میرا کی دو آنکھوں نے بھر دی 2000 سے زیادہ نابیناؤں کی زندگی میں روشنی

0

نابینا کے ہاتھوں میں ہے سافٹ ویئر کمپنی "ٹیک وِزن" کی کمانکئی نابینا بنے بنکوں میں پروبیشن آفیسر

آٹھ ہزار سے اسـی ہزار روپیوں تک کمارہے ہیں یہ نابینا

نابینا طلباء پی ۔ ایچ ۔ ڈی اور قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں

"وِزن اَن لمیٹیڈ' میں پانچ ہزار سے زیادہ کتابیں 'بریل رسم الخط ' میں

نابیناؤں کی اعلیٰ تعلیم پر خصوصی توجہ

جو لوگ دنیا کی رنگینیوں کو نہیں دیکھ سکتے، انہیں ایک کمپنی سنہرے خواب دکھا رہی ہے۔ اور جو نابینا اپنی مُٹھی میں بند خوابوں کی تعبیر پانا چاہتے ہیں ان کی تحریک بن رہی ہیں ۔۔۔ میرا بڑوے۔

گزشتہ دو دہائیوں سے نابینا بچوں کے مستقبل کو سنوارنے میں مصروف میرا، آج دو ہزار سے زیادہ نابینا بچوں کی باز آبادکاری کرچکی ہیں۔ یہ بچے رقص اور موسیقی سے لے کر سافٹ وئر انجینئرنگ تک میں اپنا کریئر بنارہے ہیں، بیکری چلارہے ہیں، کتب خانے سنبھال رہے ہیں۔ میرا بڑوے کی 'نِوانت اندھ مُکت وِکاسالے' کے ذریعے پڑھنے والے نابینا بچے الگ الگ کریئر میں اپنا نام روشن کر رہے ہیں۔ ان کے ذریعے پڑھائے گئے نابینا بچے آٹھ ہزار سےلے کر اسی ہزار روپئے تک کمارہے ہیں۔ اسی سال ان کے 52 نابینا بچوں کا الگ الگ بنکوں میں تقرر ہوا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان میں سے 30 سے زیادہ بچے پروبیشن آفیسر کے عہدے پر متعین کئے گئے ہیں۔

"جن کے پَروں میں طاقت ہوتی ہے وہ آسمان کی اونچائیوں تک اُڑسکتے ہیں لیکن جو زمین پر ہی رہ گئے ہیں ہمیں ان کےلئے جینا ہے۔" یہ سوچ ہے پونے کے پاس وِدیا نگر میں رہنے والی میرا بڑوے کی جو گزشتہ دو دہائیوں سے نابینا لوگوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھارہی ہیں۔ انگریزی ادب میں ایم ۔ اے اور اس کے بعد بی۔ ایڈ کرنے والی میرا نے 'نِوانت اندھ مُکت وِکاسالے' شروع کرنے سے قبل کئی برس کالج اور اسکول میں تدریس کے فرائض انجام دئے۔ ایک مرتبہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ پونے کے گورے گاؤں میں موجود نابیناؤں کی اسکول میں گئیں جہاں انہیں چھوٹے چھوٹے نابینا بچے نظر آئے۔ اسی دوران ایک بچہ ان کے پاس آیا اور ان کے گلے لگ گیا۔ وہ سمجھا کہ اس کی ماں اس سے ملنے آئی ہے۔ لیکن حقیقت جان کر وہ رونے لگا۔ اس واقعے نے میرا کو اندر سے لرزا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ کالج میں تدریس کا کام چھوڑ کر وہ ایسے نابینا بچوں کےلئے کچھ کریں گی۔

اس کے بعد وہ رضاکار کی حیثیت سے ان بچوں کے ساتھ وابستہ ہوگئیں اور انہیں انگریزی سکھانے لگیں۔ مسلسل تین برسوں تک نابینا بچوں کو پڑھانے کے بعد وہ سمجھنے لگیں کہ ان نابینا بچوں کو اسکول میں جتنی مدد کی ضرورت ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ ضرورت انہیں تب ہوتی ہے جب وہ بالغ ہوجاتے ہیں کیوں کہ تب نہ تو انہیں گھر اپناتا ہے اور نہ ہی سماج۔ اسی طرح ایک دن میرا کی ملاقات اپنے گھر سے قریب فٹ پاتھ پر ایک نابینا لڑکے سدھارتھ گائیکواڑ سے ہوئی جو تقریباً 15-10 روز سے بھوکا تھا۔ اس لڑکے کو 20 برس پہلے اس کے والدین نے نابیناؤں کے اسکول میں چھوڑدیا تھا جس کے بعد وہ کبھی اسے لینے نہیں آئے۔ میرا کے مطابق اس لڑکے کی حالت اتنی خراب تھی کہ وہ ڈھنگ سے چل بھی نہیں پارہا تھا۔ وہ اسے اپنے گھر لے آئیں۔ یہاں میرا نابیناؤں سے متعلق بہت سی سچائیوں سے واقف ہوئیں۔ اس کے بعد انہوں نے سدھارتھ کو نہ صر ف پڑھایا اور اسے اپنے پیروں پر کھڑا رہنے لائق بنایا بلکہ اسے ماں کا پیار بھی دیا۔ اس واقعے کے بعد میرا کی زندگی نے ایسی کروٹ لی کہ آج وہ 200 سے زیادہ نابینا بچوں کی ماں ہیں اور یہ بچے ان کے خاندان کا حصہ ہیں۔

آج میرا دو ہزار سے زیادہ نابینا بچوں کی باز آباد کاری کر چکی ہیں۔ میرا کا کہنا ہے کہ " ان لوگوں کی بھی اپنی خواہشات اور امنگیں ہوتی ہیں اس لئے مجھے سماج سے کافی لڑنا پڑا۔ " آج ان کے ذریعے پڑھائے گئے تین نابینا بچے پی۔ایچ۔ڈی کر رہے ہیں، وہیں کچھ بچے قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ خود میرا نابینا بچوں کو تقریباً 14 برسوں سے 22 مضامین پڑھاچکی ہیں۔ ان کے اس "وِکاسالے" کی اپنی ایک پرنٹنگ پریس ہے جہاں ہر سال 2 لاکھ سے زیادہ پرچے بریل رسم الخط میں شائع ہوتے ہیں۔ میرا بتاتی ہیں کہ ان کا ادارہ اعلیٰ تعلیم پر زیادہ زور دیتا ہے۔ یہاں بریل رسم الخط میں شائع کتابیں مہاراشٹرا کے کئی دوسرے کالجوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔ میرا کا ادارہ ان کالجوں کو یہ کتابیں مفت فراہم کرتا ہے۔ میرا کے مطابق"جب میں نے ان بچوں پر کام کرنا شروع کیا تو ہمارے تعلیمی نظام میں ایسے بچوں کےلئے ایک بھی لفظ بریل رسم الخط میں نہیں تھا۔" لیکن آج ان کے یہاں ملک بھر کے کئی بچے اپنی ضرورت کے مطابق کتابیں پانے کے لئے انہیں خط لکھتے ہیں۔ میرا کا ادارہ ان کی ضرورتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے کتابیں شائع کرتا ہے۔ میرا کہتی ہیں،"نابیناؤں کے لئے بریل گیٹ وے آف نالج ہے۔ وہ ان کے لئے علم کا درروازہ ہے۔

ان کے اس ادارے کی اپنی ایک چاکلیٹ فیکٹری بھی ہے جس کا نام ہے "چاکو نِوانت" ۔ تقریباً چار برس پرانی اس چاکلیٹ کو نابینا لوگ ہی چلاتے ہیں۔ اس فیکٹری میں 35 تا 40 نابینا لوگ کام کرتے ہیں اور جب ان میں سے کسی کو کہیں باہر ملازمت مل جاتی ہے تو اس کی جگہ کوئی دوسرا نابینا بچہ لے لیتا ہے۔ آج "چاکو نِوانت" ایک برانڈ بن چکا ہے اسی لئے تو کارپوریٹ سیکٹر میں ان کی بنائی چاکلیٹ کی خوب طلب ہے۔ میرا بتاتی ہیں کہ اس سال صرف دیوالی کے موقعے پر "چاکو نِوانت" نے تقریباً 4 لاکھ روپئے کا کاروبار کیا۔

ان کے اس ادارے کی ایک سافٹ وئر کمپنی بھی ہے جس کا نام ہے "ٹیک وِزن"۔ اس کمپنی کو سلی کان ویلی سے مختلف پروجیکٹس ملتے رہتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ اس کمپنی کو چلانے والے نابینا لوگوں نے اپنے یہاں ایسے لوگوں کو ہی ملازمت دی ہے جو دیکھ سکتے ہیں یعنی جو نابینا نہیں ہیں۔ وہ کہتی ہیں، " جس سماج نے ان کو مسترد کردیا ، یہ بچے اس سماج کو اپنا رہے ہیں۔ یہی ان بچوں کی خاص بات ہے ۔ اسی لئے ان بچوں کے عزم کے آگے میں اپنا سر خم کرتی ہوں۔" اس ادارے کی اپنی ایک بریل رسم الخط کا کتب خانہ بھی ہے جس کا نام ہے " وِزن اَن لمیٹیڈ"۔ اس کتب خانے میں پانچ ہزار سے زیادہ کتابیں بریل رسم الخط میں لکھی ہوئی ہیں اور یہ سبھی کتابیں اعلیٰ تعلیم سے تعلق رکھتی ہیں۔ آج اس کتب خانے کی 17 شاخیں مہاراشٹرا کے مختلف شہروں میں قائم ہیں تاکہ چھوٹے چھوٹے گاؤوں میں رہنے والے نابینا بچوں کو بھی اعلیٰ تعلیم مل سکے۔ یہاں پر ضرورت کے اعتبار سے بریل رسم الخط میں تحریر کردہ کتابوں کو رکھا گیا ہے۔

آج میرا کے شوہر بھی اپنا کاروبار چھوڑ کر ان کے ساتھ مل کر نابینا لوگوں کو خود کفیل بنانے کا کام کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میاں بیوی کی یہ جوڑی ماں باپ کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے نہ صرف بالغ نابیناؤں کی باز آباد کاری کر رہی ہے بلکہ یہ لوگ ان کی شادیاں بھی کرواتے ہیں۔ نِوانت میں رہنے والے بچوں کی عمر 18 سے 25 سال کے درمیان ہے۔ نِوانت میں پڑھنے والے بچے خود تو پڑھتے ہی ہیں، ساتھ ہی دوسروں کو پڑھانے کا کام بھی کرتے ہیں۔ یہاں ہر نابینا بچے کو کام تقسیم کردیا گیا ہے۔ اسی لئے آج ان نابینا بچوں میں عزتِ نفس کسی عام انسان سے کم نہیں ہے۔

تحریر: ہریسش بِشٹ

مترجم : خان حسنین عاقب