5 سال تک تعلیم سے محروم صفائی ملازم کی بیٹی نے صرف 15 سال کی عمر میں لیا پی ایچ ڈی میں داخلہ

1

سات سال کی عمر میں ہائی اسکول، 10 سال کی عمر میں انٹر، 13ویں میں حیاتیات(Biology) اور نباتیات(Botany) میں گریجویشن، 15 کی عمر میں ماحولیاتی مائیکرو بایولوجی (Environmental Microbiology) جیسے موضوع میں گریجویشن۔ اِس عمر میں اِس قدر کامیابی حاصل کرنا ہم اور آپ جیسے لوگوں کے لئے محض تصّور ہی ہو سکتا ہے لیکن اسےحقیقت میں کر دکھایا ہے لکھنؤ کی 15 سالہ لڑکی سشما ورما نے ۔ سشما کا یومِ پیدائش 7 فروری 2000 ہے۔ 15 سالہ سشما نے اِسی سال لکھنؤ کی ’باباصاحب بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی ‘ (بی بی اے یو)سے پی ایچ ڈی کے انٹرنس ایگزام میں کامیابی حاصل کرکے ایک اور ریکارڈ اپنے نام کرلیاہے۔

ایک انتہائی غریب خاندان میں آنکھیں کھولنے والی سشما اپنے والدین کی تین اولادوں میں سے ایک ہیں اور اُن کے بچپن میں اُن کے والد ایک دِہاڑی مزدور کے طور پر کام کرتے تھے ۔ خاندان کی مالی حالت انتہائی خستہ تھی جس کی وجہ سے سشما 5 سال کی عمر تک اسکول نہیں جا سکیں ۔ فون پر ہوئی گفتگو میں لکھنؤ سے سشما ’یور اسٹوری‘ کو بتاتی ہیں،

’’چونکہ میرے والد ایک دِہاڑی مزدور کے طور پر کام کرتے تھے، اِس لئے ہمارا خاندان انتہائی غربت کے دن گزاررہا تھا ۔ غربت کی وجہ سے میَں بچپن میں اسکول نہیں جا سکی اور پانچ سال کی عمر میں سن 2005 میں یوپی بورڈ سے تسلیم شدہ ’ سینٹ میرا اِنٹر کالج‘ میں براہِ راست نویں کلاس میں رجسٹریشن کروایا ۔‘‘

سشما اپنے خاندان میں اکیلی ایسی رکن نہیں ہیں جو پڑھائی میں بہت اچھی ہیں ۔ اُن کے بڑے بھائی کا تعلیمی ریكارڈ بھی قابلِ رشک رہا ہے اور انہوں نے بھی محض 9 سال کی عمر میں دسویں کلاس پاس کرنے کے علاوہ صرف 14 سال کی عمر میں’ بیچلر اِن کمپیوٹر ایپلی کیشنز(BCA) کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ سشما بتاتی ہیں، ’’ میرے بڑے بھائی’ شیلندر ‘میرے محرّک، رہنما اورمعلم سب کچھ رہے ہیں ۔ میَں اپنے بڑے بھائی کی کتابوں سے ہی پڑھائی کرتی اور وہ پڑھنے میں میری مدد کرتے ۔ اُس وقت مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ میَں کیا کر رہی ہوں ۔ مجھے صرف پڑھنے میں مزہ آتا تھا اور میں پڑھائی سے لطف اندوز ہوتی تھی ۔‘‘ شیلندر فی الحال بنگلور میں ایک تکنیکی صلاح کار کے طور پر کام کرنے کے علاوہ اپنا ایک ’اسٹارٹپ ‘( ابتدائیہ کمپنی) شروع کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔

سال 2007 میں دسویں کلاس کا نتیجہ سشما اور اُن کے خاندان کے لئے قطعی غیر متوقع نہیں تھا اور سشما نے محض 7 سال 3 ماہ اور 28 دن کی عمر میں دسویں کلاس پاس کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ بعد میں ’لِمکا بُک آف ریكارڈس‘ میں انہیں ’ سب سے کم عمر میں 10 ویں کلاس پاس کرنے والے طالب علم‘ کی حیثیت سے درج کیا گیا ۔

سشما بتاتی ہیں،’’ 7 سال کی عمر میں ہائی اسکول پاس کرنے کے بعد مجھے ایک ڈاکیومینٹري فلم کی شوٹنگ اور ایک ’آئی کیو‘ ٹیسٹ کے لئے جاپان جانا پڑا ۔ اس وجہ سے کچھ عرصہ کےلئے تعلیمی سلسلہ منقطع رہا اور بالاخر میَں نے تین سال بعد 10 سال کی عمر میں 12 ویں کا امتحان دیا اور اُس میں کامیابی بھی حاصل کی ۔‘‘

