نصابی تعلیم کو بہتر ڈھنگ سے سمجھانے کے لئے ایک انوکھا پروجیکٹ...

0

تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، اور بات جب ہندوستانی تعلیمی نظام کی ہو تو اس میں کئی خامیاں دکھائی دیتی ہیں، خاص طور سے سرکاری اسکولوں کے نظامِ تعلیم میں۔ ’گریش مهالے‘ نے اِس سچائی کو بہتر طریقے سے سمجھا، اورانہوں نے تعلیم کا ایک ایسا ماڈل تیار کیا ہے جس میں علم، مہارت اور اقدار تینوں چیز شامل ہیں ۔ اِس کے تحت کتابی علم نہ صرف ماڈل کے ذریعے سمجھایا جاتا ہے، بلکہ اس ماڈل کو مقامی چیزوں کی مدد سے تیار بھی کیا جاتا ہے ۔ گریش نے اپنے اس ماڈل کو نام دیا ہے ’پرتیائے ایجو ریسرچ لیب‘ (pratyaya edu research lab) فی الحال اِس پروجیکٹ کا فائدہ 8 سو سے زیادہ طالب علم اٹھا رہے ہیں ۔ گریش کے مطابق

’’میَں ایسا ماحول بنانے کی کوشش کر رہا ہوں جہاں پر نہ صرف بچّوں کو معیاری تعلیم ملے بلکہ لڑکے اور لڑکیاں یکساں طور پریہ تعلیم حاصل بھی کر سکیں ۔‘‘

’گریش مهالے ‘نے مدھیہ پردیش میں’ چھندواڑ ہ ‘ضلع کے’ پانڈھورنا‘ کے سرکاری اسکول سے تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد انہوں نے’ وِدیشا ‘کے ایک کالج سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آئی آئی ٹی كھڑگ پور سے اپنی تعلیم مکمل کی ۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد گریش نے تقریبا ًتین سال’ آئی بی ایم ‘میں ملازمت کی ۔

گریش نے’ یور اسٹوری‘ کو بتایا

’’میَں نے بچپن سے ہی سوچ لیا تھا کہ تعلیم کے میدان میں تبدیلی لانے کی کوشش کروں گا، اسی لئے میَں نے اپنی اچھی خاصی ملازمت بھی چھوڑ دی۔ کیونکہ میَں نے دیکھا تھا کہ تعلیم کے میدان میں سب کے پاس یکساں مواقع نہیں ہیں ۔ اگر کوئی خود بہتر تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے پاس وسائل کی کمی ہوتی ہے ۔ یہ فرق میَں نے تعلیم کی ہر سطح پر محسوس بھی کیا ۔‘‘

اس کے علاوہ گریش نے دیکھا کہ اُن کی چھوٹی بہن جس کو تعلیم کے سلسلے میں اُن کے برابر ہی مواقع ملے لیکن سماجی پابندیوں کے سبب وہ تعلیم کے معاملے میں اتنا کچھ نہیں کر پائی جتنا گریش نے کیا ۔ تب گریش سوچتے تھے کہ کیوں ایک لڑکی کو معاشرے میں ہر وقت پرایا سمجھا جاتا ہے اور کیوں گھر سےمتعلق فیصلے کرنے میں اس کی شراکت نہ کے برابر ہے۔ سماجی سطح پر اس صنفی تفریق کے سلسلے میں گریش ہمیشہ پریشان رہتے تھے ۔ اس لئے اُن کا خیال تھا کہ اس عدم مساوات کوبہتر تعلیم کے ذریعے دُور کیا جا سکتا ہے۔

اپنی ملازمت ترک کرکے جب گریش نے اگست 2013 میں ’پرتیائے ایجو ریسرچ لیب‘ کی بنیاد رکھی تو انہوں اِس کام کی شروعات اپنے شہر ’پانڈھورنا‘ سے کی ۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنے ساتھ کچھ والنٹيئر کو شامل کیا اور چار بلاک کے چالیس اسکولوں کے ساتھ ایک’ پائلٹ‘ پروجیکٹ کیا ۔ سائنس کے طالب علم گریش نے سب سے پہلے ’فزیکس‘ ( طبیعیات) کے ماڈل تیار کئے اور ان اسکولوں میں اس کی نمائش کی ۔ ان اسکولوں میں کئی قبائلی اسکول بھی شامل تھے۔

