قوّتِ سماعت و گویائی سے محروم انسانوں کے لئے فرشتہ ہیں ’گیانیندرپروہت‘

0

گونگے، بہروں کے لئے شروع کیا مُلک کا پہلا اور واحد پولیس اسٹیشن...

وزیر ِاعظم سے مل کر اشاروں کی زبان میں شروع کروایا قومی ترانہ ...

علامتی زبان میں ڈب کیں فلمیں ...

گونگےبہرے بھائی کی موت سے دلبرداشتہ’ گیانیندر پروہت ‘نے وقف کر دی زندگی ایسے ہی مخصوص انسانوں کے لئے...

زندگی میں کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ انسان جب بدترین دور سے گزر رہا ہوتا ہے، سب سے زیادہ پریشان کُن حالات سے دو چار ہوتا ہے، تب وہیں سے اسے جینے کا مقصد مل جاتا ہے ۔ مقصدبھی ایسا کہ جس میں کئی انسانوں کی زندگی سنوارنے کا مصمم ارادہ ہو،جو پریشان حال لوگوں کے چہروں پر خوشی لا سکے۔ ایسے لوگوں سے ہی ملک اور معاشرہ کو ایک راہ ملتی ہے، ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے ہم کہہ پاتے ہیں کہ اِس بُرے دور میں بھی انسانیت باقی ہے ۔اپنے عزیز کی موت سے دل برداشتہ ایک شخص نے طویل جدوجہد اورفرسودہ نظام سے لڑتے ہوئے معاشرے کے اُس طبقے کی مدد کرنے کی ٹھان لی جو اب تک نظرکیا جاتا رہا تھا ۔ یہ کہانی ہے’ اندور‘ شہر کے ’گیانیندر پروہت ‘ کی جنہوں نے قوتِ سماعت و گویائی سے محروم اپنےبھائی کی موت کے بعد پریشان رہنے کے بجائے دیگر گونگے بہرے انسانوں کو معاشرے سےجوڑنے کے لئے اپنے آپ کووقف کر دیا ۔چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی پڑھائی ادھوری ہی چھوڑ دی اور گونگے بہروں کو انصاف دلانے کے لیے ایل ایل بی کیا، ایل ایل ایم کیا اور جب جب ضرورت پڑی تب تب سیاہ کوٹ پہن کر عدالتی لڑائیاں بھی لڑیں۔ اس جنگ میں ’گیانیندر ‘کی بیوی بھی کندھے سے کندھا ملا کر اپنے شوہر کے ساتھ چلنے لگیں اور اِس مشکل راہ پر چلتے چلتے 15 سال گزر گئے۔

کیسے شروع ہوئی یہ کہانی

یہ کہانی شروع ہوتی ہے، 1997 میں جب 26 سال کے’آنند پروہت ‘ کی ایک ٹرین حادثے میں موت ہو گئی ۔ اُس وقت ’آنند‘ کا چھوٹا بھائی 21 سالہ’گیانیندر ‘ سی اے کی پڑھائی کر رہا تھا ۔ خواہش تھی کہ سی اے بن کر شہرت اور دولت كمائے گا ۔ مگر بڑے بھائی کی موت نے ’گیانیندر ‘ کو توڑ کر رکھ دیا ۔ دونوں بھائی ایک دوسرے کے انتہائی قریب تھے ۔ اصل میں’آنند‘ نہ تو بول سکتے تھے اور نہ ہی سن سکتے تھے۔ ’آنند‘ کے کان اور آواز دونوں’گیانیندر ‘ ہی تھے ۔’گیانیندر ‘ ایک گونگےبہرے انسان کی تکلیف کو بہت اچھی طرح سمجھ سکتے تھے ۔’آنند‘اور اُن کے گونگےبہرے دوستوں کی مدد ’گیانیندر ‘ہی کیا کرتے تھے ۔ اُن کی بات کہیں عام لوگوں تک پهچاني ہو یا پھر دوسروں کی باتیں ان کو سمجھاني ہوں تو ’گیانیندر ‘ ہی علامتی زبان کے ذریعے ترجمان کا کردار نبھاتے تھے ۔ بھائی اور اُن کے دوستوں کی مدد کرنے کے لئے ہی ’گیانیندر ‘نے اشاروں کی علامتی زبان سیکھی تھی ۔ ایسے میں’آنند‘ کی موت کا صدمہ برداشت کرنا انتہائی مشکل تھا ۔ مگر ’گیانیندر ‘ نے اپنے بھائی کوحقیقی خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے جو قدم اٹھایا، اُس نے خاندان والوں سمیت دوستوں اور رشتہ داروں تک کو پریشان کر دیا ۔’گیانیندر ‘ نے سی اے کی پڑھائی بیچ میں ہی چھوڑ دی اور گونگے بہروں کے لئے کچھ کرنے نکل پڑے ۔ 1997 سے لے کر 1999 تک دو سال ملک و بیرون ملک میں گھوم گھوم کر گونگے بہروں کے حالات کا مطالعہ کرنے لگے ۔

