ہیوی ویٹ چیمپئن محمد علی نے دنیا کو خوش کرنے کا وعدہ کیا اور پھر اس میں کامیاب بھی رہے

دنیا کے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا تھا، محمد علی کلے نے ...کئی تاریخی مقابلوں میں ہیوی ویٹ چیمپئن شپ جیتی اور بعد میں ان کا دفاع کیا.....سیاہ فام لوگوں کے حق میں آواز اٹھائی اور اپنے اصولوں کے لئے ٹھکرا دی تھی امریکی فوج کی نوکری....1964 میں لسٹن کو شکست دے کر ہیوی ویٹ ٹائٹل جیتنے کے بعد انہوں نے یہ اعلان کرکے باکسنگ دنیا کو حیرانی میں ڈال دیا کہ وہ اسلام پر ایمان لا رہے ہیں اور انہوں نے بعد میں اپنا نام تبدیل کر دیا۔ دنیا اس کے بعد انہیں محمد علی کے نام سے ہی جانتی رہی

0


باکسنگ کی دنیا کے بیتاج بادشاہ مانے جانے والے ہیوی ویٹ چیمپئن محمد علی 32 سال تک اپنی بیماری سے لڑتے رہے اور آخرکار 74 سال کی عمر میں اس دنیا ئے فانی کو کو الوداع کہ دیا۔ اس ہیوی ویٹ باکسر نے تین دہائی تک اپنے کھیل سے لوگوں کو مسحورکیا۔ اس کھیل کی وجہ سے ہی انہوں نے مرض مول لی۔ انہیں اس ہفتے سانس کی تکلیف کی وجہ سے ایریزونا کے فینکس کے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ تین بار کے ہیوی ویٹ عالمی چیمپئن سانس کی تکلیف سے بے حد کمزور ہو گئے تھے۔ عالمی سطح پر انگوٹی کے اپنے کمال کے سبب ہی نہیں، بلکہ شہری حقوق کے تئیں اپنی سرگرمی کی وجہ سے بھی مشہور رہے علی کو گزشتہ چند سالوں میں کئی بار ہسپتال میں بھرتی کروانا پڑا تھا۔

 وہ تیزی سے اپنے حریف کو حیران کرنے میں ماہر تھے۔ انہوں نے اپنے کام سے دنیا کو خوش کرنے کا وعدہ کیا اور پھر وہ اس میں کامیاب بھی رہے۔ اس کھیل کی وجہ سے اپنے چہرے پر پڑے مکّوں نے بعد میں انہیں جسمانی طور پر کمزور کر دیا تھا، اور بمشکل سے بات کر پاتے تھے تب بھی وہ لوگوں کو متاثر کرتے تھے۔

انہوں نے کئی تاریخی مقابلوں میں ہیوی ویٹ چیمپئن شپ جیتی اور بعد میں ان کا دفاع کیا۔ انہوں نے سیاہ فام لوگوں کے حق میں اپنی آواز اٹھائی اور اسلام پر ایمان لانے کی وجہ سے ویت نام کی جنگ کے دوران فوج میں بھرتی ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ بیماری کے باوجود وہ دنیا بھر کا دورہ کرتے رہے۔

اپنے مکوں کی وجہ علی نے باکسنگ میں اپنی بادشاہت بنائے رکھی۔ 1981 کی بات ہے جب بیماری سے ان کا مضبوط جسم کمزور سا ہو گیا تھا۔ ان کی جادوئی آواز تقریبا بند ہو گئی تھی۔ اپنی سوانح عمری 'دی گریٹسٹ' میں علی نے لکھا کہ جب موٹرسايكل پر سوار سفید لوگوں کے گروپ نے ان کے ساتھ جھگڑا کیا تو انہوں نے یہ تمغہ اوہائیو دریا میں پھینک دیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کہانی منگڈھت ہو کیونکہ علی نے بعد میں دوستوں سے کہا کہ ان کا تمغہ اصل میں کھو گیا تھا۔ جب وہ اپنے عروج پر تھے، تب ان کا قد چھ فٹ تین انچ اور وزن 210 پونڈ تھا۔ انہوں نے اس طرح سے ہیوی ویٹ مقابلے لڑے جیسے پہلے کبھی کوئی نہیں لڑا تھا۔ انہوں نے خطرناک سونی لسٹن کو دو بار دھول چٹائی۔ مضبوط جارج فورمین کو شکست دی اور فلپائن میں جو فریجير سے لڑتے ہوئے موت کے منہ سے واپس لوٹے۔ انہوں نے ہر کسی سے مقابلہ کیا ۔ان کے مقابلے اتنے مقبول ہوتے تھے ۔

17 جنوری کو1942 كاسيس مارسیلس کلے کے طور پر ہوا تھا، لیکن 1964 میں لسٹن کو شکست دے کر ہیوی ویٹ ٹائٹل جیتنے کے بعد انہوں نے یہ اعلان کرکے باکسنگ دنیا کو حیرانی میں ڈال دیا کہ وہ اسلام پر ایمان لا رہے ہیں اور انہوں نے بعد میں اپنا نام تبدیل کر دیا۔ دنیا اس کے بعد انہیں محمد علی کے نام سے ہی جانتی رہی۔

اپنے بے باک تبصرے اور 1960 کی دہائی میں امریکی فوج میں بھرتی ہونے سے انکار کرنے کے باوجود علی نے جس کسی بھی کھیل مقابلہ میں حصہ لیا، لوگوں نے کھڑے ہو کر ان کو سلام کیا۔ علی کی چار بیویاں تھی۔ ان کی پہلی بیوی سوجی روئی تھی، جن کے ساتھ ان کا ساتھ صرف دو سال کا رہا۔ انہوں نے اپنا مذہب تبدیل کرنے کے بعد 17 سالہ بلنڈا بايڈ سے شادی کی تھی۔ اس سے ان چار بچے تھے۔ ان کی تیسری بیوی ورونكا پورش تھی، جن سے ان کے دو بچے تھے۔ اپنی چوتھی بیوی لونی ولیمز کے ساتھ مل کر انہوں نے ایک بیٹے کو گود لیا تھا۔

عظیم باکسر محمد علی نے 1990 میں کولکتہ میں کرسمس کے دوران تین دن گزارے تھے وہ محمڈن اسپورٹس کلب کی خصوصی دعوت پر یہاں آئے تھے۔ یہں کا ایک واقعہ ہے کہ سینئر باکسنگ افسر است بنرجی بتاتی ہیں... ، '' وہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی اور جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ عظیم ترین ہیں، تو انہوں نے مجھے ڈانٹا اور کہا کہ 'خدا سب سے عظیم ہے۔'

ان کے انتقال کے بعد کرکٹر سچن تندولکر نے کہا کہ ان کی اس عظیم باکسر سے ملنے کی دلی تمنا تھی جو اب پوری نہیں ہو پائے گی۔ تندولکر نے ٹویٹ کیا، '' بچپن سے ہی وہ میرا کامل تھے۔ میری ان سے ملنے کی دلی تمنا تھی، لیکن اب ایسا کبھی نہیں ہو پائے گا۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem