جتنی دیر میں میگی بن کر تیار ہوتی ہے اتنی ہی دیر میں کیرتی جین ضرورت مند کو بغیر کسی سیکورٹی اور ضمانت کے قرض دے دیتے ہیں

بات سال 2000 کی ہے۔ کیرتی جین پونے یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ان کی 'بیچلر آف انجینئرنگ' کی پڑھائی کا یہ آخری سال تھا۔ کیرتی کا من جوش و جذبے اور امنگ سے بھرا ہوا تھا۔ وہ نئے نئے اور خوبصورت خواب سنجو رہے تھے۔ انہیں پورا بھروسہ تھا کہ انجینئرنگ کی تعلیم کے مکمل ہوتے ہی انہیں شاندار نوکری ملے گی اور وہ اپنی زندگی کو نئے سرے سے سنوارینگے، لیکن اسی سال ان کے والد کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ صحت اتنی خراب ہوئی کہ انہیں بستر تک ہی محدود ہونا پڑا۔ والد کا جو چھوٹا سا کاروبار تھا، وہ بھی بند ہو گیا۔ اسی سال کیرتی کی بڑی بہن کی شادی کرنی تھی۔ شادی کی تاریخ بھی طے ہو چکی تھی، لیکن والد نے بیماری میں بستر پکڑ لیا تو گھر بار پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ ان کی بیماری، خود کی پڑھائی کا بوجھ اور بہن کی شادی کا دباؤ کیرتی پر اتنا بھاری پڑا کہ وہ گھبرا کرتناو میں آ گئے۔ کیرتی کے لئے سب سے چونکانے اور تکلیف دینے والی بات یہ رہی کہ اس برے وقت میں سارے رشتہ دار اور تمام قریبی دوست، ساتھی سب کنی کاٹ گئے۔ کیرتی کہتے ہیں، "تب میں نے دیکھا کہ جب وقت ٹھیک ہوتا ہے تو دوست، رشتہ دار اور دوسرے لوگ آپ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، لیکن جب وقت برا آتا ہے تو یہی لوگ سب سے پہلے آپ سے دور بھاگتے ہیں۔ اس وقت اگر ہم ایک ہزار روپے بھی کسی سے مانگیں گے تو کوئی مدد کو آگے نہیں آئے گا۔ "مصیبت پر قابو پانے کے لئے کیرتی کے والدین کو قرض لینا پڑا۔ یہی وہ وقت تھا، جب کیرتی جان گئے کہ ضرورت مند لوگوں کو قرض لینے کے لئے کتنی تکلیفیں جھیلنی پڑتی ہیں۔ انہیں اس بات کا بھی احساس ہو گیا کہ قرض لینے کے لئے کئی بار تو توہین سہنی پڑتی ہے۔ بہت سے ساہوکار ایسے ہوتے ہیں، جو مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سود زیادہ وصول کرتے ہیں۔ بینک سے قرض لینے میں بھی اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ پریشان حال انسان کی مصیبت اور بڑھ جاتی ہے۔ کاغذی کام کاج میں ضرورت مند اتنا الجھ جاتا ہے کہ بینک سے باہر بڑی شرح سود پر کسی ساہوکار سے قرض لینے میں ہی اپنی بھلائی سمجھتا هے۔ مشكلوں سے بھرے اسی دور میں کیرتی نے بہت کچھ دیکھا، سمجھا اور سیکھا تھا۔ وہ ان حالات سے نمٹتے ہوئے سوچنے لگے تھے کہ کیوں نہ ٹیکنالوجی کے ذریعہ کچھ ایسا کیا جائے، جس سے مشکل حالات میں کسی انسان کو اپنا سونا نہ فروخت پڑے، اسے اپنی عزت داؤ پر نہ لگانی پڑے، اسے کسی سے بھیک نہ مانگنی پڑے یا حالات سے نمٹنے کے لئے اسے اپنا گھر نہ فروخت پڑے۔ آسانی سے لوگوں کو قرض دلانے کے اقدامات کی تلاش میں کیرتی نے خوب سوچا۔ اسی دوران انہوں نے ایسا طریقہ بازار میں اتارنے کے بارے میں سوچا جس کے ذریعہ لوگوں کو مشکل وقت میں مالی مدد مل سکے۔ زندگی کے سب سے مشکل دور میں کیرتی جین نے طے کر لیا کہ وہ آگے چل کر کچھ ایسا کریں گے کہ جس سے لوگوں کو اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے قرض لینے میں آسانی ہو۔ اس واقعے کے پورے 14 سال بعد کیرتی جین اپنی اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہو پائے۔ ان 14 سالوں میں کیرتی نے آئی سی آئی سی آئی، یس بینک اور ناگارجن کنسٹرکشن جیسے نامور اداروں میں کام کر خوب شہرت اور دولت کمائی۔ ملازمت کے دوران کیرتی اپنی سوچ کو پورا کرنے کے بارے میں ہی سوچتے رہے تھے۔ آخر کار فروری، 2014 میں کیرتی جب ناگارجنا کنسٹرکشن کمپنی میں کام کر رہے تھے، تب انہیں لگا کہ اب اپنی سوچ کو پورا کرنے کا صحیح وقت آ گیا ہے۔

0


2014 میں کیرتی اقتصادی، سماجی اور ذہنی طور پر اتنا مضبوط ہو گئے تھے کہ انہوں نے کاروباری بننے سے ہونے والے خطرات کا سامنا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ سرمایہ جمع ہوتے ہی کیرتی نے اپنی کمپنی شروع کر لی اور ضرورت مند لوگوں کو کم سود پر، کم وقت میں، بغیر کسی کھچ کھچ کے قرض دینا شروع کر دیا۔ حیدرآباد کے کیرتی جین نے ستمبر، 2014 میں 'اینی ٹائم لون سروس' متعارف کرایا۔ انہوں نے 'ووٹ فار کیش ڈاٹ ان' کا آغاز کر دنیا کا ایسا پہلا آن لائن پلیٹ فارم کھڑا کیا، جہاں پر بغیر کوئی دستاویز، ضمانت، تصدیق کے کوئی بھی لون لے سکتا ہے۔ ایک بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ قرض کی عرضی دینے والا کوئی بھی شخص کسی بھی صورت حال سے ذلیل یا شرمندہ محسوس نہ کرے۔ اس کے علاوہ کیرتی جین 'ایس ایم اي بنک ڈاٹ ان' کے ذریعہ ضرورت مند لوگوں کو 30 ہزار روپے سے لے کر 30 لاکھ روپے تک کا قرض بھی دے رہے ہیں، تاکہ وہ بھی کاروباری بننے کا اپنا خواب پورا کر سکیں۔

'ووٹ فار کیش ڈاٹ ان' 'پيير ٹو پيير' کے شعبے میں ملک کی نمبر ایک کمپنی ہے۔ کیرتی کی یہ کمپنی آج 1 ہزار روپے سے لے کر 30 لاکھ روپے تک قرض دیتی ہے۔ قرض دینے کے لئے کیرتی کی کمپنی 'پرڈكٹو سائنس' کے ایک خاص آلے کے 'بيمس' کا استعمال کرتی ہے۔ قرض کی عرضی دینے والے شخص کے رویہ کو سمجھنے لے لئے 'ارٹفيشيل انٹیلی جنس' کی ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ کیرتی کہتے ہیں، "اس ٹیکنالوجی کی مدد سے تصویر دیکھ کر ہی یہ پتہ لگ جاتا ہے کہ قرض کی عرضی دینے والا شخص جان بوجھ کر قرض کی رقم ادا کرنے سے بچے گا یا نہیں۔ اتنا ہی نہیں کیرتی کا دعوی ہے کہ ان کی کمپنی صرف 2 منٹ میں قرض دے دیتی ہے، بشرطیکہ عرضدار سارے پیرامیٹرز کو پورا کرے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عرضدار کو کیرتی کی کمپنی سے قرض لینے کے لئے کسی بھی قسم کا کوئی کاغذ بھی ان کے پاس جمع نہیں کرنا پڑتا ہے۔

کیرتی کی کمپنی کے ایک نہیں بلکہ کئی سارے دلچسپ پہلو ہیں۔ ان کی کمپنی نہ صرف قرض دیتی ہے، بلکہ اگر کوئی شخص چاہے تو ان کی کمپنی میں سرمایہ کاری بھی کر سکتا ہے۔ اس کے لئے دلچسپی رکھنے والےشخص کو 20 ہزار روپے یا اس سے زیادہ کی رقم ان کی کمپنی میں لگانے پڑتے ہیں۔ کیرتی کا دعوی ہے کہ لوگ ان کے پاس قریب ساڑھے چھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ اس میں سرمایہ کار کو یہ سوچنے، جاننے اور سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ مقروض کا ریکارڈ کیسا ہے؟ قرض لینے والا شخص قرض اور سود کی رقم ادا کرنے کی قوت رکھتا ہے یا نہیں؟ اس طرح کے سارے سوالوں کو جاننے کی ذمہ داری کمپنی خود لیتی ہے۔

کمپنی تین طرح کے قرض دیتی ہے، پرسنل لون، اسکول کی تعلیم کے لئے لون اور مائیکرو اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزکے لئے لون۔ یہ ملک کی پہلی کمپنی ہے جو ہائر ایجوکیشن کی جگہ اسکول کی تعلیم کے لئے لون دیتی ہے۔ کیرتی جین بتاتے ہیں، "ملک میں کوئی بھی مالیاتی ادارے کے جی سے 10 پلس ٹو تک کی تعلیم کے لیے لون نہیں دیتی۔ اسکول کی فیس بھی اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ بہت سے لوگوں کو اس کے لئے بھی قرض لینا پڑتا ہے۔ اپنے بچوں کی فیس ادا کرنے کے لئے لوگوں کو پریشان نہ ہونا پڑے اسی مقصد سے ہم نے اسکول کی فیس ادا کرنے کے لئے بھی قرض دینا شروع کیا ہے۔ "

لوگوں کے لئے قرض حاصل کرنے کے عمل کو آسان بنانے والے کیرتی جین کئی سالوں تک کام کرنے کے بعد کاروباری بنے تھے۔ ویسے تو کاروباری بننے کا خواب وہ اپنے کالج کے دنوں سے ہی دیکھتے آ رہے تھے، لیکن سرمایہ کی قلت کی وجہ سے وہ کاروباری نہیں بن پائے۔ قریب 14 سال تک کام کرنے کے بعد جب کیرتی اقتصادی طور پر طاقتور ہوئے تب جاکر انہوں نے اپنی کمپنی شروع کی اور کاروباری بنے۔ کاروباری بننے کی ساری تکلیفوں اور خطرات کو کیرتی اچھی طرح سے جانتے اور سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے انہوں نے اپنی کمپنی کے ذریعہ تجارت کو فروغ دینے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے۔ وہ چھوٹے اور درمیانے طبقے کے تاجروں کو بھی کافی کم سود پر قرض دے رہے ہیں۔ قرض دیتے بھی ہیں، وہ بھی بغیر کسی سیکورٹی، بغیر ضمانت، بغیر کسی پریشانی کے ایس ایم ای لون دیتے ہیں۔ کیرتی نے بتایا کہ ان کی کمپنی 0.05 کی شرح سود سے قرض دیتی ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ یہ جو بازار میں ملنے والے قرض کے مقابلےکم ہے۔

کیرتی نے حیدرآباد سے اپنے کاروباری سفر کا آغاز کر کم وقت میں بہت ہی بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ کیرتی کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے آسانی سے لگایا جا سکتا ہے کہ 'ووٹ فار کیش ڈاٹ ان' نے گزشتہ 19 ماہ کے دوران 20 ہزار سے زیادہ لوگوں کو 34 کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض دیا ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ کیرتی نے اپنی کمپنی کی کسی بھی طرح کی کوئی مارکیٹنگ نہیں کی، صرف زبانی طور ہی تشہیر کی ہے۔ کیرتی کی کمپنی سے فائدہ اٹھانے والے لوگ دوسرے ضرورت مند لوگوں کو اپنے تجربے بتاتے ہیں اور اسی طرح سے کمپنی کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔

کیرتی کے کام کا اتنا نام ہے کہ ان کی کمپنی ان دنوں ہر ماہ 3 کروڑ روپے قرض کی رقم لوگوں کو دے رہی ہے۔ مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں پوچھے جانے پر کیرتی نے بتایا، "فی الحال ہماری کمپنی کے 3 کروڑ روپے مہینے قرض دے رہی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اگلے 5 سال میں یہ رقم 1000 کروڑ روپے تک پہنچ جائے۔ اس کے علاوہ ہمارا مقصد ہے کہ 'ووٹ فار کیش ڈاٹ ان' کو ملک کی سب سے اننوویٹیو، تیز اور کم شرح پر قرض دینے والی کمپنی بنے۔ "

کیرتی نے بتایا کہ جنوری 2017 سے ضرورت مند کی عرضی ملتے ہی فوری طور پر قرض دینے کی منصوبہ کی بھی شروعات کی جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ کیرتی کی کمپنی کو قرض دینے میں دو منٹ کا بھی وقت نہیں لگے گا۔

خود اعتمادی سے بھرے اس نوجوان کاروباری کے خواب کو پورا کرنے میں ٹی- ہب بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔ ٹی ہب کی مدد سے کیرتی جین اپنے کام کو بڑھانے کی نئی نئی تدبیریں بنا رہے ہیں۔ اس بات میں دو رائے نہیں کہ کیرتی نے کافی کم وقت میں اپنے آغاز سے ملک بھر میں خوب نام کمایا ہے۔ ان کے ایک فیصلے نے انہیں سوچنے پر ایسے مجبور کیا کہ وہ ایک بہت ہی نئے، کارگر اور تیز خیال کے ساتھ کاروباری بنے۔ کاروباری بننے کے بعد ان کی محنت، لگن ایمانداری اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے جذبے نے انہیں کافی کم وقت میں بڑی کامیابی دلائی۔ مصیبتوں سے نکل کر سامنے آئے روپے جمع کرنے کی کوشش میں بے چین ہوتے لوگوں کو آسانی سے قرض دلواتے ہوئے کیرتی ضرورت مندوں کے سب سے بڑے مددگار بن گئے ہیں۔

نئے ریکارڈ بنانا اور کاروبار کی دنیا میں نئے طور طریقے لانا کیرتی کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کیرتی ایک معنوں میں کارناموں کے بادشاہ ہیں۔ کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری پیشہ زندگی کا آغاز کرتے ہی کیرتی نے نئے نئے ریکارڈ بنانے شروع کر دیے تھے۔ پونے کے کی KKواگھ انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سے پروڈکشن انجینئرنگ میں بي اي کی ڈگری لینے والے کیرتی جین کی دلچسپی شروع سے ہی کاروبار میں تھی۔ وہ کاروباری نظام کی باريكيا سیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کامن داخلہ ٹیسٹ (کیٹ) کی تیاری شروع کی تھی۔ کیرتی ان کی کارکردگی کی بنیاد پر آئی آئی ایم كوشیكوڈ میں داخلہ ملا تھا۔ آئی آئی ایم كوشیكوڈ میں کیرتی جین نے کاروبار کے بارے میں سمجھا اور سیکھا۔ یہاں پر تعلیم حاصل کرتے ہوئے کیرتی نے ملک اور دنیا کے مختلف کامیاب بزنس-ماڈل کا بھی مطالعہ کیا۔

کیرتی نے آئی سی آئی سی آئی بینک سے اپنی نوکری پیشہ زندگی کی شروعات کی تھی۔ آئی سی آئی سی آئی بینک کی الگ الگ شاخوں میں کام کرتے ہوئے کیرتی نے وہ سب حاصل کیا، جو ان کے پہلے بینک کے کسی ملازم نے حاصل نہیں کیا تھا۔ کیرتی نے آئی سی آئی سی آئی میں تقریبا ساڑھے تین سال کے اپنے کام کی مدت میں 'سیلز اور بزنس' کرتے ہوئے 17 نیشنل ریکارڈ اپنے نام کئے۔ آئی سی آئی سی آئی کے لئے کام کرتے ہوئے کیرتی نے کاروبار کو بڑھانے کے لئے نئی حکمت عملی بنائی اس پرعمل کیا۔ کیرتی نے آئی سی آئی سی آئی میں املاک کے نظام کو نئے طور طریقے دیئے۔

کیرتی 17 نیشنل ریکارڈ بنانے تک ہی نہیں رکے۔ انہوں نے ایک ایسا بڑا اور نایاب کام کیا، جس سے ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں بھی درج ہوا۔ 27 مارچ، 2015 کو ایک ہی دن میں کیرتی نے 7.93 کروڑ روپے کی خوردہ انشورنس پالسيا بیچیں اور بین الاقوامی ریکارڈ قائم کیا۔

کیرتی نے آئی سی آئی سی آئی کو چھوڑنے کے بعد یس بینک جوائن کیا۔ آئی سی آئی سی آئی کی طرح ہی کیرتی نے یس بینک میں بھی کئی ریکارڈ اپنے نام کئے۔ وہ حیدرآباد میں یس بینک کے پہلے ملازم بنے۔ یہ کیرتی کی پہل کا ہی نتیجہ تھا کہ ہندوستان میں پہلی بار ریورس بینکنگ کی شروعات ہوئی اور اس کا کریڈٹ یس بینک کو گیا۔ کیرتی نے یس بینک میں اے ٹی ایم اور خوردہ بینکاری کا بھی آغاز کیا۔

کیرتی کے كاناموں اور ان کی کارکردگی کو ذہن میں رکھتے ہوئے یس بینک نے انہیں جنوبی اور مغربی رجن کا انچارج بنا دیا۔ کیرتی نے اپنے انداز میں کام کرتے ہوئے جنوبی اور مغربی بھارت میں یس بینک کے کاروبار کو وسعت دی اور الگ الگ جگہ بہت شاخیں قائم کیں۔ تین سال اور تین ماہ تک اپنی خدمات دینے کے بعد کیرتی جین نے یس بینک کو الوداع کہہ دیا۔

بینکنگ سیکٹر میں دھوم مچانے اور اپنی کامیابی کے اونچے پرچم لہرانے کے بعد کیرتی نے کنسٹرکشن انڈسٹری میں قدم رکھا۔ انہوں نے حیدرآباد کی ہی ناگارجن کنسٹرکشن کمپنی جوائن کی۔ اس کمپنی میں کیرتی کو اپنا دم خم ثابت کرنے اور قابلیت کی مہر لگانے کا موقع اس وقت ملا جب انہیں رانچی میں کھیل گاؤں کی ذمہ داری سونپی گئی۔

کھیل گاؤں کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے کیرتی جین نے بھارت کی تعمیر-صنعت کو ایک انتہائی شاندار اور نئی اسکیم دی۔ یہ اسکیم تھی - 'فلیٹ خریدو اور پہلے ہی ماہ سے کرایہ پاؤ' اسکیم۔ ہوا یوں تھا کہ جھارکھنڈ کے دارالحکومت میں قومی کھیلوں کے لئے کھیل گاؤں تعمیر کیا گیا۔ کھیل گاؤں کے تحت چھوٹے بڑے اسٹیڈیم کے علاوہ کھلاڑیوں اور کھیل حکام کے رہنے ٹھہرنے کے لئے اپارٹمنٹ بھی بنائے گئے، لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر نیشنل گیمز کے انعقاد کو ملتوی کرنا پڑا تھا۔ کھیل گاؤں کا یہ منصوبہ بھارت ہی نہیں بلکہ پورے ایشیا میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت بنایا گیا سب سے بڑا منصوبہ تھا۔

اس منصوبے کے تحت اپارٹمنٹ بن کر تیار تو ہو گئے تھے، لیکن قومی کھیلوں کے ملتوی ہونے کی وجہ سے انہیں بنانے والی کمپنی ناگارجنا کنسٹرکشن کو خسارہ ہو رہا تھا، چونکہ اپارٹمنٹ خالی پڑے تھے اور نیشنل گیمز کی تکمیل کے بعد ہی انہیں فروخت کرنے کا منصوبہ تھا۔ ناگارجن کنسٹرکشن نے بینکوں سے قرض لے کر کھیل گاؤں کی آپ کے منصوبے کو مکمل کیا تھا۔

قومی کھیل ہوئے نہیں تھے، اس وجہ سے فلیٹ فروخت نہیں کئے جا سکتے تھے اور کمپنی کو قرض چکانا تھا۔ اس سے خسارہ بڑھتا جا رہا تھا۔ اس خسارے سے نکالنے کی ذمہ داری کیرتی جین کو سونپی گئی۔ کیرتی نے کمپنی کو اس منصوبے میں خسارے سے نکالنے کے لئے اپنی پوری دماغی طاقت لگا دی۔ اس کا نتیجہ بھی جلد ہی نکل آیا۔ کیرتی نے اپنی کمپنی کے سامنے 'فلیٹ خریدو اور پہلے ہی ماہ سے کرایہ پاؤ' اسکیم پیش کی۔ اسکیم نئی تھی اور اثر دار بھی۔ کمپنی نے اسے لاگو کرنے کے کیرتی کی تجویز کو منظوری دے دی۔ اس اسکیم کے تحت کھیل-گاؤں میں بنے اپارٹمنٹس کے فلیٹ خریدنے پر مالک کو فلیٹ نہیں سونپا گیا، لیکن پہلے ہی مہینے سے اسے کرایہ ملنے لگا۔ فلیٹ خریدنے والوں سے یہ معاہدہ کیا گیا کہ نیشنل گیمز کی تکمیل کے بعد انہیں فلیٹ سونپے جائیں گے اور تب تک ان کو ہر مہینہ فلیٹ کا کرایہ دیا جائے گا۔ اس دلچسپ اسکیم کو لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور فلیٹ خریدے۔ کیرتی کی اس اسکیم نے ناگارجنا کنسٹرکشن کو بھاری نقصان سے بچا لیا تھا۔ اس طرح کیرتی جین نے بینکنگ سیکٹر کے بعد کنسٹرکشن انڈسٹری میں بھی اپنی خاص چھاپ چھوڑی اور اپنے تیز دماغ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔

2014 سے کیرتی جین نے تجارت کو مکمل طور پر اپنا لیا۔ اسٹاٹپ کی منفرد دنیا میں انہوں نے تیزی سے قدم بڑھائے اور اپنی دماغی طاقت اور دم خم سے کامیاب کاروباری بن گئے۔

جتنی منفرد کیرتی کی سوچ ہے، اتنے ہی منفرد ان کی زندگی کے کئی سارے تجربے اور پہلو بھی ہیں۔ اپنی دماغی طاقت سے ہر کسی کو متاثر کرنے والے کیرتی ساتویں کلاس تک تعلیم کے معاملے میں اوسط تھے۔ ان کا سارا دھیان اکسٹرا كركيلر میں رہتا تھا۔ وہ اداکاری، گانا، ہدایتکاری میں اول تھے، لیکن ایک دن والد نے کیرتی کو یاد دلایا کہ ان کی دونوں بڑی بہنیں تعلیم میں کافی تیز ہیں اور انہوں نے گولڈ میڈل بھی جیت لیا ہے۔ باپ نے اپنے لاڈلے بیٹے کو یہ مشورہ بھی دیا کہ اسے بھی اپنی بہنوں کی طرح کلاس میں فرسٹ آنا چاہئے۔ اس کے بعد کیرتی نے فیصلہ کر لیا کہ وہ تعلیم کو کافی سنجیدگی سے لیں گے اور اس معاملے میں بھی اونچے مقام پررہیں گے۔ تعلیم میں اپنی بہنوں کی طرح بننے کے ارادے نے کیرتی کو بہترین طالب علم بنا دیا۔ کیرتی نے حیدرآباد کے ہنومان ویام شیالہ سے دسویں کی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد انہوں نے انجینئر بننے کے مقصد سے سینٹ میريز کالج میں داخلہ لیا تھا۔

ٹی حب میں ہوئی ایک خاص ملاقات میں کیرتی جین نے یہ بھی بتایا کہ ان کے دماغ میں اور بھی بہت سارے منصوبے ہیں۔ فی الحال وہ انہیں اپنے دماغ تک ہی محدود رکھ رہے ہیں۔ اپنی 'اینی ٹائم لون سروس' اسکیم کو نئی بلندیوں پر پہنچا نے کے بعد وہ ان کی نئی اسکیموں اور منصوبوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لئے کام شروع کریں گے۔ کیرتی یہ کہنے سے بھی نہیں چوکے کہ وہ اگلے دس سالوں کے لئے کافی مصروف رہیں گے۔ ان کی بیوی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور وہ بھی دولت کما رہی ہیں اور اسی وجہ سے وہ اب مالی طور پر خطرے اٹھانے کی پوزیشن میں ہیں۔ کیرتی کے دو بیٹے ہیں۔ بڑا بیٹا تیسری کلاس میں ہے جبکہ چھوٹا بیٹا ابھی كنڈرگارٹن میں ہے۔

Dr Arvind Yadav is Managing Editor (Indian Languages) in YourStory. He is a prolific writer and television editor. He is an avid traveler and also a crusader for freedom of press. In last 19 years he has travelled across India and covered important political and social activities. From 1999 to 2014 he has covered all assembly and Parliamentary elections in South India. Apart from double Masters Degree he did his doctorate in Modern Hindi criticism. He is also armed with PG Diploma in Media Laws and Psychological Counseling . Dr Yadav has work experience from AajTak/Headlines Today, IBN 7 to TV9 news network. He was instrumental in establishing India’s first end to end HD news channel – Sakshi TV.

Related Stories