حیدرآباد کے بلدی انتخابات میں مینجمنٹ گرو شکوراحمد نبھائیں گے اہم رول

0

شکور احمد نے عثمانیہ یونیورسٹی سے سائنس میں ڈگری حاصل کی ہے

ٹیکنالوجسٹ، سماجی کارکن، سِوِک لیڈر، مینٹر، انتخابی کامپین مینیجر، جیسے شخصیت کی کئی پہلو

myghmc app سے کرینگے الکشن مینگمینٹ

امریکہ میں ایک آئی ٹی کمپنی کے مالک ہیں

امریکہ میں رہنے والے حیدرآبادی آئی ٹی مینجمنٹ گرو شکور احمد اس بار گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں اپنا اہم رول نھبانے حیدرآباد آ رہے ہیں۔ وی ایمپاور کے سی ای او ار اسٹیٹ ڈیموکریسی کے بانی شکور احمد نے گزشتہ انتخابات میں آم آدمی پارٹی کے لئے اور اس سے قبل امریکہ اوباما کے لئے بھی انتخابی مہم کا نظام اپنے ہاتھ لیا تھا۔

یور اسٹوری سے بات چیت کے دوران شکور نے بتایا کو اس بار ان کی نظر ان کے اپنے آبائی وطن حیدرآباد پر ہے۔ وہ اپنی ٹیم کے تین اور اراکین کے ساتھ بہت جلد حیدرآباد آ رہے ہیں، بس انتظار ہے، انتخابات کے اعلان کا۔

شکور احمد نے عثمانیہ یونیورسٹی سے سائنس میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد اعلٰی تعلیم کی غرض سے امریکہ کا رخ کیا تھا۔ یہاں سے انہوں نے کمپیوٹر انفرمیشن سسٹم میں بی ایس، پبلک پالیسی میں ماسٹر ایم پی پی کا امتحان کامیاب کیا اور میری لینڈ یونیورسٹی سے اینٹرپرینیورشپ کی فیلوشپ حاصل کی۔

ٹراویل اجنٹ سے اپنی زندگی کی شروعات کرنے والے شکور نے بین الاقوامی ائر ٹیرف ایکسپرٹ کے طور پرکام کیا اور پھر آج کئ غیر سرکار اور پیشہ ورانہ اداروں سے جڑے ہوئے ہیں۔

ٹیکنالوجسٹ، سماجی کارکن، سِوِک لیڈر، مینٹر، انتخابی کامپین مینیجر، جیسے کئی پہلوؤں اپنی شخصیت کو روشناص کروایا ہے۔ حیدرآباد کی موجودہ انتخابی صورت حال سے وہ بخوبی واقف ہیں۔ وہ اس تعلق سے بتاتے ہیں، ''بلدیہ کے انتخابات پوری طرح سے مقامی موضوعات پر ہونے چاہیئے، لیکن اس میں پارٹیوں کا عمل دخل ذیادہ ہے۔ انتخابات کی پلانینگ جس طرح سے ہونی چاہئے، نہیں ہے۔ ان حالات میں، سوجھ بوجھ رکھنے والے اچھے امیدوار منصوبہ بند طریقے سے عوام تک پہنچتے ہیں، تو ان کی کامبابی کا امکانات ہیں۔''

حیدرآباد بلدیہ کے انتخابات کا اس بار کا رخ ماضی کے انتخابات سے پوری طرح مختلف ہے۔ 2009 میں جس ٹی آر ایس پارٹی کا ایک بھی کارپوریَٹر نہیں تھا، آج وہ پارٹی میئِر کے عہدے کی دعویدار ہے۔ مجلس جس نے گرشتہ بار کانگریس کے ساتھ مل کر میئر کی سیٹ پر حصہ داری کی تھی، اس کی اپنی بھی کچھ امیدیں ہیں۔ ان حالات میں شکور کا ماننا ہے کہ وہ ان انتخابات کے لئے ایک ایپ تیار کر چکے ہیں۔ اس بارے میں وہ کہتے ہیں، ''جی ایچ ایم سی میں 150 کارپوریٹروں کے لئے انتخاب ہونا ہے، لیکن ابھی تک کسی بھی پارٹی کے پاس اطمنان بخش، ایماندار، محنتی اورعوام کے تئیں زمہ دار افراد کی کوئی فہرست نہیں ہے۔ اگر کچھ ہے تو وہ ٹی آر ایس کے لیڈر کے۔ چندراشیکھر راو اور مجلیس کے لیڈر اسدالدین اویسی کے ہی نام کا پرچم ہے۔ اس سے آگے یقینی حالت صفر ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ پڑھے لکھے لوگ انتخبات میں کھڑے ہونے اور عوام کے لئے ایماندرانہ کوششیں کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ان میں کچھ ڈاکٹر،کچھ انجینئر، کچھ اکاونٹینٹ اور دیگر شعبوں کے تجربےکار لوگ منتخب ہوں۔ ایسے لوگ جنہیں ان وارڈوں کے مسائل کے مکمل معلومات حاصل ہوں۔''

شکور احمد اپنے کارناموں کے لئے درجنوں اداروں سے ایورڈ حاصل کر چکے ہیں۔ ہندوستان میں پارلیامنٹ انتخابات میں بھی کچھ امیدواروں کو اپنی سروس د ے چکے ہیں۔ آخر وہ حیدرآباد میں کیا کریں گے ؟ اس سوال کے جواب میں شکور احمد بتاتے ہیں، ''سیاسی پارٹیوں کے پاس پہلے تو صحیح امیدواروں کی کمی ہے اور امیدواروں کے پاس حکمت عملی کی کمی ہے۔ان کی ٹیم ایماندار اور قابل امیدواروں کا انتخاب کر ان کی پوری انتخابی مہم کا پروگرام بنائے گی اور متعلقہ وارڈ کی مکمل معلوماف فراہم کرے گی۔ امیدوار کے حق کتنے اووٹ گر سکتے ہیں اور کتنے اووٹروں کو امیدوار کی جانب سے مثبت رخ کروایا جا سکتا ہے، اس کا پورا منصوبہ بنایا جائےگا۔ ان کے ایپ میں گھر گھر کی معلومات ہوگی، تاکہ امیدوار کو گھر گھر پہنچ کر مہم چلائی جا سکے۔ اس طرح کا انتظام پہلے کبھی بلدیہ کے انتخابات میں نہیں ہوا ہے۔''

شکور احمد حیدرآبادکے ایک اوسط خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن آج امریکہ میں ایک آئی ٹی کمپنی کے مالک ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ سیاست میں ساف سوتھرے کردار کے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہے۔ اس کے لئے وہ اپنا ویژن لے کر حیدرآباد آ رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ وہ اپنے اس منصوبے کے ساتھ کم سے کم 20 سے 30 امیدواروں کو اپنی مہارت کا فائدہ پہنچا سکیں۔ چاہے وہ کسی بھی پارٹی کے ہوں، یا آزاد امیدوار ہوں۔ اس طرح سے وہ حیدرآبادی عوام کو بھی کچھ دے پائں گے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories