نیویارک کے مشہور پارسنس اسکول آف ڈیزائن کو ہندوستان لانے میں کامیاب رادھا کپور

0

اگر انسان کچھ کرنےکی ٹھان لے تو اس بات سے اسے کوئی فرق نہیں پڑےگا کہ وہ عورت ہے یا مرد، جنس اسے کامیابی حاصل کرنے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ صنف نازک ہونے کے باووجود کامیاابی کی نئی داستااں رقم کر نے کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ایسی ہی کہانی ہے رادھا کپور کی جس کے جنون نے اسے کامیابی کی ببلندیوں پر پہنچا دیا ۔

اگر آپ رادھا کپور کے کاروباری سفر پر ایک نظر ڈالیں تو وہ آپ کو کسی بھی دوسری عام خاتون کاروباریوں کے سامنے آنے والی حالات کی کہانی کے بالکل برعکس لگے گی۔ رادھا بچپن سے ہی ایک متاثرکن شخصیت کی مالک تھی اور اپنے والدین کی مداخلت سے قبل ہی ایک محفوظ كارپوریٹ کیریئر شروع کرنے کی سمت اپنے قدم بڑھا چکی تھی۔ تقرییاً ہر ہندوستانی بچہ کے والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے متعلق کافی فکر مند رہتے ہیں۔ رادھا کپور کے والدین کو اس بات کا یقین تھا کہ ان کی بیٹی سیکورٹی کے مسائل کے عوض کبھی بھی اپنے جنوں سے سمجھوتہ نہ کرپائے۔ چونکہ انہوں نے اپنے کیریئر کے ابتدائی مرحلے میں ہی ایک كارپوریٹ کیریئر کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایک تاجر بننے کا فیصلہ کیا تھا اور ایسے میں انہیں اس بات کا پورا گمان تھا کہ ان کی بیٹی کی خوشی اس کے دل کی بات کو ماننے میں ہی مضمر هوگی۔ رادھا کپور کے والد ایس بینک کے بانی اور صدر بھی ہیں۔

بچپن سے ہی رادھا کا جھکاؤ خوبصورتی اور ڈیزان میں تھا اور ان کے والدین نے اسے بھانپتے ہوئے انہیں فائن آرٹ میں ڈگری حاصل کرنے کے لئے نيويارك کے مشہور پارسنس-دی نیو اسکول آف ڈیزائن میں داخلہ دلا دیا۔رادھا کہتی ہیں،'' میں اس سے پہلے کبھی بھی اپنی زندگی میں ممبئی سے باہر نہیں گئی تھی اور ایسے میں میں نے اپنے والدین کی شکرگزار ہوں کہ انہوں نے مجھے اس كمفرٹ زون سے نکلنے کے لئے موقع فراہم کیا۔ ان کی ہمیشہ سے ہی یہ کوشش رہی کہ میں ہمت کے ساتھ اپنے فیصلہ خود لوں۔ ''

آخر کار پانچ سالوں تک ڈیزائن اور انہیں حقیقی زندگی کا حصہ بنانے کے مختلف نظریات سے آشنا ہونے کے بعد رادھا اس شعبہ میں اپنی قابلیت کے بل پر کچھ زیادہ بامعنی کام کرنے کے ایک منصوبہ سے لیس ہوکر ہندوستان واپس لوٹی۔

انہوں نے صرف ایک سال بعد ہی انتہائی کم عمر میں ایک پارٹنر الوک نندا کے ساتھ مل کر اپنے پہلے انٹرپرائز 'براڈکانوس' کی بنیاد رکھی۔'' وہ کہتی ہیں میں نے اس کام میں پارسنس میں حاصل کی گئی اپنی تمام قابلیت اور تجربہ کو جھونک دیا۔ میرے پہلے اقدام کو کچھ ایسا ہونا چاہئے تھا جو فن کے ساتھ تجارتی مقامات کو ایک مفہوم دینے کے ساتھ ساتھ ان کو جازب النظر کرنے والے ایک برانڈ کے طور پر خود کو قائم کر سکے، تاکہ ان کی سجاوٹ ان کی اصل نظریے اور اصولوں کی علامت بن کرابھر سکے۔ ''

اس کے حقیقی شکل دینے کے لئے انہوں نے آرٹ گرافکس وال آرٹ، وال ميورلس، سجاوٹی پینٹنگز، پینل ڈیزائن، فریم کئے ہوئے آرٹ ویڈیوز انسٹالیشن کے ساتھ ساتھ سپر انسٹالیشس کو بھی مربوط کیا ہے۔

کچھ نیا کرنے اور اپنے کاروبارکو مزید توسیع کرنے کی ان کی خواہش نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ وہ بتاتی ہیں، '' میں ڈیزائن کے میدان میں کچھ نیا تلاش كرنا چاہتی تھی۔ ہمارے دور میں کیریئر کی تلاش کے دوران لوگ جن متبادل کا انتخاب کرتے ہیں، اس کے بارے میں سوچ کر کافی تبدیلی آئی ہے اور اب انتہائی عجیب سے متبادل مثالی بنتے جا رہے ہیں۔ ہم ان سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔ ہم دل سے ڈیزائن کے متعلق سوچتے ہوئے ماضی اور حال کو ایک کردینا چاہتے تھے۔''

ایسا کرنے کے دوران ان کے ساتھی کو ان میں ایک ایسا رہنما دکھائی دیا جس نے انہیں بہت کچھ دیا ہے۔ اسی وقت ایک چیز ان کے حق میں رہی کہ پارسنس بھی امریکہ کے باہر توسیع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اور ایسے میں رادھا نے اپنے قدم آگے بڑھاتے ہوئے ہندوستاں میں ان کے آپریشنس شروع کرنے کے لئے ہاں کر دی۔

آج کی تاریخ میں لوور پریل کے انڈيابلس سنٹر میں واقع انڈین اسکول آف ڈیزائن اینڈ انوویشن رادھا کی زہنی پیداوار ہے جو خواب دیکھنے والوں کے لئے ایک تحریک ثابت ہوتی جا رہی ہے۔ تخلیقی صلاحیتوں، جدت طرازی اور استحکام کی اصل روح اور فلسفہ سے ترغیب پاکر آی ایس ڈی آی ہندوستاں کو ڈیزائن کے میدان میں معروف بنانے کے علاوہ ڈیزائن کے میدان میں کیریئر کے نئے مواقع پیدا کرنے دیگر تخلیقی صنعتوں کو فروغ دینے والا ثابت ہو رہا ہے۔ آپ ایک بالکل نئے اور مختلف پروگرام کے ساتھ رادھا کا ارادہ اپنے طالب علموں کو اس بات سے روشناس کروانا تھا کہ وہ کس طرح اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے ڈیزائن کی تجارت کر سکتے ہیں اور اسی کے ساتھ انہوں نے انہیں اس بات کی بھی معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی کہ وہ کس طرح اسے ایک قابل عمل کاروباری ماڈل میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں،'' ہمارا کورس ڈیزائن، کاروبار اور ٹیکنالوجی کے ایک اامتزاج ہے۔۔ ڈیزائن اسکولوں سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کی شرح صرف 16.2 فیصد تھی جس کا سیدھا سا مطلب تھا کہ کہیں نہ کہیں کچھ کمی ضرور ہے، ایسے میں ہم ایسی قابلیت تیار کرنے پر زور دیتے ہیں جو مکمل طور پر صنعت اور مارکیٹ کے مطابق ہوتے ہیں۔''

سال 2013 میں صرف 40 طالب علموں کے ساتھ شروع ہونے والا یہ انسٹی ٹیوٹ اب سالانہ 450 فنکاروں کو تیار کر رہا ہے۔ اور اپنی بات پر کھرا اترتے ہوئے رادھا ہندوستان کی اس صنعت میں انقلابی تبدیلی لانے کے لئے ڈیزائن کا بہترین طریقے سے استعمال کر رہی ہےاور انہوں نے اس کی ابتدا اپنے ارد گرد سے ہی کی ہے۔ ایک بالکل نئے شعبہ کی تعمیر کے نقطہ نظر کے ساتھ انہوں نے لوور پریل انوویشن ڈسٹرکٹ قائم کی جو بین الاقوامی سطح پر اس طرح کے کاموں کو کرنے والے کچھ انوویشن کا دوہرنا تھا۔ ہندوستان میں ایسا پہلی بار کیا جا رہا تھا۔ اس کے علاوہ آی ایس ڈی آی نے حال ہی میں ڈیزائن کے میدان میں انوویشن کے لیے ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے ارادے سے تمام تخلیقی ا كسيلریٹر تیار کرنے کے لئے مائكروسافٹ وینچرز کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے۔

اس کے علاوہ رادھا آئی ایس ڈی آئی-پارسنس کی تعاون سے محروم اور استحصال کا شکار خواتین کو بااختیار بنانے کی نیت سے ایک سماجی پہل کی بھی قیادت کر رہی ہیں جس کے تحت وہ ان زیورات اور دیگر سامان تیار کرنے میں مدد کرنے کے ساتھ انہیں مارکٹ تک پہنچانے میں بھی مدد کی جاتی ہے ۔ اس سے بالکل مختلف ای ایس ڈی ائی نے اپنے یہاں پڑھنے کا ارادہ رکھنے والے غریب بچوں کے لئے سالانہ کم از کم 1 کروڑ روپے کی اسکالرشپ کا بھی نظام رکھا ہے۔

رادھا کے کام اور لگن کا جذبہ یہیں ختم نہیں ہوتا ہے۔انہوں نے سال 2009 میں تخلیقی اور نئے تصورات کو عملی جامہ پہنانے اور فروغ دینے کے ارادے سے 'ڈواٹ كريشنس'کے نام سےایک کمپنی قائم کی اور اس کمپنی نے کامیابی سے'کھیل کو تبدیل کرنے والے اور نئے خیالات' کو فروغ دینے میں کردار ادا کیا ہے ۔

حال ہی میں انہوں نے اپنے مفادات کی توسیع اور کچھ نیا کرنے کی فکر میں پرو کبڈی لیگ میں دہلی کی ٹیم کا حصہ خریدنے کے علاوہ انڈین هاكي لیگ میں بھی ممبئی کی ٹیم کی فرنچائز کے شیئرس حاصل کیے ہے۔

رادھاکا کہنا ہے،'' ٹی آر پی کے معاملے میں کبڈی کرکٹ کے بعد دوسرے مقام پر ہے۔ مرکزی دھارے میں اپنا مقام بنانے کے لئے صرف صحیح پیکیجنگ اور فروغ کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی ہماری کمپنی کے نظریہ ہے۔

ابھی ان کے دونوں ہاتھ کام اور مصروفیات سے بھرے ہوئے ہے اور بہت سے اب بھی ان انتظار میں ہیں اور ایسے میں اگر کوئی اس بات پر حیرت ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح رادھا یہ سب کرنے میں کامیاب ہوتی ہے، وہ راز بتاتے ہوئے کہتی ہے، '' خدا کا فضل ہے ان کے جنون شناخت اور نتائج حاصل کرنے میں استعمال کرنا ہے۔ ''

قلمکار : بنجل شاہ

ترجمہ: محمدعبدالرحمٰن خان