اندھیرے میں مشعل جلانے کا نام ہے 'نظر یا نظریہ'

0

جس ملک میں کرکٹ ایک عبادت اور سچن تندولکر اس کھیل کا بھگوان مانا جاتا ہو تو یہ آسانی سے سمجھ میں آ سکتا ہے کہ یہ کھیل لوگوں کی زندگی میں کتنی جگہ بنا چکا ہے۔ جارج ابراہم بھی اس کے جادو سے بچ نہیں سکے، لیکن ان پر چڑھا یہ جادو اپنے لئے نہیں بلکہ ایسے نابینا لوگوں کے لئے تھا، جو اس کھیل کو جنوں کی حد تک پسند کرتے ہیں۔ اس بات کا احساس تب ہوا جب وہ دہرادون کے ایک نابینا اسکول کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ یہاں پر جارج نے دیکھا کہ بچے صبح اٹھتے ہی کرکٹ کھیلنا شروع کر دیتے ہیں اسکول سے لوٹ کر دن کا کھانا کھانے کے بعد وہ پھر سے کرکٹ کھیلنے میں لگ جاتے ہیں۔جارج کا دس ماہ کی عمر میں ایک بیماری کی وجہ سے آپٹک اور ریٹنا خراب ہو گیا تھا۔ اس کی وجہ سے وہ نابینا ہو گئے۔ والدین نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے کا مستقبل اچھی طرح سے سںواریں گے۔

ابراہم کو ایک عام اسکول میں ہی بھیج دیا گیا۔ اس فیصلے کی وجہ سے کئی چیلنج سامنے آئے۔ ابراہم بتاتے ہیں کہ ایسے بچے معذور ہونے کی وجہ سے زندگی کی دوڑ میں پیچھے نہیں رہتے بلکہ عام لوگوں کے نظریہ کی وجہ سے یہ آگے نہیں بڑھ پاتے۔ اپنے آپ کو عام لوگوں کے مقابلے زیادہ بہترثابت کرنے کے لئے جارج نے نہ صرف ایک اشتہار ایجنسی کھولی بلکہ ورلڈ بلائنڈ کرکٹ کونسل کی تنصیب بھی کی۔ یہ تو صرف آغاز تھا، اس کے بعد انہوں نے معاشرے کی بہتری کے لئے کئی ایسے کام کئے، جو دوسروں کے لئے مثال بن گئے۔

اپنے بچپن کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ کرکٹ، موسیقی اورفلموں کا کافی شوق تھا اور جب وہ بڑے ہوئے تو آسٹریلیا کے فاسٹ بولر ڈینس للی ان کے ہیرو بن گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں میں تنہائی، امتیاز یا ہراسانی کو سمجھنے کی طاقت کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شروع شروع میں ساتھی بچے ان کا مذاق بناتےہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ان کے گہرے دوست بن گئے اور آہستہ آہستہ ان کے دوست اسکول میں ملنے والے کام میں بھی ان کا ہاتھ بٹانے لگے۔ کچھ اسی طرح کی مدد انہیں کھیل کے میدان میں بھی ملی، جہاں پر ان کے دوست نہ صرف ان کا خیال رکھتے بلکہ اپنے ساتھ کھیلنے کے لیے ترغیب بھی دیتے تھے۔ دوستوں کا ساتھ اور خاندان والوں کا بھروسہ جارج کے اعتماد کو بڑھانے کے لئے کافی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سولہ سال کی عمر میں انہوں نے پہلی بار اکیلے ٹرین میں سفر کیا۔ یہ سفر تھا كوچن سے دہلی تک۔ جب ان کی ماں ان اسٹیشن پر چھوڑنے کے لئے آئی تو کچھ ننیں بھی اسی ٹرین میں سفر کر رہی تھیں، تب ان کی ماں نے ننوں میں سے ایک سے مخاطب ہوئیں کہ وہ سفر کے دوران جارج کا خیال رکھیں۔ یہ بات جارج کو ناگوار گزری، ان کے چہرے پر اس وقت ابھرے اس جزبے کو محسوس کیا۔ والد نے نے ننوں سے کہا کہ اگر ان کو کوئی ضرورت ہو تو وہ مدد کے لئے جارج کو بول سکتے ہیں۔ اس بات سے ان تھوڑی دیر کے لئے کھویا ہوا اعتماد لوٹ آیا۔ جارج کا کہنا ہے کہ اگر آپ میں اعتماد ہو تو یہ بات معنی نہیں رکھتی کہ آپ دیکھ سکتے ہیں یا نابینا ہیں۔

