سبحان بیکرس ، جہاں گھر اور بچے ہی ہیں کامیابی کی تجربہ گاہ

بسکٹ اور روٹ کی مہک کو دنیا بھر میں پھیلانے کا عزم

چھوٹی سی دکان سے شروع ہوا تھا بیکری کا سفر

بیکینگ کی روایتوں کو توڑ کرلکھی کامیابی کی نئی کہانی

0


'مجھے لگتا ہے میری کامیابی کے پیچھے میرے بچوں کا ہاتھ ہے، جو کسی چیز کو کھانے کے بعد بتا دیتے ہیں کہ وہ کتنی اچھی ہے یا خراب ہے۔' یہ کہتے ہوئے عرفان صاحب کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سے مسکراہٹ کھل اٹھتی ہے۔

بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اپنی کامیابی کا سفر اپنے گھر ہی سے شروع کرتے ہیں۔ حیدرآباد میں حالیہ برسوں میں اپنے مزیدارعثمانیہ بسکٹ، بریڈ اور دم کے روٹ کے لئے تیزی سے شہرت کی سیڑھیاں چڈھنے والی سبحان بیکری کے مالک سید عرفان کا اپنی کامیابی کو تولنے کا انداز مختلف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب بھی کوئی نئی چیز بیکری میں بنتی ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے بچوں کو کھلاتے ہیں اور جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کتنی لذیذ ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ جب بچوں کو پسند آئے گی اور ان کے لئے سحت بخش ہوگی تو پھر ساری دنیا کو پسند آئے گی۔

سید عرفان آج اپنےکاروبار کو پور دنیا میں پھیلانے کا عزم رکھتے ہیں۔ اس کے لئے انہیں ابتدائی کامیابی بھی ملتی نظرآ رہی ہے۔ انہوں نے یو اے ای حکومت کے ساتھ ایک معاہدا کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس پر بہت جلد عمل ہونے کی امید ہے۔ اس معاہدے کے مطابق متحدہ عرب امارات کے 10 شہروں میں ان کے منيوفیكچرنگ یونٹ کھولے جائیں گے۔

آج حیدرآباد کے نامپلی ریلوے اسٹیشن سے کچھ فاصلے پر واقع سبحان بیکری کے بسکٹ کی مہک کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر وقت گاہکوں کی بھیڑ رہتی ہے، حیدرآباد میں تو اس کی شہرت بڑھتی جا رہی ہے، لیکن ملک کے دوسرے شہروں سے آنے والے سیاح بھی اس کا رخ کرنے لگے ہیں۔ آج کی اس کی اس کامیابی کے پیچھے سید عرفان کی بڑی جدوجہد رہی ہے۔ عرفان بتاتے ہیں، 'میرے سگڈدادا سید جعفر صاحب نے بیکری کا کام شروع کیا تھا۔ پھر اس کے بعد میرے والد سید سبحان تک آنے تک یہ کاروبار چار نسلوں سے ہوکر گزرا، لیکن یہ کافی چھوٹے پیمانے پر تھا۔ میں 9 ویں جماعت میں تھا تب سے اپنی بیکری میں بیٹھنا شروع کیا تھا۔ معمولی بیکری تھی اور دن بھر میو 200 سے 300 گاہک آتے ہوں گے۔ جب 1994 میں میں بی کوم کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس کاروبار کو سنبھالنے آیا تو دماغ میں تھا کہ گاہک کو کچھ نئی چیزیں دی جائیں۔ ایک جذبہ تھا کہ گاہک کی خدمت کی جائے، حالانکہ اس سے اچھی کمائی ہوتی ہے، لیکن مقصد صرف پیسہ کمانا نہیں تھا۔ چیزیں اچھی ہوتی گئیں اور پھر خود پر اعتماد بھی بڑھتا گیا۔

