سوچ ہی انسان کو عظیم بناتی ہے

0

سوربھ بلند عزائم کی عظیم مثال

خواب پورا کرنے چھوڑ دی مائیکروسافٹ کی ملازمت

فروری 2015 میں www.workadvantage.in کاقیام

آج بن گئے ہیں 220 برانڈ اور 55 کارپوریٹ پارٹنر

کاپوریٹ ملازمین کو برانڈ سے جوڑنے کی کامیاب کوشش

دہلی این سی آر اور بنگلور میں دے رہے ہیں خدمات ۔

کارپوریٹ ملازمین کو خریداری میں مل جاتی ہے خصوصی رعایت

آئن اسٹائن نے کہا تھا کہ ''جو کچھ تم سوچتے ہو تم وہی ہو ۔ فکر' خواب' آرزو اور ارادوں کی بنیاد پر ہی انسان آسمانوں کی بلندیوں پرپہنچ جاتا ہے ۔ سوربھ نے بھی سوچ لیا تھا کہ ایک دن انہیں اینٹرپرینر یعنی ایک نیا صنعت کار بننا ہے ۔ اس کے لئے انہوں نے اپنے لئے خود ہی منزل کا انتخاب کیا اور راستہ بھی تلاش کرلیا ۔ سوربھ آج www.workadvantage.in کے مالک ہیں ۔ فروری 2015 سے اپنا کاروبارشروع کرنے والے سوربھ کے ساتھ اب تک 220 برانڈ پارٹنر اور 55 کارپوریٹ پارٹنر جڑ چکے ہیں ۔ ان میں ریلی گئر' ٹیک مہندرا اور باٹا جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں ۔

گڑگاؤں سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والا www.workadvantage.in دہلی این سی آر کے علاوہ بنگلور میں بھی اپنی خدمات دے رہا ہے ۔ بہت جلد ملک کے دوسرے حصوں جیسے ممبئی' پونے' حیدرآباد' چنئی اور کولکتہ کے علاوہ ملک کے باہر بھی اپنے قدم جمانا ان کے منصوبہ میں شامل ہے ۔ کمپنی کے شریک بانی سوربھ کا کہنا ہے اس کام کو شروع کرنے کے پیچھے خیال یہ تھا کہ کارپوریٹ سیکٹر تک رسائی حاصل کرنا ہر برانڈ کی خواہش ہوتی ہے' لیکن اس میں کئی طرح کے مسائل درپیش ہوتے ہیں ۔ دوسری طرف کارپوریٹ سیکٹرمیں کام کرنے والے زیادہ تر ملازمین کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ کون کون سے برانڈ ' خاص طور سے ان کے لئے کیا رعایت دے رہے ہیں ۔ اس خلا ء کو پر کرنے کے لئے www.workadvantage.in شروع کیا گیا جوبرانڈ پارٹنر اور کارپوریٹ پارٹنر کے درمیان رابطہ کا کام کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ تکنیکی پریشانیوں کو بھی دور کرتا ہے ۔

سوربھ نے اپنی ابتدائی تعلیم پنجاب کے پٹیالہ میں تھاپر یونیورسٹی سے حاصل کی ۔ اس دوران انہوں نے اپنے تین دوستوں کے ساتھ مل کر ایک وینچر شروع کیا اور اس کا نام فندوری رکھا گیا ۔ یہ شہر کے طالب علموں کے لئے سوشل نیٹ ورک کا کام کرتا تھا ۔ اس پورٹل میں مووی شو کی ٹائمنگ' ریستوران کی پیشکش اور کئی طرح کی دوسری خدمات دی جاتی تھیں ۔ سوربھ بتاتے ہیں کہ جس دن اس ویب سائٹ کو لانچ کیا گیا اس دن اسے 12 ہزار ہٹس ملے ۔ نہ صرف یہ بلکہ اگلے دس ماہ کے دوران ان لوگوں نے 5۔6 لاکھ روپے اس ویب سائٹ کے ذریعہ بنا لئے تھے ۔ ان کے ساتھی طالب علم بہت خوش تھے' لیکن وقت اور حالات کی وجہ سے ساتھی طالب علم اس وینچر سے الگ ہوتے گئے ۔ اس وجہ سے اس پورٹل کو بند کرنا پڑا ۔ اس کے باوجود سوربھ نے ٹھان لیا تھا کہ ایک نہ ایک دن وہ ضرور ایسا ہی کچھ کارنامہ انجام دیں گے ۔ اس کے بعد سوربھ نے اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کے ارادے سے یونیورسٹی آف کیلی فورنیا' لاس اینجلس میں داخل لے لیا ۔ یہاں پر انہوں نے مشین لرننگ اور ڈیٹا مائننگ کی تعلیم حاصل کی ۔

