موت کے منہ سے نکل کر سلطانہ نے لڑی ظلم کے خلاف جنگ اور بنی جہدکار

امریکہ کی جانب سے ائی وی ایل پی کے لئے منتخب حیدرآباد کی سلطانہ بیگم کی کہانی

0

خواتین پر ہونے والے مظالم کے خلاف جاری جدو جہد کے تجربے کے ساتھ اپریل میں امیرکہ جائَے گی سلطانہ

ظالم شوہر کے جان لیوا حملے کے بعد21 دن تک کوما میں رہنے اور ایک سال سے زائد عرصے تک ہسپتال کے بستر پر زندگی گزارنے والی سلطانہ بیگم کو جب ہوش آیا تو انہوں نے پایا کہ ان کی جان لینے کی کوشش کرنے والا ظالم شخص آزاد گھوم رہا ہے۔ پولیس تو دور ان کے اپنے لوگوں نے اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی ہے۔ پھر سلطانہ نے ٹھان لیا کہ وہ اپنی جنگ خود لڑیں گی اور  آخرکار انہوں نے وہ جنگ جیت لی، بلکہ زندگی کو  وہ رخ٘ دیا کہ، جہاں سے وہ اپنی طرح کے کئی مظلوم خواتین کی مدد کر سکیں۔ آج وہ حیدرآباد کے پرانے شہر میں ایک جانی مانی جہدکار ہیں اور انہیں اسی کام کی بنا پر خواتین پر ہونے والے مظالم پر کئے جا رہے اچھے کاموں کا مطالعہ کرنے اور اپنے تجربات کو مقامی لوگوں کو بتانے کے لئے امریکہ نے منتخب کیا ہے۔

خواتین پر جنس بنیاد پرظلم اور تشدد اور انسانی اسمگلنگ جیسے مسائل کے خلاف جنگ لڑنے والی دو خواتین کو اس بار امریکہ نے منتخب کیا ہے۔ ان میں حیدرآباد کی سلطانہ بیگم اور اوڈشا کی پرگیہ پرمیتا بستيا شامل ہیں۔ وہ امریکہ کا دورہ کریں گی اور وہاں خواتین پر تشدد سے نمٹنے کے لئے قانون کی دفعات اور مثالی کارناموں کا مطالعہ کریں گی اور اپنے کارنامے وہاں کے لوگوں کو بتائں گی۔ ان دونوں خواتین کو منتخب انٹرنیشنل وژٹرس لیڈر شپ پروگرام کے تحت نتخب کیا گیا ہے. دونوں خواتین آئندہ اپریل ماہ کے پہلے ہفتے میں امریکہ کے لئے روانہ ہو جائیں گی۔

 حیدرآباد کی سلطانہ بیگم نے جو ظلم سہے ہیں، اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے شوہر نے ان کی ناک کاٹ کر ان کے قتل کرنے کے لئے سر پر پتھر ڈال دیا تھا۔ کئی ماہ تک ہسپتالوں کے بستر پر زندگی گزارنے کے بعد وہ جب ہوش میں آئی تو پایا کہ ان پر اتنا ظلم ہونے کے باوجود بھی نہ صرف شوہر بلکہ باپ بھی جنسی امتیاز کی بناد پر انہیں عورت ہونے کو ظلم کی بنیادی وجہ سمجھتے تھے۔ سلطانہ نے بعد میں اپنی جنگ خود لڑی اور اپنے ظالم شوہر کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا۔

در آصل سلطانہ کو بچپن سے ہی تعلیم حاصل کرنے اور اپنے آپ کو خود مکتفی بنانے کی دھن تھی، یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ایس ایس سی کے امتحان میں ایک پرچہ میں فیل ہونے کے بعد پرئیوٹ امتحان دے کر اس میں کامیابی حاصل کی اور اس کے لئے انہیں ایک پرائویٹ اسکول میں ٹیچری بھی کرنی پڑی۔ ان کے آگے پڑھنے اور کچھ سیکھنے کے جذبے کووالدین نے کبھی سمجھا ہی نہیں۔ اچانک ان کی شادی کر دی گئی۔

وہ بتاتی ہیں۔

''والد نے رٹائر ہوتے ہی اپنا بوجھ اتارنے کے مقصد سے جس لڑکے سے میری شادی طے کی۔ اس کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں کی۔ شادی کے بعد  پتہ چلا کہ وہ ن صرف بے روزگار ہے، بلکہ ذہنی طور پر بھی بیمار ہے۔ جب میں نے اس کا ذکر والد سے کیا تو انہوںے کہا کہ ڈولی میں گئی ہو تو ڈولے میں آنے تک وہیں رہو۔''

سلطانہ نےکسی طرح زندگی سے سمجھوتا کر ہی لیا تھا، لیکن یہ تو میصبتوں کی شرروعات تھی۔ اس کے بعد مظالم کا جیسے سلسلہ سا شروع ہوا۔ وہ بتاتی ہیں،

'' شادی کے وقت میری عمر سترہ سال تھی۔ لڑکا ٹیلر تھا، میں نے بھی ٹیلرنگ کا ڈپلومہ کیا تھا اور آگے پڑھنا چاہتی تھی۔ لڑکا کچھ کام نہیں کرتا تھا۔ جب کام کرنے کی بات کی تو  اپنے گھر سے پچاس ہزار روپے لانے کا مطالبہ کیا۔ اس بات پر کئ بار مارپیٹ کی گئی۔ جب بھی اس کی شکایت والدین سے کی جاتی، کچھ لوگ اپس میں مل بیٹھ کر سمجھوتا کرتے اور پھر بات آئی گئی ہو جاتی۔ ظلم رکتے نہیں ۔''

سلطانہ نے اپنے گہنے فروخت کرشوہر کے ساتھ ایک ٹیلرنگ کی دوکان شروع کی، لیکن ایک دن شوہر نے ساری مشینیں اور سامان فروخت کر دیا۔ یہ کہتے ہوئے کہ وہ گھر خریدیے گا۔ اسے جھوٹا دلاسہ دے کر ایک کرایہ کے کمرے میں رکھا۔  اس دن انتہا ہو گئی جب اس نے دودھ میں بےہوشی کی دو ملاکر دی اور چھرے سے ناک کٹ کر ایک بڑا سا پتھر سلطانہ کے سر پر ڈال دیا۔ سلطانہ کی قسمت میں بچنا لکھا تھا، وہ بچ گئی، لیکن اس کے لئے انہیں بہت بڑی قیمت چکانی پڑی۔ سلطانہ  نے یور اسٹوری کو بتایا۔

''جب ہوش آیا تو وہ عثمانیہ اسپتال کے بستر پر تھی۔ ناک کٹی تھی، چہرہ پر پلاسٹر سے بھرا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ ان سب سدموں سے ابھر کرباہر نکلی، چہرے کی جگہ بس کچھ نقوش بچ گئے تھے، لیکن ایک مہربان ڈاکٹر نے انہیں  پلاسٹک سرجری کر زندہ رہنے لائق بنا دیا۔''

سلطانہ ان دنوں پرانے شہر کے شاہین ادارے کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ وہ اپنی طرح کی مظلوم خوتین کی مدد کرتی ہیں۔ لڑکیوں کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی ترغیب دیتی ہیں۔ انہوں نے خواتین کو ان کے حقوق کے تئیں بیدار کیا ہے۔ اسی دوران وہ طویل عرصے تک اپنا مقدمہ عدالت میں لڑتی رہی. ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہیں اپنا موقف كمزوردکھائی دیا۔ یہ دیکھ کر انہیں اپنے ایڈووکیٹ کو تبدیل کرنے کی اپیل عدالت سے کرنی پڑی۔ انہوں نے پایا کہ وہ جب کوما میں تھی، ہسپتال کے بستر پر موت پور زندگی کی جنگ لڑ رہی تھی، تب پولیس نے ان کےکیس کو مناسب طریقے سے تیار  نہیں کیا، جس کے نتیجہ میں ان کا شوہر جیل سے چھوٹ کر فرار ہو گیا۔ سلطانہ مسلسل اپنے مجرم شوہر کی تلاش کرتی رہی اور پھر جب اسے پتہ چلا کہ وہ ممبئی میں ہے تو اپنی چھوٹی موٹی ملازمتوں سے کمائی گئی گاڑھی کمائی کا روپیہ خرچ کر اپنی ہی نند کے تعاون سے شوہر کو گرفتار کروایا۔

جس وقت ان پر جان لیوا حملہ ہوا وہ حاملہ تھیں۔ موت اور زندگی سے لڑتے ہوئے ہی سلطانہ نے اپنے بچے کو جنم دیا، لیکن جیل میں رہتے ہوئے ان کے شوہر نے اس پر اپنا حق جتانا شروع کیا۔ پھر سلطانہ کو ایک اور طویل عدالتی جنگ اپنے بچے کے لئے لڑنی پڑی۔ وہ بتاتی ہیں،

''مجھے اپنے گھر سے کسی طرح کی حمایت حاصل نہیں تھی۔ والد بھی یہی سمجھتے تھے کہ میں عورت ہوں تو یہ  میری قسمت ہے۔ لیکن میری جنگ تھی میں لڑتی رہی اور آخر کار عدالت نے میرے حق میں فیصلہ دیا۔ اسی دوران ظالم شوہر کی بیماری کی وجہ سے جیل میں ہی موت ہو گئی۔''

سلطانہ نے بتایا کہ انہوںے اپنی جنگ تو جیسے تیسے لڑی لیکن پایا کہ ان کی طرح معاشرے میں بہت سے لوگ ہیں جو عورت ہونے کی وجہ ظلم اور گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔ شوہر تو ظلم کرتا ہی ہے، لیکن باپ بھی اپنی بیٹی کا تعاون نہیں کرتا۔ اسے مرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ شاہین ادارے کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہیں ایسے کئی تجربات سے گزرنا پڑا ہے۔ اب وہ امریکہ میں اس معاملے میں مطالعہ کریں گی کہ وہاں قانون میں کیا آختیارات موجود ہیں اور وہاں کی ادارے کیا کر رہی ہیں۔ ساتھ ہی وہاں وہ اپنے تجربہ بھی بتائیں گی.

پرگیا اور سلطانہ 
پرگیا اور سلطانہ 

قابل ذکر ہے کہ  سلطانہ کی اس دردناک کہانی میں جب انکا اپنا کوئی ان کی مدد کے لئے تیار نہیں تھا، ان کی نند نے انسانی ہمدردی کے ساتھ اپنے ظالم بھائی کے خلاف ان کی مدد کی۔ اس طرح کا جذبہ زندہ ہو تو حوصلے کو ہار کا منہ نہیں دیکھنا پڑتا۔ 

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج       (FACEBOOK ) پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

خواتین اور معذور بچوں کی جہدکار عائشہ روبینہ

شوہر کی خودکشی سے ٹوٹ چکی راجشری نے خودکشی کرنے جارہے 30 لوگوں کی جان بچائی

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem