جان لیوا حملوں کے بعد بھی ہمت نہیں ہاری ، ریڈ لائٹ ایریا کو صاف کرنے کی کوشش جاری

یور اسٹوریو ٹیم اردوDECEMBER 16، 2015

0

سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں 11 پی آئی ایل داخل

انسانی اسمگلنگ سے متعلق ڈیڑھ ہزار مقدمہ لڑ رہے ہیں

عدالت کے ذریعے 500 بروکرز کی ضمانت پر روک

1993 مییں'گڑیا' کے نام سے فلاحی ادارے کا کیا قائم

مشہور افسانہ نگار پریم چند نے ایک صدی پہلے بنارس میں کوٹھوں کے خلاف اپنا قلم اٹھایا تھا، آج اسی شہر میں ایک اور شخص پھر سے عورتوں کوجسم فروشی کے دلدل میں دھکیلنے والوں کے خلاف پرچم اٹھاَ ہوئَے ہے۔

تہذیب اور ثقافت کی جتنی تیزی سے ترقی ہوئی ہے اتنی ہی تیزی سے معاشرے میں بہت سی غلط چیزوں کو بھی فرو غ حاصل ہوا ہے۔ ایسی چیزوں کا روپ اگرچہ شکل و صورت بدلی ہے تو سائز بھی بڑھا ہے، جسم فروشی معاشرے کی جڑوں میں اب تک قائم ہے۔ معاشرے کے اس بدنما داغ کو دور کرنے کے لئے یوں تو کئی تنظیمیں کام کر رہی ہیں، لیکن وارانسی کے رہنے والے اجیت سنگھ اپنی تنظیم 'گڑیا' کے ذریعے منفرد انداز میں ریڈ لائٹ ایریا میں کام کر رہے ہیں۔ یہ ان کی ہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج اس علاقے میں نابالغ بچے جسم فروشی کے دھندے میں نہیں ہیں۔ اجیت سنگھ پر کئی بار جان لیوا حملے بھی ہوچکے ہیں۔ وہ انسانی اسمگلنگ سے متعلق تقریبا ڈیڑھ ہزار سے زیادہ کیس لڑ رہے ہیں۔ جسم فروشی کے اس دھندے پر لگام لگانے کے لئے وہ نہ صرف اس کاروبار میں استعمال کی جانے واالی پراپرٹی کو عدالت کے ذریعے ضبط کرواتے ہیں بلکہ ایسے غلط کاموں میں لگے بروکرز کی وہ کورٹ سے ضمانت تک نہیں ہونے دیتے۔ یوپی کے پوروانچل علاقے میں کام کر رہے اجیت کی سرگرمیاں آج قریب 12 اضلاع تک پھیل چکی ہیں۔

اجیت کے مطابق انہوں نے جسم فروشی کے اس دھندے سے خواتین کو نکالنے کی نہ تو کہیں سے کوئی ٹریننگ لی اور نہ کوئی تعلیم حاصل کی، وہ تو صرف ایک دن ہمت جٹا کر وارانسی کے ریڈ لائٹ علاقے میں پہنچ گئے، وہ کہتے ہیں،"زندگی میں میں نے پہلی بار ایسی جگہ دیکھی جہاں پر لوگ کھلے عام نیلام ہو رہی تھے اور ان کو کوئی روکنے-ٹوكنے والا تک نہیں تھا۔"

اس کے بعد اجیت وہاں جاتے اور ایک درخت کے نیچیے بیٹھ کر وہاں موجود چھوٹے چھوٹے بچوں کو جمع کر ہر دن 2 گھنٹے پڑھانے کا کام کرنے لگے، یہ بات ریڈ لائٹ علاقے والوں کو ناگوار لگی انہوں نے اجیت کو پریشان کرنا شروع کر دیا۔ لیکن اجیت نے ہمت نہیں ہاری اور بچوں کو پڑھانے کا کام جاری رکھا۔ اس طرح انہوں نے قریب 5-7 سال تک بچوں کو پڑھانے کا کام جاری رکھا۔۔ تب ان کو ایک بات سمجھ میں آئی کی جن بچوں کو وہ پڑھا رہے ہیں وہ لوٹ کر اسی ماحول میں جا رہے ہیں اور صرف پڑھانے سے یہ تبدیلی نہیں آنے والی۔

انہوں نے فیصلہ کیا کہ ان ریڈ لائٹ علاقے کے مالکان اور جسم فروشی میں ملوث خواتین کے دلالوں سے براہ راست جنگ لڑنا ہوگا۔ اس کے لئے انہوں نے قانون کی مدد لی۔اس کے علاوہ اس کام میں جہاں پر پولیس کی کوتاہیی نظر آئی ، اس کو انہوں نے بے نقاب کیا۔ اجیت نے ریڈ لائٹ علاقے میں آنے والی نئی لڑکیوں کو بچانے کے لئے بنارس ہندو یونیورسیٹی اور دوسرے کالج کے طلبہ کی مدد لی۔ ان کے ساتھ مل کر وہ ایسے ریڈ لائٹ علاقے میں جاتے جہاں پر لڑکیوں کو زبردستی اس پیشے میں ڈھکیلنے کی کوشش کی جاتی تھی، وہ بتاتے ہیں کہ سال 2005 میں ہی انہوں نے لوگوں کی مدد سے بنگال اور نیپال سے لائی گئی 50 لڑکیوں کو اس جہنم میں جانے سے بچا لیا۔ اس کے علاوہ اجیت نے ریڈ لائٹ علاقے میں رہنے والی خواتین پر نظر رکھنی شروع کر دی جو اپنی بیٹی کو زبردستی یا دباؤ میں آکر اس دھندے میں ڈھکیلنا چاہتی تھی۔

اجیت نے دیکھا کہ اس طرح زیادہ وقت تک کام نہیں کیا جا سکتا، تب انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ قانونی طور پر کوٹھے مالکان اور بروکرز پر دباؤ بنائیں گے۔اس کے بعد انہونے بنارس کے بہت سے کوٹھے بند كروا ديے۔ بلکہ اس کام سے وابستہ لوگوں کی ضمانت روکنے کے لئے انہوں نے اپنی جنگ کو سپریم کورٹ تک لے گئے۔ جہاں پر اس کام میں سپریم کورٹ نے بھی مدد کی اور کہا کہ ایسے لوگوں کی ضمانت نہیں ہونا چاہئے، یہی وجہ ہے کہ اب تک یہ تقریبا 500 ایسے لوگوں کی ضمانت مسترد کروا چکے ہیں جو جسم فروشی سے منسلک ہیں۔ اس کے علاوہ انہونے گواہوں کی حفاظت پر بھی خاص توجہ دی، تاکہ لڑکیاں بے خوف ہوکر اپنے ساتھ ہو رہے مظالم کو بیان کر سکے۔ انہونے 108 ایسی لڑکیوں کی مختلف جگہوں پر چھپایا جو کسی مقدمہ میں اہم گواہ تھی اور ان پر حملے کا ڈر تھا، بعد میں ان لڑکیوں کی گواہی کی وجہ سے جسم فروشی سے وابستہ لوگوں کو جیل کی ہوا تک کھانی پڑی۔ اجیت کا کہنا ہے

"ہم راستہ تلاش کر رہے تھے ایسی لڑکیوں کو بچانے کے لئے، اس کے لئے ہم زیادہ انتظار نہیں کر سکتے تھے،اس لئے ہم نے نہ صرف غیر قانونی طور پر چل رہے ریڈ لائٹ علاقے کو سیل کروایا بلکہ مجرمون کی بیل تک روكوانے کا کام کیا۔ ساتھ ہی کوشش کی گواہوں کی حفاظت ہو سکے ۔"

اجیت یہیں نہیں رکے انہوں نے اس طرح کے معاملات کو لے کر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں اب تک 11 پی آئی ایل داخل کیے ہیں۔ اپنی ایک پی آئی ایل میں انہونے کورٹ کو بتایا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے علاوہ تقریبا 12 لاکھ نابالغ لڑکیاں مختلف ریڈ لائٹ علاقے میں قید ہیں۔ آج اجیت انسانی اسمگلنگ کو لے کر مختلف عدالتوں میں چل رہے ڈیڑھ ہزار مقدمات کا اکیلے سامنا کر رہے ہیں۔ اگرچہ کےاجیت نے اپنے ادارے گڑیا کا آغاز سال 1993 میں کیاتھا، لیکن وہ اس سے پہلے ہی اس کام کو کر رہے ہیں۔ جسم فروشی کی روک تھام کے لئے کرائی نے انہیں فلوشپ دی تھی۔ان کے کام کرنے کے طریقہ کو سمجھنے کے لیے امریکن کانگریس کے کیی ارکان واراناسی کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔جہاں انکو بتایا گیا کے کس طرح اس علاقہ کو نابالغ لڈکیوں سے پاک کر دیا گیا۔جبکہ کچھ سال پہلے تک بےشمار نابلغ لڈکیاناس پیشہ سے وابستہ تھی۔ اب ان کی کوشش ے کے اس پیشہ میں باقی رہ چکی لڈکیوں کو کس طرح باہر نکالا جاے۔

آج گڈیا کے تحت ریڈ لايٹ ايریا میں بچوں کو نہ صرف تعلیم دینے کا کام چل رہا ہے، بلکہ ووکیشنل ٹرئننگ بھی دی جارہی ہے،یہاں پر کمپیوٹر کورس فیشن ڈیزایننگ اور بيوٹیشین کورس سکھائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ یہ لوگ نرسنگ کا بھی کورس کرواتے ہیں۔ یہ سب تربیت مفت دی جاتی ہے۔ اجیت جن بچوں کو پڑھاتے ہیں ان کا نا صرف سرکاری اسکولوں میں داخلہ کراتے ہیں بلکہ ان کی فیس سے لے کر کتابوں تک کا خرچ اٹھاتے ہیں۔ وہ اب تک دو ہزار سے زیادہ بچوں کے مستقبل سنوار چکے ہیں۔ یہاں کے بہت سے بچوں نے اپنی خود کی دکان کھول لی ہے یا پھر دوسروں کی دکانوں میں کام کر رہے ہیں۔ اجیت کی کوششوں کی وجہ سے فحاشی کے کاروبار سے اب تک ڈیڑھ ہزار سے زیادہ لڑکیوں کو بچایا جا چکا ہے ۔منظم جرایم کے خلاف بے خوف ہوکر جنگ لڑ رہے اجیت پر کئی بار قاتلانہ حملے بھی ہو چکے ہیں لیکن ان سب سے بے پرواہ اجیت آج بھی ریڈ لائٹ علاقے میں جہاں لڑکیوں کو اس تاریک دنیا سے بچا رہے ہیں وہیں جو لوگ یہ جرم کر رہے ہیں ان کورٹ کے ذریعے سزا دلانے کام بھی کر رہے ہیں۔

تحریر:ہریش بھشٹ

ترجمہ: محمدعبدالرحمٰن خان