مشرقی گھاٹوں کی حفاظت کے لئے اتھارٹی قائم کرنے کی تحریک تیز

ملک کے مشرقی گھاٹوں کے تحفظ پر قومی کانفرنس بھونیشور میں

0

ترقی کے نام پر جہاں ملک کے بڑے شہروں اور مضافاتی علاقوں میں سمینٹ اور کنکریٹ کے میدان کھڑے کرنے کا گلاكاٹ مقابلہ تیز ہے اور جنگلوں کو کاٹنے اور وادیوں اور پہاڑوں کے پیٹ کو قدرتی وسائل سے خالی کرنے کا عمل جاری ہے، ایسے میں کچھ لوگ ہیں جنہیں ملک کی قدرتی دولت اور وراثت کو آئندہ نسلوں تک پہنچانے کی فکر ستائے جا رہی ہے۔ حیدرآباد کے ادارے كونسل فار گرین ریوليوشن (سي جی آر) اسی فکر کے ساتھ گزشتہ 6 سالوں سے ملک کے مشرقی گھاٹ کی پہاڑی علاقوں کے تحفظ کے لئے گرین ایلانس فار كذرویشن آف ايسٹرن گھاٹس (جی ارےسی ای) کے بینر تلے جدوجہد کر رہا ہے۔

جی ارےسی ای ملک کے مشرقی گھاٹوں کے کے تحفظ کے لئے ایک قومی کانفرنس 16 اور 17 اپریل کو اوڈشا کے دارالحکومت بھوونیشور کے اتكل یونیورسٹی میں منعقد کر رہا ہے۔

مشرقی گھاٹ پر طویل پہاڑ چوٹیوں کو ماہر ماحولیات نہ صرف ماحول بلکہ جیو جغرافیائی، سماجی و اقتصادی، ثقافتی اور روحانی نقطہ نظر سے بھی کافی اہم مانتے ہیں۔

تلنگانہ اور آندھرا پردیش سے شائع ہونے والے تیلگو اخبار ساکشی کے ایگزیکٹو ایڈیٹر اور گرین ایلانس فار كنجرویشن ايسٹرن گھاٹس کے چیئرمین دلیپ ریڈی گزشتہ دو دہائیوں سے ایک صحافی کے طور پر ماحولیاتی تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ سی جی آر کی صدر کے۔ لیلا لكشما ریڈی بھی سی جی آر کی مختلف سرگرمیوں کے ساتھ مشغول ہیں۔ کانفرنس کے اہم مشیر پروفیسر کے۔ پرشوتم ریڈی تالاب، نہریں اور جنگلات کو بچانے کے لئے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے تحریک چلا رہے ہیں۔ ان سب کا خیال ہے کہ مشرقی گھاٹوں کی حفاظت کے معاملے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

''جنگلات کی کٹائی، اندھا دھند کھدائی، بڑے پروکٹوں کی تعمیر، زمین کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال، جنگلات میں آگ، توانائی کی پیداوارمراکز سمیت کئی وجوہات ہیں، جن سے مشرقی گھاٹوں پر ماحولیاتی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں میں ان پہاڑوں کو اتنا نقصان پہنچایا گیا ہے کہ اس کی پا بجائی کرنا ممکن نہیں ہے۔''

دلیپ ریڈی نے بتایا کہ مشرقی گھاٹوں کی حفاظت کے لئے گزشتہ 6 سالوں سے ان کی تنظیم سی جی آر کی تحریک چلا رہی ہے۔ ہر سال ایک یونیورسٹی میں کانفرنس کا انعقاد کیا جاتا ہے، تاکہ آنے والی نسلوں میں اس مسئلے کے بارے میں شعور لائی جا سکے۔ اس بار یہ کانفرنس بھوونیشور کے اتكل یونیورسٹی میں منعقد ہے جبکہ اس سے قبل پالمرو یونیورسٹی، آندھرا یونیورسٹی، ناگارجنا یونیورسٹی، رائلسيما یونیورسٹی اور اے آر ایم ااینڈ ایس وی یونیورسٹی میں منعقد کئے جا چکے ہیں۔

دلیپ ریڈی نے کہا کہ مشرقی گھاٹ کے لئے ماحولیات، بائیو ڈائورسٹی اور تحفظ، قدرتی وسائل کا پائیدار انتظام، مقامی کمیونٹی، سول سوسائٹی کا کردار، قانون، پالیسیاں، اور ایک انتظامی فریم ورک کی تیاری جیسے اہم موضوعات پر بھونیشور میں ہونے والے کانفرنس میں بحث ہو گی۔

دلیپ ریڈی کا خیال ہے،

''مغربی گھاٹوں کی طرح مشرقی گھاٹوں کے تحفظ کے لئے بھی مظبوط پالیسی بننی چاہئے۔ اس کے لئے ایک خود مختار مشرقی گھاٹ سیفٹی اتھارٹی کا قیام ہونا چاہئے اور يو این او کی جانب سے مشرقی گھاٹ کو عالمی قدرتی ورثہ قرار دیا جانا چاہئے۔

اڑیسہ کے گورنر کانفرنس کا افتتاح کریں گے۔ کانفرنس میں 350 سے 400 نمائندے حصہ لیں گے اور چھ سیشن میں بات بحث ہوگی۔ اس کانفرنس کے بعد ایک اجلاس دہلی میں منعقد کیا جائے گا اور مطالبات کی ایک تجویز وزیر ماحولیات اور وزیر اعظم کو سونپے جائیں گے۔

سی جی آر کی کامیابیوں کے بارے میں دلیپ ریڈی بتاتے ہیں کہ اب تک تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں 28 لاکھ پودے لگائے گئے ہیں، جن کی بحالی پر بھی توجہ دی جاتی ہے اورکامیابی 70 فیصد سے زیادہ ہے۔

.................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں.

اردو یور اسٹوری ڈاٹ کوم


پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem