سورج کی تپش سے منجمد رہے گی آئس کریم اور ٹھنڈا رہے گا پانی

0

گرمیوں میں جب کبھی ہم اور آپ باہر گھومنے جاتے ہیں یا پھر کام کرنے نکلتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں ضرورت ہوتی ہے ٹھنڈے پانی کی یا پھر آئس کریم کی۔۔۔۔لیکن کئی مرتبہ سڑک کے کنارے آئس کریم کی گاڑی سے ہمیٰں اپنی دل پسند آئس کریم پگھلی ہوئی ملتی ہے۔ اسی طرح سڑک کنارے ملنے والا پانی کتنا صاف ہوتا ہے، ہمیں اس کا علم نہیں ہوتا کیونکہ ہر آدمی بوتل بند پانی نہیں خرید سکتا ۔ اس مسئلے کا حل لے کر آئے ہیں ممبئی کے مہیش راٹھی جو گزشتہ کئی برسوں سے شمسی ، فضائی اور بایوماس کے شعبے میں تحقیقی کام انجام دے رہے ہیں۔

مہیش راٹھی نے یور اسٹوری کو بتایا،

"کچھ نیا کرنے کی خواہش دل میں لئے جب میں ایک دن گجرات کے بھُج میں وِنڈ ٹربائن کی دیکھ بھال کا کام کر رہا تھا تو میدان میں کام کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ گرمی میں ٹھنڈے پانی کی کتنی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے کیوں نہ شمسی نظام کے ذریعے پانی ٹھنڈا کرنے والا کوئی آلہ بنایا جائے۔ تب میرے دل میں اس شعبے میں کام کرنے کا خیال پیدا ہوا۔"

مہیش راٹھی بتاتے ہیں کہ "جب تقریباً 2 برس قبل گرمیوں کے موسم میں کام کے سلسلے میں ، میں دہلی گیا تو سڑک کنارے آئس کریم کی گاری والے نے مجھے پگھلی ہوئی آئس کریم دی اور جب میں نے آئس کریم وینڈر سے کہا کہ اس پگھلی ہوئی آئس کریم کے بدلے مجھے دوسری آئس کریم دو تو اس نے کہا کہ دہلی کی اس شدید گرمی میں تمام جگہ آئس کریم کا یہی حال ہوجاتا ہے۔ اسی طرح میں گھومتے گھماتے جب آگے بڑھا تو میں نے دیکھا کہ سڑک کنارے ایک پانی بیچنے والا 2 روپئے گلاس پانی بیچ رہا تھا، لیکن وہ پانی کتنا صاف تھا، مجھے اس کا علم نہیں تھا۔ تب میں نے سوچا کہ کیوں نہ کولنگ ریفریجریٹر بنایا جائے جس سے نہ صرف صاف پانی مل سکے بلکہ وہ ٹھنڈا بھی ہو۔"

اس طرح مہیش راٹھی نے کولنگ سسٹم پر کام کرنا شروع کردیا۔ ابتداء میں ان کو اسے بناتے ہوئے مختلف قسم کی پریشانیوں کا سامنا کرناپڑا۔ اس کے کئی پُرزے انہیں چین اور امریکہ سے منگوانے پڑے۔ کچھ چیزوں کی تکنیک تو صرف امریکہ کے پاس ہی تھی۔ اس کام میں ان کا کافی پیسہ اور وقت صرف ہوا۔آخر کار 5 لاکھ روپئے خرچ کرنے اور دیڑھ سال کی کڑی محنت کے بعد انہوں نے ایسا کولنگ سسٹم تیار کرنے میں کامیابی حاصل کرہی لی جس میں آئس کریم بھی پگھلتی نہیں تھی اور پانی بھی ٹھنڈا رہتا تھا۔ اب وہ اسے بازار میں لانے کے لئے تیار تھے۔ خاص بات یہ تھی کہ اس آئس کارٹ کو شمسی پینل کے ذریعے چارج کیا جاسکتا ہے۔ بارش کےد وران اسے بجلی سے بھی چارج کیا جاسکتا ہے۔ اس میں استعمال ہونے والی 12 وولٹ کی بیٹری صرف آدھا یونٹ میں ہی چارج ہوجاتی ہے۔ اس کارٹ میں نہ صرف آئس کریم اور پانی ٹھنڈا کرنے کی سہولت ہے بلکہ اس سے ایک موبائل بھی چارج کیا جاسکتا ہے۔

مہیش کے مطابق اس کارٹ کو بنانے میں سب سے بڑی پریشانی سرمائے کی تھی۔ انہیں ایسا کوئی شخص مل نہیں پارہا تھا جو اس میں پیسہ لگائے۔ بعد میں انہوں نے عوامی پلیٹ فارم کا استعمال کیا اور کارٹ سے جُڑے پوسٹ سوشل میڈیا پر ڈالے۔ 'ملاپ' نامی گروپ کو ان کا یہ آئیڈیا پسند آیا اور اس نے اس طرح کی کارٹ کی تیاری میں دل چسپی کا اظہار کیا۔ مہیش مزید کہتے ہیں،"میں نے ان سے کہا کہ اگر پیسہ مل جائے تو وہ اس طرح کی کم سے کم 10 کارٹس (گاڑیاں) بنانا چاہتے ہیں اور اس طرح کے کارٹ کو کسی ان جی او کو کرائے پر دے سکتے ہیں۔ ایسا کرنے سے کئی بے روزگار وں کو روزگار کے مواقع مل سکتے ہیں جس سے ہر مہینے انہیں ایک متعینہ آمدنی بھی ہوگی۔

مہیش یہیں نہیں رُکے، وہ اب ایک ایسا سولر یعنی شمسی کارٹ بنارہے ہیں جو 'سولن' مچھلیوں کو رکھنے کے لئے ہوگا۔ اس کارٹ کے ذریعے سڑک کنارے مچھلی بیچنے والوں کی مچھلیاں طویل عرصے تک خراب نہیں ہوںگی۔ اس طرح سے ان کی آمدنی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اپنے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں مہیش بتاتے ہیں کہ وہ سولر ، وِنڈ اور بایو ماس پر کام کر رہے ہیں۔ وہ سولر ائر کنڈیشنر اور ایک ایسا ائر کولر بازار میں متعارف کروارہے ہیں جو فور اِن وَن ہے۔ اس مشین میں کولر کے ساتھ ہی سولر پینل ، بیٹری، کولراور انورٹر لگا ہوا ہے۔ ان کے بنائے ائر کولر کی خاصیت یہ ہے کہ یہ گرمی میں تو کمرے کو ٹھنڈا رکھتا ہے لیکن موسم ختم ہوجانے کے بعد اس سے انورٹر کا کام لیا جاسکتا ہے۔ مہیش کے اس کولر کی قیمت ساڑھے بارہ ہزار روپئوں سے شروع ہوتی ہے۔

مہیش کے مطابق ان کا بنایا سب سے چھوٹا آئس کارٹ 108 لیٹر کا ہے جو ایک مرتبہ چارج ہوجانے کے بعد 16 سے 18 گھنٹوں تک آئس کریم کو جمائے رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں ایک دفعہ 50 تا 60 لیٹر پانی جمع رکھا جاسکتا ہے جو نہ صرف صاف ہوتا ہے بلکہ ٹھنڈا بھی رہتا ہے۔ اس آئس کارٹ کی ابتدائی قیمت ایک لاکھ روپئے سے شروع ہوتی ہے۔ مہیش بتاتے ہیں کہ انہوں نے اب تک تقریباً 15 آئس کارٹ (ڈیپ فریزر) ہوٹل والوں کو فروخت کئےہیں۔ یہ فریزر 500 سے 1000 لیٹر سائز کے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ بڑی آئس کریم کمپنیوں کے ساتھ ان کی بات چیت چل رہی ہے۔ ممبئی میں رہنے والے مہیش اپنا کاروبار 'وشومتر الیکٹریکل اینڈ انجینئرس پرائیویٹ لمیٹیڈ' کے ذریعے انجام دیتے ہیں۔ اب ان کا منصوبہ کراؤڈ فنڈنگ کے ذریعے پیسہ اکٹھا کرکے کمپنی کو توسیع دینا ہے۔

تحریر: ہریش بِشٹ

مترجم: خان حسنین عاقبؔ