بھوپال کے پھیکے کھانوں سے غیرمطمئن دہلی کے جوڑے نے ’جھیلوں کے شہر‘ میں متعارف کرائی کفایتی عالمی طباخی

غذا زندگی کا لازمی جز ہے جس سے محرومی یا دوری ہمارے روزمرہ کے دورانیہ کو بے کیف بنا دیتی ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال سے دوچار ایک جوڑے کی قابل ستائش کاوش ملاحظہ کیجئے ۔۔۔

0

آپ میں سے اکثر کو یہ اندازہ نہیں کہ آپ کی سماجی زندگی کا کس قدر حصہ آپ کے طعام کے ذوق و شوق کے اِرد گرد رہتا ہے، اور کس قدر حصہ آپ کے فن طباخی سے برآمد ہوتا ہے۔ میرے عجیب و غریب ساتھیوں کا ٹولہ بالکلیہ ٹیڈ اور مارشل کی طرح اکثر و بیشتر 200 کیلومیٹر کی مسافت طے کرچکا ہے، محض اس لئے کہ مکئی کے پکوڑوں کی لذیذ پلیٹ کھائیں۔ ایسا ضرور آپ کے ساتھ بھی ہوا ہوگا .... آپ کا پہلا پیار اور شاید ’پانی پوری‘ کھانے کے مقابلے میں آپ کی نظریں چار ہوئیں اور اُس نکڑ کی دکان پر بعض چٹپٹی یادیں قائم ہوئیں، یا آپ نے اپنے ہمسفر کے ساتھ کوئی موقع گزارا ہو جب آپ کو وہی ’دوسا‘ پیش کیا جائے جو جنوبی ہند کے منفرد مختصر ناشتہ میں آپ کو بہت پسند ہو جسے کبھی آپ دونوں نے ہی مل کر دریافت کیا تھا۔ کسی شہر کے حدود ِ اربع سے دور مجبوراً روٹی توڑنے کے تجربات سے گزریئے اور آپ کی زندگی بے کیف ہوجائے گی۔ ممتا توڈی کے ساتھ یہی کچھ ہوا جب اسے اپنے شوہر کے تبادلے کے پیش نظر بھوپال کو منتقل ہونا پڑا۔

ممتا توڈی اور اّنکور کھیتان
ممتا توڈی اور اّنکور کھیتان

تفریحی موڈ سے قیلولہ تک

چینائی کی جرنلسٹ ممتا جو ’ٹائمز آف انڈیا‘ اور ’نیو انڈین اکسپریس‘ کے لئے کام کرچکی ہے، اسے اَنکور کھیتان سے شادی پر شمال میں دہلی کو نقل مقام کرنا پڑا۔ پتوں پر سالن والے جزیرہ نما سے ’چاٹ‘ کی سرزمین پر منتقلی اطمینان بخش رہی۔ تاہم، ایک سال بعد انکور کا تبادلہ بھوپال کو ہوا۔ یہ بات تین سال قبل کی ہے جب ممتا جو 31 سالہ خوش خور ہے، یکایک تفریحی موڈ سے قیلولہ کرنے پر مجبور ہوئی .... مگر وہ خاموشی نہیں سوگئی۔ وہ کہتی ہے، ”بھوپال خوبصورت مقام ہے مگر میٹرو سٹی والے معیارات کے اعتبار سے بے لطف ہے، طعام کے زیادہ مراکز نہیں، زیادہ عوامی مقامات نہیں، معقول جگہیں نہیں کہ ہم خیال لوگ ملاقات کرسکیں۔ میں کھانوں کی شوقین ہوں اور یہاں مطلوبہ مرکز نہیں پائی“۔

وہ شام کے اوقات میں ایک انگریزی اشاعت کے لئے نوکری کررہی تھی، اور اپنے دن کے ابتدائی نصف میں اسے فرصت تھی کہ کوئی تجرباتی شغل کے ذریعے اپنی خواہش پوری کرے۔ ممتا نے بتایا کہ

” تجرباتی طور پر ہم نے شروعات ہماری کالونی میں کی۔ میں نے میری فرصت میں ہندوستانی اور مغربی میٹھے بنانا شروع کئے اور سب کو بتایا کہ زندگی میں ’پوہا۔جلیبی‘ سے بڑھ کر بھی کچھ ہے۔ ایک ’واٹس اپ‘ گروپ کے ذریعے میں روزانہ کی خاص ڈشیس سے آگاہ کیا کرتی اور لوگ فون کرکے آرڈر دیتے۔ تب میں ہی تمام کام انجام دیتی تھی .... پیام رسانی، پکوان، آرڈرز لینا، اور پھر خود ہی انھیں پہنچانا۔“

اسٹارٹپ 2.0

بھوپال میں ممتا کی پروفیشنل لائف خوبصورتی سے پھل پھول رہی تھی، لیکن اُس کی شخصی زندگی نے کچھ اور موڑ لیا، جو صحیح معنی میں اُس کے لئے چیلنج ہوا، اور یہ اُس کی پہلی اولاد ’یجور‘ کی شکل میں سامنے آیا۔