’پائلٹ ‘پروجیکٹ کے دوران انہوں نے بچّوں سے اُن کی رائے طلب کی۔ اس دوران انہوں نے اس بات کا خاص خیال رکھا کہ کس طرح مقامی وسائل کی مدد سے بہترین تعلیم مہیا کرائی جا سکتی ہے ۔ کس طرح کسی بیکار چیز ، ردّی یا کچرے تک سے ماڈل تیار کیا جا سکتا ہے ۔ گریش کے مطابق ’’ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمارے پاس كمپيوٹر، لیپ ٹاپ یا پروجیکٹر آ جائے تبھی اچھی تعلیم مل سکتی ہے بلکہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ مقامی سطح پر جو چیزیں دستیاب ہیں ان کا زیادہ سے زیادہ استعمال ماڈل بنانے کے لئے کیا جا سکے ۔‘‘

گریش مہاتما گاندھی سے کافی متاثر ہیں ۔ وہ بنیادی تعلیم پر سال 1927 میں گاندھی جی کے ایک لیکچر کی مثال بھی دیتے ہیں ۔ وہ بتاتے ہیں کہ اُس لیکچر میں گاندھی جی نے کہا تھا کہ

’’کوئی انسان اگر کچھ سیکھنا چاہتا ہے تو وہ کسی بھی کام کو کرتے ہوئے سیکھ سکتا ہے ۔ مثال کے طور پر کوئی چرخے کے ہر چکّر کی گنتی کرکےیہ پتہ لگا سکتا ہے کہ کتنی بار چرخہ چلانے سے کتنا دھاگا مل سکتا ہے ۔‘‘

گریش کا خیال ہے کہ کوئی بھی تعلیم پروجیکٹ پر مبنی ہو تو وہ بہتر طور پراور جلد سمجھ میں آ سکتی ہے ۔ آج گریش یہ سارا کام قبائلی اسکولوں میں کر رہے ہیں ،جس میں بچّوں کے ساتھ ٹیچرز کو بھی شامل کیا جاتا ہے ۔ اِس کے علاوہ جو لوگ تعلیم کے شعبےمیں ہیں اُن کی معلومات میں اضافہ کرنے کی کوشش ہوتی ہے ۔ اُن کے اس پروجیکٹ کے ذریعے مقامی گریجویٹ سے لے کر مستقبل میں ٹیچر بننے والوں کو شامل کیا جاتا ہے ۔ ساتھ ہی ان کی کوشش ہوتی ہے کہ سماج کو بھی تعلیم کے ساتھ جوڑا جائے۔ گریش کا کہنا ہے کہ

’’جب کسی خاص کمیونٹی کے لوگ مل کر مندر یا مسجد بنا سکتے ہیں تو وہ اسکول بھی بنا سکتے ہیں، بھلے ہی یہ کام حکومت کاہو لیکن ہماری کوشش عام لوگوں کو بھی اس میں شریک کرنے کی ہے ۔‘‘

فی الحال گریش کا یہ ماڈل’ پانڈھورنا‘ اور اطراف کے علاقوں کے سات اسکول اور چار ہوسٹل میں چل رہا ہے ۔ یہ لوگ سائنس، کمپیوٹر سائنس، پالیٹکل سائنس جیسے موضوعات کے ماڈل پر کام کر رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ان ماڈل کو مقامی نوجوان تیار کر رہے ہیں ۔ اس ماڈل کے تحت ایک خاص طرح کی ’ کِٹ‘ ہوتی ہے جس کے ذریعے یہ بچّوں کو ویڈیو دکھاتے ہیں، انہیں موضوعاتی کہانیاں سناتے ہیں اور اس ’کِٹ ‘ میں پروجیکٹ سے متعلق سامان ہوتا ہے۔

گریش اور اُن کی ٹیم دو ہفتے میں ایک بار اسکول کا دورہ کرتی ہے اور بچّوں کے سامنے اُن کے کورس کی چیزوں کو پریكٹیكل کرکے دکھاتے ہیں ۔

گریش کی ٹیم بچّوں کو اس بات کی تحریک و ترغیب دیتی ہے کہ وہ خود ایسا ہی کچھ بنانے کی کوشش کریں ۔ اس مقصد کے تحت وہ بچّوں کو پروجیکٹ بنانے کے لئے بھی دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں ایک بچّے نے سائیکل سے چلنے والی واشنگ مشین بنائی ہے ۔

مجموعی طور پر اِس طرح کی نئی نئی ایجاد و اختراعات کے لئے بچّوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ ان کی ٹیم میں کل 12 اراکین ہیں اور اب گریش اِس تعلیمی ماڈل کو مدھیہ پردیش کے ساتھ بہار اور یوپی میں بھی لے جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

ویب سائٹ : /http://www.pratyayaeduresearchlab.org

قلمکار : ہریش بِشٹ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Harish Bisht

Translation by : Anwar Mirza

Related Stories