کم آمدنی والی شہری خواتین کو آرٹ ا ور ہینڈی کرافٹ سے ذریعہ ٔمعاش کے مواقع دیتا ہے 'AfterTaste

0

شالینی کا 'AfterTaste' کئی طرح کی کاغذی مصنوعات تیار کرتا ہے

 غضب کی دستکاری اور فنکاری نمونے بنائے  جاتے ہیں۔

'AfterTaste' مکمل طور پر خود کفیل ہے اوراپنی مصنوعات کو بازار میں فروخت کرتا ہے۔

اپنے لئے تو خواب تو سب دیکھتے ہیں، لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے خوبوں میں سماج اور دنیا کے دکھ درد بستے ہیں۔ دوسروں کی ترقی کے لئے وہ بیچین رہتے ہیں۔ شالینی دتّہ کا 'AfterTaste' کم آمدنی والی شہری خواتین کو ذریعہ ٔمعاش کے مواقع دیتا ہے۔ اپنے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لئے مذکورہ خواتین کو آرٹ اوردستکاری سے منسلک ٹریننگ دی جاتی ہے۔ شالینی کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی اُن خواتین میں سے ایک ہیں جو پڑھی لکھی ہونے کے باوجود روایتی اور مثالی خاتونِ خانہ کی طرزپر گھر کی چہار دیواری میں چولھا چوکا کرتے ہوئے اپنی زندگی گزار دیتی ہیں۔ دوسری طرف ایسے لا تعداد بچّے ہیں جو مختلف چوراہوں پر بھیک مانگتے نظر آ جائیں گے یا پھر چائے کی دُکانوں یا ڈھابوں میں کام کرتے ہوئے مل جائیں گے۔ اِن میں بہت سے بچّے ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے مجبوری میں اپنی تعلیم کو درمیان میں چھوڑ دیا ہوتا ہے تاکہ وہ کسی ذریعۂ معاش کے سہارے زندہ رہ سکیں۔ اِن بچّوں کو کبھی آگے بڑھنے کا موقع نہیں ملا اور یہ ہمارے معاشرے میں ناانصافی کی واضح مثال ہے۔

بچّو ں کو پڑھانے کےلئے نوکری چھوڑ دی

شالینی نے انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک سافٹ ویئر کمپنی میں اپنے کیریئر کی شروعات کی۔ چھ سال کام کرنے کے بعد انہوں نے اپنے آپ سے ایک سوال کیا کہ کیا انہیں اپنا کیریئر سنوارنے کے لئے کوئی دوسرا راستہ اپنانا چاہیے؟ اور اِس سوچ کے ساتھ انہوں نے مختلف سماجی سرگرمیوں میں حصّہ لینا شروع کر دیا۔ وہ دو سال تک رضاکارانہ طور پر ایسے بچّو ں کو پڑھانے کا کام کرتی رہیں جو تعلیم حاصل کرنےکے خواہاں تھے۔ اُن کے اِس کام کا وسیع پیمانے پر مثبت اثر نظر بھی آنے لگا۔ رفتہ رفتہ انہیں اپنی اچھّی خاصی نوکری اِس کام میں رُکاوٹ نظر آنے لگی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ نوکری چھوڑ دیں گی اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔

شالینی زمینی سطح پر کام کرنا چاہتی تھیں اور جلد ہی انہوں نے کم آمدنی والے خاندانوں کے 80 بچّوں کو پڑھانے کا کام شروع کر دیا۔ انہوں نے یہ کام ممبئی کے مضافاتی علاقہ ملاڈ مغرب میں مالوني نام کی ایک چھوٹی سی جگہ پر شروع کیا۔ اِس اُمیّد کے ساتھ کہ وہ معاشرے میں مثبت و نمایاں تبدیلی لا سکتی ہیں، اور اُن کا یہ اعتماد دن بہ دن بڑھتا ہی گیا جب انہوں نے دیکھا کہ اکثر اسکول سے غائب رہنے والے بچّے ایک بار پھر باقاعدگی سے یہاں آنا شروع ہو گئے ہیں۔ شالینی کو آہستہ آہستہ احساس ہونے لگا تھا کہ وہ صحیح راستے پر ہیں اور یہ احساس اطمینان بخش تھا۔ شالینی کی پیدائش تریپورہ کے دارالحکومت اگرتلا میں ہوئی تھی۔ابتدائی چند سال وہاں گزارنے کے بعد اُن کا خاندان جھارکھنڈ کے ایک چھوٹے سے شہر دھنباد میں آ گیا۔ چھوٹا شہر ہونے کے سبب وہ قدرتی ماحول میں پروان چڑھیں اور اس کے ساتھ ہی وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں ہی اپنی خوشیاں ڈھونڈنے لگیں۔

