بارہویں پاس شخص نے بنایا صرف دس ہزار روپئے میں ایک ٹن کا اے۔ سی؛ بجلی کی کھپت دس گُنا کم

0

کہا جاتا ہے کہ ایمانداری اور صحیح سمت میں کیا گیا کام اکثر کامیابی اور حصولِ مقصد کی منزل تک لے جاتا ہے جس کے لئے درکار ہوتی ہیں کوششِ پیہم اور کامیابی کے تئیں جنون ! اس دوران کئی مرتبہ حاصل ہونے والی ناکامی دراصل دوا کا کام کرتی ہے اور سمجھدار شخص کو منزل کی طرف گامزن کردیتی ہے۔ ایسی ہی ایک کہانی ہے راجستھان کے سردار شہر کے رہنے والے ترلوک کٹاریا کی۔ ترلوک کٹاریا نے کم قیمت اور کم بجلی کے استعمال کے ساتھ ائر کنڈیشنر بنانے کا بیڑا اُٹھایا تھا۔ انہوں نے تین برس تک اے۔سی بنانے میں پوری لگن کے ساتھ تحقیق کی ۔ ان تین برسوں میں ترلوک نے تقریباً آٹھ سے دس لاکھ روپئے خرچ کئے۔ ان کے جنون کو پھر کامیابی سے ہم کنار ہونا ہی تھا جس کے بعد انہوں نے دس گُنا کم بجلی کے استعمال پر چلنے والا ایک ٹن کا اے۔سی تیار کیا۔ اس اے۔سی کی تیاری میں انہیں محض دس ہزار روپئے کی لاگت لگی۔ اس دوران اگر ان کے اس پروڈکٹ کو کاروباری طور پر بازار میں اُتارنے کے لئے بنایاجانے لگے تو مختلف اخراجات کے اضافے کے ساتھ بھی اس کی قیمت 15 ہزار روپیوں سے زیادہ نہیں ہوگی جو بازار میں موجود اے۔ سی کی قیمتوں 25 تا 35 ہزار سے کافی کم ہے۔

ترلوک نے 'یوراسٹوری' کو بتایا

"لگاتار بڑھتی مہنگائی اور بجلی کی قیمتوں میں ہر سال ہونے والے اضافے کی وجہ سے عام صارف اپنے گھر میں اے۔ سی لگانے کی شدید خواہش رکھنے کے باوجود اس کے بعد آنے والے ماہانہ بجلی کے بِل سے ڈرا رہتا ہے۔ اسی ڈر کو دور کرنے اور عام آدمی کو اے۔سی کی ہوا دلوانے کے لئے میں نے اے۔ سی بنانے کا خواب دیکھا تھا۔"

ترلوک کئی سالوں سے اے۔سی درست کرنے کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ جس گھر میں اے۔سی درست کرنے جاتے ، وہاں سبھی لوگ ایک ہی بات کہتے کہ اے۔ سی لگوانے کے بعد بجلی کا بل بہت زیادہ آتا ہے۔ بار بار یہی باتیں سننے کے بعد میں نے دل ہی دل میں بجلی کی کم کھپت والی اے۔ سی بنانے کی ٹھان لی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس اے۔ سی کی ایک اہم خاصیت یہ ہے کہ یہ ماحولیات کے موافق یعنی ایکو فرینڈلی بھی ہے۔ بازار میں دستیاب اے۔ سی میں عمومی طور پر آر۔22 گیسوں کا استعمال کیا جاتا ہے جو اوزون کی پَرت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ جب کہ ترلوک کے بنائے اے۔سی میں ہائیڈروکاربن گیسوں کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ یہ گیسیں ماحول کو نقصان نہیں پہنچاتیں۔

بجلی کی کھپت 10 گُنا کم:

ایک اے۔ سی بنانے والی کمپنی میں کام کرنے والے ایک ٹیکنیکل انجینئر کے مطابق یہ اے۔ سی دیگر عام اے ۔ سی کے مقابلے میں تقریباً 8 تا 10 گُنا کم بجلی کے ساتھ کام کرتا ہے۔ 10 ایمپئر کے بجائےیہ 80۔0 یا 09۔0 ہی ہے۔ اے۔ سی میں کمپریشر اس طریقے سے لگائے گئے ہیں کہ یہ کم وولٹ میں بھی شروع ہوجاتا ہے۔ ایک ٹن کا اے۔ سی دو ہزار واٹ بجلی پر چلتا ہے۔ یہ اے۔ سی۔ دو سو واٹ بجلی پر چلتا ہے۔ اس کے لئے کسی طرح کے اسٹیبلائزر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یعنی بجلی کی رسد میں ہونے والی کمی بیشی سے بھی یہ اے۔ سی محفوظ ہے۔

بارہویں پاس ہیں ترلوک:

نیشنل اسکول آف اوپن لرننگ سے بارہویں جماعت کامیاب کرنے کے بعد ترلوک کٹاریا نے راجستھان میں آئی۔ٹی۔آئی سے ائر کنڈیشنر سے متعلق جُز وقتی ڈپلومہ کورس کیا۔ اس کے بعد انہوں نے دہرہ دون ، فرید آباد، دہلی اور نوئیڈا میں اے۔ سی بنانے والی کئی کمپنیوں میں کام کیا۔ یہاں رہ کر اے۔ سی بنانے کے طریقوں سے جُڑی باریکیاں سیکھیں۔ کام کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایسا اے۔ سی بنانا شروع کیا جو بازار میں دستیاب پروڈکٹس کے مقابلے بہتر ہو۔

پیٹنٹ کروانے کا آغاز:

ترلوگ نے اپنی اس ایجاد کو پیٹنٹ کروانے کا عمل شروع کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب تک یہ کام پورا نہیں ہوجاتا تب تک اسے بازار میں نہیں اُتارا جائے گا۔ ان کی اس ایجاد کو بازار میں اُتارنے کے لئے کئی کمپنیوں نے ان سے رابطہ بھی کیا ہے لیکن فی الحال وہ اس کے لئے تیار نہیں ہیں۔

تحریر: انمول

مترجم: خان حسنین عاقبؔ