فضائی آلودگی سے نجات کے مقصد سے ... طلباء نے محض 15 دنوں میں بنائی ’سولر‘ کار...

0

وہ خود ہی ناپ لیتے ہیں بُلندی آسمانوں کی ...
پرندوں کو نہیں دی جاتی ہے تعلیم اُڑانوں کی ...


دورِ حاضر میں پوری دنیا فضائی آلودگی کی مسلسل بڑھتی ہوئی سطح سے نبرد آزما ہے، اور فضائی آلودگی میں اضافے کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے سڑکوں پر مختلف قسم کے ایندھن سے چلنے والی گاڑیاں ۔ اِس بڑھتی ہوئی آلودگی پر قابو پانے کی کوششوں میں سبھی انسان اپنا پورا تعاون دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور اِس سے نمٹنے کے لئے نت نئے تجربات کا دور بھی جاری ہے ۔ اِسی سلسلے میں غازی آباد کے ایک اسکول کےچند طالب علموں نے سورج کی روشنی کو توانائی میں تبدیل کر نے، اور اس توانائی سےچلنے والی کار تخلیق کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ شمسی توانائی سے چلنے والی یہ کاربنانے کے پروجیکٹ میں نویں، دسویں اور گیارہویں جماعت کے محض 7 طالب علموں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ طالب علم محض 15 دنوں کی محنت کے بعد اِس کارکو بنانے اور سڑک پر چلانے میں کامیاب رہے ۔

غازی آباد کے راج نگر میں واقع ’شیلر‘ (Schiller) پبلک اسکول کے سات طلباء’ ارنب، تنمئے، پرتھم، پرگیہ، اُنّتی، یش اوردیپک‘ نے اِس کار کو تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اِن میں سے گیارهويں جماعت میں پڑھنے والے طالب علم’ ارنب‘ نے اس پورے منصوبے کی کمان سنبھالی ۔’ يوراسٹوري‘ کو اپنے پروجیکٹ کے متعلق بتاتے ہوئے’ ارنب‘ کہتے ہیں،

’’ آج بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی سے پوری دنیا پریشان ہے ،اور سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں سے ماحول کو سب سے زیادہ نقصان ہوتا ہے ۔ اِس کے علاوہ ہمیں یہ خیال بھی آیا کہ سورج کی روشنی ایسے ہی ضائع ہو رہی ہے، توکیوں نہ اس کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسی گاڑی تیار کی جائے جو مکمل طور پر شمسی توانائی سے ہی چلے ۔‘‘

اِس کے بعد انہوں نے اپنے اسکول کے ڈائریکٹر’ اے کے گپتا‘ سے اپنی منشا ظاہر کی جنہوں نے ایک  ’سولر‘ کار تیار کرنے کے سلسلے میں پیش قدمی کے لئے ’ارنب‘ کی حوصلہ افزائی کی۔

اِس کے بعد’ ارنب‘ نے اسکول میں اپنے ہم خیال اور کچھ نیا کرنے کا جذبہ رکھنے والے نویں اور دسویں جماعت کے کچھ طالب علموں کو اپنے ساتھ لیا اور’ سولر‘ کار بنانے کا کام شروع کیا ۔ اپنی اِس کارکے تعلق سے ’ ارنب‘بتاتے ہیں،

’’ ابتدائی تحقیق کے بعد ہم نے یہ طئے کیا کہ ہم اپنی اِس کارکو دو حصّوں میں تقسیم کرکے تیار کریں گے اور یہ ’فرنٹ‘ اور ’بیک‘ دو حصّوں میں تیار کی گئی ہے ۔ اِس کار کا فرنٹ’ نینو ‘کار اور’ بیک‘ ’ ای رکشہ‘ سے متاثر و مماثل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری اِس کارکو چلانے والا تمام کام ’فرنٹ ‘میں ہوتا ہے اور ٹرانسمیشن پیچھےکے حصّے میں ہے ۔‘‘

اس کار کےمتعلق معلومات فراہم کرتے ہوئے ’ ارنب‘ بتاتے ہیں،

’’ ہماری اِس کار کی چھت پر 300 واٹ کے پینل لگے ہیں جو 850 واٹ پاورکی 90 ایم اے ایچ والی چار بیٹريوں کو چارج کرتے ہیں ۔ یہ بیٹریاں کار کے پچھلے حصّے میں سواریوں کے بیٹھنے والی سیٹوں کے نیچے لگی ہوئی ہیں ۔ انہی بیٹريوں کےذریعے کار چلتی ہے جو زیادہ سے زیادہ 40 سے 60 كلوميٹر تک کی رفتار پر چل سکتی ہے۔ مکمل طور پر بیٹریاں چارج ہو جانے پر ہماری یہ کارتقریباً 160 کلومیٹر کا سفر طئے کر سکتی ہے ۔‘‘

اِس کے علاوہ ان کی یہ کار ’ ڈسٹینس سینسر‘ اور ’ہیٹ سینسر ‘سے بھی آراستہ ہے جو اسے دیگر ’سولر ‘کاروں سے منفردکرتی ہے ۔ اِس طرح ان طلباء نے صرف 15 دنوں میں ہی اپنی ذہنی اختراع کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اِس ’سولر‘ کار کو کامیابی کے ساتھ بنا کر دکھادیا۔

ان طلباء نے جب شمسی توانائی سے چلنے والی دیگر گاڑیوں کا جائزہ لیا تو دیکھا کہ زیادہ تر گاڑیاں ایسی بنائی گئی ہیں جو صرف ایک یا زیادہ سے زیادہ دو سواریوں کے لئے ہوتی ہیں ۔’ ارنب‘ کہتے ہیں، ’’ ہم نے دیکھا کہ شمسی توانائی سے چلنے والی زیادہ تر گاڑیاں صرف ایک یا دو لوگوں کے لئے ہی بنی ہیں اس لئے ہم نے’ ای رکشہ‘ سے ترغیب لیتے ہوئے اِسے پانچ لوگوں کے بیٹھنے کے لائق بنایا اور ہماری اِس گاڑی میں ایک ساتھ زیادہ سے زیادہ پانچ لوگ آرام سے بیٹھ سکتے ہیں ۔‘‘ اِس کار کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ چھت پر پینل ہونے کی وجہ سے سفر کے دوران بھی یہ کاربا آسانی چارج ہوتی رہتی ہے جس سے اِس کارکے ذریعے طویل فاصلے کا سفر بھی کیا جا سکتا ہے ۔

اِس کار کو تیار کرنے میں تقریباً ایک لاکھ روپے کا خرچ آیا جوکہ مکمل طور پر’ شیلر‘ اسکول نے برداشت کیا ۔ اپنے طالب علموں کے ذریعے بنائی گئی اِس ’سولر‘ کار کے متعلق ’ اے کے گپتا ‘کہتے ہیں، ’’ ہمارے اِن سات طلباء نے واقعی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ،اور اُن کی بنائی ہوئی یہ  ’سولر‘ کار کئی لحاظ سے انجینئرنگ کے طالب علموں کی تیار کردہ’ سولر‘کاروں سے بھی بہتر ہے ۔ اِس کار کو بنانے کے لئے اِن طالب علموں نے رات دن محنت کی اورخاص طور پراِن کے والدین نے بھی مکمل تعاون دیا اور حوصلہ افزائی کی۔‘‘ ’ اے کےگپتا‘ بتاتے ہیں کہ انہوں نے فی الحال کار کے’پیٹنٹ‘ رجسٹریشن کی کارروائی شروع کر دی ہے۔

یہ کاربنانے والے طالب علم اور طالبات کا گروپ اب اپنی اِس ’ سولر‘ کار کو ایک حقیقی کار کی شکل دینے کے کام میں مصروف ہے اور انہیں اُمید ہے کہ آئندہ کچھ دنوں میں وہ اسے ایسی شکل دینے میں کامیاب ہوجائیں گے جس سے یہ چلتے وقت ایک عام کار جیسی ہی نظرآئےگی۔ اس کے ساتھ ہی یہ طلباءاپنی اِس کار کو ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے چلا کر دکھانا چاہتے ہیں اور ان کے اسکول کے ڈائریکٹر اس سلسلے میں کوشش کر رہے ہیں۔

قلمکار : نِشانت گوئل

مترجم : انور مِرزا

Writer : Nishant Goel

Translation by : Anwar Mirza

Related Stories