الوداع اوم! بااثر آواز کی داستان خاموش ہو چکی

اپنی روبدار آواز سے پہچانے جانے والے سوپر اسٹار اوم پوری کا دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے جمعہ کو انتقال ہو گیا. وہ 66 سال کے تھے. اوم پوری کی یاد میں پیش ہے مشہور صحافی چنچل کا مضمون۔

0

مشہور فلم ساز، تھیٹر ڈائریکٹر اور اوم پوری کے سالے بھائی رجت کپور کا ایک چھوٹا سا پیغام ملا کہ "اوم پوری نہیں رہے!" پل بھر کے لئے ایک سکوت تاری گیا۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی تو ہماری (میں اور اوم پوری) نے فون پر بات ہوئی تھی اور ہمارے درمیان یہ طے ہوا تھا کہ ایک سنجیدہ  فلم کی اسکرپٹ تیار کی جائے جو  سیاست کے موضوع  پرہو اور اس کے اندرونی  پہلوں  کو اجاگر کرتی ہو۔

حال میں بھائی رنجیت کپور کی ایک فلم 'جے ہو ڈیموکریسی' آئی ہے۔ گرشا کپور نہایت ذہین آرٹسٹ ہیں اور اتنی ہی بہتر  انسان بھی۔ گرشا سے ہم نے اتر پردیش میں ٹیکس معافی کے لئے ذکر کیا، کہ "وزیر اعلی کے مشیر ہیں مدھوکر جیٹلی ان سے ملو، بات ہو گئی ہے۔" اس بات کا ذکر یہاں اس لیے ضروری ہے کہ لوگ یہ جان لیں، کہ فلمی دنیا کا یہ دوسرا کپور خاندان ہے، جہاں سب کے سب ایک سے بڑھ کر ایک فنکار ہیں۔ اوم پوری اسی خاندان سے منسلک رہے ہیں۔ سیما کپور رنجیت بھائی کی بہن ہیں۔ رنجیت کپور، انیل کپور جو اب فلمو میں انو کپور کے نام سے جانے جاتے ہیں دونوں سگے بھائی ہیں۔ بہر حال آئیے دیکھتے ہیں، کہ ایک فنکار کی ذاتی زندگی اس فلمی کردار کو بھرپور مدد کرتی ہے یا نہیں!

دنیا کا سب سے بڑا تجربہ ہو رہا ہے، گو کی اس طرح کی سنجیدہ رتحریروں پر اس سے پہلے بھی فلم بن چکی ہے لیکن یہ حیرت انگیز تجربہ تھا۔ کہانی منشی پریم چند / ڈائریکٹر ستيجت رائے / کہانی سدگتی / آرٹسٹ سب ایک دوسرے پر بھاری، موہن اگاشے، اوم پوری اور سمیتا پاٹل۔ فلم میں اوم پوری اچھوت ہیں یہ بتانے کے لئے کسی  دکھاوے کی ضرورت نہیں پڑی، بلکہ اس کے بیٹھنے کا انداز، چہرے کے تاثرات تمام اس کے اپنے اندر سے آ رہے تھے۔ اوم پوری کی ذاتی زندگی محرومی  کے حالا سے گزری تھی۔ انهوں نے کوئلہ فروخت کیا، ماما کے گھر سے باہر نکالے گئے، چوری کا الزام لگا۔ ذاتی تجربات کے ذخيرے پر کھڑے اوم نے ہندی فلموں کو ایک بہترین موڑ دیا، جس نے ہندی سنیما کا ایک نیا چہرہ دکھایا۔

70 کے رنگارنگ، سجے سویرے چہرے جہاں راجیش کھنہ، امیتابھ بچن، جتیندر کا غلبہ ہو، اس کے متوازی تھیٹر سے آئے 'لونڈو' نے نئی لکیر کھینچ دی۔ نصیر، کل بھوشن كھربندا، پنکج کپور، راجیش وویک ، انو کپور، اوم پوری۔ بہت سے نام ہیں، لیکن جو گہرائی اوم میں رہی وہ شاید ہی کسی میں تھی۔ ایک ساتھ اور ایک مشت ہو۔ مزاح کی ایک نئی تعریف  پیش کیہے اوم نے۔

میں یہاں اوم کے ساتھ ایک حقیقی واقعہ کا ذکر کرنا چاہوں گا، جہاں تھیٹر اور زندگی سمٹ کر ایک ہو جاتی ہے۔ اس میں ہمدردی ہے، محرومی ہے، بادشاہت ہے اور ان سب کے ہوتے ہوئے قہقہہ بھی ہے۔

دہلی کے پوسا روڈ پر واقع ایک گھر کے دوسرے فلور پر کرایہ کا ایک کمرہ لے کر بجو بھائی (آرٹسٹ، ڈائریکٹر  ۔۔۔ نیشنل اسکول آف ڈرامہ کے ڈائریکٹر رہے، آج کل ممبئی میں ہیں اور فلموں سے منسلک ہیں ، ان کے ساتھ ہی ہمارے نہایت قریبی  دوست  بھی ہیں) اور اوم پوری ساتھ ساتھ رہا کرتے تھے۔ وہ فاقامستی کے دن تھے۔ ایک دن صبح پتہ چلا کی دونوں میں کسی کے بھی پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ منڈی ہاؤس (بنگالی مارکیٹ) تک پہنچ جائیں اور دوستوں سے ادھار لے کر زندگی کو آگے بڈھائیں۔ اتنے میں نیچے سے کباڑی کی آواز آئی۔ اوم نے بالکنی سے کباڑی والے کو آواز دی اور اسے اوپر بلا لیا۔ وہ (کباڑی والا) اوپر آ گیا۔

خالی بوتلیں، اخبار اور فضول وغیرہ ملا کر کل 72 روپے ہوئے تھے۔ کباڑی والے نے 100 روپے نکالے اور بولا، "چھٹا تو نہیں ہے۔ آپ کے پاس ہو تو دے دیجئے۔" اتنے میں اوم نے زور کا قہقہہ لگایا اور بولے، "استاد! وہی تو دقت ادھر بھی ہے۔ سو سو کے ہی نوٹ ہیں۔ تم ایسا کرو نیچے چلے جاؤ۔ چار انڈے، ایک مکھن، ایک روٹی اور ایک پیكٹ دودھ لے لو، چھٹا ہو جائے گا۔ " اور اتنا کہہ کر اوم بیٹھ گئے مونڈنا۔ کباڑی والے نے جاتے جاتے پوچھ لیا، "صاحب! یہ بورا نیچے لیتا جاؤں؟" بجو بھائی نے فراخ دلی سے کہا، "بالکل لے جاؤ بھائی، اور ذرا جلدی لوٹنا۔" آگے کا قصہ مت پوچھيے۔ یاد آتا ہے تو اب بھی ہنسی آتی ہے۔

اوم سے ہمارے تعلقات اتنے بیباکی سے نہیں رہے جیسے کی اور فلمی اور تھیٹر فنکاروں کے ساتھ رہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ جب ہم دہلی کے ہوئے تو اوم پوری اور راج ببر    پنجاب  میں مصروف رہے تھے۔ لیکن اوم سے گاہے بہ گاہے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔ سچ کہوں تو، اوم کا اس طرح اچانک جانا  سہا نہیں جائَئگا ۔  دوست آپ ہمیشہ یاد آؤ گے۔

چنچل

(چنچل  کو پڑھنے کے لئے يورسٹوری پر بنے رہیں اور انہیں فالو کریں ان کے فیس بک کے صفحے پر: https://www۔facebook۔com/chanchal۔bhu۔9)