بیٹیوں کو خواندہ بنانے کا پیغام لےکر کار میں 32 ہزار کلومیٹر کا سفرطےکر ہندوستان پہنچی این آر آئی وکیل بھارولتا

آرٹ اور موسیقی کے پرستار بھارولتا کا خواب ہے کہ وہ نوساری میں جدید سہولیات سے پر ہسپتال کی تعمیر کرے۔  سفر کے دوران ان کا رابطہ جن لوگوں سے ہوا،انہوں نے  ان  لوگوں سے ہسپتال کے لئے فنڈ بھی جمع کیا ہے۔

0

بھارولتا كامبلے بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاو مشن کے تحت لندن سے تقریبا 32000 کلومیٹر کا طویل سفر اپنی کارسے ہی طے کرکےہندوستان پہنچی ہیں۔ گجرات کے نوساری ضلع کی رہنے والی این آر آئی خاتون نے اکیلے ہی لندن سے ہندوستان تک سفر طے کیا ہے۔ وہ ہندوستان میں لڑکیوں کے لئے ایک بہترین ہسپتال کھولنے کا خواب لے کر لندن سے ہندوستان تک پہنچی ہیں.

بھارولتا

قریب 32 ممالک کا دورہ کرنے کے بعد ہندوستان پہنچنے والی 43 سالہ بھارولتا كامبلے کا کہنا ہے کہ اس سفر کو طے کرنے میں انہیں کل 57 دن کا وقت لگا اور قریب 32 ممالک کے لوگوں سے ان کا رابطہ ہوا ہے۔ انہوں نے یہ سفر ہندوستانی حکومت کے بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاو مشن کو پورا کرنے کے لئے شروع کی ہے۔ سفر کے دوران انہوں نے 32 ممالک میں یہ پیغام پہنچایا ہے۔

مرکزی حکومت کے 'بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاو' مشن کی حمایت میں لندن سے ہندوستانی نژاد کی ایک خاتون کار سے مہاراشٹر پہنچ گئیں ہیں، جہاں ان کا استقبال مرکزی وزیر برائے سماجی انصاف رام داس اٹھاولے نے کیا۔

بھارو لتا 8 نومبر کو منی پور کے ماریہ چوک پہنچی تھیں، جس دوران انہوں نے نو پہاڑی قطاروں، تین بڑے ریگستان اور دو براعظم پار کئے۔ بھارولتا کے اس دورے کو گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں شامل کیا جا سکتاہے۔ آرٹ اور موسیقی کا شوق رکھنے والی بھارولتا کا خواب ہے کہ وہ نوساری میں جدید سہولیات سے لیس ایک ہسپتال کی تعمیر کرے۔ اس کام کے لئے 32 ممالک کا سفر کرنے کے دوران ان کا رابطہ جن لوگوں سے ہوا، ان سے ہسپتال کے لئے فنڈ بھی انہوں نے اکٹھا کیا ہے۔ نوساری میں جدید ہسپتالوں کی کمی ہے اور اسی وجہ سے بھارولتا نے اپنے دادا جی کو برسوں پہلے کھو دیا تھا.۔ صحیح وقت پر جدید علاج نہ ملنے کی وجہ سے ان کے دادا نے دم توڑ دیا تھا۔

بھارولتا كامبلے پہلی ایسی خاتون ہیں جنہوں نے 57 دن میں 32 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کیا ہے۔

اکثر لوگ گھومنے کا بہت شوق رکھتے ہیں، لیکن گجرات کی رہنے والی بھارولتا كامبلے نے اپنے سفرنامے کو ایک الگ ہی راہ دی ہے۔ برطانیہ سے ہندوستان تک کارڈرائیو کرنا کسی بھی شخص کے لئے ایڈوینچرس ہو سکتا ہے، لیکن بھارولتا كامبلے نے یہ سفر صرف ریکارڈ قائم کرنے یا ریکارڈ بنانے کے لئے نہیں، بلکہ ملک کی بیٹیوں کو خواندہ بنانے کے لئے فیصلہ کیا ہے. كامبلے روس کے راستے چین گئیں۔ وہ میانمار سے بھارت آئیں۔ آسام سے اترپردیش اور وہاں سے سفر کر وہ مہاراشٹر آئیں۔ کار سے مہاراشٹر میں مها پہنچنے کے لئے انہیں 75 دن لگے۔ ان کے سسرال کے لوگ رائے گڑھ ضلع سے ہیں۔

بھارولتا لندن میں ایک پیشہ ور وکیل ہیں۔

بھارتی بھارولتا کا جذبہ ہی کہیں گے کہ انہوں نے بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاو مشن کے تحت لندن سے ہندوستان تک تقریبا طویل سفر اپنی کار میں طے کیا۔ 43 سالہ بھارولتا خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاو مشن کو پورا کرنے کے لئے کیا گیا ان کے اس سفر کے دوران انہوں نے ویمن ایمپاورمینٹ اور 'بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاو' کا پیغام لوگوں کو دیا ہے۔