزاءشامل نہیں ہوتے ہیں۔ جیسے آج کل زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے بے تحاشہ جراثیم کش ادویات کا چھڑکاﺅ کررہے ہیں جو دھونے سے بھی صاف نہیں ہوتے۔ ہمارے پیٹ میں جاکر مختلف بیماریوں کی وجہ بن سکتے ہیں۔ چنانچہ خالد احمد نے بتایا،

”اگر ہم صحت مند مستقبل چاہتے ہیں تو ہمیں ہریالی کی جانب توجہ دینا ہوگا۔ ہمارے گھروں میں ہریالی کو لازمی بنانا ہوگا۔ پھل، پھول اور ترکاریوں کے پودوں کو کسی بھی جگہ پر لگائیں۔ اگر چھت پر جگہ کھلی ہو تو اسے ضرور لگایاجاسکتاہے۔ اسی طرح آفسس اور دیگر جگہوں پر بھی بڑے پیمانے پر درخت اور پودے اگائے جاسکتے ہیں۔ اگر ہم آج بھی نہیں جاگے تو آگے چل کر مستقبل نہایت پریشان کن ہوسکتاہے۔ لہٰذا پیڑ پودے لگائیں اور مستقبل کو حسین بنائیں“۔

خالداحمد کو نرسری کا کافی شوق ہے۔ ہمہ اقسام کے پودوں کا تجربہ وہ گذشتہ 30 سال سے رکھتے ہیں۔ ہریالی کو فروغ دینا اور ماحول کو خوبصورت بنانا ان کا مقصد ہے۔ اسی لیے انھوں نے نرسری میلے کی شروعات کی۔ شروعات کے بارے میں پوچھنے پر انھوں نے بتایا،

” متحدہ آندھراپردیش حکومت کی جانب سے 18 سال قبل نرسری میلے کی بنیاد ڈالی گئی۔ یہ میلہ بڑا دلچسپ ہوا کرتا تھا۔ 2011ءتک بغیر کسی رکاوٹ کے یہ نرسری میلہ یا ہارٹی کلچر شو جاری رہا۔ 2011ءمیں تلنگانہ ایجی ٹیشن کی نذر ہوگیا۔ 2011ءسے 2015ءتک یہ میلہ نہیں لگ سکا۔ اس خلاءکو پورا کرنے کے لیے ہم نے قدم اٹھایا اور گذشتہ 7 اکتوبر سے 11 اکتوبر ہم نے یہ شو منعقد کیا جو نہایت کامیاب رہا“۔

خالد احمد ضمیر ”اسوی ایشن آف ایونٹ آرگنائزر“ کے صدر ہیں۔ یہ سوسائٹی حیدرآباد میں مختلف پروگراموں کے انعقاد کی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔

ابھی جاریہ ”آل انڈیا ہارٹی کلچر شو“ کا انعقاد بھی اسی اسوسی ایشن نے کیا۔ یہ ہارٹی کلچر شو تلنگانہ پیوپلز پلازہ نکلس روڈ پر منعقد ہورہا ہے جہاں پر ہندوستان بھر سے لوگ آرہے ہیں۔ مہاراشٹرا، کرناٹک، آندھراپردیش کے علاوہ ملک کے مختلف مقامات سے یہاں پر ہارٹی کلچر شو میں لوگ شامل ہورہے ہیں۔

ملک بھر سے آئے ہارٹی کلچر کے ماہرین یہاں نرسری اور باغبانی سے متعلق تمام اشیاءکی نمائش کرتے ہیں۔ جیسے کھاد، بیج، اوزار اور کئی اقسام کے زرعی اور باغبانی سے متعلق اشیاءبھی دستیاب رہیں گی۔ اس کے علاوہ یہاں پر جڑی بوٹیاں اور آرگنک ترکاریاں وغیرہ کے پودے بھی دستیاب ررہتے ہیں۔“

ماحول کو پرفضاءاور حسین بنانے میں یقینا پیڑ پودے اہم رول اد اکرتے ہیں۔ ایک بہترین مشغلہ یہ ہے کہ پیڑپودے اگائیں آنے والی نسلوں کو ایک بہترین مستقبل فراہم کریں۔ جو لوگ ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں اور پیڑ پودوںکے دشمن ہوتے ہیں۔ درختوں کی کٹائی کو جو اپنا کاوربار بناتے ہیں انھیں خالداحمد سے سیکھنا چاہئے کہ زندگی پیڑپودوں کو اگانے سے آگے بڑھتے ہے کاٹنے سے نہیں۔

Related Stories