بیوی کے زیورات فروخت کر ایک ملاح نے بنایا ندی پر پل

کبھی کبھی لوگ اپنی تعمیراتی سوچ سے کچھ ایسا کام کر جاتے ہیں، جو انہیں نہ صرف دوسروں سے ممتاز بنا دیتا ہے، بلکہ اس سے آس پاس رہنے والوں کی زندگی بھی بدل جاتی ہے۔ مٰغربی بنگال کی مندیشوری ندی پر شیخ لعل چند نامی ایک شخص نے بامبو کا پل بنایا۔اس کے لئے انہیں نہ صرف اپنی جمع پونجی لگانی پڑی، بلکہ بیوی کے گہنے فروخت کرنے پڑے اور رشتہ داروں سے  قرض بھی لینا پڑا، لیکن ان کا پل آج لوگوں کے لئے سہولت بخش بنا ہوا ہے اور وہ دوسروں کے لئے تحریک اور ترغیب کا باعث بھی۔ 

0

اب تک شیخ لعل چند کو لوگ صرف ایک ملاح یا مانجھی کے طور پر ہی جانتے تھے، کیوں کہ ان کا کام لوگوں کا مندییشوری ندی کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچانا رہتا تھا، لیکن اب ان کے نام کا چرچہ ہر اس آدمی کی زبان پر ہے، جس نے بھی ان کا نیا کارنامہ سنا ہے۔ وہ دنیا کے لئے ایک تحریک بن کر ابھرے ہیں۔ انہوں نے اس ندی پر  بامبو کا پل تعمیر کر دیا ہے۔ اس ندی کی وجہ سے نہ  صرف مندیشوری، دامودر اور روپ نارائن ندیوں کے کنارے بسے گاوں گھورابیریا، چنتن اور بھٹورا ایک دوسرے سے آسانی سے جڑ گئے ہیں بلکہ  اور وہاں کے لوگوں کو آمد و رفت کی سہولت ہو گئی ہے۔

شیخ لعل یہاں کئی سال سے کشتی چلا کر روزی روٹی کا انتظام کر رہے تھَے، لیکن ندی کے کنارے انہیں اپنی کشتی کھڑی کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ جس سے مسافروں کا کافی مسائل سے دوچار ہونا پڑتا تھا۔ خصوصاً اسکول کے بچوں کو اسکول کا بیگ کاندھوں پر لئے کیچڑ میں پیر ڈال کر باہر نکلنے پر مجبور ہونا پڑتا۔ پھر شیخ لالچند کے دل میں خیال آیا کہ اس ندی پر ایک پل کیوں نہیں تعمیر کیا جا سکتا اور انہوں نے بامبو کا پل بنانے کا فیصلہ کیا۔

جب انہوں نےپل بنانے کی سوچی اور تخمینہ بنایا تو پتہ چلا کہ اس کے لئے لا 7 لاکھ روپے لگیں گے۔ اپنی جمع پونجی تو اتنی تھی نہیں۔ انہوں نے اس کے لئے اپنی بیوی کے زیورات فروخت کئے اور رشتہ داروں سے بھی قرض لیا۔ 16 مزدورں نے 28 دن میں اس پل کی تعمیر پوری کی۔ انہوں نے اس کے استعمال کے قابل ہے یا نہیں اس کے لئے بھی لوگوں رائے طلب کر اطمنان کیا۔ اب جب لوگ یہاں سے گزرتے ہیں تو اب بڑے ہی مودب انداز سے ان سے ٹول پوچھ لیتے ہیں۔

آس پاس کے لوگوں کو ندی پار کرنے کے لئے ایک محفوظ راستہ مل گیا ہے۔ اب انہیں کشتی ڈوبنے یا کشتی ٹھیک سے کھڑے نہ ہونے کی وجہ سے کیچڑ میں سے جانے کے لئے مجبور ہوتے تھے، اب ان مسائل کا سامنا انہیں نہی ہے۔ جو لوگ پیدل جاتے ہیں شیخ ان سے 2 رپے لیتے ہیں، جبکہ سائکل یا موٹر سائکل والوں سے 6 روپے اور چوپہیہ گاڑیوں سے 100 روپے ٹول وصولتے ہیں۔ وہ اسکول کے بچوں اور بزرگ افراد سے وہ صرف ایک روپیہ لیتے ہیں، جبکہ امتحان کے دنوں میں طلباء سے اور ایمبولینس سے وہ ٹول نہیں وصولتے۔ روزانہ یہاں سے گزرنے والے کسان انہیں ماہانہ 50 روپے ادا کرتے ہیں۔

اس پل نے نہ صرف ندی پار کرنے والوں کے لئے آسانی فراہم کی ہے، بلکہ آس پاس کے گاوں میں رشتہ داریاں بھی بڑھنے لگی ہیں۔ جو لوگ ندی پار کرنے کے ڈر سے اپنی بیٹیوں کی شادیاں دوسرے گاوں میں نہیں کرتے تھے، اب وہ اس سے ہچکچا نہیں رہے ہیں۔

تھنک چینگ انڈیا۔

Related Stories