روزگار کا رہنماء ادارہ رہبر صنعت و تجارت

1

آج کے اس مسابقتی دور میں تعلیم کے ساتھ ہنر بھی ضروری ہے۔ ہنر کی رہبری کرتا ہے ایک جانا مانا ادارہ ”رہبر صنعت و تجارت“ اس ادارے کے بارے میں پانچ اہم باتیں ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

خلوص ادارے کی بنیاد ہے

محمد حنیف اس ادارے کے بانی ہیں۔ انہوں نے عنبر پیٹ، حیدرآباد کے ایک یتیم خانہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ انجمن خادم المسلمین نامی ادارے میں محمد حنیف نے تعلیم کے ساتھ ساتھ بید کی کرسی بنانے کا ہنربھی سیکھا۔ یہ آزادی سے پہلے کی بات ہے۔ وہ بمبئی گئے اور وہاں پر اپنے ہنر سے نام کمایا۔ اس کے بعد وہ کلکتہ گئے۔ کلکتہ میں ان کے کام کی کافی قدر ہوئی۔ اس وقت انگریز افسروں نے ان سے کہاکہ وہ بید کی کرسی بناکر دکھائیں۔ انھوں نے گھوڑوں کے استبل میں تھوڑی سی جگہ تلاش کی اور بید کی کرسیاں بناکر فروخت کرنے لگے۔ اس کے بعد انھوں نے ترقی کی۔ محمد حنیف کے دل میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ وہ ایک ایسے ادارےکا قیام عمل میں لائیں، جو نوجوانوں اور بیروزگاروں کو ہنر سکھائے۔ لہٰذا انھوں نے 1981ءمیں ”رہبر صنعت و تجارت“ نام سے ادارے کا قیام عمل میں لایا۔ یہ ادارہ اس وقت سے اب تک مسلسل بے لوث خدمت خلق انجام دے رہاہے۔

پرنٹ مٹیریل دستیاب ہے

ادارہ ”رہبر صنعت و تجارت“ کی خاص بات یہ ہے کہ جب سے ادارہ قائم ہوا ہے یہاں پر پرنٹ میتریل دستیاب ہے۔ کاسٹمیٹکس انڈسٹریز ، فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز، ماسٹر ٹیلرنگ، بکری پالن، مرغی پالن اور دیگر موضوعات پر کتابیں دستیاب ہیں۔ محمدحنیف متعدد کتابوں کے علاوہ ایک ماہنامہ میگزین بھی شائع کراتے ہیں۔ اس میگزن کی قیمت صرف20 روپے ہے۔ یہ میگزین کولکاتا سے شائع ہوتا ہے۔ اس میں نہ صرف کاروباری اور تجارتی مضامین ہوتے ہیں بلکہ اس میں سوال و جوا اور سرکاری ملازمت وغیرہ کے تعلق سے بھی مواد فراہم کیاجاتاہے۔ مسلسل 34 سال سے یہ میگزین نکل رہا ہے۔

ایکسپرٹس کے ذریعے تربیت

ا”رہبر صنعت و تجارت“ میں ہر اتوار کو ایک ماہر کو بلایا جاتا ہے، جو مختلف نئی نئی مصنوعات پر اپنی معلومات سے بے روزگاروں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ جن میں یوسف انصاری نظام آباد کے ہیں جو گائے، بکری ، مرغی ، مچھلی اور خرگوش پالنے کے لئے رہنمائی کرتے ہیں۔ صدیق طاہر جو ڈی آر ڈی ایل سے موظف ہیں تقریباً100 پراڈکٹ کی تیاری کے ڈیمو بتاتے ہیں۔ سلیم الدین ایمپورٹ ایکسپورٹ کے بارے میں رہنمائی کرتے ہیں۔

کسی قسم کی فیس نہیں لی جاتی

”رہبر صنعت و تجارت“ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہاں پر سیکھنے والوں سے کوئی فیس نہیں لی جاتی ہے۔ حیدرآباد آفس کے انچارج محمد ساجد نے اس تعلق سے بتایا،”ہمارے ادارے کی جانب سے مفت تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں وہ بےروزگاری کے دلدل سے نکلیں اور اپنے دم پر دوسروں کو بھی روزگار سے لگائیں۔ ہم فیس کے نام پر ان بے روزگار نوجوانوں سے پیسے نہیں لیناچاہتے ہیں۔ ہمارے ادارے کی یہ خوبی ہے کہ ہم نے 34 سالوں میں کئی بےروزگار نوجوانوں کو ہنر مند بنایا جو بعد میں خود کا کاروبار شروع کیا اور دوسروں کو بھی اس میں شامل کیا۔“

مختلف ہنر اور تجارت کا احاطہ

اس ادارے میں مختلف ہنر اور تجارت کے موضوعات کا احاطہ کیاجاتاہے۔ تقریباً 150 ہنر ایسے ہیں جن کی تربیت اس ادارے میں دی جاتی ہے۔ جن میں موم بتی کی تیاری، مہندی کے کون کی تیاری، کیک اور پیسٹر کی تیاری، چمڑے کے جیکٹ، بیاگ سازی، دانت صاف کرنے کا پیسٹ اور پاﺅڈر، فلیٹ فائل تیار کرنے کی مشین، شیمو کی تیاری، صابن کی تیاری وغیرہ جیسے سینکڑوں ہنر کی تربیت دی جاتی ہے۔

جو لوگ بےروزگار تھے وہ اب دوسروں کو روزگار دلارہے ہیں

ادارہ”رہبر صنعت و تجارت“ سے ایسے بے شمار بے روزگار نوجوان فارغ ہوئے ہیں جو یہاں سے ہنر سیکھ کر بڑے پیمانے پر کام کرنے لگے ہیں۔ دوسروں کے روزگار سامان کررہے ہیں۔ ایسے نوجوانوں بھی ہیں جنھوں نے اس ادارے سے سیکھ کر اپنے طور پر کاروبار کو بڑھایا اور بعض نوجوان تو انفرادی طور پر فیس لے کر تربیت دے رہے ہیں۔

چند نام یہ ہیں:

فیض النساءبیگم، یہ دلسکھ نگر کی رہنے والی ہیں۔ انھوں نے یہاں سے چاکلیٹ بنانے کا ہنر سیکھا۔ اب یہ کئی قسم کے چاکلیٹ بناتی ہیں۔ یہ فیس لے کر دوسروں کی تربیت بھی کرتی ہیں۔

شعیب ، یہ عادل آباد سے آئے تھے۔ یہاں پر مہندی کا کاروبار سکھا اور یہیں مقیم ہوگئے۔ اب وہ نہ صرف کاروبار کررہے ہیں بلکہ کئی لوگوں کو فیس لے کر تربیت بھی دے رہے ہیں۔

انور، ورنگل سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے شہد کے بارے میں یہاں پر معلومات حاصل کی۔ اب وہ ورنگل سے حیدرآبادشہد کی ٹریڈنگ کررہے ہیں۔

بابا پٹیل ، نے ڈیری پراڈکٹ کے بارے میں سیکھا اور نام کمایا۔ اسی طرح سید ہادی حسین نے آچار بنانے اور پراسسینگ میں نام کمایا۔ یہ بغیر آئل کا چار بنانے بھی بنانے میں مہارت رکھتے ہیں۔