عوام کےلئے بانس کے گھر بنا رہی ہے ’ ونڈر گراس‘ کمپنی ...

0

بانس سے تعمیر ہوتا ہے ایک عام آدمی کے’ خوابوں‘ کا گھر ...

بانس سے بنے مکان کفایتی اور مضبوط ہوتے ہیں ...

مُلک چین کے بعد ہندوستان میں بانس کی پیداوار سب سے زیادہ ...

جس لحاظ سے ہندوستان کی آبادی بڑھ رہی ہے اس کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ ہم ہر چیز کےمتبادل کی تلاش ابھی سے شروع کردیں تاکہ مستقبل میں آنے والی پریشانیوں سے بچا جا سکے۔ ان میں سے کئی متبادل ایسے ہیں جن کا استعمال ہم پہلے بھی کرتے تھے لیکن بدلتے وقت کے ساتھ اور تیزرفتار ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہم نے ان کا استعمال کرنا بند کر دیا ،انہی میں سے ایک ہے بانس کا گھر۔ پہلے گھروں کو بانس کی لکڑیوں سے بنایا جاتا تھا لیکن رفتہ رفتہ اس کی جگہ اینٹ، گارے نے لے لی اور آج شہر ہی نہیں گاؤں دیہاتوں میں بھی لوگ اینٹ،گارے سے تعمیر شدہ گھروں کا ہی استعمال کرتے ہیں لیکن ’ ویبھو کالے‘ اپنی کمپنی ’ ونڈر گراس‘ (Wonder Grass) کے ذریعے لوگوں کو بانس سے بنے گھروں کے استعمال کے ترغیب دے رہے ہیں۔

چین کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ بانس کی کاشت ہندوستان میں ہوتی ہے، بانس پورے ہندوستان میں پایا جاتا ہے ۔ یہ مضبوط تو ہوتا ہی ہے، اس کے علاوہ یہ بہت تیزی سے اُگتا ہے اور بانس کے درخت لگانے میں زیادہ مشکل بھی پیش نہیں آتی ۔ بانس 50 سال تک خراب نہیں ہوتا، لہٰذا بانس سے بنائے گئے گھر سالہا سال چلتے ہیں ۔ چونکہ یہ آسانی سے دستیاب ہے، لہٰذا جہاں ایک مکان کو بنانے میں تقریباً 2 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں، وہیں بانس سے بنا ایک مکان صرف سوا لاکھ روپےمیں بن کر تیار ہو جاتا ہے اور اسے بنانے میں وقت بھی کافی کم لگتا ہے۔

ہندوستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے لیکن ہمارے مُلک کی ایک بڑی آبادی کے پاس آج بھی رہنے کو گھر نہیں ہے جو کہ ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ گاؤں میں لوگوں کے پاس تھوڑی بہت زمین تو ہے لیکن مکان بنانے کے لئے پیسہ نہیں ہے، اس کے ساتھ ہی ہندوستان کی مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی باعث ِتشویش ہے ۔ایسی صورت میں عوام کو گھر مہیا کرانا حکومت کے لئے بھی مشکل کام ہے ۔گھروں کی ڈیمانڈ بڑھنے کے سبب بلڈنگ مٹيريل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور ایک گھر حاصل کرنا اب لوگوں کے لئے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

اس صورتِ حال کے پیشِ نظر ’ونڈر گراس‘ کمپنی نے عوام کےروبرو ایک نعم البدل پیش کیا کہ کس طرح لوگ بانس سے اپنے لئے گھر بنوا سکتے ہیں۔ اِس کمپنی کی بنیاد ’ویبھو کالے‘ نے رکھی۔ گھر بنانے کے دوران’ویبھو‘ پہلے سے تیار شدہ کالم، پینل، دیواریں اوراسکرین لاتے ہیں، جنہیں بس ’فکس‘ کرنا ہوتا ہے ۔ یہ مضبوط تو ہوتا ہی ہے، ساتھ ہی تعمیر میں وقت بھی کافی کم لگتا ہے، اور گھر بہت جلد بن کر تیار ہو جاتا ہے ۔ کفایتی ہونے کے ساتھ ساتھ یہ کافی خوبصورت بھی ہوتا ہے اور لوگوں کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیرکرتا ہے۔

’ویبھو‘ کو اپنی کمپنی شروع کئے 6 سال ہو چکے ہیں۔ ’ویبھو‘ کے لئے اُن کے والد ہمیشہ سے ہی تحریک و ترغیب اور حوصلہ افزائی کا باعث رہے ہیں اور اُن کے والد کی ریسرچ کی وجہ سے ہی وہ ’ونڈر گراس‘ کمپنی قائم کر پائے ۔ اُن کے والد کا نام ’ وینو كالے ‘تھا اور پیشے سے وہ ایک آركيٹیكٹ تھے، انہوں نے بانس پر کافی ریسرچ کی تھی جس باعث لوگ انہیں ’ بیمبو مین‘ کہتے تھے ۔’ویبھو‘ اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلے اور لوگوں کو بانس سے بنےگھر فراہم کرانے کا کام شروع کیا۔

’ونڈر گراس‘ کے لئے بانس کی پیداوار ناگپور میں ہوتی ہے ۔ ناگپور میں گھنے بانس کے جنگل ہیں جہاں پر’ ونڈر گراس‘ نے 25 بہترین کاریگروں کو کام پر لگا رکھا ہے ۔ آئندہ 2 برسوں میں’ویبھو‘ بھونیشور، چنئی اور پونے میں ’ونڈر گراس‘ کے شوروم شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جہاں وہ بانس کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بانس سے بنی مختلف چیزیں ایک ہی چھت کے نیچے گاہکوں کو فراہم کر سکیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ بانس سے بنے گھروں کی طرف متوجہ ہوں۔

’ویبھو‘ بتاتے ہیں کہ لوگ آج بھی بانس کے بنے گھروں پر یقین نہیں کرتے، انہیں لگتا ہے کہ بانس کےمکان پکّےنہیں ہوتے لیکن ’ویبھو‘ لوگوں کی اِسی ذہنیت کو بدلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ وہ انہیں بتاتے ہیں کہ یہ مکان پکّے ہونے کے ساتھ ساتھ کافی کفایتی بھی ہیں اوراُن کی تمام ضروریات کو پورا کرنے کے اہل ہیں ۔ یہ مکان ماحولیات کے نقطہ ٔ نظرسے بھی بہت اچھے ہیں اور قدرتی آفات سے بھی یہ مکان تحفظ و دفاع کرتے ہیں۔

بانس سے بنے مکان دیہی علاقوں کے لئے انتہائی مناسب ہیں۔ رفتہ رفتہ بانس سے بنے مکان عوام میں مقبولیت حاصل کر رہے ہیں اور لوگ اِن مکانات کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔

بانس ماحولیاتی نظریے سے بھی کافی مفید اور کارآمد ہیں۔ بانس كاربن ڈائی آکسائڈ کو جذب کرتے ہیں اور ماحول کو 35 فیصد زیادہ آکسیجن دیتے ہیں ۔ بانس کو اُگنے کے لئے کسی قسم کی کھاد ، پیسٹی سائڈ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔اِس کے علاوہ بانس کا تقریبا ًہر حصّہ استعمال میں لایا جا سکتا ہے اور’ویسٹیج ‘ ( ضیاع)نہ کے برابر ہے۔

قلمکار : آشوتوش کھنتوال

مترجم : انور مِرزا

Writer : Ashutosh Khantwal

Translation by : Anwar Mirza