میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے... صوفی موسیقی کی ہمسفر سمیتابیلّور

سمتا ان دنوں ممبئی میں رہ رہی ہیں۔ ہندوستانی کلاسیکی اور صوفی موسیقی کے میدان میں ان کی صلاحیت کو حال کے دنوں میں کئی پروگراموں میں دیکھا جا چکا ہے۔ وہ صوفی موسیقی میں تحقیق کے ساتھ ساتھ خیال گائیکی کے نئے نئے پہلوؤں کے تجربات میں رمی ہوئی ہیں۔

0

جگر مرادابادی نے کہا تھا، 

ان کا جو کام ہے وہ اہل سیاست جانیں

میرا پیغام محبت ہے، جہاں تک پہنچے

صوفی گائکی کی دنیا میں تیزی سے ابھرنے والی سمتا بیلور...انسانوں کے درمیان بڑھتی ہوئی نفرت سے دکھی ہوکر سوچتی ہیں کہ محبت کا پیغام پھیلانے والوں کو اپنی تحریک تیز کرنی چاہئے، تاکہ نفرتوں کے ایجنڈے کی آگ کو پھیلنے سے روکا جا سکے اور ان کےنزدیک موسیقی اور شاعری دو چیزیں ایسی ہیں، جو انسان کی روح تک پہنچ کر اسے سکون پہنچا سکتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں،

''موسیقی صرف روح کو نہیں چھوتی، بلکہ اگر اسےپورے خلوص کے ساتھ اپنایا جائے تو روح سے گفتگو کرنے لگتی ہے۔ بالخصوص صوفی موسیقی میں وہ صلاحیت ہے کہ وہ روح کی گہرائیوں میں اتر کر اس کی زبان بن جاتی ہے۔''

یور اسٹوری سے بات چیت کے دوران سمیتا بیلورسے صوفی موسیقی اور ان کی اپنے فنکارانہ زندگی کے مختلف پہلوں پر گفتگوہوئی۔ دس بارہ سال کی عمر میں اپنے والد سے تحریک پاكر ہندوستانی کلاسیکی موسیقی سیکھنے کا آغاز کرنے والی سمیتا کا صوفی موسیقی سے رشتہ انجانے میں ہوا، لیکن یہ جاننے میں انہیں کچھ دیرضرور لگی۔ وہ بتاتی ہیں،

''ایک دن عزیز احمد خاں وارثی کا ركارڈ اللہ ھو... سن رہی تھی۔ سننے کے دوران ایسا محسوس ہوا کہ اس موسیقی نے کچھ دیر کے لئے میرے دماغ کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں کر لیا ہے۔ پھر محسوس ہوا کہ یہی وہ چیز ہے، جس کی مجھے تلاش تھی، جس پر مکمل توجہ لگائی جا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ پروردگار کا نام تھا۔ اس سے پہلے میں نے اس احساس کو اتنی شدت سےکبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ ''

سمیتا نے بعد میں جب اپنی یادوں کا ٹتولا تا پایا کہ صوفی موسیقی انجانے میں ان کے ذہن کا حصہ رہی ہے۔ ان کے والد ایل سبّا راؤ کو قواليا سننے کا بہت شوق تھا۔ بچپن میں سمتا کو وہ صرف کورس کا نغمہ لگتا۔ تاہم وہ اپنے والد سے اس شوق کے بارے میں پوچھتی، اس سے پہلے ہی انهوں نے اپنی آنکھیں موند لیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صوفی موسیقی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا اور اسے اپنے احساسات کا حصہ بنانا چاہتی ہیں۔ اس سلسلے کی کڑی کے طور پر انہوں نے صوفی شاعر حافظ، سعدی، جامی، رومی اور امیر خسرو کے فارسی کلام پر بھی کام کیا۔

