کنور بائی ... وزیر اعظم مودی نے جن کے پیر چھوئے... بکریاں فروخت کر  104 سالہ خاتون نے تعمیر کیا بیت الخلاء

0

چھتیس گڑھ کے راج ناندگائوں کی 104 سالہ خاتون نے اپنی بکریاں فروخت کر بیت کی الخلاء تعمیر کی

وزیر اعظم کے حفظان صحت مشن سے متاثر بنوایا ٹوائلٹ

کہتے ہیں جذبے کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ ایک بچہ بھی اپنے جذبہ سے جنگ جیت سکتا ہے اور ایک ضعیف بھی۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ 104 سال کی ایک عورت میں ایسا جذبہ ہے جو ملک کے بہت سے لوگوں میں نہیں ہے۔ آپ حیران ہوںگے جب آپ جان پائیں گے کہ اس عمر دراز خاتون نے کبھی ٹی وی دیکھا اور نہ کبھی اخبار پڑھا۔ نکسلائٹ سے متاثرہ علاقے میں رہنے والی اس خاتون نے جو کیا وہ واقعی مثالی کام ہے۔ اس لئے بھی کہ ان کے اس کام سے ملک کی تمام خواتین اور مرد سبق حاصل لے سکتے ہیں اور اپنے آپ کو اور معاشرے کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس خاتون کا نام ہے کنور بائی۔ کنور بائی نے وزیراعظم نریندر مودی کے صفائی مہم مشن سے حوصلہ افزائی پاکر اپنی 10 بکریاں بیچ کر اپنے گھر میں بیت الخلاء تعمیر کروایا۔ اتنا ہی نہیں کنور بائی اس مہم کے بارے میں گاؤں میں گھوم كر لوگوں کو اس کے بارے میں معلومات بھی فراہم کر رہی ہیں۔

راج ناندگائوں ضلع کے نکسلائٹ متاثرہ براری گاؤں کی کنور بائی نے زندگی کے 104 سال اسی علاقے میں گزار دئے۔ شہر کیا چیز ہوتی ہے، کیسا لگتا ہے- یہ ان کے لئے خواب جیسا ہے۔ لیکن کہتے ہیں ضروری نہیں کہ انتہائی پسماندہ گاؤں میں رہنے والوں کی سوچ بھی ویسی ہی ہو۔ کنور بائی بتاتی ہیں،

''ہم جہاں رہتے ہیں، وہاں آپ لوگ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ زندگی کتنی مشکل ہے۔ ایک بڑے تالاب کے درمیان ٹاپو کی طرح ہے ہمارا براری گاؤں۔ ایک بارش ہو تو زندگی دنیا سے کٹ جاتی ہے۔ پچاس سال ہو گئے مجھے یہاں رہتے ہوئے۔ ہم لوگوں نے کبھی بیت الخلا کی ضرورت تو محسوس نہیں کی، لیکن جب گھر میں بہوئیں آئیں تو ٹھیک نہیں لگا۔ گھر کی ضرورتیں بکریوں سے پوری ہوتی ہیں۔ میرے پاس آٹھ دس بکریاں تھیں۔ بہوؤں، پوتوں پوتیوں کو اچھی زندگی اور بہترین صحت دینے کے لئے بکریاں بیچ دیں۔ اس سے ملے 22 ہزار روپے سے دو بیت الخلا بنائے۔ "

کنور بائی بڑے فخر سے بتاتی ہیں،

"کوئی گھر میں آتا، تو انہیں بھی بتاتی ہوں۔ دیکھو، میرے گھر کے لوگ اب باہر نہیں جاتے، آپ بھی بنواؤ۔ سب کے پاس اتنا پیسہ نہیں تھا، اس لئے بیت الخلاء بنانے دوسروں کی جو مدد ہو سکی کی، اب ہمارے گاؤں میں ہر گھر میں بیت الخلا ہے۔ "

بنیادی طور پر چھتيس گڑھ کے نکسلائٹ متاثرہ راج ناند گاؤں ضلع کے كرروبھاٹھ گاؤں میں 21 فروری کو وزیر اعظم نریندر مودی نے ارربن مشن کی شروعات کی۔ یہاں منعقد جلسہ عام میں وزیر اعظم نریندر مودی نے 104 سال کی کنور بائی کے پاؤں چھوئے۔ پی ایم مودی نے اسٹیج پر انہیں بلایا اور اسٹیج پر منٹ تک ان کی تعریف کرتے رہے۔ کنور بائی کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا ۔۔۔

"یہاں 104 سال کی ماں کنور بائی کی آشرواد حاصل کرنے کا موقع ملا۔ ملک بدل رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دور دراز کے ایک گاؤں کی عورت جب سوچھ بھارت مشن کے خواب کو پورا کرنے کی کوششیں کرتی ہے تب وہ ہر کسی کے لئے ، خاص طور پر نوجوانوں کے لئے تحریک کا منبع ہوتی ہیں۔ کنور بائی جیسی بزرگ خاتون کا یہ خیال پورے ملک میں تیزی سے آ رہی تبدیلی کی علامت ہے۔ میں نے ان کو سلام کرتا ہوں جو لوگ اپنے آپ کو نوجوان مانتے ہیں، وہ فیصلہ کریں کہ ان کی سوچ بھی جوان ہے کیا؟ "

مودی نے میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ بھلے ہی ان کی تقریر نہ دکھائِیں، لیکن کنور بائی کے اس متاثر کن کام کو ضرور لوگوں تک پہنچائیں۔ ظاہر ہے کنور بائی اس عمر میں بھی جن چیزوں کے لئے لوگوں کو بیدار کر رہی ہیں ایسے میں ان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی عمر سے چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ دل دماغ اور ذہنیت سے آدمی چھوٹا بڑا ہوتا ہے۔ كنور بائی جیسی عمر کے لحاظ سے بزرگ خاتون بھی دل دماغ سے باشعور ہو سکتی ہیں اور دنیا کو راہ دکھا سکتی ہیں۔

قلمکار روی ورما

مترجم زلیخا نظیر