شالینی کا کہنا ہے کہ اُن کی پیدائش ایک ایسے گھر میں ہوئی تھی جہاں پر دوسروں کی خوشیاں ہی معنی رکھتی ہیں ۔ شام کا وقت اُن کے لئے سیر و تفریح کا ہوتا تھا جب وہ درختوں اور پودوں کی شناخت کرکے اُن کے نام دریافت کرتی تھیں ۔ جہاں وہ رہتی تھیں وہاں پر اکثر بجلی غائب رہتی تھی اس لئے وہ پارک میں بیٹھ کر اپنا وقت گزا رتي تھیں ۔ رات کے وقت وہ اپنے والد کے ساتھ گھنٹوں آسمان کے تاروں کو دیکھتے ہوئے ستاروں کی کہکشاں کے بارے میں باتیں کرتیں ۔ شالینی کے والد سرکاری اسپتال میں آرتھوپیڈک محکمہ کے سربراہ تھے، اِس لئے لوگ اکثر اسپتال کے علاوہ اُن کے گھر بھی اپنا علاج کروانے کے لئے آ جایا کرتے تھے۔ انہوں نے کبھی بھی مریضوں کے لئے اپنے دِل اور گھر کے دروازے بند نہیں کئے۔ جو بھی مریض اُن کے گھر آتا اُس کا علاج ضرورہو جایا کرتا تھا۔ اتنا ہی نہیں بہت سے مریض دُور دراز سے آتے تھے اور اُن کے پاس غیر علاقے میں رہنے کیلئے معقول رقم نہیں ہوتی تھی، ایسی صورتِ حال میں شالینی کی ماں اُن مریضوں کو اپنے گھر میں ہی رہنے کے لئے جگہ دے دیتی تھیں۔

'AfterTaste' کی بنیاد

شالینی نے بچپن سے ہی گھر میں رحمدلی، خدمت اور ہمدردی کا ماحول دیکھا تھا، جسے انہوں نے نہ صرف محسوس کیا بلکہ وہ اُس سے متاثر بھی ہوئیں اور اِسی ماحول نے اُن کی زندگی میں فیصلہ کن کردار بھی ادا کیا۔ اُن کی ماں چھوٹے بچّو ں کی دیکھ بھال کا کام بھی کرتی تھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر وہ اپنی ماں کے ساتھ بچّوں کی تعلیم جیسے مسائل پر گفتگو کرتیں ۔ شالینی کی طرح اُن کے پاس آنے والی دیگر خواتین کا بھی یہی خیال ہے کہ تعلیم کی بدولت ہی زندگی میں آگے بڑھنے کے بہتر مواقع مِل سکتے ہیں اور بچوں کی زندگی کو سنوارا ، نکھارا جا سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے کی یہ وہ خواتین ہیں جواپنی زندگی کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں، مسلسل لڑ رہی ہیں اور جنہوں نے بہت دُکھ ،درد برداشت کئے ہیں۔ شا لینی کے مطابق یہ وہ خواتین ہیں جو جرأت مند ہیں، مستقبل کے تعلق سے پُر اُمّید بھی ہیں لیکن حالات کو تنِ تنہا اپنے حق میں بدل دینا ان کے اختیار میں نہیں ۔ شالینی نے 'AfterTaste' کی شروعات ا یسی ہی دو خواتین کے ساتھ مِل کر کی۔

تعلیم کی بدولت مِلی کامیابی

شالینی نے آرٹ کی کوئی باقاعدہ ٹریننگ نہیں لی ہے اور نہ ہی وہ کسی خاص چیز کی ماہر ہیں۔ باوجود اِس کے وہ تبدیلی لانا چاہتی ہیں ۔ اُن کا رجحان آرٹ اور دستکاری کی جانب رہا ہے وہ اِسی بنیاد پر تبدیلی لانے کی کوشش میں ہیں ۔ محض دو خواتین اور دو مصنوعات کی وجہ سے ہی شالینی کو دیگر نئی مصنوعات تیار کرنے کا خیال آیا۔ شالینی کا کہنا ہے کہ انجینئر ہونے کی وجہ سے انہیں کئی طرح کی پریشانیوں سے نمٹنے میں آسانی ہوئی۔ وہ تسلیم کرتی ہیں کہ مصنوعات کو ڈیزائن کرنے اور بنانے میں وہ اپنی تعلیم کی بدولت ہی کامیاب ہوئیں ۔ اِس کے علاوہ دو سال تک بچّوں کو پڑھانے کے دوران انہیں جو تجربات ہوئے اُس سے بھی انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔ شالینی بتاتی ہیں کہ ایک خاتون جن کا نام فاطمہ ہے، آج 4 بچّوں کی ماں ہیں، فاطمہ کے سر سے والدین کا سایہ بچپن میں ہی اُٹھ گیا تھا جس کے بعد اُن کی ایک آنٹی نے اُن کی پرورش کی لیکن مالی مسائل کی وجہ سے وہ پانچویں کلاس سے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کر سکیں ۔ گھریلو اخراجات کے معاملے میں فاطمہ اب اپنے شوہر کی مالی طور پر مدد کر رہی ہیں، حالانکہ شوہر پہلے پہل فاطمہ کے کام پر جانے کی مخالفت کرتا تھا۔

