ایک مثالی شادی ۔۔۔

ایسا کچھ ہو کہ معاشرے میں انقلاب آئے۔ بڑی تبدیلی آئے۔ ساری منفی چیزیں مثبت ماحول میں بدل جائے، لیکن یہ سب تبدیلی پڑوس سے شروع ہونے کا انتظار کرتے رہنے سے نہیں ہو گا، بلکہ اپنے گھر سے اپنی ذات سے ہی اسے شروع کرنا پڑے گا۔ ایسا ہی ایک ترغیب واقعہ یہاں پیش ہے-

0

مہاراشٹر کے شہر امراوتی کے انجینئرنگ آڈیٹوریم میں ایسا لگتا تھا کہ کسانوں میں بیداری لانے کے لئے ایک پلیٹ فارم بنا ہے۔ موجود لوگوں کی نگاہ پلیٹ فارم کی طرف ہی تھی۔ پروگرام کی صدارت کسان تحریک کے لیڈر چندركات وانكھیڑے کر رہے تھے۔ تقریب میں کئی ممتاز شخصیتیں موجود تھیں۔ لگتا تھا جیسے یہ سب کسانوں کی تحریک کا ہی حصہ ہے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ ایک شادی کی تقریب تھی۔ ایک مثالی اور منفرد شادی کی تقریب۔

امراوتی کے ابھے دیورے اور پریتی كبھارے نے بالکل سادگی کے ساتھ شادی کی۔ ابھے نے گزشتہ سال یونین پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا ہے۔ وہ ناگپور میں اسسٹنٹ انکم ٹیکس کمشنر ہیں۔ پریتی ایوت محل میں بینک میں اسسٹنٹ مینیجر ہیں۔ دونوں خاندانوں کی اقتصادی حالت اتنی اچھی ہے کہ وہ بڑا سا پروگرام کر دھوم دھام سے شادی کر کے معاشرے میں اپنی خوشحالی کی نمائش کر سکتے ہیں، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ صرف معاشرے میں شادی کی معلومات دینے کے لئے انہوں نے ایک پروگرام رکھا اور شادی پر ہونے والے ممکنہ اخراجات کو یوت محل اور امراوتی اضلاع میں خود کشی کرنے والے 10 کسانوں کے خاندانوں کی مدد کے لئے عطیہ دے دیا۔ ساتھ ہی ضرورت مند طلباء کو 20 ہزار روپے تعاون کیا گیا، تاکہ وہ اپنی تعلیم بہتر طریقے سے جاری رکھ سکیں۔ اس نئے جوڑے نے ان کسانوں کے بچوں کی مزید تعلیم کےی ذمہ داری اٹھانے کاعہد بھی اس موقع کیا۔ اس نئے جوڑے نے تقریباً 3 لاکھ روپے ضرورت مندوں میں تقسیم کئے۔

اس موقع پر اور بہت کچھ ہوا۔ ایسی لائبریریوں کو کتابیں اور الماریاں دی گئیں، جو مقابلہ جاتی امتحانات میں طلباء کو تیاری کرواتے ہیں۔ تقریبا 52000 روپے کی كتب اور دیگر مواد یقینی طور پر ان لائبریریوں کے لئے کافی مددگار ثابت ہوگا۔ شادی کی تقریب میں رشتہ داروں کے علاوہ آئی آر ایس اور آئی اے ایس افسر تھے اور باقی کسان اور طالب علم۔

آج صرف مہاراشٹر میں ہی نہیں، بلکہ ملک بھر میں کسانوں کی خودکشی سب سے اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ایک طرف فصلوں کا برباد ہونا اور دوسری طرف بیٹیوں کی شادی جیسی مسائل کسانوں کو خودکشی پر مجبور کر رہے ہیں۔ کیونکہ شادی بیاہ میں بھاری اخراجات کا مظاہرہ کبھی خواہش سے اور کبھی ہچکچاہٹ سے کرنا پڑ رہا ہے۔ بہت سے کسانوں کو ان کے کھیت بیچ کر بیٹیوں کی شادی کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اس طرح ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں واقعات موجود ہیں۔

ایسے ماحول میں ایک آئی آر ایس افسر اور ایک بینک افسر نے اس سادگی سے شادی کر اس خرچ سے ضرورت مند لوگوں کی مدد کی۔ ابھے کے والد نے اس وقت جو کہا وہ بھی کافی اہم ہے، انہوں نے کہا کہ کئی خواہشیں ہو سکتی ہیں، لیکن انہیں درکنار کر معاشرے میں کچھ بہتری کے پیغام سے ایسا کرنا ضروری ہے۔

بتاتے ہیں کہ IRS کے تربیت کے دوران ابھے کو صدر جمہوریہ سے ملنے کا موقع ملا۔ اس وقت صدر نے انڈین سروس کے حکام آئی اے ایس، آئی آر ایس، اور آئی پی ایس ٹرینیوں سے کہا تھا کہ معاشرے کے لئے کچھ وقت نکال کر سماجی تبدیلیوں کے لئے بھی کچھ کام کریں۔ ان کے اس پیغام سے ابھے کافی متاثر ہوئے اور انہوں نے اپنے شادی کو ہی اس پیغام پر عمل کرنے کا پلیٹ فارم بنایا۔

ابھے یہ مانتے ہیں کہ ملک میں ہر سال تقریبا 1 لاکھ کروڑ روپے شادیوں پر خرچ کیے جاتے ہیں۔ عام شادیوں میں بھی لوگ 3 لاکھ روپے سے 5 کروڑ روپے تک خرچ کر دیتے ہیں۔ یہ حالت بدلنی ضروری ہے۔

پھر انہوں نے کسانوں اور خاص طور پر ان کی بیٹیوں کی مدد کرنے کا ارادہ کیا۔ ابھے کے اس ا قدام سے لوگوں کو ضرور اس بات پر سوچنا چاہئے کہ کہیں نہ کہیں ہمیں بیکار اخراجات پر روک لگانا ہوگا اور معاشرے میں تبدیلی کو سمت دینی ہوگی۔

کچھ اور مثالیں

اسی طرح کے اور شادی کی رپورٹ یور اسٹوری نے اس سے قبل شائع کی تھی۔ ایک شادی تھانے کے واڈكے خاندان میں ہوا تھی۔ جہاں کیمیکل انجینئر وویک واڈكے کی شادی واسنتی سے ہوئی اور اور انہون تقریباً 6 لاکھ روپے جالنہ او ناندیڑ کے کسان خاندانوں کو دیے۔

معاشرے میں آہستہ آہستہ تبدیلی آ رہی ہے۔ پریل ممبئی میں رہنے والے ریلوے اہلکار بمن بسواس ہر ماہ اپنی تنخواہ سے 40 فیصد رقم ممبئی سے 700 کلومیٹر دور ایک گاؤں کے كسانوكے فلاح و بہبود کے لئے دے رہے ہیں۔

- تھنک چینج انڈیا