’گیانیندر ‘نے دیکھا کہ ہمارے ملک میں قوتِ سماعت و گویائی سے محروم انسانوں کے حالات قابل رحم ہیں ۔ انہیں عام لوگ اپناتے نہیں ہیں، اُن کا مذاق بنایا جاتا ہے، کسی پولیس تھانے میں اُن کی شکایت درج نہیں ہو پاتی، کیونکہ پولیس کے پاس علامتی زبان کا کوئی ایکسپرٹ ہی نہیں ہوتا ہے ۔ عام لوگوں کی طرح وہ فلمیں نہیں دیکھ سکتے، یہاں تک کہ ہمارا قومی ترانہ بھی اُن کے لئے نہیں بنا ہے ۔ 

جبکہ اس کے برعکس یوروپین ممالک میں گونگے بہروں کے لئے عام لوگوں کی طرح ہر سہولت اور ضرورت کا خیال رکھ کر قاعدے قانون بنائے گئے ہیں ۔ اِن سب باتوں کے پیشِ نظر 2000 ء میں ’گیانیندر ‘نے گونگے بہروں کے لئے ’آنندسروس سوسائٹی‘ کے نام سے ایک ادارہ شروع کیا۔

ملازمت کی پیشکش مسترد

آسٹریلیا کے’ پرتھ ‘میں ہوئی ’ ورلڈ ڈیف کانفرنس‘ میں گونگے بہروں کو انصاف دلانے کے لئے کے ’گیانیندر ‘نے ایک پریزنٹیشن دیا، جس کے بعد وہیں کے ایک ادارے’ ویسٹرن ڈیف سوسائٹی‘ نے انہیں اچھے پیکج پرملازمت کی پیشکش کی ۔ مگرانہوں نے یہ کہتے ہوئے نوکری ٹھکرا دی کہ آپ کے ملک سے زیادہ ہندوستان کےمعذور انسانوں کو ان کی ضرورت ہے ۔ 2001 میں ’گیانیندر ‘ نے’ مونیکا‘ نام کی لڑکی سے شادی کی جو کہ پہلے سے ہی گونگے بہروں کے لئے کام کر رہی تھیں ۔ شادی کے بعد’ پروہت‘ میاں بیوی نے مِل کر اپنے مِشن کو ایک نئی سمت دی۔

گونگے بہروں کو انصاف دلانے کی لڑائی

گونگے بہروں کو انصاف دلانے کے لئے سب سے پہلے ’گیانیندر ‘نے مدھیہ پردیش کے پولیس حکام سے رابطہ کیا ۔ پولیس کی ورکشاپ میں جا جا کر پریزنٹیشن دینا شروع کر دیا ۔اپنے پریزنٹیشن میں بتایا کہ گونگے بہروں کو بھی انصاف کی ضرورت پڑتی ہے ۔ کوئی بھی گونگابہرا پولس اسٹیشن آتا ہے تو اُس کی شکایت کو علامتی زبان میں سمجھنے کے لئے وہ ہر وقت حاضر ہوں گے ۔ گیانیندر کی یہ کوشش کامیاب رہی ۔ آہستہ آہستہ مدھیہ پردیش کے ساتھ ساتھ بہار اور راجستھان پولیس بھی گونگےبہروں کی شکایت درج کرنے کیلئے ان کی خدمات حاصل کرنے لگی ۔ اپنی جیب سے پیسہ خرچ کرکے گیانیندر جاتے رہے ۔پولس اسٹیشنوں کے بعد گیانیندرکو عدالت میں بھی کئی معاملات میں علامتی زبان سمجھنے سمجھانے کے لئے بلایا جانے لگا ۔ اسی درمیان گیانیندرنے قانونی تعلیم بھی مکمل کر لی ۔ ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کرنے کے بعد وہ بغیر کوئی فیس لئے گونگے بہروں کے کیس لڑنے لگے ۔ گیانیندرنے گونگے بہروں کے لئے علیحدہ پولس اسٹیشن کا مطالبہ شروع کر دیا ۔

 مسلسل دو سال تک ریاست کے وزیر داخلہ اور پولیس کے اعلیٰ افسران کو سمجھاتے رہنے کے بعد 2002 میں گونگے بہروں کے لئے ملک کا پہلاپولس اسٹیشن شروع ہوا ۔’ اندور‘ کے ’ تُکوگنج‘ تھانے میں ایسے معذوروں کے لئے الگ سے تھانہ کھول دیا گیا،جہاں گونگےبہرے آکر علامتی زبان میں اپنی شکایت درج کروا سکتے تھے ۔ پہلے ہی دن ’اندور ‘کے ایک گونگےبہرے میاں بیوی نے شکایت درج کروائی کہ ان کے مکان پر کچھ غیر سماجی عناصر قبضہ کرکے بیٹھ گئے ہیں ۔ فوری طور پر پولیس نے ایکشن لیتے ہوئے مکان خالی کرواکر شکایت کنندہ کو گھر واپس دلوایا ۔گونگےبہروں کے اس تھانے میں اب تک 256 ایف آئی آر درج ہوئی ہیں۔ جبکہ 2 ہزار سے زیادہ شکایات کا تھانے میں ہی فیصلہ کر دیا گیا ہے ۔ اِس تھانے کی کامیابی کے بعد’ ستنا، ریوا اور جبل پور ‘میں اس کی برانچ شروع کی گئی ہے۔

گونگے بہروں کے لئے فلم

گیانیندرنے دیکھا کہ گونگے بہروں کے پاس تفریح ​​کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ۔گونگےبہرے بھی فلمیں تو دیکھنا چاہتے ہیں مگر پریشانی یہ ہے کہ ایک ایک ڈائیلاگ علامتی زبان میں انہیں سمجھائے گا کون ؟ لہٰذا اس پریشانی کا حل ڈھونڈا گیا ۔ ہندی سپر ہٹ فلموں کو علامتی زبان میں ڈب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ قانونی پیچیدگيوں کو دُور کرنے کے بعد’ اندور‘ پولس کی مدد سے گیانیندرنے ہندی فلم شعلے، گاندھی، تارے زمین پر، منا بھائی ایم بی بی ایس کو علامتی زبان میں ڈب کیا، جسے ملک بھر کے کئی گونے بہروں نے دیکھا اور پسند کیا۔ ملک کے قومی ترانے سے بھی گونگے بہرے ناواقف تھے ۔ 15 اگست، 26 جنوری جیسےکئی پروگراموں میں قومی ترانہ تو ہوتا تھا، مگر انہیں پتہ نہیں چلتا تھا کہ قومی ترانہ کب شروع ہوا، کب ختم ہو گیا۔ یہ مشکل ہر اس ہندوستانی کی تھی جو بول اور سن نہیں سکتا ۔ قومی ترانے کو علامتی زبان میں ترجمہ کرنے کے سلسلے میں بھی کئی قانونی اڑچنیں تھیں ۔ آخر ایک لمبی لڑائی کے بعد 2001 میں اُس وقت کےوزیرِاعظم اٹل بہاری باجپئی کی حکومت نے گیانیندر کے مطالبے کو جائز قرار دیتے ہوئے قومی ترانے کو علامتی زبان میں گانے کی اجازت دی۔

گونگے بہروں کے لئے ریزرویشن

2011-12 میں گیانیندرنے ریاست میں سرکاری ملازمتوں میں قوتِ سماعت و گویائی سے محروم لوگوں کے لئے ریزرویشن کی جد وجہدشروع کی اور نچلی عدالت سے لے کر ہائی کورٹ تک لڑائی میں کامیابی حاصل کرتےگئے ۔ مگر پھر سے سپریم کورٹ میں ریاستی حکومت کی اپیل کے بعد کیس لڑنے کے ساتھ ساتھ سڑک پر اتر کر تحریک شروع کر دی۔ حکومت نے مطالبات تسلیم کر لئے۔ سرکاری ملازمتوں میں گونگے بہروں کے لئے ریزرویشن 2 فیصد رکھا گیا ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ محکمہ تعلیم کے 39 ہزار عہدوں پر اسکولوں میں تقرریاں ہونے والی ہیں جن میں سے 780 گونگے بہروں کے لئے ریزرورکھی گئی ہیں۔

گونگے بہروں کی علامتی زبان کو آئینی درجہ دلانے کی جد وجہد

گزشتہ تین سال سے گیانیندر علامتی زبان کو ملک کی 23 ویں آئینی زبان کا درجہ دلوانے کیلئے جد و جہد کر رہے ہیں ۔ اُن کی اب تک کی تمام تر کوششوں کو دیکھتے ہوئے نومبر 2015 میں ایک ٹی وی شو میں امیتابھ بچّن نے ’پروہت‘ میاں بیوی کو بلایا اور اُن کی کارگزاریوں کی کھل کر تعریف کی ۔ امیتابھ نے پوچھا کہ میں آپ کے لئے کیا کر سکتا ہوں تو ’پروہت‘ جوڑے نے ان سے کہا کہ وہ حکومت سے گزارش کریں کہ علامتی زبان کو ملک کی ایک زبان کا درجہ مل سکے ۔ امیتابھ نے ٹی وی شو میں ہی حکومتِ ہند سے گزارش کی کہ قانون میں ترمیم کرکے جلد سے جلد یہ مطالبہ پورا کیا جائے کیونکہ یہ گونگے بہرے انسانوں کا جائز مطالبہ ہے ۔ گیانیندرمسلسل اس مطالبہ پر عمل درآمد کے لئے حکومتِ ہند کے رابطے میں ہیں اور امیدہے کہ جلدہی یہ مطالبہ پورا ہو جائے گا۔

قوتِ سماعت و گویائی سے محروم لڑکی’ گیتا ‘جب پاکستان میں تھی تو گیانیندر ’ایدھی‘فاؤنڈیشن کے ذریعے مسلسل اُس سے ویڈیو کانفرنسنگ سے باتیں کرتے رہے ۔اشاروں کی علامتی زبان سے’ گیتا ‘ کی واقفیت ادھوری تھی ، جسے گیانیندرنے ا سکرین پر ہی پوری طرح سکھایا ۔’ گیتا‘ نے گیانیندرسے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سلمان خان کی فلم’ بجرنگی بھائی جان‘ دیکھنا چاہتی ہیں، جس کے لئے گیانیندرنے اس فلم کو علامتی زبان میں ڈب کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔

آج گیانیندر’اندور ‘کے علاوہ قبائلی علاقے ’دھار‘ علی راجا پور اور کھنڈوا میں بھی اپنے سینٹر کھول چکے ہیں ، جہاں 300 گونگےبہرے بچّے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ گیانیندراپنا گھر خرچ چلانے کے لئے کچھ کالجوں میں لیکچر دیتےہیں اور ٹیوشن پڑھاتے ہیں ۔ گیانیندرکا کہنا ہے،

’’میرے بھائی کے جانے کے بعد میرے لئے کچھ بھی نہیں بچا تھا، اگرگونگے بہروں کے لئے کام کرنے کا خیال نہیں آتا تو میَں مکمل طور بکھر گیا ہوتا ۔ اِن کی مدد کر کے ایسا لگتا ہے جیسے میَں اپنے بھائی کے لئے کچھ کر رہا ہو ں۔ ہرگونگےبہرے میں مجھے اپنا بھائی دکھائی دیتا ہے ۔ ملک کے ہر ایک گونگےبہرے کو خوش دیکھنا میری تمنّاہے ۔‘‘

گیانیندرکی بیوی ’مونیکا ‘کا کہنا ہے کہ ہم جیتے جی وہ دن دیکھنا چاہتے ہیں جب ملک کے ہر ضلع میں گونگےبہروں کے لئےپولس اسٹیشن ہوں اور عدالتوں سمیت ہر سرکاری محکمہ میں علامتی زبان کےواقف کار ،ترجمان کا کام کر سکیں۔

قلمکار : سچِن شرما

مترجم : انور مِرزا

Writer : Sachin Sharma

Translation by : Anwar Mirza

 جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے

’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ دلچسپ کہانیاں بھی آپ کو ضرور پسند آئیں گی۔

’ایچ آئی وی ‘ میں مُبتلابچّوں کی تقدیر سنوارنےکی خاطر ... چھوڑدی بینک منیجر کی نوکری ...

'’منریگا‘ کا مزدور... یتیم بچّوں کی تعلیم و تربیت کا سہارا

اردو کا بیسٹ سیلرناول نگار رحمٰن عبّاس. ..’ روحزِن‘ کے لئے ملیں گے 20 لاکھ روپے