دوہاتھوں اور ایک پیر سے محروم شیرین صرف ایک پیر کے سہارے حوصلوں کی اُڑان بھر رہی ہے

0

بی۔ اے کرچکی شیرین غریب والدین کی اولاد ہے۔  

شیرین کی کہانی کو مہاراشٹرا کی درجہ نہم کی مراٹھی کمار بھارتی درسی کتاب میں شامل کیا گیا۔  

صرف ایک انگوٹھے کی مدد سے کمپیوٹر بھی آپریٹ کرکے صحتمندوں کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔

"کچھ لوگ ہوتے ہیں جو زندگی میں کچھ نہ کرنے کے لئے بہانوں اور عذر کی تلاش کرتے ہیں۔ لیکن کچھ مخصوص لوگ ایسے بھی ہوتےہیں جو عذر ہوتے ہوئے بھی اس پر قابو پانے کے لئے جی جان ایک کردیتے ہیں۔ شیرین تبسم ایسی ہی لڑکی ہے جس نے اپنی معذوری کو اپنی ترقی کے آڑے نہیں آنے دیا۔"

ریاستِ مہاراشٹرا کے قدرے غیر معروف ضلع اور شہر ایوت محل کے ایک مسلم اکثریتی محلے اسلام پورہ کی ایک چھوٹے سے عسرت زدہ گھر میں رہنے والی شیرین تبسم ان غیر معمولی لڑکیوں میں سے ایک ہے جو اپنی تاریخ خود رقم کرتی ہیں۔ یہ لڑکی اپنے دو ہاتھوں اور ایک پیر سے پیدائشی طور پر محروم ہے لیکن اس کے حوصلے اور کارنامے دیکھ کر ساری دنیا دنگ رہ جاتی ہے۔ جب اس نے 2010 میں میٹرک کے امتحان میں 70 فیصد نمبرات حاصل کئے تو عام انسان کے یقین کی ساری حدیں پار ہوگئیں۔ لوگ فوراً اس لڑکی کی طرف متوجہ ہوگئے۔ میڈیا بھی دوڑتا ہوا اس کے گھر پہنچ گیا اور پھر شروع ہوگئی ایک نئی کہانی، ایک نئی حقیقت سے دنیا کی روشناسی کا دور۔

غریب والدین:

جی ہاں، شیرین تبسم انتہائی غریب والدین کی بیٹی ہے۔ اس کے والد شمشیر شیخ ویلڈنگ کا کام کرتے ہیں اوراس کی والدہ اپنے شوہر کی معاونت کے لئے ایک نجی اسپتال میں نرس کا کام کرتی ہیں۔ شیرین کو ایک بھائی فردین اور ایک بہن رخسار ہے۔ شیرین کی پیدائش 14 مئی 1994 کو ہوئی۔ پیدائش ہی سے معذور اس لڑکی کو اس کے غریب والدین نےاپنے دوسرے بچوں کی طرح اسے بھی بڑے لاڈ پیار سے پالا۔ اس کے والدین نے اپنی غربت کے باوجود اس لڑکی سے بے انتہا محبت کی اور اسے اس کی خواہش کے مطابق تعلیم دلائی۔ انہوں نے اپنی غربت کو بیچ میں نہیں آنے دیا۔

معذوری پر مات:

شیرین تبسم حالانکہ اپنے دونوں پیروں ایک ایک ہاتھ سے محروم ہے اس کے باوجود وہ اپنے سارے کام محض دائیں پیر کے انگوٹھے کی مدد سے کر تی ہے۔ اس ایک انگوٹھے کی مدد سے وہ لکھنا پڑھنا، مصوری کرنا، کمپیوٹر آپریٹ کرنا، اسکول کا بیگ نکالنا اور ڈرائنگ کرنا ، ٹی۔ وی چلانا، موبائل پر گیم کھیلنا جیسے مشکل کاموں سے لے کرجھاڑو دینا، مہندی لگانا، چاول چننا، پیاز کاٹنا،فرش صاف کرنا، برتن مانجھنا اور کپڑے تہہ کرنا جیسے گھریلو کام تک وہ بڑی آسانی سےکر لیتی ہے۔ اس کی معذوری اور اپاہج پن دیکھ کر اسے یہ سب کام کرتے دیکھ کر لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔ شیرین جب 6 برس کی ہوئی اور اس کے والدین نے اسے اسکول میں داخل کروانا چاہا تو کسی اسکول نے اسے داخلہ نہیں دیا۔ لیکن شیرین نے اپنے عزمِ محکم کے بل بوتے پر اردو لکھنا سیکھ کر اسکول کے اربابِ مجاز کو متاثر کیا اور آخر کار اسے اسکول میں داخلہ مل ہی گیا۔ بس پھر کیا تھا! یہیں سے اس کے تعلیمی سفر نے اُڑان بھری اور پیچھے مُڑکر دیکھنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں تھا۔

اعزازات اور ستائش:

جب شیرین کی اس معذوری کے باوجود دسویں جماعت میں امتیازی نمبرات سے کامیاب ہونے کی خبر اخبارات اور ٹی۔ وی پر نمودار ہوئی تو وہ ایک طرح سے اس کے لئے ایک خوشگوار تبدیلی کا لمحہ تھا جب دنیا اس کی معذوری اور اس کے کارناموں کے بارے میں جان رہی تھی۔ شیرین کی زندگی کی جدوجہد کو ہندوستان کی کئی تنظیموں نے سراہا اور اس کی حوصلہ افزائی کی۔ یونی سیف اور سہیادری چینل نے مشترکہ طور پر اسے "نوجیوتی اعزاز" سے نوازا۔ اس کے اس اعزازی پروگرام میں ادکار فاروق شیخ، اداکارہ ریما لاگو، یونی سیف کے تجیندر سندھو،دور درشن کے چیف ایم ۔ ایس۔ تھامس، مشہور صحافی راہی بھِڑے اور ریاستی وزیر ورشا گائیکواڑ بھی موجود تھے۔ شیرین تبسم کو الحاج اطہر مرزا میموریل ٹرسٹ، پوسد کے کی جانب سے اس کے صدر ڈاکٹر وجاہت مرزا نے "اعزاز برائے جدو جہدِ زندگی" کے لئے منتخب کیا۔ شیرین کو یہ اعزاز مرکزی وزیر برائے صحتِ عامہ جناب غلام نبی آزاد کے ہاتھوں دیا گیا۔ ہندوستان بھر کے اردو ، مراٹھی ، ہندی اور انگریزی اخبارات میں شیرین کی جدوجہد بھری زندگی کی داستان شائع کی گئی۔ غرض شیرین کی زندگی بہت سے لوگوں کے لئے ایک نمونہ اور مثال بن چکی ہے۔

ریاستِ مہاراشٹرا کی درسی کتاب میں شیرین پر سبق:

حکومتِ مہاراشٹرا نے بھی شیرین کی اس جدوجہد بھرے سفر کا نوٹس لیا۔ حکومت کے اربابِ مجاز نے سوچا کہ ایک انتہائی معذور لڑکی جب تعلیم کے حصول کے ارادے سے اپنی زندگی میں اتنی جدوجہد کرسکتی ہے تو پھر جو صحمت مند بچے تعلیم کے تئیں لاپروائی برتتے ہیں ان کے لئے تو یہ ایک زندہ مثال ہے۔ اسی خیال کے تحت مراٹھی زبان کی نویں جماعت کی درسی کتاب پر شیرین کی جدوجہد بھری زندگی پر سبق شامل کیا گیا۔ جہاں ایک طرف یہ شیرین کے لئے ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہےوہیں حکومت کے لئے بھی یہ ایک قابلِ ستائش اقدام ہے کہ اس نے طلباء کی حوصلہ افزائی اور ان کی ترغیب کے لئے شیرین جیسی لڑکی کی ایک نہایت موزوں اور زندہ مثال کا انتخاب کیا۔

اعلیٰ تعلیم کا حصول :

دسویں جماعت میں امتیازی نمبرات حاصل کرنے کے بعد شیرین کی خواہش اعلیٰ تعلیم کے لئے سائنس کا انتخاب تھا لیکن گھر میں مفلسی کا دور رورہ تھا جس کی وجہ سے اسے آرٹس میں داخلہ لینا پڑا۔ آج شیرین ایک آرٹس گریجویٹ ہے ۔ اس نے اپنی تما متر معذوری کے باوجود سلائی اور مہندی ڈزائن سیکھی جسے کے باعث وہ مہندی کام اور سلائی کام بھی کرتی ہے جس کی وجہ سے گھر میں تھوڑی بہت مالی مدد ہوجاتی ہے۔ لیکن اتنا کافی نہیں ہے۔ شیرین چونکہ اب ایک گریجویٹ بھی ہے اور معذورین کے زمرے میں وہ سب سے زیادہ مستحق اور سرکاری ملازمت کےحصول کے لئے سب سے موزوں امیدوار ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ اس کی طرف توجہ دے اور اسے سرکاری ملازمت فراہم کرے تاکہ ایک معذور لیکن حوصلہ مند لڑکی سارے سماج کے نہ صرف دیگر معذورین بلکہ صحت مندوں کے لئے بھی ایک مثال بن کر لوگوں کے سامنے پہنچ سکے۔ یور اسٹوری کی ٹیم شیرین تبسم کے تابناک مستقبل کے لئے نیک خواہشات پیش کرتی ہے۔

تحریر: خان حسنین عاقبؔ