سشما بچپن سے ہی ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں اور اسی لئے انہوں نے اِنٹر پاس کرنے کے بعد میڈیکل کی تعلیم کے لئے ضروری ’یوپی-سي پی ایم ٹي‘ کا امتحان دیا لیکن اُن کی کم عمر ی کے سبب اُن کا رِزلٹ روک دیا گیا ۔ حالات سے دل برداشتہ ہوئے بغیر سشما نے BiologyاورBotany سے گریجویشن یعنی بی ایس سی کرنے کا فیصلہ کیا اور تین سال بعد صرف 13 سال کی عمر میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہیں ۔ سشما بتاتی ہیں، ’’ بی ایس سی کرنے کے بعد میَں نےماحولیاتی بايولوجي کا امتحان دیا اور صرف 15 سال کی عمر میں ایم ایس سی کی ڈگری اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی ۔ ‘‘

گریجویشن کرنے کے بعد سشما اپنے خاندان کی اقتصادی حالت کے متعلق کافی فکر مند تھیں کیونکہ ان کے والد’ تیج بہادر‘ ان کی تعلیم کے اخراجات اٹھانے کے اہل نہیں تھے ۔ ایسے میں ’ سُلبھ‘ انٹرنیشنل کے بانی ’بندیشور پاٹھک‘ ان کی مدد کے لئے ایک فرشتہ کی طرح آئے ۔ سشما بتاتی ہیں، ’’ آج میں جس مقام پر بھی ہوں اور جو بھی کر رہی ہوں اُس میں ’ بندیشور‘جی کا اشتراک سب سے اہم اور اوّل ہے۔ انہوں نے میرے والد کو’بی بی اےيو‘ میں ایک صفائی ملازم کی حیثیت سے کام دلوایا اور اِس کے علاوہ انہوں نے کچھ مالی امداد کا انتظام کرواتے ہوئے ایک کمپیوٹر، کیمرہ اور موبائل فون وغیرہ بھی دلوایا۔ ‘‘ اس کے بعد اسی سال سشما نے ایم ایس سی کے امتحان میں بھی کامیابی حاصل کی اور انہوں نے پی ایچ ڈی میں رجسٹریشن کروانے کے لئے امتحان دیا۔

اسی سال صرف 15 سال کی عمر میں لکھنؤ کے ’بی بی اے يو‘ میں پی ایچ ڈی کا داخلہ امتحان پاس کرنے والی سشما کو سب سے کم عمر ہندوستانی طالبہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے ۔ فی الحال سشما عمر میں خود سے کئی سال بڑے طالب علموں کے ساتھ پڑھ رہی ہیں اور انہیں اُن سے ایک مثبت سمت ہی ملتی ہے ۔ سشما بتاتی ہیں، ’’ ایک طرح سے دیکھا جائے تو میں ہمیشہ سے ہی اپنے سے کئی سال بڑے طالب علموں کے ساتھ پڑھتی آ رہی ہوں اور اب یہ میرے لئے ایک عام بات بن چکی ہے ۔ اگر مجھے پڑھائی وغیرہ سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو میں اُن لوگوں سے رہنمائی کے لئےپوچھنےمیں بالکل بھی شرم محسوس نہیں کرتی ہوں اور میرے ساتھی بھی میری مدد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں ۔ ‘‘ پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد سشما کا ارادہ ایک بار پھر میڈیکل کا داخلہ امتحان دینے کا ہے کیونکہ اُس وقت تک اُن کی عمر 17 سال ہو چکی ہو گی۔

سشما اور اُن کا پورا خاندان اُن کی اِن کامیابیوں سے بہت خوش ہے اور اُن کے والد کو اس بات کی پوری اُمید ہے کہ ایک دن اُن کی بیٹی ’سی پی ایم ٹی‘ کا امتحان پاس کرتے ہوئے ڈاکٹر بننے میں کامیاب ہو گی ۔ اِس کے علاوہ کچھ عرصہ قبل اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے انہیں پانچ لاکھ روپے کی مالی ا مداد دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

سشما سے اُن کے ای میل sushma936@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


قلمکار : نِشانت گوئل

مترجم : انور مِرزا

Writer : Nishant Goel

Translation by : Anwar Mirza