جارج نے 1982 میں اشتہارات کی دنیا میں قدم رکھا۔ تب ان کی کمپنی نے ان کا تبادلہ ممبئی کر دیا تھا۔ جہاں پران کے کچھ نئے دوست بنے اور دوستوں کی مدد سے وہ پورے اعتماد کے ساتھ اوگلیوی اشتھاراتی ایجنسی میں کام کرنے لگے۔ تقریبا تین سال یہاں پر کام کرنے کے بعد انہیں دہلی واپس لوٹنا پڑا۔ کیونکہ ان کی شادی ہو گئی تھی۔ جس کے بعد وہ پرانی کمپنی میں واپس لوٹ آئے، لیکن یہاں بھی کچھ وقت بعد نوکری چھوڑ نابینا افراد کے لئے کام کرنا شروع کر دیا۔

جارج کا کہنا ہے کہ کھیل شخص کے جذبہ کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر آپ کچھ کر گزرنے کی چاہت رکھتے ہیں تو وہ آپ نے اتنا مادہ پیدا کر دیتا ہے کہ آپ کسی سے بھی لوہا لے سکتے ہیں۔ اس کے بعد آپ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ سامنے والا امیر ہے یا غریب، خوتون یا مرد۔ یہ صرف اس کھیل میں ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر موڑ پرایسا ہوتا ہے۔ جب بات کرکٹ میں کی ہوتی ہے تو جارج بتاتے ہیں کہ انہوں نے جب نابینا افراد کے لئے کرکٹ کے بارے میں سوچا تو سب سے پہلے سنیل گواسکر اور کپل دیو سے مدد کی درخواست کی۔ دونوں نے کہا کہ ان کے پاس وقت کی کمی ہے، لیکن ان کے نام کا استعمال اس نیک کام کی اجازت مل گئی۔ یہ بات جارج کے لئے کافی مددگار ثابت ہوئی کیونکہ ان دونوں کے نام پر لوگوں کو گہرا یقین تھا۔ اس کے بعد جارج نے کئی کرکٹ میچ اور ٹورنامنٹ منعقد کرائے۔ 1993 میں جب ان کے کام کے لئے انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا تو ان کے لئے اس سے نئے راستے کھل گئے۔ آہستہ آہستہ میڈیا بھی ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لینے لگا۔ اس وجہ سے بہت سے دوسرے لوگ بھی ان کی مدد کے لیے آگے آنے لگے۔ لوگوں کی حمایت سے اب وہ بینائی سے محروم لوگوں کے ورلڈ کپ کرکٹ کا تصور کرنے لگے۔ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج وسائل کی کمی تھی۔

جارج نے ہار ماننا تو سیکھا ہی نہیں تھا۔ ان کی جدوجہد سے1996 میں جب ورلڈ بلائنڈ کرکٹ كاسیل قائم ہوا۔ یہ اپنے آپ میں پہلا موقع تھا جب لوگ نابینا افراد کے کرکٹ سے جڑنے لگے اور اس طرح کرکٹ کھیلنے والے سات ملک ایک کے ساتھ منسلک ہو گئے۔ ان ممالک نے مل کر ورلڈ بلائنڈ کرکٹ كاسل تشکیل دیا، کھیل کے قوانین اور کھیل سے منسلک آلات کے بارے میں بات چیت کی گئی۔ اس اجلاس میں یہ بھی طے ہوا ہندوستان 1998 میں نابیناؤں کے لئے ہونے والا پہلا کرکٹ ورلڈ کپ منعقد کرے گا۔ اس طرح دہلی میں پہلا فائنل میچ جنوبی افریقہ اور پاکستان کے درمیان کھیلا گیا، جس میں جنوبی افریقہ فاتح رہا۔ خاص بات یہ تھی اس ٹورنامنٹ کو منعقد کرنے سے ٹھیک پہلے ہندوستان کی حکومت نے اسپانسر کے طور پر اپنا نام واپس لے لیا۔ جبکہ حکومت نے 50 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ حکومت کے اس فیصلے سے مشکلیں بڑھ گئیں تھیں.

اس وقت میں کئی چھوٹی تنظیمیں اور کمپنیوں نے مل کر پیسے جمع کئےاور اس مسئلہ کو دور کیا۔ تب ان آئی ٹی ڑی سی سے بھی کافی مدد ملی۔ انہوں نے کم داموں پر ٹھہرنے کے لئے کمرے دستیاب کرائے۔ جارج بتاتے ہیں کہ نابیناؤں کے کرکٹ کو فروغ دینے کے لئے گوالیار کے مہاراجہ مادھو راؤ سندھیا نے کافی مدد کی۔ ان کی ہی مدد سے حکومت نے نابیناؤں کے کرکٹ کو فروغ دینے کے لئے 20 لاکھ روپے دئے۔

سال 1999 میں جارج نے غور کیا کہ ان کو اپنے کام میں کچھ نیا کرنا چاہئے۔ اس کے لئے جارج کو خیال آیا کہ وہ دوسروں کے سامنے اپنی بات رکھنے میں ماہر ہیں۔ وہیں زیادہ تر نابینا افراد ایسا نہیں کر پاتے۔ انہوں نے ملک بھر میں اپنے ساتھ نابینا افراد کو شامل کرنے کا کام شروع کیا اور ان کی شخصیت اور مہارت کو بہتر بنانے کے لئے بہت سے ورکشاپ کا انعقاد کیا، تاکہ یہ لوگ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔ جارج کا کہنا ہے کہ نابینا افراد کو صرف موقع چاہئے اور وہ کہیں بھی دوسروں سے بہتر ثابت ہو سکتے ہیں۔ جارج نے حال ہی میں ایک ٹیلی ویژن سیریل کا بھی تعمیر کیا ہے. 'نظر یا نظریہ' نام کے اس سیریل کے ہر قسط کے اختتام میں فلم اداکار نصيرالدين شاہ اس کو سائن آف کرتے ہیں۔

موسیقی کو لے کر ابتداء سے ہی جارج میں ایک الگ طرح کا جذبہ تھا۔ وہ اکثر سوچتے تھے کہ ملک میں بہت سے نابینا افراد موسیقی کی تعلیم تو لیتے ہیں، لیکن وہ کسی پلیٹ فارم پر نظر نہیں آتے۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے انہوں نے ایسے نابینا گلوکاوں کی تلاش شروع کر اور جو اچھا گانا گاتے ان کی حوصلہ افزائی کرنے لگے۔ اس کے علاوہ وہ ان لوگوں کے لئے مختلف شہروں میں کنسرٹ منعقد کرتے۔ جارج کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں ٹی وی میں آنے والے شو میں بھی اگر کوئی نابینا شخص پہنچ جائے تو لوگ اس کے گانے کی وجہ سے نہیں بلکہ ہمدردی کی وجہ سے اووٹ حاصل کرتے ہیں، جو غلط ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نابینا انسان کے لئے ہمدردی کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، کیونکہ وہ جسمانی چیلنجوں کا سامنا کرنا جانتا ہے اور شان سے اپنی زندگی جی سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نابینا انسان کو تحفظ یا سیکورٹی کی ضرورت نہیں اس کی ضرورت ہے ایک اچھے دوست کی۔

- یہ مضمون ہریش بشٹ نے لکھا ہے، جس کا ترجمہ زلیخا نظیر نے کیا ہے۔