غریب بچّوں کو اُن کے پیروں پر کھڑا کرنے کی تدبیر کا نام ہےIIT انجینئر کا’اُپائے‘

0

آئی آئی ٹی كھڑک پور سےانجینئرنگ کرنےکے دوران ورون شریواستو نے شروع کیا غریب بچّوں کو پڑھانا ...

سن 2010 میں رکھی این جی او ’اُپائے‘ کی بنیاد ...


’اُپائے‘ یعنی تدبیر کا مقصد سڑکوں پر بھیک مانگنے والے بچّوں اور سلم ایریا میں رہنے والے غریب بچّوں کو تعلیم دیناہے


اِن کا ایک ای کامرس پورٹل ہے ’اپنا سامان ڈاٹ کوم‘ apnasaamaan.com اِس ویب سائٹ کے ذریعے وہ بچّوں کی بنائی ہوئی چیزوں کو باہر فروخت کرتے ہیں...

کسی بھی مُلک کی ترقّی کے لئے ضروری ہے کہ اُس مُلک میں مساوات ہو، تمام طبقے ،ذات اور کمیونٹی ایک دوسرے کی باہم ترقی کی بنیاد رکھیں اور آپس میں تعاون کریں۔ کسی بھی طبقہ میں اِتنا فرق نہ ہو کہ وہ معاشرے میں عدم مساوات کی خلیج کی شکل لے لے۔ معاشرے کی اِسی عدم مساوات کو دُور کرنے کی کوشش میں لگے ہیں ورون شریواستو۔ وہ اپنے این جی او’اُپائے‘ کے ذریعے سڑکوں پر بھیک مانگنے والے بچّوں اور سلم ایریا میں رہنے والے غریب بچّوں کو تعلیم دے کر اُن کی زندگی بہتر بنانے کی کوشش میں لگے ہیں۔

’اُپائے‘ کا خیال

ورون نے آئی آئی ٹی كھڑک پور سے انجینئرنگ کی، اُس کے بعد وہ ریسرچ کرنےMadrid میڈرِڈ (یورپ) گئے اور آج وہ ’این ٹی پی سی‘ مہاراشٹر میں بطور ڈپٹی منیجر کام کر رہے ہیں۔ انجینئرنگ کے دوران جب وہ غریب بچّوں کو بھیک مانگتے اور ریڈ ٹریفِک سِگنل پر سامان فروخت کرتے دیکھا کرتے تھے تو انہیں بہت بُرا لگتا۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ وہ ایسےغریب بچّوں کو تعلیم کےزیور سے آراستہ کریں اور ان کی زندگی سنوارنے کی کوشش کریں، اور پھر غریب بچّوں کو تعلیم دینے کے مقصد سے انہوں نے سن 2010 میں '’اُپائے‘ 'نام کے ایک این جی او کی بنیاد رکھی۔ رفتہ رفتہ ورون کے اِس مِشن میں اُن کے کچھ اور دوست بھی شامل ہو گئے۔ پھر بچّوں کو پڑھانے کیلئے یہ سبھی دوست سلم ایریا میں جانے لگے۔ آج ورون کے ساتھ 120 رضاکاروں کی ایک بڑی ٹیم ہے جس میں ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر اورکئی دیگر پروفیشنز سے منسلک لوگ ہیں اور سب کا مقصد ایک ہے، غریب بچّوں کو پڑھانا اور انہیں اُن کے پیروں پر کھڑا کرنا، خود کفیل بنانا۔

’اُپائے‘ کی ابتدا

ورون کا کہنا ہے-

’’شروع میں ہمیں کافی دِقّتیں پیش آئیں، ہم جن بچّوں کو پڑھا رہے تھے وہ کبھی اسکول نہیں گئے تھے اور اُن کو پڑھنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، اِس لئے ہم اُن کے ساتھ کھیلتے، انہیں کچھ کھانے کیلئے دیتے اور ایسا کرتے ہوئے ہم اُن کوپڑھائی کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے۔ سب سے بڑی دِقّت یہ تھی کہ اُن بچّوں کے والدین بھی نہیں چاہتے تھے کہ وہ پڑھیں کیونکہ سڑکوں پر سامان بیچ کر، یا بھیک مانگ کر وہ پیسے کما لیا کرتے تھے لیکن اب تعلیم کے چکّر میں پیسے نہیں کما پا رہے تھے، ایسے میں کافی مشکلات پیش آتی تھیں، لیکن ہم اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈٹے رہے۔ ہم لوگ صبح نوکری پرجاتے اورشام کو بچّوں کو پڑھاتے، چھُٹّی والے دن یہ لوگ صبح سے ہی بچّوں کو پڑھاتے۔‘‘

این جی او’اُپائے‘ دو پروگرام چلاتا ہے، پہلا ’ریچ اینڈ ٹيچ‘ یعنی پہنچو اور پڑھاؤ، اِس میں ورون اور اُن کے ساتھی اُن علاقوں میں جاتے ہیں جو کافی پسماندہ ہیں جیسے سلم ایریا، لیبر کالونی یا پھر کسی گاؤں دیہات کے علاقے میں۔ یہاں یہ لوگ سرکاری عمارتوں، جیسے اسکول،آنگن باڑی کا استعمال کرتے ہیں یا اگر انہیں کچھ نہیں ملتا تو یہ لوگ خیمے لگا کر ہی بچّوں کو پڑھانے لگتے ہیں۔

دوسرا پروگرام ہے ’ 'فٹ پاتھ شالا‘ جو بطورِخاص ا سٹریٹ کے بچّوں کے لئے ہے، وہ لوگ جو سڑکوں پر رہتے ہیں، وہیں کھاتے ہیں، وہیں سوتے ہیں اور وہیں بھیک مانگتے ہیں، ایسے بچّوں کو یہ لوگ وہیں پر پڑھاتے ہیں۔

’اُپائے‘کا طریقۂ کار

’ریچ اینڈ ٹيچ‘ سینٹرز میں یہ لوگ درجہ بہ درجہ پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے بچّوں کے لئے اپنا ایک نصابی کورس ترتیب دیا ہے جس میں مختلف موضوعات کے علاوہ اخلاقی تعلیم جیسے موضوعات کو بھی شامل کیا گیاہے۔ وہیں نویں، دسويں، گیارہویں اور بارہویں کے بچّوں کواُن کے بو رڈکے حساب سے پڑھایا جاتا ہے۔ ورون بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ کئی علاقوں کے بچّے جو پہلے پاس تک نہیں ہو پاتے تھے، ’ریچ اینڈٹیچ‘ جیسی پیش قدمی کے سبب آج وہی بچّے 90 فیصد تک نمبر لا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ’ فٹ پاتھ شالا‘ کا نصابی کورس بالکل مختلف ہے۔ یہاں بچّوں کو پڑھنا لکھنا بالکل نہیں آتا۔ اِن لوگوں نے ایسے بچّوں کے لئے 3 درجات ترتیب دیئے ہیں اور بچّوں کو اُن کی ذہنی قابلیت کے مطابق یہ لوگ اُس درجےمیں ڈالتے ہیں۔ جیسے کسی بچّےکو اگر کچھ بھی نہیں آتا تو اُسے درجہ1 میں رکھا جاتا ہے۔ تھوڑا بہت جاننے والے بچّوں کے لئے درجہ2 ہے اور اُن سے زیادہ تعلیمی سمجھ رکھنے والوں کے لئے درجہ 3 ہے۔

انہوں نےاپنے کورس میں ایک دن بچّوں کےاسپورٹس کا رکھا ہے، ایک دن کلچرل پروگرام کروائے جاتے ہیں، اِس کے علاوہ سبق آموزاخلاقی کہانیاں بھی پڑھائی جاتی ہیں۔ اِن کا مقصد بچّوں کی چہارطرفہ ترقّی ہے، بچّوں میں پڑھائی کے تئیں بیداری اور دلچسپی پیدا کرنا ہے اوربچّوں کے علمی ذخائر کو بڑھانا ہے۔

ورون وضاحت کرتےہیں -

’’شروعات میں بچّوں کو تعلیمی سینٹرز تک لانے کے لئے انہیں لُبھانا، للچانا ہوتا ہے۔ انہیں کھانے کے لئے دینا ہوتا ہے۔ کچھ کھیلوں کی چیزیں دینی ہوتی ہیں، کپڑے دینے ہوتے ہیں جس میں پیسے لگتے ہیں۔ اِس کے علاوہ بھی چھوٹے موٹے اخراجات ہوتے ہیں، اس لئے تمام والنٹیئرس ہر ماہ کچھ پیسے جمع کرتے ہیں اور اُس سے مذکورہ اخراجات پورے کئے جاتے ہیں۔ اِس کے علاوہ کبھی کبھی کئی لوگ بھی ڈونیٹ کر دیتے ہیں جس سے کافی مدد ملتی ہے۔ لیکن بیشترمالی امداد کا ذریعہ ہمارا ’سیلف فنڈ ‘ ہی ہے۔ ہم نے ابھی تک حکومت سے کسی طرح کے فنڈ کی رِکویسٹ نہیں کی ہے۔‘‘

ورون بتاتے ہیں کہ اپنے تعلیمی مِشن کے سلسلے میں اب وہ والدین کے بجائے بچّوں کو ہی بیدار کر رہے ہیں، وہ بچّوں کو بتاتے ہیں کہ تعلیم کیوں اُن کے لئے ضروری ہے۔ ساتھ ہی جو پڑھنے میں اچھّے ہیں اُن کا ایڈميشن کرواتے ہیں۔ اُن کا رہنے کا خرچ، ہوسٹل کا خرچ یہ لوگ خود ہی برداشت کر رہے ہیں۔ ابھی تک یہ لوگ 25 بچّوں کو اسکول میں داخلہ دِلوا چکے ہیں۔ اِس کے علاوہ دیگر بچّوں کوجن کی ذہنی سطح تعلیم کے معاملے میں حوصلہ افزا نہیں ہے،اُنہیں یہ لوگ کوئی فن یا ہُنر سیکھنے کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ انہیں چھوٹے موٹے کام سِکھا رہے ہیں جس سے وہ کچھ پیسے کما سکیں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔

اِسکِل ڈیولپمنٹ

کئی بچّے ایسے آتے ہیں جو بہت غریب ہیں ،جو پڑھائی کے بعد پھر بھیک مانگتے ہیں۔ ایسے معاملات میں ’اُپائے‘ اِن بچّوں کو پھول مالا بنانا سکھاتا ہے جس سے یہ بچّے کچھ کام کر کے پیسے کما سکیں۔ اِس سے اِن کا اِسکِل تو ڈیولپ ہوتا ہی ہے، ساتھ ہی اُن کی کمائی بھی اچھّی ہو جاتی ہے۔ اِس کے ساتھ ہی یہ بچّوں کو موم بتّی بنانا، اگربتّی بنانا اور اِسی طرح کی چھوٹی چھوٹی چیزیں بنانا سکھا رہے ہیں اور انہیں باقاعدہ مارکیٹ بھی دے رہے ہیں۔ اِن کا ایک ای کامرس پورٹل ہے ’اپنا سامان ڈاٹ کوم‘ apnasaamaan.com اِس ویب سائٹ کے ذریعے وہ بچّوں کی بنائی ہوئی چیزوں کو باہر فروخت کرتے ہیں۔

’اُپائے‘ کی محنت اب رنگ لا رہی ہے۔ غلط صحبت اور بُری عادات میں پھنسے بچّوں کوروشن مستقبل کیلئے ’اُپائے‘ نے ایک نئی سِمت دی ہے۔ مہاراشٹر میں ’اُپائے‘ کے جہاں جہاں سینٹرز چل رہے ہیں وہاں پر بچّوں میں نمایاں مثبت تبدیلیاں بھی نظرآ رہی ہیں۔ کچھ بچّے اسکول جانے لگے ہیں، اُن میں اخلاقی اقدار کا شعورآ رہا ہے۔ آج ’اُپائے‘ مہاراشٹر کے علاوہ اُتّر پردیش میں بھی اپنےسینٹرز چلا رہا ہے۔مستقبل قریب میں ورون ’اُپائے‘ کی مزید توسیع کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ اگر وہ انتہائی غریب بچّوں کو،جو آج تک اسکول نہیں گئے، انہیں تعلیم یافتہ بنانے کے اپنے مِشن میں کامیاب ہو پائے تو اِس سے شہر اور گاؤں کے درمیان، امير غریب کے درمیان اور مختلف نسل و مذاہب کے درمیان فاصلے خود بخود کم ہو جائیں گے اور ہمارا ملک مزید ترقّی کرے گا۔