 سسمیتا نے اپنے بچپن کی یادوں کو سمےٹتے ہوئے کہا کہ دھارواڑ کے مشہور گرو پی آر بھگت سے انہوں نے ہندوستانی کلاسیکی گائکی کی تعلیم حاصل کی۔ بالخصوص خیال گائیکی میں دلچسپی کے ساتھ انہوں نےامیر خسرو کا کلام گایا۔ صوفی موسیقی کے بارے میں امیر خسرو کے شعر کو دہراتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ-

خسرو دریا پریم کا، واکی الٹی دھار ... جو اترا سو ڈوب گیا، جو ڈوبا سو پار

سمیتا کہتی ہیں،

''صوفی موسیقی اس لئے بھی روح میں اترتی ہے، کیونکہ وہ محبت کرنا سکھاتی ہے۔ حقیقی محبت۔ ایسی محبت کسی انسان کے ساتھ نہیں ہو سکتی۔ اس وجہ سے بھی کہ اس میں کچھ نہ کچھ کمی رہتی ہے۔ انسان سے کبھی نہ کبھی دھوکہ ہو سکتا ہے، لیکن خدا کی محبت میں ایسا کوئی امکان نہیں ہے۔ وہاں مایوسی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ''

صوفی موسیقی کے ساتھ خدا کے تصور اور تصوف کا ذکر کرتے ہوئے سمیتا بتاتی ہیں کہ دنیا بھر میں لوگ الگ الگ ناموں سے خدا کو جانتے، پہچانتے، مانتے ہیں۔ اس کی محبت کو مضبوط کرنے کا کام صوفی موسیقی کرتی ہے۔ موسیقی میں استاد کے سبق سے کچھ آگے نکل کر اپنے سفر کا آغاز کرنے کے بارے میں ان کا خیال ہے، ''موسیقی میں کوئی مقررہ پیمانہ نہیں ہے کوئی کس بھی عمر میں نئی منزل کی طرف آگے بڑھے گا، لیکن عام طور پر بالغ ہونے میں چالیس سال تو لگ ہی جاتے ہیں۔ اس عمر کو آنے تک وہ سروں کی زبان کو بہتر طرقے سے سمجھنے لگتا ہے۔ نقل سے عقل کا راستہ اپنانے لگتا ہے۔''

سمیتا کہتی ہیں کہ صرف ریاض سے اونچا مقام نہیں ملتا، اس کے لئے خدا کی دین بھی بہت ضروری ہے۔عابدہ پروین کو سنتے ہوئے لوگ کیا محسوس کرتے ہیں؟ تاہم جذبات جب لفظوں پر سوار ہو کر آتے ہیں، تو فوری طور سمجھ میں آتے ہیں، لیکن راگ، سُر اور آکار کی موسیقی اگر پورے لگن سے پیش کی جائے تو دلوں کو چھو ہی لیتی ہے۔

اس کی مثال وہ کچھ یوں بھی دیتی ہیں،

''ہر کسی کو زندگی کے کسی نہ کسی لمحے میں محبت اور دکھ سے واسطہ پڑا ہی رہتا ہے۔ بس صرف اس لمحے میں اس کا اتارنا ہوتا ہے۔ یہ کام صوفی اور موسیقی نے خوب کیا ہے۔ میرا کی طلب میں جو تڑپ ہے، وہی طلب خسرو کے پاس بھی ملتی ہے۔ بس رنگ الگ الگ ہیں۔''


سمیتا نے موسیقار رتنا پنڈت ارجنسا نكوڑ، پنڈت بھاؤ سونٹكے، ڈاکٹر الكادیو مرول كر سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی ہے۔ انهون کولٹی منجمنٹ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، لیکن موسیقی کو اپنایا ہے۔ وہ شنکر مهادیون اکیڈمی میں گرو بھی رہی ہیں۔

سمیتا  کا ماننا ہے کے اردو غزل کا دور لوٹ کر آیا ہے۔ حالانکہ پڑھنے والوں کے بارے میں وہ نہیں جانتی، لیکن سننے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس میں بہت موقع ہیں۔

---------------------------

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

شوق نے رسیپشنسٹ گیتا کو گلوکارہ بنایا

شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو....غزل گائیکی کی نئی ادا جنیوارائے



پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem