ہزاروں لڑکیوں اور عورتوں کو جسموں کے بازار سے نکال کر گھر پہچانے والی انورادھا کوئرالا

ساحر لدھيانوي نے کہا تھا...عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اس بازار دیا، جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دتكار دیا... جسموں کا کاروبار کرنے والے مردوں کی اسی دنیا سے لڑنے والی ایک عام ٹیچر انورادھا کوئرالا آج انسانی اسمگلنگ کے خلاف ایک سپہ سالار کا مقام حاصل ہے۔ انہوں نے دنیا بھر سے 35 ہزار سے زائد نیپالی خواتین، بچیوں اور بچوں کو انسانی اسمگلروں کے نیٹ ورک سے آزاد کرایا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ناممکن سمجھی جانے والی معاشرے میں ان کی واپسی کو بھی قابل اعتماد بنانے کی راہ میں بےمثال کام کیا ہے۔ انورادھا کی پیدائش ہندوستانی فوج میں ایک نیپالی افسر کے گھر ہوئی۔ ان کے دادا نیپال کے ایک گاؤں میں گاوں کے سردار تھے۔ چار سال کی عمر میں ہی ایک کانوینٹ اسکول انورادھا کا داخلہ کرایا گیا ۔انورادھا نے 18 سال کی عمر تک کا اپنا وقت دارجلنگ اور کولکتہ میں گزارا، لیکن بعد میں وہ نیپال چلی گئیں۔ یہاں انہوں نے مشہور کوئرالا گھرانے میں شادی کرلی، لیکن بہت زیادہ دن تک وہ اس خاندان کے ساتھ نہیں رہ پائیں۔ اپنے چھوٹے بیٹے کو لے کر اپنی الگ زندگی بسائی۔ ایک دن نیپال کے پشوپتی مندر کے پاس ٹہلتے ہوئے انہوں نے بعض عورتوں سے بھیک مانگنے کا سبب جانا تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ظلم کا شکار ان عورتوں کے بارے میں جب کچھ کرنے کا من بنایا تو پھر قدم کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ ان کا این جی او مايتي نیپال آج دنیا بھر میں دبی کچلی نیپال عورتوں کو شکاری جبڈو سے باہر نکالنے کے لئے جانا جاتا ہے۔ ممبئی، کولکتہ اور دہلی کے بازاروں میں چھاپے ماری کر انہوں نے ہزارہا لڑکیوں کو ان کے گھروں تک واپس پہنچایا ہے۔ گزشتہ دنوں وہ فلو کے پروگرام میں حصہ لینے کے لئے حیدرآباد آئی تھیں۔ اسی دوران ان سے بات چیت ہوئی۔ اس بات چیت میں سامنے آئی کہانی پیش ہے۔ 

0

میرے والد ہندوستانی فوج میں کرنل تھے۔ میرے بھائی بھی کرنل اور میجر جیسے عہدوں سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ میرا بچپن بھارت میں ہی گزرا۔ دارجلنگ میں تعلیم حاصل کی۔ یہاں سینٹ جوجف كانویٹ میں میرا داخلہ کروایا گیا تھا۔ كالج کی تعلیم کولکتہ میں سینٹ جیویر کالج میں ہوئی۔ 18 سال کی عمر میں میں نیپال واپس آئی۔ وہاں پر انہی دنوں انگریزی میڈيم اسکول شروع ہوئے تھے اور اس میں میں نے ٹیچر کے طور پر پڑھانا شروع کیا۔ میرے دادا گاوں کے سردار تھے۔ اسکول کی چھٹیوں میں میں دادا کے ساتھ رہتی تھی۔ گاؤں کی كچهري کی ذمہ داری بھی دادا کی ہی تھی۔ ہم چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ میرے دادا کی رائے تھی کہ بیٹیوں کو خوب پڑھانا چاہئے۔ میں  تقریبا 68 سال پہلے کی بات کر رہی ہوں۔ میرےدوبھائی نیپال اسکول میں پڑھتے تھے، لیکن ہم بہنوں کو کانوینٹ میں داخل کروایا گیا۔ میں اپنے دادا کی شکر گزار ہوں کہ ان کی سوچ کی وجہ سے مجھے اچھا پڑھ پائی۔ میری ماں نے بھی قربانی دیتے ہوئے مجھے چار سال کی عمر میں ہاسٹےل میں داخل کروانا قبول کیا۔ والد کی پوسٹنگ ان دنوں اسنسول میں ہوا کرتی تھی۔ وہاں ماں ہر دن مدر ٹریسا کے لپرسی سینٹر میں جاتی تھیں۔ کبھی کبھی ماں نے مجھے اپنے ساتھ سماجی خدمت کے لئے لے جاتی تھی۔ اس طرح ماں اور دادا سے کافی حوصلہ افزائی ملی۔

نیپال میں رہنے کے دوران ہی میری جان پہچان دنیش پرساد کوئرالا سے ہوئی تھیں۔ ہمارا خاندان وہاں ایتھنك گروپ سے آتا ہے، لیکن کوئرالا اعلی ذات کا اور کافی تسلط والا خاندان سمجھا جاتا ہے۔ میں نے ان سے  شادی کی۔ جب والد کو یہ اطلاع ملی تو انہوں نے ایک سطر کا خط مجھے لکھا تھا۔ ۔۔۔ میں ہمیشہ تمہیں ایک بیٹے کی طرح سمجھتا رہا، لیکن آج تم نے مجھے دھوکہ دے دیا... وہ صحیح بھی تھا۔ یہ انٹرکاسٹ میرج تھا۔ انہیں پتہ تھا کہ دونوں ذاتوں میں کافی فرق ہے۔ ان کا خیال تھا کہ مجھے اس خاندان میں زیادہ احترام نہیں ملے گا۔ آگے چل کروالد کی بات صحیح نکلی۔ خاندان میں ذات پات کے نظام کی جڑیں میری سوچ سے بھی زیادہ  گہری تھیں۔ میں نے بہت کوشش کی کہ وہاں ایڈجسٹ کروں، لیکن میری ساس نے کبھی مجھے قبول نہیں کیا۔ میں پڑھی لکھی تھی، گھر میں بیٹھی نہیں رہتی تھی۔ ٹیچر کے طور پر کام کرتی تھی۔ میرے شوہر ماں کا بہت احترام کرتے تھے۔ مجھے وہ اچھا بھی لگتا تھا، لیکن ماں کی باتیں سن کر جب وہ مجھ سے کہا سنی کرتے تو اچھا نہیں لگتا تھا، پھر ایک دن جب میں ایک بچے کی ماں بنی تو اپنے بچے کو لے کر الگ رہنے لگی۔

ساماجی خدمات کی ابتدا

میں ہر روز پشوپتی مندر کے پاس ٹہلنے کے لئے نکل جایا کرتی تھی۔ میں وہاں کچھ خواتین کو ادھر ادھر بھیک مانگتے دیکھا کرتی تھی۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک صحت مند عورت بھیک مانگ رہی ہے۔ میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو پایا کہ وہ ظلم کا شکار ہیں۔ وہ بلاتكار،  گھریلو تشدد اور اسمگلنگ کا شکار تھیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ اپنا خود کا کچھ کام نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کوکام کون دے گا،  میں نے ان کے سامنے مدد کرنے کی تجویز پیش کی۔ 1000-1000 روپے لے کر پاس کی گلیوں میں چھوٹی موٹی چیزیں فروخت کے لئے  8 خواتین سامنے آئیں۔ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے روپے دیے کہ وہ ہر دن 2 روپے لوٹائینگی تاکہ میں دوسری خواتین کی بھی مدد کر سکوں۔ دوسرے مجھے ان میں بچت کی عادت بھی ڈالنی تھیں۔ کیونکہ نیپالی بھی کچھ کچھ ہندوستانیوں جیسے ہی ہیں کہ آج کماؤ آج کھاؤ، پیچھے کچھ نہیں رکھیں گے۔

 جب میں نے دیکھا کہ میرا کام بڑھ رہا ہے تو میں نے نوکری چھوڑ دی۔ جب شروع میں خواتین کو خود کفیل بنانے کے لئے کام شروع کیا تو انہوں نے اپنے بچوں کی فکر میرے سامنے رکھی۔ میری تنخواہ اس وقت 7000 روپے تھا۔ انہیں  پڑھانے کے لئے دو کمروں کا ایک گھر کرایہ پر لے کر کام شروع ہوا۔ میں دیکھتی تھی کہ لوگ غریبوں کی فلاح و بہبود کو لے کر  پانچ ستارہ ہوٹلوں میں ملاقاتیں کرتے ہیں اور زمینی حقیقت بھول جاتے ہیں کہ انہیں مظلوم لوگوں تک پہنچ کر کام کرنا ہوگا۔

 میرے پاس اتنی دولت تو تھینہیں ، لیکن دل تھا، ہمت تھی۔ میں نے اپنی ساری جمع پونجی مظلوم  خواتین کی باز آبادکاری پر لگا دی۔ نہ صرف زیورات فروخت کیے بلکہ اپنی چھوٹی سی زمین بھی بیچ دی۔ کام چل رہا تھا۔ اسی دوران کسی نے مشورہ دیا کہ میں اپنا این جی او کھولوں۔ مجھے اس کے بارے میں مزید معلومات نہیں تھی۔ پھر میں نے کچھ دوستوں کے تعاون سے مايتي نیپال کا آغاز کیا۔ مايتي کا مطلب ہوتا ہے مايكا۔ وہ خواتین جنہیں سماج نے بے عزت کیا تھا، دھتكارا تھا، بے سہارا مرنے کے لئے چھوڑ دیا تھا۔ انہیں دوبارہ سے ماں کے گھر جیسا ماحول فراہم کرنا میرا مقصد بن گیا تھا۔  7 اضلاع میں میں نے جن چیتنا کا کام شروع کیا۔ اس کے لئے پولیس  طلباء، وکیل، نرس اور ڈاکٹروں کا ساتھ لینے کی کوشش کی۔ 100 گاوں سے کام شروع ہوا اور اب 26 اضلاع میں کام چل رہا ہے۔

مشکل کے کئی دور 

جب این جی او شروع ہوا تو میرے سامنے نیپال کی سب سے زیادہ وشد مسئلہ تھا، یہاں کی لڑکیاں جنہیں بھارت اور دوسرے ممالک کے بازاروں میں فروخت کیا جاتا تھا اور جب انہیں ایڈز یا دوسری بیماریاں ہو جاتی تھیں تو پھر واپس بھیج دیا جاتا تھا۔ وہ بہت تکلیف میں تھیں۔ مجھے لگا کہ ان خواتین کے لئے کام کرنا ضروری ہے۔ ان خواتین کو کوئی کام نہیں دیتا تھ۔ جب بھی وہ کام مانگنے جاتیں تو انہیں رےپھرےس پوچھا جاتا اور ان کی سفارش کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ یہ کام ہمیشہ مشکل رہے گا۔ اس لئے بھی کی یہ دنیا کا سب سے گھناؤنا کاروبار ہے، جس سے ہم لڑ رہے ہیں۔ لوگ انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں، لیکن یہ صرف پڑھے لکھے لوگوں کو ہی معلوم ہے۔ حقوق کی بات تو سب کرتے ہیں، لیکن فرائض کی بات کوئی نہیں کرتا۔ ایک لڑکی ہمارے سدھارگره آئی، وہ بہت خوبصورت تھی، لیکن اسمگلروں نے اس کو کافی پرتاڈت کیا تھا۔ بہت سے مارکیٹوں میں اس فروخت اور اس سے عصمت فروشی کروائی۔ جب وہ ایڈز سے پيڈت ہوئی اور آخری اسٹیج میں تھی تو نیپال بھیج دیا تھا۔ میرے پاس آئی تو میں نے اسے اپنے پاس رکھ لیا۔ جب اس کی موت ہوئی تو مقامی قبرستان میں اسے جگہ دینے سے انکار کیا گیا۔ كبراستان والے کہا کہ اسے دپھناےگا تو اسے بھی ایڈز آئے گا۔ عام طور پر جہاں 850 رپےي قبرستان میں دینے پڑتے تھے۔ وہاں پولیس کا تعاون لینے کے باوجود مجھ اس لڑکی کے آخری تدفین کے لئے 7000 روپے دینے پڑے۔ مجھے دکھ ہوتا ہے کہ ان لڑکیوں کے سارے حق چھین لئے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کا جنازہ کا حق بھی اسے نہیں دیا گیا۔

اپنے بیٹے کو وقت نہیں دے پاتی تھی وقت

مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے۔ میرے کام کی وجہ سے میں  اسے وقت نہیں دے پاتی تھی۔ وہ اپنا سارا کام خود کر لیتا تھا۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ اس نے گھر میں سامان بجا کر کچھ آوازیں کیں۔ وہ ابھی پرائمری اسکول میں تھا۔ اس ہنگامے کی اس نے جو وجہ بتائی، میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے کہا، ۔۔ ماں آپ دن بھر اپنی بچیوں کو ہی وقت دیتی ہو۔ میں اسکول بھوکا گیا، وہاں بھی کچھ نہیں کھایا۔ واپس آیا ہوں تو اب بھی آپ ان بچیوں کو ہی کھلا رہی ہو، مجھے کچھ نہیں کھلا رہی ہو .... مجھے لگتا ہے کہ میرے کام کی وجہ سے وہ اپنا بچپن بھرپور نہیں جی نہیں پایا ۔ جوانی میں بھی سب کچھ اپنے آپ ہی کرتا رہا۔ اب اس کا ایک بیٹا ہے۔ دادی کے طور پر مجھے اب اس کا خیال رکھنا ہے۔

میں نے پایا کہ کراس بارڈر لڑکیاں فروخت کئے جانے کی روایت بہت پرانی ہے۔ اس کی جڑیں بہت گہری  ہیں۔ گزشتہ 250 سالوں سے شمالی ہندوستان اور ممبئی کے باذررو میں لڑکیاں نیپال سے لا کر بیچی جاتی رہی ہیں۔ میں نے دیکھا کہ ہندوستان میں جب لڑکیوں کی اسمگلنگ کے بارے میں بات ہوتی ہے تو اعداد و شمار بتائے جاتے ہیں کہ ڈیڑھ لاکھ لڑکیاں بےچي گئیں، لیکن جب میں نے وہاں پولیس اسٹیشنوں سے اس بارے میں معلومات لینی چاہی تو پتہ چلا کہ معاملے ہی درج نہیں ہوتے ہیں ۔ رپورٹنگ نل تھی۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ اعداد و شمار آپ نے کہاں سے لائےپانچ ستارہ ہوٹلوں میں بیٹھكر اس طرح کے اعداد و شمار گڑھنا آسان ہے۔ اگر کوئی والدین شکایت لے کر پولیس اسٹیشن پہنچ بھی جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ بیٹی جوان ہے کسی کے ساتھ چلی گئی ہوگی۔ اسے ڈھوڈنے کا کوئی جتن نہیں کیا جاتا۔ اس طرح کے جواب پولیس سے آنا معمول بن گیا تھا۔ جس سے اسمگلر حوصلہ افزاء ہوتے تھے اور ماں باپ بے یار و مددگار۔ اس کو بریک کرنا میرے لئے ضروری تھا۔ میں گاؤں گاؤں جاتی اور لوگوں سے اس معاملے میں بات کرتی۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ میں سال بھر میں 8 دورے کرتی ہوں جو کئی دن چلتے۔ راتوں میں لوگوں سے ملا کرتی ہوں، تاکہ لوگ اپنے کام سے واپس آئیں۔ اس کے لئے میں نے نیپال لوك گيتو کا سہارا لیا۔ نئے گیت بنائے۔ لڑکیوں، ان کے ماں باپ، پولیس، قانون، اسمگلر سب کے لئے کچھ نہ کچھ پیغام تھا۔ اب بھی لوگ پولیس کے پاس رپورٹ کرنے نہیں جاتے، لوگ مايتي نیپال کے پاس ہی آتے ہیں، لیکن ان کے پاس بیٹیوں کی تصویر نہیں ہوتی۔ مايتي نیپال نے اپنے والینٹير کو کیمرے دیے ہیں،  وہ لوگوں کی تصاویر لے کر انہیں دیتی ہیں، تاکہ انہیں تصاویر لینے کے لئے کئی کلومیٹر تک پیدل چل کر جانا نہ پڑے۔؟