بازار سے کچھ منفرد، کچھ نیا کرنے کا جذبہ ہی سبحان بیکری کو آگے بڑھاتا گیا۔ عرفان کو وہ دن یاد ہے جب لوگ ان کی بیکری پر آکر ان کے والد سے دوسری بیكريوں کی مثالیں دیا کرتے تھے، اس سے عرفان کا کافی برا لگتا اور ایک دن وہ بھی آیا جب لوگوں نے دوسری جگہوں پر سبحان بیکری کا نام لینا شروع کیا۔ عرفان نے کئی ساری چیزوں میں تبدیلی لائی۔ خصوصا بسکٹ، بریڈ، روٹی، پف اور پیسٹريز کو نئی لذت سے بدلہ۔ یہی وجه ہے کہ 2001 میں ان کے پاس صرف 7 ورکر تھے اور آج 45 افراد ان کے پاس کام کر رہے ہیں اور گاہکوں کی تعداد 3000 سے زائد ہے، تاہم بیکری کے کاروبار میں ہمیشہ زبردست مقابلہ بنا رہتا ہے۔ اس بارے میں عرفان کہتے ہیں، 'میں اپنا تقابل خود ہی سے کرتا رہا۔ ہر دن کچھ بہتر کرنے کا جذبہ ہمیشہ دل میں رہا۔ ہر دن کچھ نہ کچھ نیا سیکھنے کو ملتا۔ ہم نے بیکنگ کے ٹریڈشن کو چیلنج کیا، اس کے بنانے کے قوانین توڑے، نقصان بھی سہے، لیکن نیا کرنے کی دھن جاری رہی۔ '

عرفان نے اس دوران ایم بی اے کی تعلیم مکمل کر لی۔ ایک امریکی ادارے سے بیکنگ کا ڈپلوما بھی حاصل کیا اور اپنا سفر جاری رکھا۔ آج ان کی نئی عمارت بن رہی ہے اور حیدرآباد کے پانچ ذونوں میں پانچ بیكرياں کھولنے کا منصوبہ بھی ہے۔

عرفان کو وہ دن بھی یاد ہے جب ان کے دوست تعلیم مکمل کرکے خلیج ممالک میں ملازمتیں حاصل کرنے کے لئے پاسپورٹ بنا رہے تھے۔ عرفان کو تو کہیں جانا نہیں تھا، انہیں اپنے والد کی بیکری کا کاروبار کرنا تھا وہ اپنے دوستوں سے ازراہ مزاق بولتے، 'میں اسی وقت جاؤں گا، جب مجھے ویزا اور ٹکٹ دے کر بلایا جائے گا اور ہوا بھی ایسے ہی۔ ایک دن مجھے ویزا اور ٹکٹ دے کر مہمان کی طرح بلایا گیا۔ میرا وہ خواب شرمندہ تعبیر ہو گیا۔ '

آخر انہیں اپنی بیکری کو مشہور کرنے کے نسخے کہاں سے ملے؟ اس سوال کے جواب میں عرفان نے یور اسٹوری کو بتایا کہ وہ اپنے بزرگوں کی صحبت میں بیٹھ کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے۔ ان کے ذہن میں کافی باتیں تھیں۔ ان کو سمجھنے کی کوشش کرتے۔وہ کہتے ہیں، 'آج وہ باتیں سمجھ میں آتی ہیں کہ باتوں باتوں اور کہانیوں میں زندگی کی کتنی سچائیاں چھپی ہوئی تھیں۔'

عرفان کو لگتا ہے کہ کسی بھی کاروبار میں ايمانداری اور سچائی کامیابی کی اول شرط اوراصل ضمانت ہیں۔ دوسروں کے لئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہیں۔ یہی وجه ہے کہ کوئی بھی چیز کھانے میں کتنی مفید اور سحت بخش ہے، اس کا اندازہ وہ اپنے بچوں سے کرتے۔ انکا دعوی ہے کہ انہوں نے میعار کے ساتھ کبھی مفاہمت نہیں کی اور مستقبل میں بھی نئی نئی چیزیں بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories