آپ کے ’اسٹارٹپ‘ کو فنڈ نہ مِلنے کی ہو سکتی ہیں یہ وجوہات ...

0

مان لیجئے ایک شخص ہے ۔ اُس نے اپنی سات اعداد والی ایک اچھی خاصی ملازمت چھوڑ کر ایک ’اسٹارٹپ‘ کی بنیاد ڈالی، اور وہ گزشتہ تین سال سے اس اسٹارٹپ کو اسٹیبلش کرنے کی ہرممکن کوشش کر رہا ہے ۔ وہ ہر سہ ماہی میں مختلف ’وینچر کیپِٹل‘ اور سرمایہ کاروں کے دفتروں کے چکّر کاٹتا ہے لیکن ہر بار مسترد کردیا جاتا ہے ۔ اب تو وہ سرمایہ جو اس نے قرض کے طور پراپنے خاندان اور دوستوں سے لیا تھا وہ بھی ختم ہونے کے قریب ہے ۔ تو کیا اب وہ وقت آ گیا ہے جب اس شخص کو اپنے اسٹارٹپ سے دستبردار ہوجاناچاہیے؟ یا پھراب بھی اسے جاری رکھنے کے لئے مزیدکوشش کرنی چاہیے؟

کیا یہ کہانی آپ کو سُنی سُنائی سی لگتی ہے؟ کیا آپ بھی ایسی ہی صورتِ حال سے دو چارہیں؟ کیا آپ بھی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں؟ اس کے پسِ پُشت کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ اس صورتِ حال کی پانچ ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں جن کے سبب آپ اپنی ہرممکن کوشش کے باوجود سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔

* آپ خود

* آپ کا اسٹارٹپ

* وینچر کیپِٹل

* مارکیٹ

* آپ کی قسمت

آئیے، ہم ایک ایک کر کے ان سب مسائل پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک مسئلہ کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے۔

وجہ نمبر 1: آپ

آپ اپنے اسٹارٹپ کے لئے سرمایہ کاری حاصل کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں اور ’ آپ‘ کی ناکامی کی یہ وجوہات ہو سکتی ہیں:

1۔ ناتجربہ کاری

کہیں آپ فنڈ کے کھیل میں ’جان اسنو‘(Jon Snow) تو نہیں ہیں؟

حل :

* سب سے پہلے اپنے ہی جیسے کسی دوسرے اسٹارٹپ میں نوکری کرکے تجربہ حاصل کریں۔

* متعلقہ فیلڈ میں ڈگری حاصل کریں ۔

* جس اسٹارٹپ میں زیرِ ملازمت ہیں اُس میں کئی سال تک کام جاری رکھیں، جب تک کہ آپ مہارت نہ حاصل کر لیں۔

2۔ آپ کےروایتی ’شجرے‘ کو قابلِ اعتبار نہیں سمجھا جا رہا

دوسرے الفاظ میں کہیں تو آپ نے آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم کا رُخ نہیں کیا۔ بھلے ہی ایک بڑا نام ’ایکسپوزر‘ اور نیٹ ورک کے معاملے میں آپ کے لئے کئی طرح سے منافع بخش ثابت ہو لیکن اس بات کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ ایک غیر’ آئی آئی ٹی‘ اسٹارٹپ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس بات کی تصدیق کے لئے کئی مثالیں موجود ہیں جن میں کئی ایسے اسٹارٹپ سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں جنہیں آئی آئی ٹی یاآئی آئی ایم کے گریجویٹس نے نہیں جاری کیا ہے ۔ دراصل آپ کے اسٹارٹپ کو سرمایہ کاری نہ ملنے کی صرف یہی واحد وجہ نہیں ہو سکتی۔ آپ اپنی کامیابی کی راہ میں رُکاوٹ بننے والی دیگر وجوہات کا پتہ لگانے کی کوشش کریں۔

3۔ ہو سکتا ہے آپ نے اِن غلط وجوہات کی بِنا پر اسٹارٹپ شروع کیا ہو

* کیا آپ نے کسی ذاتی مسئلے یا چیلنج کے سبب اسٹارٹپ کے میدان میں قدم رکھا؟

* کیا صرف ایک کمپنی شروع کرنا ہی اس کا واحد حل تھا؟

* کیا آپ نے اپنی ملازمت سے عدم دلچسپی کے سبب یا پھر صرف امیر بننے کے لئے کمپنی کی بنیاد ڈالی؟

یہ مضمون آپ کو اسٹارٹپ شروع کرنے کے پسِ پردہ’’ کیوں‘‘ کےمتعلق بتاتا ہے ۔ اگر اِسے دیکھ کر آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ نے غلط وجوہات سے اسٹارٹپ کی بنیاد رکھی تو بِلا جھجھک اسے فوری طور پر بند کر دیں ۔ جس کام کے لئے آپ بنے ہی نہیں ہیں، ایسے کسی کام میں اپنی زندگی کے اہم سال برباد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

4 ۔ آپ اپنے ’کانسیپٹ‘ یا آئیڈیا کی وضاحت میں قطعی نا اہل ہیں

حل :

* آپ کو اس با ت کا علم ہونا چاہئیے کہ آپ نے اپنی کمپنی کیوں قائم کی اور ایسا کرنے کے لئے آپ ہی سب سے افضل اور بہترین شخص کیوں ہیں۔

* کمپنی کے دائرۂ عمل کی توسیع کے لئے آپ کےکیا خیالات اور ارادے ہیں؟ صرف ہوائی قلعے قطعی تعمیرنہ کریں۔ جو بھی بات کریں وہ ٹھوس ، مثبت اور مستند ہو۔

* مسلسل مشق اور ریاض کریں۔

وجہ نمبر 2: آپ کا اسٹارٹپ

اس کے لئے ممکنہ وجوہات

1۔ آپ کا اسٹارٹپ در اصل ’اسٹارٹپ‘ ہی نہیں ہے۔ یہ صرف ایک آئیڈیا یا پھر’ بی۔ پلان‘ ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے یہ معلوم کرنا، کہ آپ نے واقعی کچھ کام کیا بھی ہے یا نہیں، کوئی بڑا چیلنج نہیں ہے۔ بلکہ یہ حقیقت جاننا اُن کے لئے چٹکیوں کا کام ہے ۔ کم از کم اپنے ’کانسیپٹ‘ کو تقویت بخشنے والے دستاویزات ضرور اپنے ساتھ رکھیں۔

2۔ آپ حقیقی مقصد تک نہیں پہنچ رہے ہیں

اس معاملے میں کرنے کے لئےکچھ زیادہ نہیں ہے۔ اس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ آپ ایک دیگر انٹرپرائز میں کوشش کریں جو حقیقی مسائل کو حل کرتا ہو اور قطعی ’پرسنل‘ ہو تو وہ ’آئیڈیل‘ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ اس طرح آپ حقیقی مقصد تک پہنچنے میں کامیاب رہیں۔

3۔ آپ کی ٹیم ہی ادھوری ہے

کیا آپ ’پیور پلے‘(Pure play) تکنیک کے مطابق کسی مخصوص پروڈکٹ پر فوکس کر رہے ہیں اور آپ نے پروڈکٹ ڈیولپمنٹ کے لئے ماہرین کو’ آؤٹ سورس‘ کیا ہے؟ کچھ کاروباری اداروں کے لئے تو ’ سی ٹی او‘ کے بغیر بھی شروعات کرنا انتہائی آسان ہوتاہے لیکن کچھ ایک کے لئے تو پہلے دن سے ہی’ اِن ہاؤس‘ تکنیکی مہارت لازمی ہوتی ہے ۔ اِس کے علاوہ ایک نامکمل ٹیم اُسے بھی کہا جاسکتا ہے جہاں بانی کسی كانفرنس یا تقریب میں ملے ہوں اور بغیر کسی باہمی واقفیت کے صرف پیسوں کے لیے ایک اسٹارٹپ کی بنیاد رکھ رہے ہوں ۔ ایسے اسٹارٹپ کے معاملات میں بانیوں کے درمیان باہمی تنازعہ کا امکان رہتا ہے اور’وینچر کیپِٹل‘ ان سے دُور رہنا ہی پسند کرتے ہیں ۔ سب سے پہلے یہ پتہ لگائیں کہ آپ کی ٹیم مکمل ہے یا نہیں ۔ اگر آپ کی ٹیم ادھوری ہے تو پہلے اُسے مکمل کریں۔

4۔ آپ کی ٹیم ’فُل ٹائم‘ نہیں ہے

کیا آپ اب بھی اپنی کُل وقتی ملازمت کرتے ہوئے اپنے اسٹارٹپ کے لئے ایک سرمایہ کار کا انتظار کر رہے ہیں؟ آپ کس طرح ایک سرمایہ کار سے یہ امید کر سکتے ہیں کہ وہ آپ کے اس آئیڈیا میں اپنا اعتمادظاہر کرے جس پر آپ کو خود ہی اعتماد نہیں ہے۔

5۔ آپ سب کے لئے سب کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

یاد ركھيے کہ آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں لیکن سب کچھ نہیں۔

حل :

ایک ہی معاملے پر ایک واضح حکمت عملی کے ساتھ مکمل توجہ دیں اور اس کے بعد ہی دوسرے معاملات کے ساتھ آگے بڑھیں۔

وجہ نمبر 3: وینچر کیپِٹل

یہ وہ وجوہات ہو سکتی ہیں جن کے سبب وینچر کیپِٹل آپ کے اسٹارٹپ کی قدر و قیمت نہ سمجھ پا رہے ہوں۔ کبھی بھی مایوس نہ ہوں۔ اِس بات کے مواقع ہمیشہ موجود رہتے ہیں کہ وہ آپ کے اسٹارٹپ کی قدر و قیمت سمجھنے میں کامیاب ہو جائیں۔

1۔ موقع پرست وینچر کیپِٹل

عام طور پر وینچر کیپِٹل جس طرح کی سرمایہ کاری کرتے ہیں اس میں وہ اکثر موقع اور مطلب پرست ہو جاتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ایسے کامیاب ماڈل میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش رکھتے ہوں جو امریکہ یا جاپان میں کامیاب ثابت ہو چکا ہو لیکن وہ آپ کے بالکل نئے او ر منفرد آئیڈیا کوایکدم سے ٹھکرا دیں گے۔

2۔ آپ کی کمپنی اوروینچر کیپِٹل کی توقعات کے درمیان عدم توازن

اگر ہم وینچر کیپِٹل کمپنیوں کی طرف دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اعلیٰ مقام پر قابض صرف 2 فیصد کمپنیاں ہی 98 فیصد سرمایہ فراہم کرتی ہیں ۔ ایسے میں اکثر وینچر کیپِٹل 10 گُنا یا پھر 20 گُنا ’ریٹرن‘ دینے والے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کا کاروبار بہت اچھا ہو لیکن وہ صرف 2 گُنا یا پھر 3 گُنا فائدہ دینے کاہی اہل ہو۔ ایسا ہونا بھی کوئی بُری بات نہیں ہے ۔ اِس کا مطلب صرف یہی ہے کہ وینچر کیپِٹل کا پیسہ آپ کے کام کا پیسہ نہیں ہے۔

یہاں سب سے اہم یہ ہے کہ آپ خود پر اوراپنی کمپنی پر اعتماد برقرار رکھیں۔ اگروینچر کیپِٹل آپ کے مستقبل کے پروڈکٹ کی قدر و قیمت سمجھنے سے قاصر ہیں تو آپ اِس سلسلےمیں مزید کچھ کر بھی نہیں سکتے ۔ آپ کی کمپنی کی کامیابی میں ٹائمنگ بھی ایک اہم عنصر ہے۔ بس مستقل مزاجی سے اپنا کام کرتےرہیے اور آخر کاروینچر کیپِٹل آپ کو تلاش کرتا ہوا آ ہی جائے گا۔

ویسے بھی آپ کواپنے اسٹارٹپ میں سرمایہ کاری کے لئے پوری دنیا کےوینچر کیپِٹل کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آپ کو صرف وہی چنندہ لوگ چاہئیں جو آپ کی دُور اندیشی اور سوچ کا حصّہ ہوں۔

وجہ نمبر 4: بازار

اس کی وضاحت کئی پہلوؤں کی بنیاد پر کی جا سکتی ہے:

1۔ سُست رفتار بازار

بازار میں کساد بازاری کے سبب ا سٹارٹپ کے لئے فنڈز کا انتظام کرنا ایک مشکل کام ہوتا جا رہا ہے ۔ اگر واقعی یہی معاملہ ہے تو آپ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کرسکتے۔ آپ آرام سے بیٹھ کر صرف اِس دَور کے گزرنے کا انتظار ہی کر سکتے ہیں۔

2۔ مشکل شعبے

ہو سکتا ہے کہ آپ کا اسٹارٹپ جس بازار یا شعبے سے متعلق ہو وہ سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لحاظ سے ایک مشکل شعبہ ہو۔ چاہے وہ فروخت کا طویل مدتی ماڈل ہویا اُس میں منافع کی شرح انتہائی کم ہو، یہ تمام پہلو مِل کر کسی بھی شعبے کی کارگزاریوں کو کافی دشوار بنا دیتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اگر آپ کا ناتجربہ کار اسٹارٹپ تعلیم سے متعلق ہے جو کہ اسکولوں کے لئے کوئی پروڈکٹ فروخت کرتا ہے تو عام وینچر کیپِٹل آپ کو مسترد کر دیں گے۔

3۔ مقابلہ آرائی کا بازار

ہو سکتا ہے کہ جس شعبےمیں آپ کا اسٹارٹپ کام کر رہا ہو وہاں پہلے سے ہی کئی دیگر کھلاڑی موجود ہوں اور ایسی صورتِ حال میں وینچر کیپِٹل آپ میں اور اُن میں فرق محسوس کرنے سے قاصر ہوں۔

وجہ نمبر 5: آپ کی قسمت

اگر آپ کو لگتا ہے کہ بیان کردہ وجوہات میں سے کوئی بھی وجہ آپ پرصادق نہیں آتی ہے تو پھر آپ کی قسمت ہی خراب ہے۔ ایسے میں آپ صرف کوشش ہی کرتے رہیں اور اپنی قسمت بدلنے کا انتظار کریں۔

جی ہاں! موقع ہمیشہ ہی سامنے ہوتا ہے۔

اپنی قسمت سنوارنے کے کچھ طریقے

1۔ سماجی وابستگی

ایک ماہرِنفسیات کے بقول، کسی کو بھی نصیب سے ملنے والے مواقع اس بات پر منحصر ہوتےہیں کہ اُس شخص کی سماجی وابستگی کتنی ہے اور اپنے اطراف کے لوگوں کے ساتھ اُس کے تعلقات کیسے ہیں۔

2۔ احمقانہ کام کرتے رهیں

زیادہ سے زیادہ تجربات کرتے رہیں ۔ جو لوگ بغیر سوچے سمجھے خطرات مول لیتے ہیں، قسمت بھی زیادہ تر انہی کا ساتھ دیتی ہے۔

3۔ اپنی قسمت پر اعتبار كریں

بیشتر کامیاب کمپنیاں دوسروں سے اس معنی میں مختلف ہوتی ہیں کہ وہ مثبت سوچ کے ساتھ، اپنی قسمت کے بھروسے زیادہ سے زیادہ تجربات کرتی ہیں۔’ مارک مینسن‘ کے بقول ’ وہ قسمت کی بدولت کامیابی حاصل کرتےہیں۔‘

اِس بات کا قوی امکان ہے کہ اگرکوشش کرتے رہیں گے تو آپ سرمایہ کاری حاصل کرنے میں یقیناً کامیاب ہوں گے ۔ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو درپیش مسائل ختم ہو جائیں گے۔ آپ کے سامنے چیلنجز اب بھی رہیں گے لیکن سرمایہ کاری کا مسئلہ نہیں ہو گا۔

( امیت سنگھ کے انگریزی مضمون کا آزاد ترجمہ)

قلمکار : نِشانت گوئل

مترجم : انور مِرزا

Writer : Nishant Goel

Translation by : Anwar Mirza

Related Stories