 دھمکیوں  کی نہیں کی پروہ 

 کئی بار دھمکیاں ملیں، بلکہ مجھے یہ بھی کہا کہ آپ کا بیٹا اس اسکول میں پڑھتا ہے، اسے اٹھا لیں گے۔ میں  ان سے براہ راست چیلنج دیتی ہوں، اٹھا لو تلاش کر لیں گے۔ انہیں بھی احساس ہے کہ میں برا کام نہیں کر رہی ہوں۔ برے لوگ اچھا کام کرنے والوں سے بھی ڈرتے ہیں۔ میرے ساتھ وہ لوگ ہیں جن کے لئے میں کام کر رہی ہوں۔ بہت سے لوگوں کی زندگی میں تبدیلی آئی ہے۔ بلکہ کچھ واقعات تو بڑے دلچسپ ہیں۔ ایک بار میں نے ممبئی میں چھاپے کے دوران کچھ لڑکیوں چھڑايا اور جب انہیں واپس لے جایا گیا تو پتہ چلا کہ لڑکی کو فروخت کرنے میں ایک مقامی نوجوان صحافی بھی شامل ہے۔ اسے پولیس نے گرفتار کیا اور طویل سزا ہوئی۔ ایک دن اس کے پاس سے خط آیا وہ آگے پڑھنا چاہتا ہے اور اس کو مدد کی ضرورت ہے۔ میں اس کے لئے تیار ہو گئی، حالانکہ لوگوں نے خبردار کیا، لیکن میں نے آگے بڑھ کر اس کی مدد کی۔ اس نے پی ایچ ڈی کی اور آج وہ جیل اصلاحات کے لئے ایک این جی او چلا رہا ہے۔ مجھے ممبئی، دہلی اور کولکتہ سے مقامی این جی اوز نے بھی ساتھ دیا۔ سنیل شیٹی کی ساس وپلا نے 260 لڑکیوں کو واپس لے جانے میں فضائی سروس کا خرچ اٹھایا۔ اب ان کی بیٹی مانا شیٹی کا ادارہ بھی بچوں کے لئے کام کر رہا ہے۔

اب لوگ اپنی بیٹیوں کو پڑھا رہے ہیں۔ دوسری طرف اسمگلنگ کی رپورٹنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ عام طور پر لوگ اچھا روزگار دلانے کے بہانے لڑکیوں کو لے جاتے ہیں اور پھر انہیں فروخت کرتے ہیں۔ دیہی لوگ اس بات کو سمجھنے لگے ہیں۔ سب سے بڑی تبدیلی عدالتوں کے عمل میں آئی ہے۔ پہلے جب ہم کسی لڑکی کو بچا کر لے جاتے اور اس کے فروخت کرنے والے کے بارے میں کارروائی کرتے تو اسے چار سال لگ جاتے تھے، لیکن اب عدالتیں اس ان معاملات کو 15 دن میں نمٹا کر اپنا فیصلہ سنانے لگی ہیں۔ سزا کا عمل تیز ہونے کی وجہ سے اسمگلنگ کے واقعات میں تیزی سے کمی آنے کا امکان ہے۔ اب تک 1200 لوگوں کو ہم نے جیل بھیج دیا ہے۔ اب یہاں کی لڑکیوں کو دبئی اور دیگر ممالک میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ یہ پہلے بھارت میں لائی جاتی ہیں اور انہیں یہاں سے دوسرے ملک لے جایا جاتا ہے۔ اسے روکنا ضروری ہے۔

कहानियाँ मुझे विरासत में मिली हैं। माँ, बाप, चाचा, चाची, मासी, बुआ, नानी दादी, सब की अलग अलग कहानियाँ थीं। उसी विरासत को पास पड़ोस, दोस्त रिश्तेदार, नुक्कड, गली, मुहल्ला, शहर, देश और विदेश के चेहरों में छुपी कहानियों के साथ मिलाकर पेश कर रहा हूँ।

Related Stories

Stories by F M SALEEM