قمرالنسا کی کہانی بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اُن کی پیدائش اُتّرپردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ہوئی تھی۔ وہ بچپن سے ہی تعلیم حاصل کرناچاہتی تھیں اور تعلیم کی اہمیت و افادیت سے خوب واقف تھیں ۔ اِس کے باوجود انہیں کبھی بھی اسکول جانے کا موقع نہیں ملا۔ شادی کے بعد انہیں ممبئی آنا پڑا اور اُن کی زندگی اپنی کمیونٹی کی حدود میں ہی سمٹ کر رہ گئی۔ لیکن قمرالنسا بیباک اور جرأت مند تھیں اس لئے انہوں نے اپنی موجودہ حالت پر سوال اٹھانے شروع کر دئیے۔ تین لڑکیوں اور ایک لڑکے کی ماں قمرالنسا کا خیال تھا کہ اُن کی بیٹیوں کو بھی ویسی ہی تعلیم ملے جیسی کہ اُن کے بیٹے کو مِل رہی ہے۔ اس مسئلے پر اپنے خاندان کی لاکھ مخالفت کا سامنا کرنے کے باوجو د قمرالنسا نے ہار نہیں مانی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ اُن کی بیٹیاں بنیادی تعلیم مکمل کر کے ہی رہیں گی۔

شالینی کا کہنا ہے کہ اُن کے سامنے سب سے پہلا چیلنج ہے ایسی جگہ تیار کرنا جہاں پر خواتین جمع ہوں اورآپسی سمجھداری سے مِل کر کام کریں کیونکہ اُن کا خیال ہے کہ ایسی نشستیں اُن کے مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ یہاں خواتین نہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ اپنی زندگی کی کہانیاں شیئر کرتی ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر مدد بھی کرتی ہیں ۔ شالینی بتاتی ہیں کہ وہ دو خواتین جو اُن کے ساتھ سب سے پہلے شامل ہوئیں، اُنہوں نے آج غضب کا اعتماد اور تجربہ حاصل کر لیا ہے تبھی تو مختلف نمائشوں میں اُن کے فن کی تعریف اور پذیرائی ہو رہی ہے۔ اتنا ہی نہیں، مالی خود انحصاری کی وجہ سے ہی آج وہ آسودہ حال ہیں اوراپنی فنّی مہارت پر فخر محسوس کرتی ہیں ۔ آہستہ آہستہ دیگر خواتین بھی اُن کے نقشِ قدم پر چل رہی ہیں ۔

کیا کرتا ہے 'AfterTaste'

شالینی کا 'AfterTaste' کئی طرح کی کاغذی مصنوعات تیار کرتا ہے جس میں غضب کی دستکاری اور فنکاری ہوتی ہے۔ 'AfterTaste' مکمل طور پر خود کفیل ہے اوراپنے یہاں ہاتھ سے بنی مصنوعات کو بازار میں فروخت کرتا ہے۔ شالینی کا کہنا ہے کہ ایمانداری سے کہیں تو بارہا انہیں اپنی صلاحیتوں پر شک ہونے لگتا ہے اوراکثر اُن کا سامناحوصلہ شِکن خیالات سے ہوتا ہے۔ ایسے میں وہ اپنے اندر کی طاقت اور ہمّت کو مجتمع کرتی ہیں اور سوچتی ہیں کہ لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی اُن کے کام کو معنی و مقصد عطا کرتی ہے۔ ایک بیٹی، پھر بیوی اور اب ماں بننے کے بعد شالینی مالی طور پر خود کفیل ہیں ۔آسودگی اور خوشحالی کا یہ احساس انہیں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے ۔ وہ اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ اُن کے خاندان، دوستوں اورسرپرست کی انہیں غیر مشروط حمایت ملی۔ شالینی کا کہنا ہے کہ اِن لوگوں نے ہمیشہ آگے بڑھنے میں مدد کی کیونکہ اِن لوگوں کو شالینی کی صلاحیت و قابلیت پر یقین تھا۔ شالینی کو اپنے شوہر سے کافی تعاون ملا جنہوں نے اُن کے کام کی اہمیت و افادیت کو سمجھا اور اِس کوشش کا احترام کیا۔ شالینی کا کہنا ہے کہ جب کسی کا جنون اُس کا پیشہ بن جائے تو ذاتی زندگی اور پیشہ ورانہ زندگی میں بہت کم فرق رہ جاتا ہے ، جہاں معاملات پر کنٹرول رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ اِس سبب کئی بار انسان کبھی ایک طرف تو کبھی دوسری طرف جھک جاتا ہے ، لیکن شالینی نے دونوں محاذ پر معاملات کو کنٹرول کرناسیکھ لیا ہے۔