'بچوں کو سفّاک اور بےحس ہونے سے بچانا میرا مقصد'

اپنی تخلیخی سوچ کے سہارے ہمیشہ نئی راہ بنانے کی کوشش کرنے والے پنکج کی کہانی

0

پنکج کو پہلے چائی باسا سے رانچی، پھر دہلی، پھر انگلینڈ اور اس کے بعد ممبئی لے آئی۔ پنکج کو لگتا ہے کہ بہت زیادہ علم تکبر کو جنم دیتا ہے، اس لئے ان کی زندگی کی پوری کیمپیننگ تخلیخی صلاحیتوں کے ساتھ ہے۔ یہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے اور یہی زندگی کے انداز بھی۔

ٹی وی اور فلمیں آج کل تفریح کا ذریعہ تو ہیں، لیکن کیا ہم جانتے ہیں کہ ہمارے بچے جو دیکھ رہے ہیں، ان کو دیکھنا چاہئے یا نہیں؟ نہیں ہم نہیں جانتے۔ بھاگ دوڑ بھری اس زندگی میں بچوں کی ذمہ داری سے جتنی دیر دور رہا جائے اتنا اچھا ہے، لیکن ایسا کرتے ہوئے ہم یہ بھول رہے ہیں کہ ان کو دیا جانے والا انٹرٹینمنٹ آج ان کو متاثر کرتے ہوئے ان کے آنے والے کل کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ بچوں کا مستقبل ان کے آج کی طرح ہی خوبصورت رہے اور دماغ آلودہ نہ ہو اسی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے پینگوئن بیسٹ سیلر مصنف پنکج دوبے نے ایک انوکھے پروگرام کی بنیاد ڈالی اور اس کا نام دیا سڑك چھاپ فلم فیسٹیول۔

سڑك چھاپ فلم فیسٹیول کے دوران پنکج روبینہ علی (سلم ڈاگ ملنير کی آرٹسٹ) کے ساتھ
سڑك چھاپ فلم فیسٹیول کے دوران پنکج روبینہ علی (سلم ڈاگ ملنير کی آرٹسٹ) کے ساتھ

 پنکج دوبے تحریر کی دنیا میں جانا مانا نام ہیں، کہانیاں لکھتے ہیں اور اپنی کہانیوں کو بڑی خوبصورتی سے سناتے بھی ہیں۔ پنکج کی خاصیت ہے کہ وہ سامنے رکھی کسی بھی چیز کو پکڑ کر اس پر کہانی گڑھ سکتے ہیں، پھر وہ چاہے کار کی چابی ہو یا پھر دھوپ والا شیشہ اور ان کی کہانیوں کا اختتام بھی ہمیشہ دلچسپ ہوتا ہے ۔ کسی ہندی سنیما کی طرح! لیکن پنکج کی زندگی کا ایک اور پہلو ہے، جس کے بارے میں وہ شور کرنا نہیں چاہتے، کام کرنا پسند کرتے ہیں اور وہ ہے ہیلدی انٹرٹینمینٹ یعنی صحت مند تفریح۔ اپنی اس مہم کو پورا کرنے کے لئے پنکج نے ہندوستان کے پہلے اسٹریٹ فلم فیسٹیول سڑك چھاپ فلم فیسٹیول کی بنیاد رکھی۔

میرا خیال ہے کہ جو میڈیا بچے كنذيوم کرتے ہیں، اس سے ان کے مستقبل کی ترقی ہوتی ہے اور بات ان کے دماغ میں بیٹھ جاتی ہے۔ آج کل اسی فیصد فلمیں بچوں کے دماغ کو آلودہ کر رہی ہے۔ بچے سفاک اور بے حس ہو رہے ہیں۔ میرا مقصد بچوں کے اسی نرم احساس کو بچانا ہے۔ بچوں میں اچھی سمجھ پیدا کرنے کے لئے ان کا سینسٹو اور سینسبل ہونا ضروری ہے۔ میری زندگی کا سب سے پہلا مقصد ہے کہ ہیلدی اینٹرٹینمنٹ کے ذریعے بچوں میں تعمیری سمجھ پیدا کی جائے، تاکہ وہ ایک بہتر اور حساس شہری بن سکیں۔

سڑک چھاپ فلم فیسٹیول 2008 میں دہلی کے نیو حد پوری علاقے سے شروع ہوا اور اس کے بعد یہ فیسٹیول کولکتہ، بنگلور، حیدرآباد، ممبئی پٹنہ، رانچی، چائی باسا، جمشید پور، کھونٹی اور مرهو کی سلم بستیوں اور غریب علاقوں میں توسیع پاتا رہا ۔ اس فیسٹیول کے دوران ان بچوں نے سنیما کا لطف اٹھایا، جو کھیل نہیں کھیلتے بلکہ چلنا سیکھتے ہی پیسہ کمانا شروع کر دیتے ہیں۔ آسان نہیں ہوتا سلم بستیوں میں جا کر ولیدین کو یہ سمجھانا کہ ہم آپ کے بچے کو ہیلدی فلمیں دکھائیں گے۔ کئی بار کئی جگہوں سے پنکج کو مایوس ہوکر بھی لوٹنا پڑا۔ مقررہ وقت پر بچے نہیں پہنچے، صرف اس لئے کیونکہ کسی کو سگنل پر کھڑے ہو کر بھیک مانگنی تھی، تو کسی کو چوراہے پر غبارے فروخت کرنے تھے۔ ناخواندہ اور غریب عوام کے لئے ان کے بچوں کو پیسے کمانا زیادہ ضروری تھا، بجائے اس کے کہ وہ کچھ نیا کریں۔

'گیتا میں لکھا ہے عمل کرو پھل کی خواہش نہ کرو، لیکن میری راہ اس سے بالکل الگ ہے۔ میرا خیال ہے پہلے پھل کھا لو اور اس کے بعد عمل کرو، تب عمل کرنے سے لطف دوگنا ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ میں نے سڑك چھاپ فلم فیسٹیول کے دوران ڈھیر سارے پھل والوں کو فیسٹیول کا حصہ بنا لیا اور ان کے ساتھ جڑ کر میں پہلے بچوں کو میٹھا پھل کھلاتا ہوں اس کے بعد فلم دکھاتا ہوں۔

پنکج کو ان دنوں سے فلموں کا شوق ہے، جن دنوں گھروں میں ٹی وی ہونا بڑی بات ہوتی تھی اور وی سی آر تو کہیں لگ جائے تو تیوہار کا سا احساس ہوتا تھے۔ ایک واقعہ کو یاد کر پنکج اداس بھی ہو جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، کہ بچپن کے دنوں میں میں نے اپنی کالونی میں ایک فلمی کلب بنایا تھا جس میں کالونی کے تمام لوگ ایک ساتھ ایک جگہ بیٹھ کر فلموں کا لطف اٹھاتے تھے اور اس کے لئے میں چندہ جمع کرتا تھا۔ لیکن اس وقت بھی ایسے کئی لوگ تھے، جو چھوٹی ذات کے ہونے کی وجہ سے اس کلب میں شامل نہیں ہو سکتے تھے اور ان میں سے ایک تھے کالو بھئیا۔ کالو بھئیا کالونی میں جنریٹر چلاتے تھے، گھر گھر میں روشنی دیتے تھے، لیکن وہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر فلم نہیں دیکھ سکتے تھے۔ بچپن کے اسی واقعہ نے مجھے سڑک چھاپ فلم فیسٹیول کی جانب موڑا۔پنکج جانتے ہیں، کہ ان کیتخلیخی صلاحیت ہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے جو ان کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگی میں بھی رنگ بھر سکتی ہے۔

چائی باسا کے پنکج دوبے اپنی تخلیخ کے بل پر جھارکھنڈ سے نکل کر دہلی یونیورسٹی پہنچ گئے۔ یہاں اپنی فنتاسیوں سے ڈبیٹس، تخلیقی رايٹنگ اور تھیٹر کا حصہ بن کر، ماسک نام سے ایک تھیٹر گروپ اور سپرها (SPRIHA) نام کی ایک سماجی تنظیم بنائی، جس کا کام بچوں میں کہانیاں اور دیگر میڈیا ذرائع سے تعزیت کی ترقی تھا۔ اسی درمیان وہ اپنی ماسٹرز ان اپلائڈ مواصلات کی تعلیم حاصل کرنے كووینٹری یونیورسٹی انگلینڈ چلے گئے اور اس کے بعد کچھ وقت تک بی بی سی لندن میں براڈ کاسٹر کا کردار ادا کیا۔ لیکن ہندوستان کی وادیوں میں واپس جانے کی ان کی خواہش نے انہیں وہاں رہنے نہیں دیا۔ اور وہ واپس آئے۔ بھارت آکر کئی بڑے نیوز چینلز میں کام کیا، لیکن یہاں بھی ان کا دل نہیں لگا اور دوبارہ ماسک اور سپرها کی دنیا میں واپس لوٹ گئے۔ سپرها کا نیا چہرہ ہی سڑك چھاپ فلم فیسٹیول کے طور پر سامنے آیا، جس میں ممبئی کے دھاراوی علاقے میں روبینہ علی (فلم سلم ڈاگ ملنير فلم میں چائلڈ اسٹار) نے دوسرے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر سڑك چھاپ فلم فیسٹیول کا لطف اٹھایا۔

مجھے جتنا سکون بچوں کے ساتھ ملاقات میں ملتا ہے، وہ خوشی کسی اور کام میں نہیں ملتی۔ یہی وجہ تھی کہ میں اپنے ملک واپس لوٹا۔ بچوں کے ہونٹوں کی مسکراہٹ مجھے جینے اور آگے بڑھنے کا مقصد دیتی ہے۔

سڑك چھاپ فلم فیسٹیول پنکج کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ ان کے بچپن کا خواب ہے۔ اس فیسٹول کے دوران پنکج نے پایا کہ ردی کی ٹوکری چننےوالے اور نشہ کرنے والے چھوٹے چھوٹے بچوں کو فلم دیکھنے اور ورک شاپ میں حصہ لینے میں خاصا دلچسپی لے رہے ہیں۔ چونکہ پنکج خود ایک باپ ہیں، تو بچوں کی نفسیات کو بے حد قریب سے سمجھتے ہیں۔ پنکج ان دنوں اپنی مہم رايٹ ٹو ہیلدی انٹرٹینمنٹ سڑك چھاپ فلم فیسٹیول لیول -2 کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

پنکج دوبے کو پیار سے لوگ PD بھی بلاتے ہیں۔ ویسے تو پنکج جھارکھنڈ کے چائی باسا علاقے سے ہیں، لیکن سڑك چھاپ فلم فیسٹیول کے چلتے اپنا بوریا بستر ممبئی لے کر پہنچ گئے اور اب وہیں کے ہو گئے۔ پینگوئن سے ان کی دو کتابیں آ چکی ہیں، اور دونوں ہی بیسٹ سیلر رہی ہیں۔ لوذر کہیں کا (what a loser) اور اشقياپا (Ishqiyapa، to hell with love)۔ پنکج ہمہ لسانی رائٹر ہیں اور اپنی کتابیں ہندی-انگریزی دونوں زبانوں میں ایک ساتھ لکھتے ہیں جو ترجمہ نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی اپنی زبان میں ایک ساتھ لکھی جاتی ہیں۔ پنکج بہت سی فلموں پر بھی کام کر چکے ہیں اور جلد ہی ایک بڑے پروجیکٹ کے ساتھ دھمال مچانے والے ہیں۔ فلمیں ہمیشہ سے پنکج کے دل کے قریب رہی ہیں۔ پنکج ایک فلمی لڑکے ہیں جو بارش میں بھیگ کر سڑک پر جمع ہوئے پانی کو پیروں سے مارتے ہوئے آگے بڑھ جاتا ہے اور جس کے لئے شام کا مطلب زندگی میں محبت کے نغمات کے ہونے جیسا ہے۔

ابتدائی دنوں میں پنکج نے چندہ لے کر بھی خوب کام کیا ہے، لیکن افسوس کی چندہ دینے والے صرف ان کے دوست اور خاندان والے ہی تھے، کیونکہ دوسروں کو كنونس کرنا آسان نہیں تھا اور اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے پنکج آج کل ایک ایسے ریونیو ماڈل پر بھی کام کر رہے ہیں جس میں پیسہ لگانے والا نقصان کی بجائے، صرف فائدہ لے کر نکلے۔

پنکج ایک دلچسپ مصنف ہیں، جو اپنی طرز تحریر میں نئی نئی اسناف کا استعمال کرنے کے لئے مشہور ہیں۔ ان کہانیوں میں سماجی و سیاسی واقعات طنز و مزاح کا چسکا ہوتا ہے۔ 2016 کے جون مہینے میں پنکج کا انتخاب رائٹرس رسیڈینسی سیول آرٹ اسپیس، ساؤتھ کوریا کے لئے بھی ہوا، جہاں ایشیا سے صرف تین مصنف چنے گئے تھے اور پنکج ان تین میں سے ایک تھے۔ اس میں پنکج نے کئی ممالک سے آئے مشہور مصنفین کے ساتھ حصہ لیا اور اپنی خوبصورت کہانیوں سے لوگوں کو دیوانہ بنا دیا۔

سماجی طور پر کام تو PD کئی سالوں سے کر رہے تھے، لیکن ان کی کوششوں کو پہلی بار یوتھ آئیکون ایوارڈ 2010 میں کرناٹک میں دیا گیا۔ ڈاکٹر اےپی جے عبد کلام نے اپنی موجودگی سے اس تقریب کی زینت بڑھائی۔ انہیں اشوکا چینج میکرس کی طرف سے 'اسکولوں میں کیا پڑھایا جائے، جس سے تبدیلی ہو' کے لئے ایکسپرٹ مبصر کے طور پر بھی نامزد کیا گیا۔ پنکج کے پہلے ناول لوذر کہیں کا (what a loser) کو Lit'O fest 2015 ممبئی میں Best first Published Book of an Author Award ملا۔ اپنے دوسرے سب سےبیسٹ سیلنگ ناول اشقياپا (Ishqiyapa، to hell with love) کے ساتھ پنکج نے ایک خاص انداز کا استعمال کیا، جسے اشقياپا ایکسپریس کا نام دیا۔ اس دوران پنکج اشقياپا لے کر ان 20 شہروں میں گئے جہاں لوگ جانا پسند نہیں کرتے، کیونکہ یہ شہر بازاری چکاچوند سے بہت دور ہیں۔ ان شہروں میں پنکج نے نوجوان قارئین کو کتابیں پڑھنے کے لئے حوصلہ افزائی کی۔ یہاں انہیں لوگوں کا بہت سارا پیار ملا اور جیسا کہ وہ کہتے ہیں، "اشقياپا ایکسپریس کے دوران ان چھوٹے شہروں کے لوگو نے مجھے سیلےبرٹی کی طرح ٹریٹ کیا۔" اشقياپا کے اسی انوکھی کوشش کے چلتے پنکج کو رام جیٹھ ملانی کی طرف Lit ' O fest 2016 میں Creative Leadership Award دیا گیا۔

PD کا خواب ہے، کہ وہ اپنے سڑك چھاپ فلم فیسٹیول کو ملک کے ہر چھوٹے بڑے گاؤں شہر قصبے میں لے کر جائیں اور ہیلدی انٹرٹیمینٹ کی اس مہم میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شامل کریں۔ کیونکہ پنکج کے مطابق صحت مند تفریح کا حق سب کو ہے۔ ان سب کے ساتھ ان دنوں پنکج اپنی ایک خاص پیشکش پر بھی کام کر رہے ہیں جس کے تحت سنیما چینس میں ہر فلم کے ٹکٹ سے ایک روپیہ الگ کر ایک فنڈ جمع کیا جائے۔ وہ ایک ملک گیر کوشش کرنے کی سمت میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں جسے انہوں نے اڈاپٹ اے فیسٹیول کا نام دیا ہے۔

ایک سوال جو لوگ اکثر پنکج سے پوچھتے ہیں، آپ ریونیو ماڈل کیا ہے؟ جس پر پنکج مسکراکر جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں، اگر آپ کا دل بھی بچوں کے صحت مند دل اور دماغ کے لئے دھڑک رہا ہے، تو سمجھ لجيے جلد ہی بن جائے گا میرا ریونیو ماڈل۔

Related Stories