گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں... اتریئی نهارچںدر کی دلچسپ کہانی

0

کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ زندگی ہمیں حالات کو بدلنے کی خواہش کےرکھنے والوں کا امتحان لیتی ہے، ہمت اور حوصلے کا پرکھنے کے لئے ایک چیلنج سیٹ کرتی ہے اور اس لمحے میں، ہم ڈرامہ نہیں کر سکتے۔ چیلنج آپ کا انتظار نہیں کرے گا۔ کیوں کہ زندگی میں گیا وقت واپس نہیں آتا۔

زندگی کے ہاتھوں دو بار سخت امتحان کا مقبلہ کرنے والی اتریئی نہارچںدر کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ زندگی نے ان کے سامنے بہت سے چیلنج کھڑے کئے، لیکن ان چیلنجوں نے اتریئی کی شخصیت کو اور بھی مضبوط\، ہوشیار اور بہادر بنایا۔ 'Revise Diet' کی بانی اتریئی نے اپنی زندگی دوسروں کی مدد کے لئے وقف کر دی۔ وہ دوسروں کو بغیر وزن گھٹائے اور فٹنیس پرہیزوں سے صحت مند زندگی گزارنے میں مدد کرتی ہیں۔

اتریئی نے اپنے صنعتی سفر کا آغاز 17 سال پہلے شروع کیا، جب وہ اپنے والد کے انٹرپرائز 'Proniak Forge and Flaanges' میں ان کے ساتھ کام کیا کرتی تھی۔ 23 سال کی عمر میں ایک حادثے میں ان کے پاؤں کا ایک لیگامیٹ ٹوٹ گیا۔ جس سے انہیں ایک سال تک بستر پر ہی رہنا پڑا۔ یہ ان کے لئے ایک مایوس کن دور تھا۔ گھومنے پھرنے کے لئے دوسرے لوگوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ انہیں دوبارہ چلنے میں 14 ماہ لگے، لیکن انہوں نے اپنے گھر کے قریب ایک قدرتی طبی مرکز میں داخل ہوکراس وقت کا صحیح استعمال کیا، جہاں پر وہ خود کی مدد کرتی تھی اور سائنس بھی سیکھتی تھی۔

صحت مند ہو جانے کے بعد، اتریئی نے آئی آئی ایم بنگلور میں NSR سیل میں داخلہ لیا۔ یہاں اپنا کورس مکمل کرنے کے بعد، انھیں ملازمت نہیں ملی۔ وہ کہتی ہیں، "یہاں تک کہ بنگلور میں اپنی ذاتی کمپنی چلانے والے میرے والد کے دوست نے بھی مجھے ملازمت نہیں دی۔"

گھر میں بیٹھے بیٹھے وقت گزا رنے کے بجائے، وہ آئی آئی ایم بنگلور گئی اور ایک تحقیقی کام کرنا شروع کیا اور پی ایچ ڈی کرنے کے دوران ان کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی، جس سے بعد میں انہوں شادی کر لی۔ وہ بنگلور میں ہی رہنے لگی اور غذاؤں پر بلاگ لکھنا شروع کیا۔ انہوں نے مصالہ دار ہندوستانی غزاؤں کی صحت مند ورژن تیار کئے۔ اور اس طرح Revise Diet کا وجود سامنے آیا۔

ان کا بلاگ کامیاب رہا۔ آئی آئی ایم بنگلور میں ان کی ملازمت بھی اچھی طرح سے چل رہی تھی۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ماضی میں ان کے ساتھ کچھ ہوا ہوگا۔ لیکن یہ تو اتریئی کے لئے یہ مشکل حالت کا سامنا کرنے کا صرف آغاز تھا۔ وہ ایک اور حادثے کا شکار ہوئیں اور پھر سے اسی گھٹنے میں چوٹ لگی۔ کچھ ماہ بعد ان کے پورے پاؤں میں حرکت بند ہو گئی۔

اس بار اتریئی پہلے سے تیار تھی۔ انہوں نے آئی آئی ایم بنگلور سےچھٹی لے لی اور جس ڈاکٹر سے پہلے علاج کرایا تھا اسی کے پاس دوبارہ گئیں۔ اس وقت انہوں نے اپنے علاج کے دوران مایوسی کا شکار ہونے کی بجائے لطف اندوز ہونے کا سامان پیدا کیا۔ وہ کہتی ہیں، "ہر سیاہ بادل میں ایک چمکیلی لکیرر ہوتی ہے۔" ۔ انہیں گجرات کے قدرتی طبی مرکز سے فائدہ حاصل ہوا ۔ سرجری کو مسترد کرتے ہوئے ڈاکٹروں نے ان کی صحت میں تیزی لانے کے لئے وزن کم کرنے کا مشورہ دیا اور انہیں پاؤں پر کم دباؤ ڈالنے کو کہا۔ لیکن ٹوٹے ہوئے لیگامیٹ کے ساتھ وزن کم کرنا ایک چیلنج تھا۔ وہ یوگا کی طرح کچھ ہلکا ورزش کرنے لگی اور اپنی غذا پر کام شروع کر دیا۔ انہیں تیزی سے صحت مند ہونے میں مدد ملی۔ اور انہوں نے بنگلور لوٹنے کا منصوبہ بنایا۔

اس وقت وہ پریشانیوں کے باوجود اپنی زندگی کو پورے جوش و خروش کے ساتھ جینا چاہتی تھی۔ گھر والوں نے انھیں پوری طرح صحتمند ہوکر لوٹنے کا مشورہ دیا۔ وہ آئی آئی ایم بنگلور میں واپس آئی۔ لیکن ایکسرسائز مہنگی تھی۔ ان کے دوست نے انہیں فٹنس سینٹر شروع کرنے کا مشورہ دیا۔ اتریئی کہتی ہیں۔ "وزن کم کرنے کی مت سوچو، آپ کی صحت کے بارے میں سوچو۔ وزن کم کرنا کوئی اچھا احساس نہیں ہے۔ میں لوگوں کو صحت کے تئین باشعور کرنا چاہتی ہوں۔ صحت مند رہنا کوئی پیچیدہ مسئلا نہیں ہے۔ صرف کھانے کی سمجھ، زندگی میں صبر و تحمل اور دماغی سکون پر منحصر ہے۔ "

انہوں نے اپنے دوست کے ساتھ بزنس شروع کیا۔ جب ان کی پہلی کلائنٹ نے دو ماہ میں 12 کلو وزن کم کیا تو ان کے بزنس نے رفتار پکڑلی۔ اور آہستہ آہستہ ان کا کام مقبول ہونے لگا۔ ایک سال میں ہی اتریئی نے تقریبا 100 گاہکوں کی مدد کی۔ جس میں سے زیادہ تر خواتین ہیں۔ اس وقت Revise Diet مرد، خواتین اور بچوں کے ساتھ پورے ہندوستان میں کام کر رہا ہے۔ دو سالوں میں اتریئی نے 200 لوگوں کو ان کے عام کھانے میں احتیاط سے ہی وزن کم کرنے میں مدد کی۔ ان کی فیس 1200 روپے فی مہینہ ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنا چاہتی ہیں۔ وہ وزن میں کمی کے ساتھ ساتھ، دائمی بیماریوں کا علاج بھی کرتی ہیں۔

انہوں نے MSc in food and nutrition میں داخلہ لیا ہے۔ اور nutrition اور قدرتی طبی معملات میں ان کے علم کو دیکھتے ہوئے وہ اپنے انٹرپرائز کے لئے فنڈز اکٹھے کرنے اور مستقبل قریب میں کم از کم 80،000 لوگوں کو شامل کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem