کرپشن جیسے ناسور کا کیا ملک سے خاتمہ ممکن ہے؟

یقینا یہ ایک انوکھا مسئلہ ہے جو ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ ہمارے سماج میں آخر غلط کیا ہے۔ اور ملک کی سیاست آخر کس ڈگر پر جارہی ہے۔ مطلب آخر ہو کیا رہا ہے۔

0
اسو توش گپتا۔ عام آدمی پارٹی لیڈر

وقتا فوقتا گاہے بگاہے اس بات کو پوری شدت سے دہرایا جاتا رہا ہے کہ رشوت ستانی یعنی کہ کرپشن ایک ایسا ناسور ہے، جو ہندوستان کو تباہ کردیگا۔ اس کے باوجود یہ ناسور ملک میں تیزی سے سرایت کررہا ہے اور اس کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ اس سلسلے میں تازہ ترین معاملہ ہے اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر اسکام۔ یہ معاملہ نیا نہیں ہے۔ سن دو ہزار چودہ میں عام انتخابات سے قبل یو پی اے دور حکومت میں بھی اس معاملے نے عوام کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی تھی۔ مگر اچانک ایک بار پھر یہ معاملہ گرماگیا ہے۔ ترکی کے شہر میلان کی ایک عدالت کا شکریہ جس نے اس سلسلے میں فیصلہ سنا کر ایک بار پھر ماحول کو گرما دیا ہے۔ گذشتہ کئی دنوں سے اس مسئلہ پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس معاملے کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ حکمران بی جے پی کانگریس پر الزام لگارہی ہے اور کانگریس جوابی حملے کے درپہ ہے۔ اور سب سے حیرت ناک یہ ہے کہ گرما گرم مباحث کے باوجود اس مسئلہ کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔

یقینا یہ ایک انوکھا مسئلہ ہے جو ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ ہمارے سماج میں آخر غلط کیا ہے۔ اور ملک کی سیاست آخر کس ڈگر پر جارہی ہے۔ مطلب آخر ہو کیا رہا ہے۔

اگستا ویسٹ لینڈ معاملے کے حوالے سے اگر ہم مفصل روشنی ڈالنے کی کوشش کرینگے تو ہمیں یہ بخوبی اندازہ ہوگا کہ اس معاملے کا آغاز واجپئی کے دور حکومت میں ہی ہوگیا تھا۔ سن دو ہزار تین میں واجپئی سرکار ہی نے وی وی آئی پیز کے لئے خصوصی ہیلی کاپٹروں کی تجویز پیش کی تھی اور اسی زمانے میں اس سلسلے میں پیشرفت شروع کردی گئی تھی۔ تاہم بعد میں الزام یہ لگایا گیا کہ اگستا ویسٹ لینڈ کو فائدہ پہنچانے کے لئے اس تجویز میں تبدیلی لائی گئی۔ اور اس زمانے میں اور بعد میں بھی اس معاملت کو حتمی شکل دینے کے لئے لاکھوں یورو جاری کئے گئے۔ واجپائی حکومت سن دو ہزار چار میں الیکشن ہار گئی اور یوپی اے نے منموہن سنگھ کی قیادت میں اپنی حکومت قائم کی۔ اسی دور میں منموہن سنگھ کی حکومت نے اس معاملت کو حتمی شکل دینے کا فیصلہ کیا اور اس سلسلے میں تیزی سے پیشرفت ہوتی رہی۔ 

 تاہم سن دو ہزار چودہ کے پارلیمانی انتخابات میں اس سلسلے میں ہونے والے اسکام کا پتہ چلا۔ پھر معاملہ یقیناً دب گیا تھا، تاہم اس سلسلے میں اٹلی کے شہر ملان کی عدالت کے فیصلے نے بی جے پی کو اچانک اس بات کا موقع فراہم کیا کہ وہ اس اسکام کو نئے سرے سے اچھال کر مجوزہ پانچ ریاستوں کے انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ اور کسی طرح سے کانگریس کو کنارے لگایا جائے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں سونیا گاندھی اور احمد پٹیل کا نام ضرور لیا ہے، تاہم اس معاملے میں ان دونوں یا پھر کسی بھی سیات دان کے رول کو ثابت نہیں کیا گیا ہے۔

بی جے پی یقیناً اس معاملے پر جارحانہ رخ اپنائے ہوئے ہے اور اس کی ہر ممکن کوشش یہی ہے کہ کسی بھی طرح سے کانگریس کو چاروں خانے چت کیا جائے۔ تاہم یہاں چند ایسے سوال ہیں، جن کا جواب درکار ہے۔ سوال نمبر ایک۔ جب سے اگستا ویسٹ لینڈ اسکام کا معاملہ عام ہوا، اٹلی کی حکومت پوری سنجیدگی اور پوری سرعت کے ساتھ اس معاملے میں کام کرتی نظر آئی۔ معاملے کی تحقیق کی گئی۔ رپورٹ داخل کی گئی۔ ذیلی عدالت نے فیصلہ سنایا۔ اپیل کی عدالت نے بھی فیصلہ سنادیا۔ کمپنی کے دو سئنیر حکام کو رشوت دینے کے الزام میں جیل بھی بھیج دیا گیا۔ مگر اس معاملے کا افوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہندوستان میں اس معاملے پر ابھی تک مناسب طریقے سے تحقیقات بھی نہیں شروع کی جاسکی ہیں۔ خاطی قراردئے جانے اور سزا پانے کے مرحلے کو تو بھول ہی جائیے۔

یہ بات تو میری سمجھ میں آتی ہے کہ ماضی کی منموہن حکومت نے اس معاملے کی سنگینی اور اس کے پارٹی پر پڑنے والے سیدھے اثرات کو دیکھتے ہوئے اسے التوا میں رکھا اور اس سلسلے میں تحقیقات یا پھر کسی بھی قسم کی کاروائی سے گریز کیا گیا۔ مگر مودی حکومت آخر کیوں اس معاملے میں پہلو تہی سے کام لے رہی ہے۔ وہ کیوں نہیں چاہتی کہ اس سمت میں تیزی سے پیشرفت ہو اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ گذشتہ دو سالوں کے درمیان سی بی آئی یا پھر انفورسمنٹ ڈائیرکٹوریٹ نے اس معاملے کو شامل تحقیق نہیں کیا ہے۔ کون ہے ؟ جو انہیں روک رہا ہے اور کیوں۔ ؟ مودی نے دعوی کیا تھا کہ وہ رشوت کو برداشت نہیں کرینگے۔ اور نہ ہی رشوت میں ملوث لوگوں کو بخشا جائے گا۔ اگر وہ اپنے اس عہد کے پکے ہیں اور وعدے کے سچے ہیں تو پھر کیوں وہ اس اسکام کے خاطیوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچاتے۔ کیوں ان کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے سے وہ گریزاں ہیں۔ قوم جواب چاہتی ہے اور مودی کو اس معاملے میں قوم کو جواب دینا ہوگا۔

دوسری بات بی جے پی لیڈر پورے زور و شور سے یہ نعرہ لگارہے تھے کہ اس معاملے میں سونیا گاندھی نے بھاری رقم رشوت میں لی ہے۔ تو پھر کیوں ابھی تک ان کے خلاف ایکشن نہیں لیا گیا۔ ؟حتی کہ وزیر آعظم مودی از خود ٹامل ناڈو کے انتخابی جلسوں میں اس معاملے میں سونیا گاندھی کو خاطی قراردیتے ہیں۔ مگر ابھی تک ان کے خلاف ایک نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔ تحقیقات تفتیش اور گرفتاری تو بہت دور کی بات ہے۔

 یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی صدر امیت شاہ سونیا گاندھی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں رشوت لینے والوں کے نام اجاگر کریں، گویا چور سے عاجزی کی جارہی ہے کہ کیا چرایا ہے ذرا بتاو تو سہی۔ گو کہ کانگریس نے بی جے پی کو چیلنج کیا ہے کہ ان کے لیڈروں کو بدنام کرنے کے بجائے اس معاملے کی تحقیقات دو مہینے میں مکمل کرکے تو دکھائے۔ مگر کانگریس کے اس چیلنج پر بی جے پی کوئی ردعمل دینا ہی نہیں چاہتی۔

اس سارے معاملے میں جو سب سے الجھن بھرا اور سنجیدہ سوال ہے، وہ یہی ہے کہ آخر ہمارا سسٹم کہاں جارہا ہے اور وہ کیا وجہ ہے کہ ہم کرپشن جیسے ناسور سے مقابلہ نہیں کر پارہے ہیں۔ اور نا ہی اس عہد کے پابند ہیں۔ ؟

۱۔ کیا بڑی سیاسی جماعتیں کرپشن سے لڑنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ ؟جواب نا میں ہی آئے گا۔ انتخابات میں اپوزیشن کے خلاف ہتھیار بنانے سے کہیں زیادہ اس آلے کو بی جے پی کانگریس کو بدنام کرنے کے لئے زیادہ استعمال کرنے کے درپہ ہے۔ اگر بی جے پی سنجیدہ ہوتی تو ابھی تک تحقیقات مکمل ہوچکی ہوتیں اور کرپشن کا ملزم ابھی تک جیل کی کال کوٹھری میں بند ہوتا جیسا کہ اٹلی میں ہوا ہے۔

۲۔ کرپشن کے معاملے پر کیا سیاسی جماعتیں قانون سے بالا تر ہیں۔ جواب ایک بار پھر ایک نہیں کی زور دار آواز ہی میں بلند ہوگا۔ اگر کانگریس اس معاملے میں خاطی ہے تو بی جے پی بھی ہیلی کاپٹروں کے درجہ کو تبدیل کرکے اس گناہ میں برابر کی شریک ہے۔ بعد میں اس کا سیدھا فائیدہ اگستا ویسٹلینڈ نے اٹھایا۔

۳۔ کیا اس سلسلے میں پیشرفت سے گریز کے لئے تحقیقاتی ایجنسیوں کو الزام دیا جاسکتا ہے۔ ؟ یہاں بھی جواب نفی ہی میں آئے گا۔ اس لئے کہ تحقیقاتی ایجنسیاں حکمران جماعتوں کے کنٹرول میں ہوتی ہیں اور انہیں کے احکامات کی انہیں پابندی کرنی پڑتی ہے ایسے میں صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہCBI سی بی آئی یا پھر ای ڈی ED کو تحقیات نہ کرنے کے لئے الزام نہیں دیا جاسکتا۔ الزام کے دائیرے میں تو حکمران جماعت کے اشرافیہ آتے ہیں۔ جو ایک معنوں میں کرپشن کے حقیقی استفادہ کنندگان کہلائیں گے۔

۴۔ آخر اس مئسلے کا حل کیا ہے۔ ؟ کیسے ہم کرپشن سے مقابلہ کرپائیں گے۔ ؟ اور کیسے اس ناسور سے سماج کو پاک کیا جاسکتا ہے۔ ؟ تو اس کا جواب بہت ہی سادہ ہے کہ تحقیقاتی ایجنسیوں کو حکومت کے شکنجوں سے آزاد کرنا ہوگا اور کسی بھی معاملے کی تحقیقات کے لئے انہیں بھر پور آزادی فراہم کرنی ہوگی۔ اور پوری طرح سے با ٓختیار بنانا ہوگا۔

اور تحقیقات کے لئے مدت کا تعین بھی ناگزیر ہے۔

۵۔ کیا یہ ممکن ہے۔ ؟ اور اس کا جواب بھی پوری شدت کے ساتھ نفی ہی میں ملے گا۔ کیوں ؟ مجھے کہنے دیجئے کہ انا تحریک کے دوران اس بات کا مطالبہ کیا گیا تھا کہ ملک سے رشوت کے مکمل خاتمے کے لئے ایک آزاد خود مختار اور طاقتور لوک پال قائم کیا جائے۔ زبردست اور مسلسل دباو کے باوجود پارلیمنٹ کے ذریعہ ایک کمزور لوک پال قائم تو کیا گیا مگر اب تک اس میں تقررات عمل میں نہیں لائے گئے۔ اب بھی لوک پال عہدوں سے خالی ہے اگر مودی کرپشن کے حوالے سے سچے ہیں اور وہ حقیقت میں پوری سنجیدگی کے ساتھ کرپشن کا ملک سے خاتمہ چاہتے ہیں تو انہیں لوک پال میں بھرتیاں کرنی ہونگی۔ ۔ مگر افسوس۔ صد افسوس۔ ۔ !

میرا خوف اور اندیشہ یہی ہے کہ ہر بڑے مدعے کی طرح اگستا ویسٹ لینڈ کا معاملہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ پس منظر میں چلا جائے گا۔ اور بوفورس کی طرح ہی یہ بھی سرد خانے کی نذر ہوجائے گا اور وہی گھات کے تین پات۔ جنہوں نے اس بڑے کرپشن کے ذریعہ ملک و قوم کے خزانے کو نہایت بے دردی سے لوٹا، یونہی آزاد گھومتے رہینگے اور عیش کرتے رہینگے۔ اگر ان حالات کو بدلنا ہے تو ایک نئے انقلاب کی ضرورت ہوگی ایک ایسا انقلاب جو آئین کے ذریعہ اس سسٹم کو پوری طرح سے بدل کر رکھ دے۔ اور ملک کے قانون کو آئین کو اس کے حقیقی روپ میں لا کھڑا کرے۔ کیا یہ ممکن ہے۔ ؟ یہ لاکھ روپئے کا سوال ہے۔ کیوں ناسور ایک مستقل علاج چاہتا ہے۔ اور یہ صرف نعرے بازی یا پھر بیان بازی سے ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس کے لئے عمل پیہم کی ضرورت ہوگی۔ 

...............................................

آشوتوش  کے اس انگریزی مضون کا ترجمہ سید دسجادالحسنین نے کیا ہے۔ 

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

تین خواتین نوکری چھوڑ کر حیدرآباد کے شیخ پیٹ میں چلا رہی ہیں این جی او

ایک پیسے کے انعام سے مولانا آزاد چیئر تک کا سفر

عزم حوصلہ استقلال صبر اور قوت برداشت کا نام ہے کامیابی