وہ دن میں بچہ کی نگہداشت کیا کرتی، ساتھ ہی کھانوں کے شوقین اور تجربے کے خواہش مند لوگوں کی کمیونٹی فروغ دیتی اور انھیں اپنے اختراعی پکوانوں کے گرویدہ بنالیتی، اور پھر اپنے بچہ کو ساتھ لے کر شام میں نوکری کے لئے جایا کرتی۔ یہ سلسلہ تین سال یعنی سپٹمبر 2015ءتک چلتا رہا۔ ممتا کی کیٹرنگ سرویس زور پکڑ چکی تھی۔ ”اُس وقت تک ہمیں اندازہ ہوچلا تھا کہ ہم ہمارے ریگولر کسٹمرز کے ساتھ خاص لگا¶ کا ماحول پیدا کرچکے تھے، اور توسیعی اقدام کا موزوں وقت آچکا تھا۔ ’Sweet Posse‘ کی شروعات خوش ذائقہ پکوان کی شدید خواہش کا نتیجہ ہے، جس میں سے بہت کچھ بھوپال میں ندارد ہے اور اس طرح کا بہت کچھ ہم اُن کے ذائقے میں شامل کرنا چاہتے ہیں .... مگر مجھے سب سے زیادہ اندیشے لوگوں کو بہتر طور پر سنبھالنے اور درکار فنڈ سے متعلق تھے۔“

اسٹارٹپ کو چلانے میں معمول کی آزمائشیں پیش آئیں .... درست امتزاج والا ٹیلنٹ کھوجنا جو آپ کے ویژن سے ہم آہنگ ہو۔ ممتا نے برجستگی سے بتایا کہ

”ہم سے کئی ہنرمند لوگ ملے جو بس ہمارے مزاج سے ہم آہنگ نہیں تھے، اس طرح آخرکار ہم نے ایسے غیرپیشہ ور لوگوں کو تربیت دی جنھیں ’آٹا‘ اور ’ مَیدہ‘ کے درمیان فرق معلوم نہ تھا، جو انگریزی نہیں بولتے تھے اور پھر بھی آج میرے بہترین کارندے کم تعلیم یافتہ افراد ہیں لیکن عمدہ ’سالسا‘ اور ’پاستا‘ بناتے ہیں۔“

’ Sweet Posse‘ کے پلاؤ

’ سویٹ پوسی ‘ کے مینو (فہرست ِ طعام) میں ابتدائی طور پر کانٹی ننٹل فوڈ، چاٹ، مختلف اقسام کی سینڈوچ، mocktails، اور milkshakes کے ساتھ ساتھ بعض اطالوی ڈشیس کی ترکیب پیش کی گئی۔ ممتا کی وضاحت ہے کہ

”بھوپال کے لوگ خرچ کرنے میں نسبتاً قدامت پسند ہیں، لہٰذا ہم کوئی عصری، پاش سنٹر شروع نہیں کرسکے۔ اس لئے، ہمارے پاس شاید نہایت کفایتی دام والا مینو ہے جو 20 روپئے کی کمتر قیمت سے شروع ہوتا ہے اور مینو میں شامل سب سے مہنگی ڈش 90 روپئے والی ہے۔ یہاں کے لوگوں کو ایسی ڈشیس شاید ہی معلوم ہوں، لیکن ہم انھیں یہ بتانے کی پوری کوشش کرتے ہیں کیا، کیا ہے۔“

والدین کی ذمہ داریاں نبھانا اور ساتھ ہی دو مکمل وقتی نوکریاں بھی انجام دیتے ہوئے یہ جوڑا سات ماہ قبل Sweet Posse کی شروعات کرنے کے بعد سے کئی سنگ میل عبور کرچکا ہے، جیسا کہ وہ اپنے کاروبار کو دو آؤٹ لٹس تک وسعت دے چکے ہیں اور روزانہ کم از کم 50 کسٹمرز کو کھلا رہے ہیں، جن میں میڈیکل اسٹوڈنٹس سے لے کر وہ لوگ تک شامل ہیں جو 35 روپئے کی کفایتی ’تھالی‘ پر تول مول کیا کرتے ہیں؛ وہ اب مشّاق بن چکے ہیں۔

ممتا بھوپال میں شایانِ شان زندگی گزارنے کے اپنے عہد کی بابت کہتی ہیں: ”ہم بچت کے راستے اختیار نہیں کرتے، ہماری فوڈ میں کلرز کی آمیزش نہیں کرتے اور ہر دن تازہ پکوان والا کھانا پیش کرتے ہیں۔ ہم یقینی بناتے ہیں کہ یجور کی پرورش مناسب طور پر ہوتی رہے اور ہاں، ایک اشاعت سے وابستہ میری شام والی نوکری بھی جاری ہے ....“

................................................................

اس طرح کی دلچسپ کہانیوں کیلئے یور راسٹوری کا ’فیس بک‘ صفحہ دیکھئے اور لائک کیجئے :    facebook

یہ بھی پڑھئے :

جمعہ کے خطبہ کو سوشل چینج کا ذریعہ بنانے کی وکالت کرتے ایک خطیب

انڈیا کا ’پاور کپَل‘ : اِندور کی شوہر۔ بیوی جوڑی جس نے شاید دنیا کا سب سے موثر ایئر کنڈیشنر بنالیا ہے

ایک خاتون ٹیچر, جنہوں نے نکاح کے دن بھی نہیں لی اسکول سے چھٹی

رک جانا نہیں تو کہیں ہار کے.... عبدالحکیم کی کامیابی کا راز!

اردو ٹیچر سے فلاحی جہدکار بننے کا مثالی سفر...ایم اے رحمٰن

................................................................

قلمکار : بنجل شاہ .... مترجم : عرفان جابری .... Writer: Binjal Shah .... Translator: Irfan Jabri