سال 2010 میں جب سوربھ امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے تو وہاں پر ان کی ملاقات اسمتی سے ہوئی جو آج www.workadvantage.in کی دوسری شریک بانی بھی ہیں ۔ تعلیم کے دوران سوربھ نے اپنے پروفیسر کو بتا دیا تھا کہ انہیں مستقبل میں اینٹرپرینرشپ کے میدان میں کام کرنا ہے ۔ اس دوران انہوں نے کئی ایسے پروجیکٹ میں طبع آزمائی کی جو ان کے مستقبل کے لئے کافی کارگر ثابت ہوئے ۔ لاس اینجلس میں اپنی تعلیم کے دوران سوربھ نے ایمیزون انڈیا اور مائیکروسافٹ میں پہلے انٹرنشپ اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایمیزون انڈیا اور اس کے بعد مائیکروسافٹ میں ملازمت حاصل کی ۔ مائیکروسافٹ میں کام کرنے کے دوران ان کی ملاقات ایک بار پھرا سمتی سے ہوئی ۔ آخر کاردونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے ۔ سوربھ کا کہنا ہے کہ یہاں پر ان کی ملاقات ایسے لوگوں سے ہوئی جو کچھ نیا کرنا چاہتے تھے ۔ انہوں نے دیکھا مائیکروسافٹ میں کام کرنے کی وجہ سے ان کو کئی جگہ چھوٹ ملتی تھی پھر چاہے کار رپیرئرنگ ہو' ہوٹل میں کھانے کا بل ہو یا پھر سنیما ہال کا ٹکٹ ۔ سوربھ نے دیکھا کہ اس طرح کے کام میں نہ صرف وینڈر کو فائدہ ہو رہا ہے بلکہ ان جیسے دوسرے کارپوریٹ ملازم بھی اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ خاص بات یہ تھی کہ جو لوگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا نہیں جانتے تھے ان کو بھی اس کا فائدہ مل رہا تھا ۔ اس وقت سوربھ اورا سمتی کو محسوس ہوا کہ اس طرح کا کام ہندوستان میں کہیں نہیں ہو رہا ہے اور وہاں پر اس کے بہت امکانات ہیں ۔

کہتے ہیں بڑے خواب کو پورا کرنے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے ۔ سوربھ اورا سمتی نے بھی اپنی بڑی تنخواہ کی ملازمت ترک کرتے ہوئے ہندوستان واپس ہونے کا فیصلہ لیا ۔ سوربھ کا کہنا ہے کہ جان لیا تھا کہ اگر انہوں نے وطن واپس ہوکر نیا وینچر شروع کرنے میں تاخیر کی تو وہ پیچھے رہ جائیں گے ۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے انہوں نے طے کیا کہ وہ ہندوستان جائیں گے اور اپنا وینچر شروع کریں گے ۔ اپریل' 2014 میں سوربھ اورا سمتی نے مائیکروسافٹ سے استعفی دے دیا اوروہ ہندوستان واپس ہوگئے ۔

وطن واپسی کے بعد سوربھ اورا سمتی کو معلوم تھا کہ کیا کرنا ہے' لیکن یہ کس طرح کرنا ہے' اس کا اندازہ انہیں بالکل نہیں تھا ۔ اپنا کام شروع کرنے سے پہلے ان لوگوں نے 8 ماہ تک یہ معلومات حاصل کیں کہ اس علاقے میں کتنے امکانات اور چیلنج ہیں اور ان سے کس طرح مقابلہ کیا جا سکتا ہے ۔ اس دوران انہوں نے برانڈ اور کمپنیوں کو اپنی ویب سائٹ سے جوڑنے کا کام شروع کر دیا ۔ فروری 2015 میں انہوں نے اس کام کو شروع کیا تھا اس وقت ان کے ساتھ 75 برانڈ اور 10 کمپنیاں جڑ چکی تھیں ۔ اس کے بعد انہوں نے کمپنی کی بیٹا ٹیسٹنگ کی ۔ اس کام میں ان کے کچھ خاص دوستوں نے مدد کی ۔ اپریل 2015 سے انہوں نے ٹیم بنانے کا فیصلہ کیا ۔ ان کی ٹیم میں آج 19 لوگ شامل ہو گئے ہیں اور جلد ہی یہ تعداد 35 تک پہنچنے کی توقع ہے ۔ ان کے ساتھ منسلک قریب 30۔40 برانڈ ایسے ہیں جو ملک بھر میں ان سے وابسطہ کارپوریٹ ملازمین کو چھوٹ دیتے ہیں ۔

سوربھ کا دعوی ہے کہ ان کے پاس 70 فیصد سے زیادہ آفر مخصوص نوعیت کے ہیں ۔ کمپنی کی آمدنی کے سلسلہ میں ان کا کہنا ہے کہ مختلف برانڈ www.workadvantage.in کو کارپوریٹ ملازمین کی خریداری میں حصہ داری دیتے ہیں' وہیں کچھ صورتوں میں کارپوریٹ سے یہ لوگ سبسکرپشن کے طور پر معمولی رقم بھی لیتے ہیں ۔ کمپنی کے قیام کے لئے ابتدائی سرمایہ سوربھ اورا سمتی نے اپنی بچت اور خاندانی دوستوں سے مدد لے کر لگایا تھا ۔ کمپنی کو گزشتہ تین ماہ کے دوران 40 فیصد سے زائد آمدنی حاصل ہوئی ۔ فی الحال www.workadvantage.in اپلی کیشن ' ویب سائٹ اور کال سینٹر کے ذریعہ 12 سیکٹر میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہے ۔ ان میں ڈائننگ ' تفریح ' اسکول' صحت' گروسری' لانڈری اور کئی طرح کی دوسری شاپنگ شامل ہیں ۔ سوربھ کا کہنا ہے کہ اس شعبہ میں فی الحال کافی امکانات ہیں لہٰذہ کسی کے ساتھ ان کا براہ راست کوئی مقابلہ نہیں ہے ۔ کمپنی کی مزید ترقی کے لئے ان کی ایک سرمایہ کار کے ساتھ بات چیت آخری مرحلے میں ہے ۔ سوربھ کہتے ہیں کہ ان کے لئے گاہک کافی اہمیت کے حامل ہیں' اس لئے وہ معیار پر خاص توجع دیتے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں گاہکوں کی شکایات کو برانڈ کے سامنے نمایاں طور پرپیش کیا جاتا ہے' تاکہ گاہک کویہ اطمینان حاصل ہو جائے کہ ان کے پیسے ضائع نہیں ہوئے بلکہ قیمت وصول ہو چکی ہے ۔